ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 146

سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰیٰتِیَ الَّذِیۡنَ یَتَکَبَّرُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ وَ اِنۡ یَّرَوۡا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡا بِہَا ۚ وَ اِنۡ یَّرَوۡا سَبِیۡلَ الرُّشۡدِ لَا یَتَّخِذُوۡہُ سَبِیۡلًا ۚ وَ اِنۡ یَّرَوۡا سَبِیۡلَ الۡغَیِّ یَتَّخِذُوۡہُ سَبِیۡلًا ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوۡا عَنۡہَا غٰفِلِیۡنَ ﴿۱۴۶﴾
عنقریب میں اپنی آیات سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا جو زمین میں حق کے بغیر بڑے بنتے ہیں اور اگر ہر نشانی دیکھ لیں تو بھی اس پر ایمان نہیں لاتے اور اگر بھلائی کا راستہ دیکھ لیں تو اسے راستہ نہیں بناتے اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اسے راستہ بنا لیتے ہیں، یہ اس لیے کہ انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ان سے غافل تھے۔
جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے
میں ایسے لوگوں کو اپنے احکام سے برگشتہ ہی رکھوں گا جو دنیا میں تکبر کرتے ہیں، جس کا ان کو کوئی حق حاصل نہیں اور اگر تمام نشانیاں دیکھ لیں تب بھی وه ان پر ایمان نہ ﻻئیں، اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا طریقہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو اس کو اپنا طریقہ بنالیں۔ یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غافل رہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 146) ➊ { سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰتِيَ …:} نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ذرہ برابر کبر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، اس کا جوتا اچھا ہو (کیا یہ بھی کبر ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر تو بڑا بنتے ہوئے حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر اور بے وقعت جاننے کا نام ہے۔ [مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱، عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ] اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی آیات سن کر جو لوگ اپنی بڑائی اور برتری کے زعم میں حق قبول نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ بھی انھیں اپنی آیات قبول کرنے سے دفع دور کر دیتا ہے۔ یہاں فرمایا: میں اپنی آیات سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا… یعنی انھیں یہ سزا دوں گا کہ وہ میری عظمت، شریعت اور احکام کو سمجھ نہ سکیں گے اور پھر جاہل رہنے کی وجہ سے دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل ہوں گے۔ (نیز دیکھیے انعام: ۱۱۰) اس لیے بعض سلف کا قول ہے: متکبر شخص علم حاصل نہیں کر سکتا اور جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے ایک ساعت کی ذلت گوارا نہیں کر سکتا وہ جاہل رہ کر ہمیشہ کی ذلت مول لیتا ہے۔ (ابن کثیر) { بِغَيْرِ الْحَقِّ } کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں حق بنتا ہو وہاں بڑا بن کے دکھانا درست ہے، مثلاً کفار کے مقابلے میں میدان جنگ کے اندر اللہ تعالیٰ کو متکبرانہ انداز کی چال بھی محبوب ہے جو عام حالات میں اسے سخت ناپسند ہے۔
➋ { وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ: } یعنی یہ سب ان کے اپنے کیے کی سزا ہو گی، جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا: «{ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ [الصف: ۵] جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: الواح (تختیاں) دے کر یہ بھی فرمایا کہ قوم کو تقید (پابند) کرو کہ عمل کریں اور یہ بھی فرما دیا کہ جو بے انصاف ہیں اور حق پرست نہیں ان کے دل میں پھیر دوں گا، اس پر عمل نہیں کریں گے، یعنی ان حکموں کی توفیق نہ ہو گی اور جو اپنی عقل سے کریں گے وہ قبول نہ ہو گا۔ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

146۔ 1 تکبر کا مطلب ہے اللہ کی آیات و احکام کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور لوگوں کو حقیر گرداننا۔ یہ تکبر انسان کے لئے زیبا نہیں دیتا، کیونکہ اللہ خالق ہے اور وہ اس کی مخلوق۔ مخلوق ہو کر، خالق کا مقابلہ کرنا اور اس کے احکام و ہدایات سے اعراض و غفلت کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کو تکبر سخت ناپسند ہے۔ اس ایت میں تکبر کا نتیجہ بتلایا گیا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایات الہی سے دور ہی رکھتا ہے اور پھر وہ اتنے دور ہوجاتے ہیں کہ کسی طرح کی بھی نشانی انہیں حق کی طرف لانے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا (ترجمہ) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوگئ وہ ایمان نہیں لائیں گے چاہے ان کے پاس ہر طرح کی نشانی آجاوے حتی کہ وہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔ 146۔ 2 اس میں احکام الٰہی سے اعراض کرنے والوں کی ایک عادت یا نفسیات کا بیان ہے کہ ہدایت کی کوئی بات ان کے سامنے آئے تو اسے تو نہیں مانتے، البتہ گمراہی کی کوئی چیز دیکھتے ہیں تو اسے فوراً اپنا لیتے اور راہ عمل بنا لیتے ہیں قرآن کریم کی بیان کردہ اس حقیقت کا ہر دور میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ آج ہم بھی ہر جگہ اور ہر معاشرے میں حتٰی کہ مسلمان معاشروں میں بھی دیکھ رہے ہیں کہ نیکی منہ چھپائے پھر رہی ہے اور بدی انسان لپک لپک کر اختیار کر رہا ہے۔ 146۔ 3 یہ اس بات کا سبب بتلایا جا رہا ہے کہ لوگ نیکی کے مقابلے میں بدی کو اور حق کے مقابلے میں باطل کو کیوں زیادہ اختیار کرتے ہیں؟ یہ سبب ہے آیات الٰہی کی تکذیب اور ان سے غفلت اور اعراض کا۔ یہ ہر معاشرے میں عام ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

