تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ:} یعنی کسی واسطے کے بغیر کلام فرمایا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۳) اور نساء (۱۶۴) یہ ان کا اللہ سے ہم کلام ہونے کا دوسرا موقع تھا۔ پہلے موقعے کا ذکر سورۂ طٰہ (۱۲) میں ہے، جب آگ لینے گئے تھے اور رسالت سے سرفراز ہوئے تھے۔ واسطے کے بغیر اس لیے کہ فرشتے کے ذریعے سے یا دل میں ڈال کر تو ہر نبی سے کلام ہوتا تھا، جسے ”وحی“ کہتے ہیں، پھر موسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت کیا ہوئی؟ جس کا ذکر تمام لوگ قیامت کے دن موسیٰ علیہ السلام سے کرکے سفارش کی درخواست کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے کلام کیا۔ مشرک یونانیوں کے فلسفی عقائد سے متاثر لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کلام کر ہی نہیں سکتا، اس لیے یہاں ایسا کلام مراد ہے جس میں نہ لفظ تھے نہ آواز۔ کوئی ان سے پوچھے کہ یہ بات تمھیں قرآن مجید کی کس آیت یا حدیث سے معلوم ہوئی؟ قرآن مجید نے تو موسیٰ علیہ السلام کے لیے ”کلام“ کا لفظ استعمال فرمایا اور ”ندا “کا بھی۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۱۰) اللہ کے کلام کرنے کے منکروں نے کہا، کلام سے مراد کلام نفسی ہے جو دل میں ہوتا ہے۔ مگر وہ تو سنائی نہیں دیتا اور وہ تو گونگوں کے دل میں بھی ہوتا ہے، اسے آپ سوچ، فکراور ارادہ وغیرہ کہہ سکتے ہیں، مگر الفاظ کے نکلے بغیر کلام کیسے بن گیا؟ تم نے اللہ تعالیٰ کی کیا قدر کی کہ اسے بولنے سے معذور قرار دے کر گونگوں کے برابر کر دیا!! یہ لوگ قرآن کو بھی اللہ کا کلام نہیں مانتے، بلکہ اسے مخلوق کہتے ہیں کہ جو مفہوم اور معانی اللہ تعالیٰ کی ذات کے اندر موجود تھے اللہ تعالیٰ نے وہ معانی موسیٰ علیہ السلام کو پہنچانے کے لیے ہوا میں ایسے لفظ پیدا کر دیے جو وہ مفہوم ادا کرتے ہیں۔ اس لیے قرآن اللہ کا کلام نہیں، اس کی مخلوق ہے۔ مقصد یہ تھا کہ مخلوق تو فنا بھی ہو سکتی ہے، اس لیے قرآن سے جان چھڑانے کا ایک حیلہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ قرآن اللہ کی مخلوق تھا، فنا ہو گیا، لہٰذا اب عمل کی ضرورت نہیں۔ ان لوگوں سے بس ایک ہی سوال ہے جو امام اہل السنہ احمد ابن حنبل رحمہ اللہ نے ان سے بار بار اور مسلسل کیا کہ بتاؤ یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہاں فرمائی ہے؟! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرمان اس کے ثبوت کے لیے پیش کرو؟ محض فلسفیوں کے دماغ کی خرابی سے دین کبھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ تو کلام اللہ کو مخلوق کہنے والے اور اسے اللہ کی صفت ماننے کے منکر آخر وقت تک یہ مطالبہ پورا نہ کر سکے اور نہ کر سکتے ہیں۔
➌ {قَالَ رَبِّ اَرِنِيْۤ اَنْظُرْ اِلَيْكَ …:} فرشتے کے واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ کے کلام کی لذت سے موسیٰ علیہ السلام کے دل میں ایسا شوق پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کر دی کہ پروردگارا! اپنا آپ مجھے دکھا کہ میں تجھے دیکھوں، فرمایا: «{ لَنْ تَرٰىنِيْ }» ”تو مجھے ہر گز نہ دیکھے گا۔“ یعنی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے کسی آنکھ میں یہ طاقت نہیں رکھی کہ اللہ تعالیٰ کے دیدار کو برداشت کر سکے۔ رہا آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار تو وہ مومنوں کے حق میں قرآن مجید کی آیات اور متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قیامہ (۲۲، ۲۳) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے اس مقام پر لکھا ہے: ”یقین ہے کہ آخرت میں اللہ کو دیکھنا ہے، گمراہ لوگ منکر ہیں کہ ان کے نصیب میں نہیں۔“ (موضح)
