ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 1

الٓـمّٓصٓ ۚ﴿۱﴾
المص۔ En
المص
En
المص En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 1){ الٓمّٓصٓ:} یہ حروف مقطعات ہیں، تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

المص

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ ا۔ ل۔ م۔ ص [1]
[1] یہ سورۃ انعام سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی البتہ اس میں آٹھ آیات ﴿وَسَْٔلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ سے لے کر ﴿وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوْٓا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ تک مدنی ہیں اور اس سورۂ کا نام اعراف اس لیے ہے کہ اس میں جنت اور دوزخ کے درمیانی مقام اعراف اور اصحاب اعراف کا ذکر آیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
اس سورت کی ابتداء میں جو حروف ہیں، ان کے متعلق جو کچھ بیان ہمیں کرنا تھا، اسے تفصیل کے ساتھ سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں معہ اختلاف علماء کے ہم لکھ آئے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے معنی میں مروی ہے کہ اس سے مراد «اَنَا اللهُ اُفَصِّلُ» ہے یعنی میں اللہ ہوں، میں تفصیل وار بیان فرما رہا ہوں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14315]‏‏‏‏
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہ مروی ہے۔
یہ کتاب قرآن کریم تیری جانب تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہ کرنا، دل تنگ نہ ہونا، اس کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرنا، نہ کسی کا لحاظ کرنا، بلکہ سابقہ اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام کی طرح صبر و استقامت کے ساتھ کلام اللہ کی تبلیغ مخلوق الٰہی میں کرنا۔ اس کا نزول اس لیے ہوا ہے کہ تو کافروں کو ڈرا کر ہوشیار اور چوکنا کر دے۔ یہ قرآن مومنوں کے لئے نصیحت و عبرت، وعظ و پند ہے۔
اس کے بعد تمام دنیا کو حکم ہوتا ہے کہ اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری پیروی کرو، اس کے قدم بہ قدم چلو۔ یہ تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہے، کلام اللہ تمہارے پاس لایا ہے۔ وہ اللہ تم سب کا خالق، مالک ہے اور تمام جان داروں کا رب ہے۔ خبردار! ہرگز ہرگز نبی سے ہٹ کر دوسرے کی تابعداری نہ کرنا ورنہ حکم عدولی پر سزا ملے گی۔ افسوس! تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔
جیسے فرمان ہے کہ ’ گو تم چاہو لیکن اکثر لوگ اپنی بے ایمانی پر اڑے ہی رہیں گے۔ ‘ ۱؎ [12-يوسف:103]‏‏‏‏
اور آیت میں ہے: «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:116]‏‏‏‏ یعنی ’ اگر تو انسانوں کی کثرت کی طرف جھک جائے گا تو وہ بھی تجھے بہکا کر ہی چین لیں گے۔ ‘
سورۃ یوسف میں فرمان ہے: ’ اکثر لوگ اللہ کو مانتے ہوئے بھی شرک سے باز نہیں رہتے۔ ‘ ۱؎ [12-يوسف:106]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور مفصل طور پر موجود ہیں ﴿فَلَا یَؔكُ٘نْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّؔنْهُ پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ بلکہ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ ﴿ لَّا یَ٘اْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ (حم السجدہ: 41؍42) باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے اس لیے آپ کے سینے کو کشادہ اور آپ کے دل کو مطمئن ہونا چاہیے۔ پس آپ اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو کھول کر بیان کیجیے اور کسی کی ملامت اور مخالفت سے نہ ڈریے۔ ﴿ لِتُنْذِرَ بِهٖ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈرائیں۔ اس کتاب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ڈرائیے اور ان کو وعظ و نصیحت کیجیے۔ پس اس طرح معاندین حق پر حجت قائم ہو جائے گی۔ ﴿ وَذِكْرٰى لِلْ٘مُؤْمِنِیْنَ۠ اور اہل ایمان کے لیے یاد دہانی ہوگی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَّذَكِّ٘رْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَ٘نْفَ٘عُ الْمُؤْمِنِیْنَ (الذاریات: 51؍55) نصیحت کیجیے کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔اہل ایمان کو اس کے ذریعے سے صراط مستقیم، ظاہری اور باطنی اعمال کی یاددہانی ہوگی اور ان امور کے بارے میں بھی یاد دہانی ہوگی جو بندے اور اس کے سلوک کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى لرسوله محمد - صلى الله عليه وسلم - مبيناً له عظمة القران: {كتابٌ أنْزِلَ إليك}؛ أي: كتابٌ جليلٌ حوى كلَّ ما يحتاج إليه العباد وجميع المطالب الإلهيَّة والمقاصد الشرعيَّة محكماً مفصلاً. فلا يكنْ في صدرِكَ منه {حَرَجٌ}؛ أي: ضيقٌ وشكٌّ واشتباهٌ، بل لتعلمْ أنه تنزيلٌ من حكيم حميد، لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه ، فلينشرِحْ له صدرُك، ولتطمئنَّ به نفسُك، ولْتصدعْ بأوامره ونواهيه، ولا تخش لائماً ومعارضاً؛ {لتنذرَ به}: الخلق وتَعِظهم وتذكِّرهم فتقوم الحجة على المعاندين، {و} ليكنْ {ذكرى للمؤمنينَ}؛ كما قال تعالى: {وذكِّرْ فإنَّ الذِّكرى تنفعُ المؤمنينَ}: يتذكَّرون به الصراط المستقيم، وأعماله الظاهرة والباطنة، وما يحول بين العبد وبين سلوكه.