تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِيْ۠ مِنْۢ بَعْدِيْ:} یعنی میں جاتے وقت تمھیں کہہ گیا تھا کہ جب تک میں نہ آؤں ہارون میرے خلیفہ ہوں گے، ان کا حکم ماننا اور مفسدوں کے پیچھے نہ لگنا، مگر میں جب مقرر میعاد (۳۰) دن تک واپس نہ آیا تو تم نے سمجھ لیا کہ میں مر گیا ہوں، اس پر تم نے بچھڑا بنا کر پوجنا شروع کر دیا، اس طرح تم میرے بعد بہت برے جانشین ثابت ہوئے، یا تم نے بہت برا کام کیا ہے۔ (المنار)
➌ {وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِيْهِ …: } موسیٰ علیہ السلام کا شدید غصہ دو کاموں کی صورت میں ظاہر ہوا، ایک الواح کو پھینکنا اور دوسرا ہارون علیہ السلام کے سر کو پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دیکھنے اور سننے میں بہت فرق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنی ہوئی بات آنکھوں سے دیکھنے کی طرح نہیں ہوتی، اللہ عزوجل نے موسیٰ علیہ السلام کو اس کی خبر دی جو ان کی قوم نے بچھڑے کے معاملے میں کیا تھا، مگر انھوں نے تختیاں نہیں پھینکیں، جب آنکھوں سے دیکھا جو کچھ انھوں نے کیا تھا تو تختیاں پھینک دیں تو وہ ٹوٹ گئیں۔“ [أحمد: 271/1، ح: ۲۴۵۱۔ مستدرک حاکم: 321/2، ح: ۳۲۵۰، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما وصححہ الألبانی]
➍ {قَالَ ابْنَ اُمَّ:} موسیٰ علیہ السلام ہارون علیہ السلام کے سگے بھائی ہی تھے، مگر انھوں نے ان کی شفقت حاصل کرنے کے لیے ”اے میری ماں کے بیٹے“ کہا۔ {” ابْنَ اُمَّ “} اصل میں {”يَا ابْنَ أُمِّيْ“} تھا، حرف ندا یاء حذف کر دیا اور {”أُمِّيْ“} کی یاء کو الف سے بدل دیا تو {”ابْنَ اُمَّا“} بن گیا، پھر مزید تخفیف کے لیے الف بھی حذف کر دیا تو {” ابْنَ اُمَّ “} بن گیا۔
➎ {اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِيْ …:} یعنی میں نے انھیں بچھڑے کی پوجا سے باز رکھنے کی پوری کوشش کی ہے۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۹۰) مگر یہ لوگ مجھ پر پل پڑے اور قریب تھا کہ مجھے قتل ہی کر دیتے۔
➏ {فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْاَعْدَآءَ …: ”شَمَاتَةٌ “} کا معنی کسی نقصان پر دشمن کا خوش ہونا ہے۔ ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے اس اندازِ غضب پر دشمن تو ضرور خوش ہوئے ہوں گے، دشمنوں سے مراد بچھڑا بنانے والے اور اس کی عبادت کی حمایت کرنے والے ہیں۔ اس لیے ہارون علیہ السلام نے کہا کہ اس طرح میری گرفت کرکے دشمنوں کو خوش نہ کرو۔ «{ وَ لَا تَجْعَلْنِيْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ }» اور یہ طے نہ کر لو کہ میں بھی ان کے بچھڑا بنانے یا پوجنے کے عمل میں ان کے ساتھ شریک ہوں۔ اس سے ہارون علیہ السلام پر تورات کی اس تہمت کا واضح رد ہو گیا جس کا ذکر پیچھے (آیت ۱۴۸) میں ہوا ہے کہ یہ بچھڑا ہارون علیہ السلام نے بنایا تھا۔ ہارون علیہ السلام کو اس بات سے بھی بہت تکلیف ہوئی کہ بھائیوں کے اختلاف سے دشمن خوش ہوں گے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ {”شَمَاتَةُ الْاَعْدَاءِ“} سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے، یعنی اس بات سے ہمیشہ پناہ مانگتے کہ کسی مصیبت پر دشمنوں کو خوشی حاصل ہو۔ پوری دعا اس طرح ہے: [اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ وَ دَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوْءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ] [بخاری، الدعوات، باب التعوذ من جہد البلاء: ۶۳۴۷]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کہا گیا ہے کہ یہ زمرد یا یاقوت یا کسی اور چیز کی تھیں۔ سچ ہے، جو حدیث میں ہے کہ { دیکھنا سننا برابر نہیں۔ } ۱؎ [مستدرک حاکم:321/2]