➍ { وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ:} یعنی جب میں پہاڑ پر تجلی فرماؤں تو دیکھ اگر…۔ یہ مشاہدہ کروا کر موسیٰ علیہ السلام کی دل جوئی فرمائی کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھنا کوئی برداشت ہی نہیں کر سکتا، تاکہ وہ درخواست قبول نہ ہونے پر دل گیر نہ ہوں۔
➎ {فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ …: ” تَجَلّٰى “} یہ {”جَلَا يَجْلُوْ جَلْوَةً“} سے باب تفعل ہے۔ {”جَلَا “} کا معنی ظاہر کرنا، پردہ ہٹانا ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے
{وَجَلَا السُّيُوْلُ عَنِ الطُّلُوْلِ كَأَنَّهَا
زُبُرٌ تُجِدُّ مُتُوْنَهَا اَقْلَامُهَا}
”سیلابوں نے پرانے کھنڈر اس طرح ظاہر کر دیے جیسے وہ ایسی کتابیں ہیں جن کے قلم ان کے متون کو نیا کر دیتے ہیں۔“
{” تَجَلّٰى “} کا معنی ظاہر ہوا۔{ ” دَكًّا “} مصدر ہے۔ {” دَكَّ يَدُكُّ “ } (ن) اور{ ” دَقَّ يَدُقُّ“ } قریب قریب معنی رکھتے ہیں، یعنی کسی چیز کو کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دینا۔ یہاں {” دَكًّا “} مفعول مطلق ہے، یعنی {”دَكَّهُ دَكًّا“} کہ اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔ قرآن مجید میں ہے: «{ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا }» [الفجر: ۲۱] اور «{ وَ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً }» [الحآقۃ: ۱۴]{ ”اَرْضٌ دَكَّاءٌ “} اس زمین کو بھی کہتے ہیں جو برابر اور ہموار ہو، یعنی جب رب تعالیٰ پہاڑ کے لیے ظاہر ہوا تو اس جلوے نے پہاڑ کو زمین کے برابر کر دیا اور موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا جلوہ تو کجا پہاڑ کی حالت دیکھنے کی تاب بھی نہ لا سکے، بلکہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ بعض لوگوں نے {” صَعِقًا “} کا معنی کیا ہے کہ فوت ہو کر گر پڑے، اگرچہ {” صَعِقًا “} اس معنی میں بھی آتا ہے، مگر {” فَلَمَّاۤ اَفَاقَ “} (جب اسے ہوش آیا) کے الفاظ بتاتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام فوت نہیں بلکہ بے ہوش ہوئے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس قول سے متعلق بیان کرتے ہیں: «{ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا }» [الأعراف: ۱۴۳] فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سمجھانے کے لیے) اپنا انگوٹھا انگلی کے پورے کے قریب رکھا (اور فرمایا) ”تو پہاڑ دھنس گیا۔“ [ابن أبی عاصم فی السنۃ: ۴۸۰، و صححہ الألبانی]
➏ {قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ:} تو پاک ہے (کہ تجھے دنیا میں کوئی دیکھ سکے) میں توبہ کرتا ہوں (اس بات سے کہ تیری اجازت کے بغیر تجھے دیکھنے کی درخواست کر بیٹھا)۔
