ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 148

وَ اتَّخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰی مِنۡۢ بَعۡدِہٖ مِنۡ حُلِیِّہِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ ؕ اَلَمۡ یَرَوۡا اَنَّہٗ لَا یُکَلِّمُہُمۡ وَ لَا یَہۡدِیۡہِمۡ سَبِیۡلًا ۘ اِتَّخَذُوۡہُ وَ کَانُوۡا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴۸﴾
اور موسیٰ کی قوم نے اس کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا، جو ایک جسم تھا، جس کی گائے جیسی آواز تھی۔ کیا انھوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرتا ہے اور نہ انھیں کوئی راستہ بتاتا ہے۔ انھوں نے اسے (معبود) بنا لیا اور وہ ظالم تھے۔ En
اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا
En
اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیوروں کا ایک بچھڑا معبود ٹھہرا لیا جو کہ ایک قالب تھا جس میں ایک آواز تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وه ان سے بات نہیں کرتا تھا اور نہ ان کو کوئی راه بتلاتا تھا اس کو انہوں نے معبود قرار دیا اور بڑی بے انصافی کا کام کیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 148) ➊ {وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى …:} یہی قصہ سورۂ طٰہٰ میں بھی بیان ہوا ہے۔ { مِنْ حُلِيِّهِمْ } (اپنے زیوروں سے) یہ الفاظ صراحت کر رہے ہیں کہ وہ زیورات بنی اسرائیل کے اپنے تھے، اس لیے بائبل اور ہماری تفسیروں کی اسرائیلی روایات میں جو کہا گیا ہے کہ وہ زیور قبطیوں کے تھے اور بنی اسرائیل نے ان سے عاریتًا لیے تھے وہ درست نہیں، مزید تفصیل سورۂ طٰہٰ (۸۷) میں دیکھیں۔ جب موسیٰ علیہ السلام طور پر تشریف لے گئے تو ان میں سے ایک شخص سامری نے ان سے یہ زیورات لے لیے اور انھیں آگ میں پگھلا کر بچھڑے کی شکل کا ایک مجسمہ بنا ڈالا، جس سے گائے کی آواز نکلتی تھی، اس آیت میں اس مجسمے کے بنانے کو بنی اسرائیل کی طرف منسوب کیاگیا ہے، کیونکہ سامری نے اسے ان کی اجازت اور رضا مندی سے بنایا تھا اور وہ اپنے لیے اس قسم کے ایک معبود کی خواہش رکھتے تھے۔ (ابن کثیر) تفسیر ثنائی میں ہے کہ موجودہ تورات کی دوسری کتاب (خروج) کے بتیسویں باب میں جو لکھا ہے کہ ہارون علیہ السلام نے خود ہی ان کو بچھڑا بنا دیا تھا، یہ صریح غلط ہے، شانِ نبوت اور شرک اجتماع ضدین ہے۔ عیسائیو! قرآن کے {مُهَيْمِنٌ عَلَي التَّوْرَاةِ} ہونے میں اب بھی شک کرو گے؟ ({ مُهَيْمِنٌ} کا معنی سمجھنے کے لیے ملاحظہ کیجیے سورۂ مائدہ: ۴۸ کے حواشی) مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا وہ بچھڑا واقعی گوشت پوست اور خون کا بن گیا تھا اور اس میں جان پڑ گئی تھی، یا وہ محض ایک مجسمہ رہا، جس میں ہوا داخل ہوتی یا داخل کی جاتی تو اس سے بچھڑے کی سی آواز نکلتی تھی؟ جو مفسرین اس کے واقعی جاندار بچھڑا ہونے کے قائل ہیں وہ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ جبریل علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے پاس گھوڑی پر سوار آئے، سامری نے انھیں دیکھ لیا اور ان کی گھوڑی کے پاؤں تلے کی کچھ مٹی لے لی اور انھوں نے سورۂ طٰہٰ کی آیت (۹۶) «{ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ کے یہی معنی کیے ہیں، چنانچہ اس مٹی کو جب انھوں نے بچھڑے کے اس مجسمے پر ڈالا تو وہ سچ مچ کا بچھڑا بن گیا، لیکن یہ کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں ہے۔ نیز دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۸۸ تا ۹۶)۔
➋ { اَلَمْ يَرَوْا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَ لَا يَهْدِيْهِمْ سَبِيْلًا:} اللہ تعالیٰ نے تو نظر نہ آنے کے باوجود موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور ہدایت کا راستہ بھی بتایا، یہ عجیب معبود ہے کہ سامنے ہونے کے باوجود نہ بات کر سکتا ہے نہ ہدایت دے سکتا ہے، پھر وہ معبود کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر بالفرض اس میں جان بھی پڑ گئی ہے تو وہ ایک عاجز حیوان ہے، اس جیسی بلکہ اس سے بہتر بے شمار گائیں ڈنڈے کھاتی پھرتی ہیں اور زنجیروں میں بندھی ہوئی بے بس ہو کر دودھ دے رہی ہیں۔ معلوم ہوا معبود کے لیے کلام کرنے والا اور ہدایت دینے والا ہونا ضروری ہے۔ کلام کرنے والا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکم دے سکے، منع کر سکے اور ہدایت دینے والا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہدایت دینے پر قدرت ہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

