تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ: } یعنی یہ سب ان کے اپنے کیے کی سزا ہو گی، جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا: «{ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ}» [الصف: ۵] ”جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔“ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”الواح (تختیاں) دے کر یہ بھی فرمایا کہ قوم کو تقید (پابند) کرو کہ عمل کریں اور یہ بھی فرما دیا کہ جو بے انصاف ہیں اور حق پرست نہیں ان کے دل میں پھیر دوں گا، اس پر عمل نہیں کریں گے، یعنی ان حکموں کی توفیق نہ ہو گی اور جو اپنی عقل سے کریں گے وہ قبول نہ ہو گا۔“ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
یعنی تکبر کی ایک علامت تو یہ ہوتی ہے کہ متکبر انسان اللہ کے احکام کی کچھ پروا نہیں کرتا اور اپنے آپ کو اللہ کی بندگی کے مقام سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے جیسے نہ تو وہ اللہ کا بندہ ہے اور نہ ہی اللہ اس کا پروردگار ہے اور دوسری علامت یہ ہے کہ اپنے آپ کو عام لوگوں سے کوئی بالاتر مخلوق سمجھنے لگتا ہے اور دوسروں کو اپنے سے فروتر سمجھ کر ان سے ویسا ہی سلوک کرتا ہے حالانکہ اس کی اس خودسری کے لیے کوئی وجہ جواز نہیں اللہ کی زمین پر رہتے ہوئے اور اس کا رزق کھاتے ہوئے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ کا نافرمان اور متکبر بن کر رہے اسی لیے اللہ نے یہاں بغیر الحق کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔
[143۔ 1]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
علماء کا مقولہ ہے کہ متکبر اور پوچھنے سے جی چرانے والا کبھی عالم نہیں ہو سکتا۔ جو شخص تھوڑی دیر کے لیے علم کے حاصل کرنے میں اپنے آپ کو دوسرے کے سامنے نہ جھکائے، وہ عمر بھر ذلت و رسوائی میں رہتا ہے۔ متکبر لوگوں کو قرآن کی سمجھ کہاں؟ وہ تو رب کی آیتوں سے بھاگتے رہتے ہیں۔
اس امت کے لوگ ہوں یا دوسری امتوں کے، سب کے ساتھ اللہ کا طریقہ یہی رہا ہے کہ تکبر کی وجہ سے حق کی پیروی نصیب نہیں ہوتی۔
چونکہ یہ لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔ اگرچہ یہ بڑے بڑے معجزے بھی دیکھ لیں، انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ گو نجات کے راستے ان پر کھل جائیں لیکن اس راہ پر چلنا ان کے لیے دشوار ہے۔ ہاں بری راہ سامنے آتے ہی یہ بےطرح اس پر لپکتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں جھٹلانا ہے اور اپنے اعمال کے نتیجوں سے بےخبر ہیں۔
جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، آخرت کا یقین نہ رکھیں، اسی عقیدے پر مریں، ان کے اعمال اکارت ہیں۔ ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے، بدلہ صرف کئے ہوئے اعمال کا ہی ملتا ہے۔ بھلے کا بھلا اور برے کا برا، جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وأما غيرهم؛ فقال عنهم: {سأصرِفُ عن آياتي}؛ أي: عن الاعتبار في الآيات الأفقية والنفسيَّة والفهم لآيات الكتاب، {الذين يتكبَّرون في الأرض بغير الحقِّ}؛ أي: يتكبَّرون على عباد الله وعلى الحقِّ وعلى من جاء به؛ فمن كان بهذه الصفة؛ حَرَمَهُ الله خيراً كثيراً، وخَذَلَه، ولم يَفْقَهْ من آيات الله ما ينتفع به، بل ربَّما انقلبت عليه الحقائقُ واستحسن القبيحَ، {وإن يَرَوْا كلَّ آيةٍ لا يؤمنوا بها}: لإعراضهم واعتراضهم ومحادَّتهم لله ورسوله، {وإن يَرَوْا سبيلَ الرُّشد}؛ أي: الهدى والاستقامة، وهو الصراط الموصل إلى الله وإلى دار كرامته، {لا يتَّخذوه [سبيلاً]}؛ أي: لا يسلكوه ولا يرغبوا فيه، {وإن يَرَوْا سبيلَ الغَيِّ}؛ أي: الغواية الموصل لصاحبه إلى دار الشقاء، {يتَّخذوه سبيلاً}. والسبب في انحرافهم هذا الانحراف، {ذلك بأنَّهم كذَّبوا بآياتنا وكانوا عنها غافلين}: فردُّهم لآيات الله وغفلتُهم عمَّا يُراد بها واحتقارهم لها هو الذي أوجب لهم من سلوك طريق الغي وترك طريق الرُّشْدِ ما أوجب.