(آیت 36) {وَلَاطَعَامٌاِلَّامِنْغِسْلِيْنٍ:”غِسْلِيْنٍ“”غَسَلَيَغْسِلُ“} (ض) سے {”فِعْلِيْنٌ“} کا وزن ہے، زخم یا کوئی گندی چیز دھونے سے نکلنے والا پانی۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”اس سے مراد جہنمیوں کے زخموں سے نکلنے والا لہو اور پیپ ہے۔“[طبري بسند حسن]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3 6 ۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ یہ جہنم میں کوئی درخت ہے بعض کہتے ہیں کہ زقوم ہی کو غسلین کہا گیا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ جہنمیوں کی پیپ یا ان کے جسموں سے نکلنے والا خون اور بدبودار ہوگا۔ اللہ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
36۔ اور زخموں کے دھوون کے سوا اسے کچھ کھانے کو بھی نہ ملے گا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