(آیت 37) {لَايَاْكُلُهٗۤاِلَّاالْخَاطِـُٔوْنَ: ”الْخَاطِـُٔوْنَ“”خَاطِیٌ“} کی جمع ہے، جو جان بوجھ کر نادرست کام کرے، جیسے فرمایا: «اِنَّقَتْلَهُمْكَانَخِطْاًكَبِيْرًا» [بني إسرائیل: ۳۱]”بے شک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔“ اگر کسی سے قصد و ارادہ کے بغیر نادرست کام ہو جائے تو وہ {”مخطي“} ہے۔ (المفردات و التسہیل)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
37۔ 1 خاطئون سے مراد اہل جہنم ہیں جو کفر و شرک کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے اس لیے کہ یہ گناہ ایسے ہیں جو خلود فی النار کا سبب ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ جسے گنہگاروں کے سوا [21] کوئی نہیں کھاتا
[21] اس نے دنیا میں خود غرضی کا رویہ اختیار کیا، نہ کسی کی مدد کی، نہ ہمدردی کی، نہ ہی کبھی اسے ایسا خیال تک آیا تھا۔ لہٰذا آج اسے بھی غم خوار اور ہمدرد میسر نہ آئے گا۔ اور جب وہ بھوک سے بے تاب ہو جائے گا تو اسے اپنے جیسے دوزخیوں کے زخموں کا دھوون دیا جائے گا یہی اس کی خوراک ہو گی اور یہی اس کا مشروب ہو گا۔ اور یہ بات تو واضح ہے کہ زخموں کا دھوون نہ کوئی خوراک ہے اور نہ مشروب ہے۔ مگر ایسے مجرموں کو یہی کچھ کھانا پڑے گا۔ کوئی اور چیز انہیں مہیا نہیں کی جائے گی۔ پھر مجرموں کی بھی کئی اقسام ہیں کچھ دوزخی ایسے ہوں گے جنہیں کھانے کو تھوہر دیا جائے گا اور پینے کو کھولتا ہوا پانی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