(آیت 106) {قَالَاِنْكُنْتَجِئْتَبِاٰيَةٍ …:} فرعون موسیٰ علیہ السلام کی شرافت و نجابت اور ان کے صدق و امانت سے پوری طرح واقف تھا، کیونکہ ان کی پرورش اسی کے گھر میں ہوئی تھی، مگر اس نے ان کی رسالت اور صدق کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی معجزہ پیش کرنے کا مطالبہ کر دیا، تاکہ انکار کا کوئی بہانہ مل سکے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
106۔ فرعون نے کہا: ”اگر تو سچا ہے تو کوئی معجزہ لے کر آیا ہے تو اسے پیش کر“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا ﴿ قَالَاِنْكُنْتَجِئْتَبِاٰیَةٍفَاْتِبِهَاۤاِنْكُنْتَمِنَالصّٰؔدِقِیْنَ﴾”اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال له فرعون: {إن كنتَ جئتَ بآيةٍ فأت بها إن كنتَ من الصادقين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