ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحاقة (69) — آیت 44

وَ لَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ ﴿ۙ۴۴﴾
اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا۔ En
اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے
En
اور اگر یہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 44تا47){ وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْل …:} ان آیات میں کفار کی اس بات کا ردّ ہے کہ یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے بنا کر اللہ کے ذمے لگا دی ہیں۔ فرمایا جب یہ ثابت ہوگیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ کی کہی ہوئی ہر بات اللہ کی بات ہے تو اب اگر اللہ تعالیٰ انھیں اپنے ذمے باتیں لگانے دے اور اس پر انھیں کچھ نہ کہے تو وہ سب باتیں اللہ کی باتیں سمجھی جائیں گی، اللہ تعالیٰ اس کی اجازت کس طرح دے سکتا ہے؟ فرمایا، اگر ہمارا یہ سچا رسول کوئی بات گھڑ کر ہمارے ذمے لگا دیتا تو اس جعل سازی کے جرم میں ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے اور کوئی شخص رستے میں رکاوٹ نہ بن سکتا۔
بعض لوگوں نے اس آیت سے غلط استدلال کیا ہے کہ اگر کسی مدعی نبوت کی جان کی رگ دعوائے نبوت کرتے ہی نہ کاٹ دی جائے تو یہ اس کے نبی ہونے کی دلیل ہے، حالانکہ اس آیت میں جو بات فرمائی گئی ہے وہ سچے نبی کے بارے میں ہے، نبوت کے جھوٹے مدعیوں کے بارے میں نہیں ہے۔ جھوٹے مدعی تو نبوت ہی نہیں خدائی تک کے دعوے کرتے ہیں اور مدتوں زمین پر دندناتے رہتے ہیں، یہ ان کے سچے ہونے کا ثبوت نہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ جس طرح بادشاہ کسی شخص کو کسی منصب پر مقررکرکے سند وغیرہ دے کر کسی طرف روانہ کرتے ہیں، اب اگر وہ کوئی بات جھوٹ گھڑ کر بادشاہ کے ذمے لگا دے تو فوراً بادشاہ کی طرف سے اس کی تردید کی جاتی ہے اور ایسا کرنے والے کو سخت سزا دی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی سڑک کوٹنے والا مزدور یا صفائی کرنے والا بھنگی اعلان کرتا پھرے کہ بادشاہ نے یہ حکم جاری کیا ہے تو نہ سننے والے اس کی پروا کرتے ہیں اور نہ حکومت فوراً اس سے تعرض کرتی ہے۔ ہمارے زمانے کے دجال قادیانی کا اس آیت سے استدلال اور خود اس کے کلام میں سے اس کا ردّ دیکھنے کے لیے تفسیر ثنائی ملاحظہ فرمائیں۔ [فَإِنَّہٗ کَفٰی وَ شَفٰی رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی رَحْمَۃً وَاسِعَۃً]
{ تَقَوَّلَ } کا معنی ہے، کسی کے ذمے وہ بات لگانا جو اس نے نہیں کہی۔ { الْاَقَاوِيْل أُقْوُوْلَةٌ} کی جمع ہے، جس طرح {أُعْجُوْبَةٌ} اور {أُضْحُوْكَةٌ} کی جمع {أَعَاجِيْبُ} اور {أَضَاحِيْكُ} ہے۔ { لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ } سے مراد یا تو یہ ہے کہ ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اس کی گردن کی رگ کاٹ دیتے۔ یہ سزا کی ہولناکی دکھانے کے لیے قتل کی تصویر کشی ہے، کیونکہ جب قتل کرنے والا کسی مجرم کو تلوار مارنے لگتا ہے تو اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ کر اس کی رگِ جاں کاٹ دیتے۔ بعض مفسرین نے {اَلْيَمِيْنُ} کا معنی قوت کیا ہے، یعنی ہم اسے پوری قوت سے پکڑ کر اس کی رگِ جاں کاٹ دیتے۔ عرب کے محاورہ میں یہ معنی بھی استعمال ہوتا ہے، مگر یہ معنی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا انکار کر دینا درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏بَلْ يَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ» [المائدۃ: ۶۴] بلکہ اللہ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كِلْتَا يَدَيْ رَبِّيْ يَمِيْنٌ مُبَارِكَةٌ] [ترمذی، تفسیر القرآن، باب: ۳۳۶۸۔ مسلم: ۱۸۲۷] میرے رب کے دونوں ہاتھ دائیں اور برکت والے ہیں۔ البتہ اس بات میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہمارے ہاتھوں جیسے نہیں، جیسا کہ فرمایا: «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ» ‏‏‏‏ [الشورٰی: ۱۱] اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ بلکہ اس طرح ہیں جس طرح اس کی شان کے لائق ہیں۔ { الْوَتِيْنَ } گردن کی وہ رگ جو دل سے ملتی ہے، جس کے کٹنے سے آدمی فوراً مر جاتا ہے۔(اشرف الحواشی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

44۔ 1 یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کردیتا، یا اس میں کمی بیشی کردیتا، تو ہم فوراً اس کا مؤاخذہ کرتے اور اسے ڈھیل نہ دیتے جیسا کہ اگلی آیات میں فرمایا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ اگر وہ رسول خود کوئی بات گھڑ کر ہمارے ذمہ لگا دیتا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭
یہاں فرمان باری ہے کہ ’ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ ‘ یعنی ’ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ ‘
پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔
پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» ۱؎ [41-فصلت:44]‏‏‏‏ یعنی ’ کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ ‘
پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [26-الشعراء:200،201]‏‏‏‏ ’ اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔‘
اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» ۱؎ [34-سبأ:54]‏‏‏‏ ’ ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ ‘ پھر فرمایا ’ یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ ‘ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔‘
اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔ (وَتِیْنٌ)وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔
پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰؔجِزِیْنَ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فإنه {لو تقوَّل}: عليه وافترى {بعض الأقاويل}: الكاذبة، {لأخذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتينَ}: وهو عرقٌ متصلٌ بالقلب إذا انقطع هلك منه الإنسان؛ فلو قدِّر أنَّ الرسول - حاشا وكلا - تقوَّل على الله؛ لعاجَلَه بالعقوبة وأخذَه أخذَ عزيزٍ مقتدرٍ؛ لأنَّه حكيمٌ قديرٌ على كلِّ شيءٍ ؛ فحكمته تقتضي أن لا يُمْهِلَ الكاذب عليه الذي يزعم أنَّ الله أباح له دماء مَنْ خالفه وأموالهم، وأنَّه هو وأتباعه لهم النجاةُ، ومَنْ خالفَه؛ فله الهلاكُ. فإذا كان الله قد أيَّد رسوله بالمعجزات، وبرهن على صدق ما جاء به بالآيات البيِّنات، ونصره على أعدائه، ومكَّنه من نواصيهم؛ فهو أكبر شهادةٍ منه على رسالته. وقوله: {فما منكم من أحدٍ عنه حاجزينَ}؛ أي: لو أهلكه؛ ما امتنعَ هو بنفسه ولا قَدَرَ أحدٌ أن يمنعه من عذاب الله.