تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِيْنَ:} یعنی ایک جانب سے ہاتھ اور دوسری جانب سے پاؤں کٹوا کر تمھیں سولی دے دوں گا۔ عام طور پر لوگ سولی اور پھانسی کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں، حالانکہ پھانسی میں تو گلے میں رسا ڈال کر گلا گھونٹ کر مارا جاتا ہے، جبکہ سولی میں ایک اونچا کھمبا کھڑا کرکے اس کے اوپر ایک آڑی لکڑی باندھ دی جاتی ہے، پھر ملزم کو اوپر چڑھا کر اس کے بازو اس آڑی لکڑی کے ساتھ باندھ دیے جاتے ہیں، جبکہ جسم اونچی لکڑی کے ساتھ بندھا ہوتا ہے، وہ وہیں دھوپ، سردی، پرندوں کی نوچ کھسوٹ اور دشمنوں کے تیروں یا نیزوں کے زخم کھاتا ہوا دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اسی لیے سورۂ طٰہٰ (۷) میں ہے: ”میں تمھیں ہر صورت کھجور کے تنوں پر بری طرح سولی دوں گا۔“ یہ پھانسی سے کہیں زیادہ خوف ناک سزا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ تو پہلے چلا جا، پھر ہم آ جائیں گے۔ اس طرح میدان قائم ہو۔ ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائیں گے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔
فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بےوقوف بھی اس کے اس بیان کو صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ علیہ السلام اپنا بچپن فرعون کے محل میں گزارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں۔ مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں۔ انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں، فرعون انہیں اپنی رضا مندی کا یقین دلاتا ہے۔ خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں، کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے، نہ سنا ہے، نہ ملے ہیں، نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہر یارے چناں۔
وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا: بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔
اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال چلتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اپنے اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو، ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو۔ اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کےکھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔
تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمجھتا تھا کہ اب یہ نرم پڑ جائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہو گئے۔
بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا؟
کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے۔ اس لیے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ! ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو، اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آ جائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔
ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہو جاتی ہیں۔ فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں: ’ تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ۔ جو جی میں ہے، کر گزر۔ تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے، ہم صبر کر لیں گے۔ کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے۔ خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی۔ گناہگاروں کے لیے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے۔ جہاں نہ موت آئے، نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لیے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ ‘ ۱؎ [20-طه:72-75]
سبحان اللہ! یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال لهم {فرعونُ} متهدِّداً لهم على الإيمان: {آمنتُم به قبل أن آذنَ لكم}: كان الخبيث حاكماً مستبداً على الأبدان والأقوال، قد تقرَّر عنده وعندهم أن قوله هو المطاع وأمره نافذٌ فيهم ولا خروج لأحدٍ عن قوله وحكمه، وبهذه الحالة تنحطُّ الأمم وتضعف عقولها ونفوذها وتعجز عن المدافعة عن حقوقها، ولهذا قال الله عنه: {فاستخفَّ قومَه فأطاعوه}، وقال هنا: {آمنتُم به قبلَ أن آذنَ لكم}؛ أي: فهذا سوءُ أدبٍ منكم وتجرُّؤ عليَّ، ثم موَّه على قومه وقال: {إنَّ هذا لَمَكرٌ مكرتُموه في المدينة لتُخْرِجوا منها أهلها}؛ أي: إن موسى كبيركم الذي علَّمكم السحر، فتواطأتم أنتم وهو على أن تنغلِبوا له فيظهرَ فتتَّبعونه ثم يتَّبعكم الناس أو جمهورهم، فتُخْرِجوا منها أهلها، وهذا كذب يعلم هو ومن سبر الأحوال أن موسى عليه الصلاة والسلام لم يجتمع بأحدٍ منهم، وأنهم جُمِعوا على نظر فرعون ورسله، وأن ما جاء به موسى آية إلهيَّة، وأن السحرة قد بذلوا مجهودهم في مغالبة موسى حتى عجزوا وتبيَّن لهم الحق فاتبعوه. ثم توعَّدهم فرعون بقوله: فلسوف {تعلمونَ}: ما أحِلُّ بكم من العقوبة.