تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اس سے وہ مشکل حل ہو جاتی ہے کہ سجدے کا حکم تو فرشتوں کو تھا، ابلیس جنوں میں سے تھا، فرشتہ تھا ہی نہیں تو وہ نافرمان کیوں ٹھہرا؟ اس کے عجیب و غریب جواب دیے گئے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کے علاوہ ابلیس کو بطور خاص مخاطب کر کے حکم دیا گیا تھا۔
➌ { خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ:} آگ مٹی سے افضل ہے اور افضل اپنے سے کم درجہ کو کیسے سجدہ کر سکتا ہے؟ اس نے یہ نہ دیکھا کہ حکم کون دے رہا ہے، بلکہ اﷲ تعالیٰ کے واضح حکم کی موجودگی میں عقلی قیاس سے کام لیا، نتیجہ یہ ہوا کہ دھتکارا گیا اور اس پر اﷲ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا، اسی لیے اہل علم فرماتے ہیں کہ پہلا شخص جس نے واضح حکم کی موجودگی میں قیاس کیا ابلیس تھا۔ ابن سیرین نے فرمایا کہ شرک کی بنیاد بھی قیاس ہی تھا۔ (طبری) اب بھی آیات و احادیث کے مقابلے میں جو شخص اسی طرح عقلی قیاس سے کام لے گا اس کا یہ کام شیطانی ہے، اس کا بھی وہی انجام ہو گا جو ابلیس کا ہوا۔
➍ {وَ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِيْنٍ:} یہاں شیطان نے متعدد غلطیاں کیں، ایک تو یہ بات ہی غلط ہے کہ افضل اپنے سے کم تر کو سجدہ نہیں کر سکتا۔ بات برتر یا کم تر کی نہیں، حکم کی ہے اور اﷲ تعالیٰ جسے جو چاہے حکم دے سکتا ہے۔ دوسرا اس کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ میں آدم سے بہتر ہوں کیونکہ آدم علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے بنانے کا اور عزت و تکریم بخشنے کا جو شرف عطا فرمایا وہ کسی بھی مخلوق کو نہیں بخشا اس لیے فرمایا: «مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ» [صۤ: ۷۵] ”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کے لیے سجدہ کرے جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا۔“ اور تیسری یہ بات بھی غلط ہے کہ آگ مٹی سے بہتر ہے، کیونکہ آگ میں تیزی، چلانا اور بھڑکنا ہے جبکہ مٹی میں تواضع، ٹھکانابننے، اگانے اور بڑھانے کی خوبی موجود ہے۔ اب بھی جو لوگ قرآن و حدیث کے مقابلے میں قیاس کرتے ہیں اس پر تھوڑا سا غور کریں تو اس کا فاسد و باطل ہونا آسانی سے سمجھ میں آ جائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابلیس نے جو وجہ بتائی، سچ تو یہ ہے کہ وہ عذر گناہ بدتر از گناہ کی مصداق ہے۔ گویا وہ اطاعت سے اس لیے باز رہتا ہے کہ اس کے نزدیک فاضل کو مفضول کے سامنے سجدہ کئے جانے کا حکم ہی نہیں دیا جا سکتا۔ تو وہ ملعون کہہ رہا ہے کہ میں اس سے بہتر ہوں پھر مجھے اس کے سامنے جھکنے کا حکم کیوں ہو رہا ہے؟ پھر اپنے بہتر ہونے کے ثبوت میں کہتا ہے کہ میں آگ سے بنا، یہ مٹی سے۔ ملعون اصل عنصر کو دیکھتا ہے اور اس فضیلت کو بھول جاتا ہے کہ مٹی والے کو اللہ عز و جل نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور اپنی روح پھونکی ہے۔
پس اس وجہ سے کہ اس نے فرمان الٰہی کے مقابلے میں قیاس فاسد سے کام لیا اور سجدے سے رک گیا، اللہ کی رحمتوں سے دور کر دیا گیا اور تمام نعمتوں سے محروم ہو گیا۔ اس ملعون نے اپنے قیاس اور اپنے دعوے میں بھی خطا کی۔
مٹی کے اوصاف ہیں: نرم ہونا، حامل مشقت ہونا، دوسروں کا بوجھ سہارنا، چیزوں کو اگانا، پرورش کرنا، اصلاح کرنا وغیرہ اور آگ کی صفت ہے: جلدی کرنا، جلا دینا، بےچینی پھیلانا، پھونک دینا۔ اسی وجہ سے ابلیس اپنے گناہ پر اڑ گیا اور آدم علیہ السلام نے اپنے گناہ کی معذرت کی، اس سے توبہ کی اور اللہ کی طرف رجوع کیا۔ رب کے احکام کو تسلیم کیا، اپنے گناہ کا اقرار کیا، رب سے معافی چاہی، بخشش کے طالب ہوئے۔
ایک اور روایت میں ہے: { فرشتے نور عرش سے، جنات آگ سے۔ } ایک غیر صحیح حدیث میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ { حور عین زعفران سے بنائی گئی ہیں۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:7813/8:ضعیف]
امام حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابلیس نے یہ قیاس کیا اور یہی پہلا شخص ہے جس نے قیاس کا دروازہ کھولا۔ اس کی اسناد صحیح ہے۔
امام ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سب سے پہلے قیاس کرنے والا ابلیس ہے۔ یاد رکھو! سورج چاند کی پرستش اسی قیاس کی بدولت شروع ہوئی ہے۔ اس کی اسناد بھی صحیح ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فوبَّخه الله على ذلك، وقال ما منعك أن تسجد لما خلقت بيديَّ أي شرفته وفضلته بهذه الفضيلة التي لم تكن لغيرِهِ، فعصيتَ أمري وتهاونت بي. {قال} إبليسُ معارضاً لربِّه: {أنا خيرٌ منه}، ثم برهن على هذه الدعوى الباطلة بقوله له: {خلَقْتَني من نارٍ وخلقتَهُ من طينٍ}: وموجب هذا أن المخلوق من نار أفضل من المخلوق من طين لعلوِّ النار على الطين وصعودها.
وهذا القياس من أفسد الأقيسة؛ فإنه باطلٌ من عدة أوجه:
منها: أنه في مقابلة أمر الله له بالسجود، والقياس إذا عارض النصَّ فإنه قياسٌ باطل؛ لأنَّ المقصود بالقياس أن يكون الحكم الذي لم يأت فيه نصٌّ يقارب الأمور المنصوص عليها ويكون تابعاً لها، فأما قياس يعارضها ويلزم من اعتباره إلغاء النصوص؛ فهذا القياس من أشنع الأقيسة.
ومنها: أنَّ قولَه: {أنا خيرٌ منه}؛ بمجرَّدها كافية لنقص إبليس الخبيث؛ فإنَّه برهن على نقصه بإعجابه بنفسه وتكبُّره والقول على الله بلا علم، وأيُّ نقص أعظم من هذا؟!
ومنها: أنه كَذَبَ في تفضيل مادة النار على مادة الطين والتراب؛ فإنَّ مادة الطين فيها الخشوعُ والسكونُ والرزانةُ، ومنها تظهر بركات الأرض من الأشجار وأنواع النبات على اختلاف أجناسه وأنواعه، وأما النار؛ ففيها الخفة والطيش والإحراق.