➐ { وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ:} اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں، یعنی تجھ پر اور تیری عظمت و جلال پر، یا اس پر کہ کوئی تجھے قیامت سے پہلے نہیں دیکھ سکتا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”موسیٰ علیہ السلام کو حق تعالیٰ نے بزرگی دی کہ فرشتے کے بغیر خود کلام فرمایا، ان کو شوق ہوا کہ دیدار بھی کروں، اس کی برداشت نہ ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کو دیکھنا ممکن ہے، کیونکہ نمود (ظہور) ہوا تھا پہاڑ کی طرف، لیکن دنیا کے وجود کو برداشت نہ ہوئی مگر آخرت کے وجود کو برداشت ہو گی، وہاں دیکھنا یقینی ہے۔“ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک قول اس آیت کی تفسیر میں یہ ہے کہ یہ نفی ابدی ہے لیکن دنیاوی زندگی کے لیے نہ کہ آخرت کے لیے۔ کیونکہ آخرت میں دیدار باری تعالیٰ مومنوں کو قطعاً ہو گا جیسے کہ آیات و احادیث سے ثابت ہے۔ اس طرح کوئی معارضہ بھی باقی نہیں رہتا۔
یہ آیت مثل «لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ» ۱؎ [6-الأنعام:103] کے ہے جس کی تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے۔
اگلی کتابوں میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی اس درخواست پر ان سے کہا گیا تھا کہ اے موسیٰ! مجھے جو زندہ شخص دیکھ لے، وہ مر جائے۔ میرے دیدار کی تاب کوئی زندہ لا نہیں سکتا۔ خشک چیزیں بھی میری تجلی سے تھرا اٹھتی ہیں۔ چنانچہ پہاڑ کا حال خود کلیم اللہ علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور خود بھی بےہوش ہو گئے۔
امام ابو جعفر طبری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی ڈالی، اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا تو وہ چکنا چور ہو گیا۔ راوی حدیث ابواسماعیل نے اپنے شاگردوں کو اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15096] لیکن اس حدیث کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام واضح نہیں کیا گیا۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انگوٹھے کو اپنی چھنگلیا کی اوپر کی پور پر رکھ کر بتایا کہ اتنے سے جمال سے پہاڑ زمین کے ساتھ ہموار ہو گیا۔
مستدرک میں اسے وارد کر کے کہا ہے کہ یہ شرط مسلم پر ہے اور صحیح ہے۔
خلال کہتے ہیں: ”اس کی سند صحیح ہے، اس میں کوئی علت نہیں۔“
ابن مردویہ میں بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن اس کی بھی سند صحیح نہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”صرف بقدر چھنگلی کے تجلی ہوئی تھی جس سے وہ مٹی کی طرح چور چور ہو گیا اور کلیم اللہ علیہ السلام بھی بےہوش ہو گئے۔“ کہتے ہیں: ”وہ پہاڑ دھنس گیا، سمندر میں چلا گیا اور موسیٰ علیہ السلام بےہوش ہو کر گر پڑے۔“
بعض بزرگ فرماتے ہیں: ”وہ پہاڑ اب قیامت تک ظاہر نہ ہو گا بلکہ زمین میں اترتا چلا جاتا ہے۔“
ایک حدیث میں ہے: { اس تجلی سے چھ پہاڑ اپنی جگہ سے اڑ گئے۔ جن میں سے تین مکے میں ہیں اور تین مدینے میں۔ احد، ورقان اور رضوی مدینے میں۔ حرا، ثبیر اور ثور مکے میں۔ } ۱؎ [الخطیب:441/10:موضوع] لیکن یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر ہے۔
کہتے ہیں کہ طور پر تجلی کے ظہور سے پہلے پہاڑ بالکل صاف تھے، اس کے بعد ان میں غار اور کھڈ اور شاخیں قائم ہو گئیں۔ جناب کلیم اللہ علیہ السلام کی آرزو کے جواب میں انکار ہوا اور پھر مزید تشفی کے لیے فرمایا گیا کہ میری ادنیٰ سی تجلی کی برداشت تجھ سے تو کیا، بہت زیادہ قوی مخلوق میں بھی نہیں۔