اپنی قوم پر غصے ہو کر الواح ہاتھ سے گرا دیں۔ ٹھیک بات یہی ہے اور جمہور سلف کا قول بھی یہی ہے لیکن ابن جریر نے قتادہ سے ایک عجیب قول نقل کیا ہے جس کی سند بھی صحیح نہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15142-15143:باطل]
ابن عطیہ وغیرہ نے اس کی بہت تردید کی ہے اور وہ واقعی تردید کے قابل بھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ قتادہ نے یہ اہل کتاب سے لیا ہو اور ان کا کیا اعتبار ہے؟ ان میں جھوٹے، بناوٹ کرنے والے، گھڑ لینے والے، بددین، بےدین طرح کے لوگ ہیں۔
اس خوف سے کہ کہیں ہارون علیہ السلام نے انہیں باز رکھنے کی پوری کوشش نہ کی ہو، آپ نے ان کے سر کے بالوں کے بل انہیں گھسیٹ لیا اور فرمانے لگے: انہیں گمراہ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی تو نے میری ماتحتی میں انہیں کیوں نہ روکا؟ کیا تو بھی میرے فرمان کا منکر بن گیا؟
ہارون علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ اے میرے ماں جائے بھائی! یہ صرف اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو رحم آ جائے، ماں باپ دونوں کے ایک ہی تھے۔ جب آپ کو اپنے بھائی ہارون کی برات کی تحقیق ہو گئی اور اللہ کی طرف سے بھی ان کی پاک دامنی اور بےقصوری معلوم ہو گئی کہ انہوں نے اپنی قوم سے پہلے ہی یہ فرما دیا تھا کہ افسوس! تم فتنے میں پڑ گئے، اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ پروردگار بڑا ہی رحیم و کریم ہے، تم میری مان لو اور پھر سے میرے تابع دار بن جاؤ تو آپ اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، واقعی دیکھنے والے میں اور خبر سننے والے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ قوم کی گمراہی کی خبر سنی تو تختیاں ہاتھ سے نہ گرائیں لیکن اسی منظر کو دیکھ کر قابو میں نہ رہے، تختیاں پھینک دیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:271/1:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولما رجع موسى إلى قومِهِ غضبان أسِفاً}؛ أي: ممتلئاً غضباً وغيظاً عليهم لتمام غيرته عليه [الصلاة و] السلام وكمال نصحه وشفقته، {قال بئسَما خَلَفْتُموني من بعدي}؛ أي: بئس الحالة التي خلفتموني بها من بعد ذهابي عنكم؛ فإنها حالةٌ تفضي إلى الهلاك الأبدي والشقاء السرمديِّ. {أعَجِلْتُم أمرَ ربِّكُم}: حيث وَعَدَكم بإنزال الكتاب فبادرتُم برأيكم الفاسد إلى هذه الخصلة القبيحة، {وألقى الألواحَ}؛ أي: رماها من الغضب، {وأخذ برأس أخيه}: هارونَ ولحيتِهِ، {يجرُّه إليه}: وقال له: {ما منعك إذ رأيتَهم ضلُّوا. أن لا تتَّبِعَني أفعصيتَ أمري}: لك بقولي: {اخلُفْني في قومي وأصْلِحْ ولا تتَّبِعْ سبيل المفسدين}؟! فقال: {يا ابنَ أمَّ لا تأخُذْ بلحيتي ولا برأسي إني خشيتُ أن تقولَ فرَّقْتَ بين بني إسرائيل ولم ترقُبْ قولي} و {قال} هنا: {ابنَ أمَّ}: هذا ترقيقٌ لأخيه بذكر الأمِّ وحدها، وإلاَّ فهو شقيقه لأمِّه وأبيه. {إنَّ القوم استضعفوني}؛ أي: احتقروني حين قلتُ لهم: يا قوم! إنما فُتِنْتُم به، وإنَّ ربَّكم الرحمن؛ فاتَّبِعوني وأطيعوا أمري، {وكادوا يَقْتُلونَني}؛ أي: فلا تظنَّ بي تقصيراً، {فلا تُشْمِتْ بيَ الأعداء}: بنهرِك لي ومسِّك إيَّايَ بسوءٍ فإنَّ الأعداء حريصون على أن يجدوا عليَّ عثرةً أو يطَّلعوا لي على زَلَّة، {ولا تجعلني مع القوم الظالمين}: فتعامِلُني معاملتهم.