تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَلَمْ يَرَوْا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَ لَا يَهْدِيْهِمْ سَبِيْلًا:} اللہ تعالیٰ نے تو نظر نہ آنے کے باوجود موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور ہدایت کا راستہ بھی بتایا، یہ عجیب معبود ہے کہ سامنے ہونے کے باوجود نہ بات کر سکتا ہے نہ ہدایت دے سکتا ہے، پھر وہ معبود کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر بالفرض اس میں جان بھی پڑ گئی ہے تو وہ ایک عاجز حیوان ہے، اس جیسی بلکہ اس سے بہتر بے شمار گائیں ڈنڈے کھاتی پھرتی ہیں اور زنجیروں میں بندھی ہوئی بے بس ہو کر دودھ دے رہی ہیں۔ معلوم ہوا معبود کے لیے کلام کرنے والا اور ہدایت دینے والا ہونا ضروری ہے۔ ”کلام کرنے والا“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکم دے سکے، منع کر سکے اور ”ہدایت دینے والا“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہدایت دینے پر قدرت ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ بچھڑا یا تو سچ مچ خون گوشت کا بن گیا تھا یا سونے کا ہی تھا مگر شکل گائے کی تھی، یہ اللہ ہی جانے۔ بنی اسرائیل تو آواز سنتے ہی ناچنے لگے اور اس پر ریجھ گئے۔ سامری نے کہہ دیا کہ اللہ تو یہی ہے، موسیٰ علیہ السلام بھول گئے ہیں۔
انہیں اتنی بھی تمیز نہ آئی کہ وہ اللہ تو کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور کسی نفع نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتا۔ اس بچھڑے کو اس اللہ کو چھوڑ کر پوجو جو سب کا مالک اور سب کا خالق ہے۔
اس کی وجہ سوائے اندھے پن اور بےعقلی کے اور کیا ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا: { کسی چیز کی محبت انسان کو اندھا، بہرا کر دیتی ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:194/5:ضعیف]
پھر جب اس محبت میں کمی آئی، آنکھیں کھلیں تو اپنے اس فعل پر نادم ہونے لگے اور یقین کر لیا کہ واقعی ہم گمراہ ہو گئے تو اللہ سے بخشش مانگنے لگے۔
ایک قرأت میں «تَغْفِرْ» ”ت“ سے بھی ہے۔ جان گئے کہ اگر معافی نہ ملی تو بڑے نقصان سے دو چار ہو جائیں گے۔ غرض اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ سے جھکے اور التجا کرنے لگے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{واتَّخذ قوم موسى مِن بعدِهِ من حُلِيِّهم عجلاً جسداً}: صاغه السامِرِيُّ وألقى عليه قبضةً من أثر الرسول فصار {له خُوارٌ} وصوتٌ، فعبدوه واتَّخذوه إلهاً، وقال: هذا إلهكم وإله موسى، فنسي موسى، وذهب يطلبه، وهذا من سفههم وقلة بصيرتهم؛ كيف اشتبه عليهم ربُّ الأرض والسماوات بعجل من أنقص المخلوقات؟! ولهذا قال مبيناً أنه ليس فيه من الصفات الذاتيَّة ولا الفعليَّة ما يوجِب أن يكون إلهاً: {ألم يَرَوْا أنَّه لا يكلِّمهم}؛ أي: وعدم الكلام نقصٌ عظيمٌ؛ فهم أكمل حالة من هذا الحيوان أو الجماد الذي لا يتكلَّم، {ولا يهديهم سبيلاً}؛ أي: لا يدلُّهم طريقاً دينيًّا ولا يحصِّل لهم مصلحةً دنيويَّةً؛ لأن من المتقرِّر في العقول والفطر أنَّ اتِّخاذَ إلهٍ لا يتكلم ولا ينفع ولا يضرُّ من أبطل الباطل وأسمج السفه، ولهذا قال: {اتَّخذوه وكانوا ظالمينَ}: حيث وضعوا العبادة في غير موضعها، وأشركوا بالله ما لم ينزِّل به سلطاناً. وفيها دليلٌ على أنَّ من أنكر كلام الله؛ فقد أنكر خصائص إلهيَّة الله تعالى؛ لأن الله ذكر أن عدم الكلام دليلٌ على عدم صلاحيَّة الذي لا يتكلَّم للإلهيَّة.