146۔ اور اپنی آیتوں سے ان لوگوں (کی نگاہیں) پھیر دوں گا جو بلا وجہ زمین میں اکڑتے ہیں [143]۔ وہ خواہ کوئی بھی نشانی دیکھ لیں اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ اور وہ راہ ہدایت دیکھ لیں تو اسے اختیار نہیں کرتے اور اگر گمراہی کی راہ دیکھ لیں تو اسے فوراً اختیار [143۔ 1] کرتے ہیں۔ ان کی یہ حالت اس لیے ہے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا اور ان سے بے پروائی کرتے رہے
[143] تکبر کی تعریف اور علامات:۔
تکبر کی جامع تعریف درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتی ہے۔ عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہو۔“ ایک شخص نے کہا: ہر انسان اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اس کی جوتی اچھی ہو (کیا یہ تکبر ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ خوب صورت ہے، خوبصورتی کو پسند کرتا ہے، تکبر تو یہ ہے کہ تو حق کو ٹھکرا دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے“ [مسلم، كتاب الايمان۔ باب تحريم الكبرو بيانه]
یعنی تکبر کی ایک علامت تو یہ ہوتی ہے کہ متکبر انسان اللہ کے احکام کی کچھ پروا نہیں کرتا اور اپنے آپ کو اللہ کی بندگی کے مقام سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے جیسے نہ تو وہ اللہ کا بندہ ہے اور نہ ہی اللہ اس کا پروردگار ہے اور دوسری علامت یہ ہے کہ اپنے آپ کو عام لوگوں سے کوئی بالاتر مخلوق سمجھنے لگتا ہے اور دوسروں کو اپنے سے فروتر سمجھ کر ان سے ویسا ہی سلوک کرتا ہے حالانکہ اس کی اس خودسری کے لیے کوئی وجہ جواز نہیں اللہ کی زمین پر رہتے ہوئے اور اس کا رزق کھاتے ہوئے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ کا نافرمان اور متکبر بن کر رہے اسی لیے اللہ نے یہاں بغیر الحق کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔
[143۔ 1]
تکبر کا اثر انسانی طبائع پر:۔
پورے جملہ کا مفہوم یہ ہو گا کہ بلا وجہ تکبر کرنے والوں کی نگاہیں اللہ کی آیات کی طرف اٹھتی ہی نہیں۔ خواہ پوری کی پوری کائنات اللہ کی ایسی نشانیوں سے بھری ہوئی ہو اور ایسی ہی بے شمار آیات ان کے اپنے جسم کے اندر بھی موجود ہوں یا انہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سنائی جائیں تو ان کے دل کوئی اثر قبول نہیں کرتے اور اگر کوئی خرق عادت معجزہ بھی دیکھ لیں تو اس کی تاویلات و توجیہات تلاش کرنے پر تو تیار ہو جاتے ہیں لیکن راہ راست پر آنے کا نام نہیں لیتے ہاں اگر کوئی گمراہی کی بات ہو اپنے خواہشات نفس کی پیروی کی بات ہو اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا جا رہا ہو یا کمزور مسلمانوں پر پھبتیاں کسی جا رہی ہوں تو ایسی باتیں ان کو بہت راس آتی ہیں اور بھلی معلوم ہوتی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تکبر کا پھل محرومی ٭٭
تکبر کا نتیجہ ہمیشہ جہالت ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو حق سمجھنے، اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ان کے دل الٹ جاتے ہیں، آنکھ کان بےکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی کجی ان کے دلوں کو بھی کج کر دیتی ہے۔
علماء کا مقولہ ہے کہ متکبر اور پوچھنے سے جی چرانے والا کبھی عالم نہیں ہو سکتا۔ جو شخص تھوڑی دیر کے لیے علم کے حاصل کرنے میں اپنے آپ کو دوسرے کے سامنے نہ جھکائے، وہ عمر بھر ذلت و رسوائی میں رہتا ہے۔ متکبر لوگوں کو قرآن کی سمجھ کہاں؟ وہ تو رب کی آیتوں سے بھاگتے رہتے ہیں۔
اس امت کے لوگ ہوں یا دوسری امتوں کے، سب کے ساتھ اللہ کا طریقہ یہی رہا ہے کہ تکبر کی وجہ سے حق کی پیروی نصیب نہیں ہوتی۔
چونکہ یہ لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔ اگرچہ یہ بڑے بڑے معجزے بھی دیکھ لیں، انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ گو نجات کے راستے ان پر کھل جائیں لیکن اس راہ پر چلنا ان کے لیے دشوار ہے۔ ہاں بری راہ سامنے آتے ہی یہ بےطرح اس پر لپکتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں جھٹلانا ہے اور اپنے اعمال کے نتیجوں سے بےخبر ہیں۔
جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، آخرت کا یقین نہ رکھیں، اسی عقیدے پر مریں، ان کے اعمال اکارت ہیں۔ ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے، بدلہ صرف کئے ہوئے اعمال کا ہی ملتا ہے۔ بھلے کا بھلا اور برے کا برا، جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے۔