(آیت 49) {وَاِنَّالَنَعْلَمُ …: ”اِنَّالَنَعْلَمُ“} (ہم جانتے ہیں) کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان جھٹلانے والوں کو سزا دیں گے، جیسے فسادیوں کو ڈانٹنے کے لیے کہا جاتا ہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو سب ہمیں معلوم ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
49۔ اور ہم خوب جانتے ہیں کہ تم میں سے [26] کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں
[26] یعنی جو لوگ غلط روی اور اس کے برے نتائج سے بچنا چاہتے ہیں وہ تو یقیناً اس قرآن سے نصیحت حاصل کریں گے۔ اور جن لوگوں کو اپنی اصلاح کی فکر ہی نہیں یا وہ اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے وہ قرآن کو نہ اللہ کا کلام سمجھتے ہیں اور نہ اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ایک وقت آنے والا ہے جب وہ اپنے رویہ پر سخت نادم ہوں گے اور ان کا قرآن کو جھٹلانا ان کے لئے سخت حسرت و پشیمانی کا موجب ہو گا۔ لیکن اس وقت پچھتانے کا کچھ فائدہ نہ ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