دیکھ پہاڑ کی جانب! خیال رکھ۔ پھر اس پر اپنی تجلی ڈالی جس سے پہاڑ جھک گیا اور موسیٰ بےہوش ہو گئے۔ صرف اللہ کی نظر نے پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر دیا اور وہ بالکل مٹی ہو کر ریت کا میدان ہو گیا۔
موسیٰ علیہ السلام ہوش میں آتے ہی اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور تعظیم و جلال بیان فرمانے لگے کہ واقعی وہ ایسا ہی ہے کہ کوئی زندہ اس کے جمال کی تاب نہیں لا سکتا۔
پھر اپنے سوال سے توبہ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ سب بنی اسرائیل سے پہلے میں ایمان لانے والا بنتا ہوں۔ میں اس پر سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں کہ واقعی کوئی زندہ آنکھ تجھے دیکھ نہیں سکتی۔
یہ مطلب نہیں کہ آپ سے پہلے کوئی مومن ہی نہ تھا بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ کا دیدار زندوں کے لیے نا ممکن ہے۔ اس فرمان کو سنتے ہی سب سے پہلے ماننے والا میں ہوں کہ واقعی مخلوق میں سے کوئی قیامت تک اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔
ابن جریر میں اس آیت کی تفسیر میں محمد بن اسحاق بن یسار کی روایت سے ایک عجیب و غریب مطول اثر نقل کیا گیا ہے۔ عجب نہیں کہ یہ اسرائیلی روایتوں میں سے ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { ایک یہودی کو کسی نے ایک تھپڑ مارا تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت لایا کہ آپ کے فلاں انصاری نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔ آپ نے اسے بلوایا اور اس سے پوچھا۔ اس نے کہا: سچ ہے۔ وجہ یہ ہوئی کہ یہ کہہ رہا تھا، اس اللہ کی قسم ہے جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہاں پر فضیلت دی تو میں نے کہا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی؟ اور غصے میں آ کر میں نے اسے تھپڑ مار دیا۔ آپ نے فرمایا: سنو! نبیوں کے درمیان تم مجھے فضیلت نہ دیا کرو۔ قیامت میں سب بےہوش ہوں گے۔ سب سے پہلے مجھے ہوش آئے گا تو میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا پایہ تھامے ہوئے ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ انہیں مجھ سے پہلے افاقہ ہوا؟
یہ حدیث بخاری شریف میں کئی جگہ ہے اور مسلم شریف میں بھی ہے اور ابوداؤد میں بھی ہے۔
بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ { ایک مسلمان اور ایک یہودی کا جھگڑا ہو گیا۔ اس پر مسلمان نے کہا: اس کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان پر فضیلت دی اور یہودی نے کہا: اس کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہان پر فضیلت دی۔ اس پر مسلمان نے اسے تھپڑ مارا۔ اس روایت میں ہے کہ شاید موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے بےہوشی سے استثنا کر لیا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3408]
حافظ ابوبکر ابن ابی الدنیا رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ یہ تھپڑ مارنے والے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ لیکن بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ یہ کوئی انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ یہی زیادہ صحیح اور زیادہ صریح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس حدیث میں یہ فرمان کہ تم نبیوں کے درمیان مجھے فضیلت نہ دو ایسا ہی ہے جیسے اور حدیث میں بھی فرمان ہے کہ { نبیوں میں مجھے فضیلت نہ دو۔ نہ یونس بن متی علیہ السلام پر فضیلت دو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3412-3414]
