ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 112

یَاۡتُوۡکَ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیۡمٍ ﴿۱۱۲﴾
کہ وہ تیرے پاس ہر ماہر فن جادوگر لے آئیں۔
کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں
کہ وه سب ماہر جادو گروں کو آپ کے پاس ﻻ کر حاضر کر دیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 111 میں تا آیت 113 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

112۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے میں جادوگری کو بڑا عروج حاصل تھا، اس لئے حضرت موسیٰ ؑ کی پیش کردہ معجزات کو بھی انہوں نے جادو سمجھا اور جادو کے ذریعے اس کا توڑ مہیا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے کہا اے موسیٰ کیا تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہماری زمین سے نکال دے؟ پس ہم بھی اس جیسا جادو تیرے مقابلے میں لائیں گے، اس کے لئے کسی ہموار جگہ اور وقت کا ہم تعین کرلیں جس کی دونوں پابندی کریں، حضرت موسیٰ ؑ نے کہا نو روز کا دن اور چاشت کا وقت ہے اس حساب سے لوگ جمع ہوجائیں (سورة طٰہ۔ 57۔ 59)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

112۔ جو ہر ماہر جادوگر کو اکٹھا کر کے تیرے [114] پاس لے آئیں“
[114] فرعون اور درباریوں کی مرعوبیت:۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰؑ کی باتیں سن کر فرعون اور فرعونیوں کو واقعی یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ یہ شخص اس ملک میں انقلاب لا سکتا ہے اور اس کی وجوہ کئی تھیں ایک یہ کہ موسیٰؑ نے انہی میں رہ کر تربیت پائی تھی فنون جنگ سیکھے تھے بلکہ ایک دفعہ حبش پر چڑھائی کے دوران انہیں سپہ سالار بنا کر بھی بھیجا گیا اور وہ کامیاب و کامران واپس آئے تھے۔ وہ جرأت مند، دلیر اور مضبوط قد و قامت کے مالک تھے اور ان کی صداقت کے سب لوگ معترف تھے۔ دوسرے یہ کہ موسیٰؑ نے یہ وضاحت کر دی تھی کہ میں اس اللہ تعالیٰ کا فرستادہ ہوں جسے تم بھی رب اکبر تسلیم کرتے ہو۔ نیز یہ کہ میں بعینہٖ وہی بات کر رہا ہوں جو میرے پروردگار نے مجھے کہی ہے۔ تیسرے یہ کہ آپ کے معجزات نے فرعون اور فرعونیوں سب کو مرعوب اور دہشت زدہ بنا دیا تھا۔ اور ان لوگوں نے جو موسیٰؑ کو جادوگر کہہ دیا تو یہ محض ایک طفل تسلی، دل کے بہلاوے، وقت کو ٹالنے اور عوام الناس کو اندھیرے میں رکھنے کی غرض سے کہی گئی کہ شاید کچھ مدت گزرنے پر حالات کوئی دوسرا رخ اختیار کر جائیں۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ کوئی جادوگر نہ کبھی کوئی سیاسی انقلاب لایا ہے نہ لا سکتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

درباریوں کا مشورہ ٭٭
درباریوں نے مشورہ دیا کہ ان دونوں بھائیوں کا معاملہ تو اس وقت رفع دفع کرو، اسے ملتوی رکھو اور ملک کے ہر حصے میں ہرکارے بھیج دو جو جادوگروں کو جمع کر کے آپ کے دربار میں لائیں۔
تو جب تمام استادان فن جادوگر آ جائیں، ان سے مقابلہ کرایا جائے تو یہ ہار جائے گا اور منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا، یہ اگر جادو جانتا ہے تو ہماری رعایا میں جادوگروں کی کیا کمی ہے؟ بڑے بڑے ماہر جادوگر ہم میں موجود ہیں جو اپنے فن میں بےنظیر ہیں اور بہت چست و چالاک ہیں۔
چنانچہ موسیٰ علیہ السلام سے کہا گیا کہ ہم سمجھ گئے کہ تو جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دینے کے ارادے سے آیا ہے تو اگر تجھ میں کوئی سکت ہے تو آ ہاتھ ملا، ہم تجھ سے مقابلہ کا دن اور جگہ مقرر کرتے ہیں اور جب جگہ مقرر ہو جائے، پھر جو بھاگے وہی ہارا۔
آپ نے فرمایا: اچھا یہ ہوس بھی نکال لو۔ جاؤ تمہارا عید کا دن مجھے منظور ہے اور دن چڑھے اجالے کا وقت اور شرط یہ کہ یہ مقابلہ مجمع عام میں ہو۔ چنانچہ فرعون اس تیاری میں مصروف ہو گیا۔