148۔ 1 موسیٰ ؑ جب چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر گئے تو پیچھے سے سامری نامی شخص نے سونے کے زیورات اکھٹے کرکے ایک بچھڑا تیار کیا جس میں اس نے جبرائیل ؑ کے گھوڑے کے سموں کے نیچے کی مٹی بھی، جو اس نے سنبھال کر رکھی تھی شامل کردی، جس میں اللہ نے زندگی کی تاثیر رکھی تھی جس کی وجہ سے بچھڑا کچھ کچھ بیل کی آواز نکالتا تھا (گو واضح کلام کرنے اور راہنمائی کرنے سے عاجز تھا جیسا کہ قرآن کے الفاظ واضح کر رہے ہیں، اسمیں اختلاف ہے کہ فی الواقع گوشت پوست کا بچھڑا بن گیا تھا، یا تھا وہ سونے کا ہی، لیکن کسی طریقے سے اس میں ہوا داخل ہوتی تو گائے، بیل کی سی آواز اس میں سے نکلتی۔ (ابن کثیر) اس آواز سے سامری نے بنی اسرائیل کو گمراہ کیا کہ تمہارا معبود تو یہ ہے، موسیٰ ؑ بھول گئے ہیں اور وہ معبود کی تلاش میں کوہ طور پر گئے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

148۔ موسیٰ کے (طور پر جانے کے) بعد اس کی قوم نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا جسم (پتلا) بنایا جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ تو ان سے کوئی بات کرتا ہے اور نہ ہی ان کو راستہ دکھا سکتا ہے پھر بھی انہوں نے اسے (الٰہ) بنا لیا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بنی اسرائیل کا بچھڑے کو پوجنا ٭٭
موسیٰ علیہ السلام تو اللہ کے وعدے کے مطابق تورات لینے گئے، ادھر فرعونیوں کے جو زیور بنی اسرائیل کے پاس رہ گئے تھے، سامری نے انہیں جمع کیا اور اپنے پاس سے اس میں خاک کی مٹھی ڈال دی جو جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کی ٹاپ تلے سے اس نے اٹھالی تھی۔ اللہ کی قدرت سے وہ سونا گل کر مثل ایک گائے کے جسم کے ہو گیا اور چونکہ کھوکھلا تھا، اس میں سے آواز بھی آنے لگی اور وہ بالکل ہو بہو گائے کی سی آواز تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کو بہکا کر اس کی عبادت کرانی شروع کر دی، بہت سے لوگ اسے پوجنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے طور پر موسیٰ علیہ السلام کو اس فتنے کی خبر دی۔
یہ بچھڑا یا تو سچ مچ خون گوشت کا بن گیا تھا یا سونے کا ہی تھا مگر شکل گائے کی تھی، یہ اللہ ہی جانے۔ بنی اسرائیل تو آواز سنتے ہی ناچنے لگے اور اس پر ریجھ گئے۔ سامری نے کہہ دیا کہ اللہ تو یہی ہے، موسیٰ علیہ السلام بھول گئے ہیں۔
انہیں اتنی بھی تمیز نہ آئی کہ وہ اللہ تو کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور کسی نفع نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتا۔ اس بچھڑے کو اس اللہ کو چھوڑ کر پوجو جو سب کا مالک اور سب کا خالق ہے۔
اس کی وجہ سوائے اندھے پن اور بےعقلی کے اور کیا ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا: { کسی چیز کی محبت انسان کو اندھا، بہرا کر دیتی ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:194/5:ضعیف]‏‏‏‏
پھر جب اس محبت میں کمی آئی، آنکھیں کھلیں تو اپنے اس فعل پر نادم ہونے لگے اور یقین کر لیا کہ واقعی ہم گمراہ ہو گئے تو اللہ سے بخشش مانگنے لگے۔
ایک قرأت میں «تَغْفِرْ» ت سے بھی ہے۔ جان گئے کہ اگر معافی نہ ملی تو بڑے نقصان سے دو چار ہو جائیں گے۔ غرض اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ سے جھکے اور التجا کرنے لگے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوْمُ مُوْسٰؔى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ اس کی آوازتھی۔ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔
سامری نے کہا یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں، چنانچہ فرمایا: ﴿ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔
انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿اِتَّؔخَذُوْهُ وَؔكَانُوْا ظٰلِمِیْنَ انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{واتَّخذ قوم موسى مِن بعدِهِ من حُلِيِّهم عجلاً جسداً}: صاغه السامِرِيُّ وألقى عليه قبضةً من أثر الرسول فصار {له خُوارٌ} وصوتٌ، فعبدوه واتَّخذوه إلهاً، وقال: هذا إلهكم وإله موسى، فنسي موسى، وذهب يطلبه، وهذا من سفههم وقلة بصيرتهم؛ كيف اشتبه عليهم ربُّ الأرض والسماوات بعجل من أنقص المخلوقات؟! ولهذا قال مبيناً أنه ليس فيه من الصفات الذاتيَّة ولا الفعليَّة ما يوجِب أن يكون إلهاً: {ألم يَرَوْا أنَّه لا يكلِّمهم}؛ أي: وعدم الكلام نقصٌ عظيمٌ؛ فهم أكمل حالة من هذا الحيوان أو الجماد الذي لا يتكلَّم، {ولا يهديهم سبيلاً}؛ أي: لا يدلُّهم طريقاً دينيًّا ولا يحصِّل لهم مصلحةً دنيويَّةً؛ لأن من المتقرِّر في العقول والفطر أنَّ اتِّخاذَ إلهٍ لا يتكلم ولا ينفع ولا يضرُّ من أبطل الباطل وأسمج السفه، ولهذا قال: {اتَّخذوه وكانوا ظالمينَ}: حيث وضعوا العبادة في غير موضعها، وأشركوا بالله ما لم ينزِّل به سلطاناً. وفيها دليلٌ على أنَّ من أنكر كلام الله؛ فقد أنكر خصائص إلهيَّة الله تعالى؛ لأن الله ذكر أن عدم الكلام دليلٌ على عدم صلاحيَّة الذي لا يتكلَّم للإلهيَّة.