یہ فرمان بطور تواضع کے ہے یا یہ فرمان اس سے پہلے ہے کہ آپ کو اپنی فضیلت کا علم اللہ کی طرف سے ہوا ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ غصے میں آ کر یا تعصب کی بنا پر مجھے فضیلت نہ دو یا یہ کہ صرف اپنی رائے سے میری فضیلت قائم نہ کرو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بہت ممکن ہے، یہ اس وقت کا حال ہو جب مالک الملک تبارک و تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق فیصلے کرنے کے لئے تشریف لائے گا تو اس کی تجلی سے لوگ بےہوش ہو جائیں گے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام اللہ کے جمال کی برداشت کو طور پہاڑ پر نہ لا سکے۔
اسی لیے آپ کا فرمان ہے کہ نہ معلوم مجھ سے پہلے انہیں افاقہ ہوا یا طور کی بےہوشی کے بدلے یہاں بےہوش نہ ہوئے۔
قاضی عیاض رحمہ اللہ اپنی کتاب الشفاء کے شروع میں لکھتے ہیں کہ { دیدار الٰہی کی اس تجلی کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام اس چیونٹی کو بھی دیکھ لیا کرتے تھے جو دس فرسخ دور رات کے اندھیرے میں کسی پتھر پر چل رہی ہو۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:222/3:ضعیف]
اور بہت ممکن ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں سے جن کا ہم نے ذکر کیا، معراج کے واقعہ کے بعد مخصوص ہوئے ہوں اور آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا قاضی صاحب کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے حالانکہ اس کی سند غور طلب ہے۔ اس میں مجہول راوی ہیں اور ایسی باتیں جب تک ثقہ راویوں کے سلسلے سے نہ ثابت ہوں، قابل قبول نہیں ہوتیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولمَّا جاء موسى لميقاتنا}: الذي وقَّتْناه له لإنزال الكتاب، {وكلَّمَه ربُّه}: بما كلَّمه من وحيه وأمره ونهيه؛ تشوَّق إلى رؤية الله، ونَزَعَتْ نفسُه لذلك حبًّا لربِّه ومودَّة لرؤيته، فـ {قال ربِّ أرني أنظرْ إليك}، فقال الله: {لن تَراني}؛ أي: لن تقدِرَ الآن على رؤيتي؛ فإنَّ الله تبارك وتعالى أنشأ الخلق في هذه الدار على نشأة لا يقدرون بها ولا يثبتون لرؤية الله، وليس في هذا دليلٌ على أنَّهم لا يرونه في الجنة؛ فإنه قد دلَّت النصوص القرآنيَّة والأحاديث النبويَّة على أن أهل الجنة يرون ربَّهم تبارك وتعالى ويتمتَّعون بالنظر إلى وجهه الكريم. وأنه يُنْشِئُهم نشأةً كاملةً يقدرون معها على رؤية الله تعالى، ولهذا رتَّب الله الرؤية في هذه الآية على ثبوت الجبل، فقال مقنعاً لموسى في عدم إجابتِهِ للرؤية: {ولكِنِ انظرْ إلى الجبل فإنِ استقرَّ مكانَه}: إذا تجلَّى اللهُ له، {فسوف تراني فلمَّا تجلَّى ربُّه للجبل}: الأصمِّ الغليظ، {جعله دكًّا}؛ أي: انهال مثل الرمل انزعاجاً من رؤية الله وعدم ثبوتٍ لها، {وخرَّ موسى}: حين رأى ما رأى، صَعِقاً فتبيَّن له حينئذٍ أنه إذا لم يثبت الجبلُ لرؤية الله؛ فموسى أولى أن لا يثبتَ لذلك، واستغفر ربَّه لما صدر منه من السؤال الذي لم يوافقْ موضعاً، و {قالَ سبحانك}؛ أي: تنزيهاً لك وتعظيماً عما لا يليق بجلالك، {تبتُ إليك}: من جميع الذنوب وسوء الأدب معك، {وأنا أول المؤمنين}؛ أي: جدَّد عليه الصلاة والسلام إيمانه بما كمَّل اللهُ له مما كان يجهله قبل ذلك.