تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
{”يَالَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ“} یعنی موت میرا کام تمام کر دیتی، اور مجھے دوبارہ نہ اٹھایا جاتا۔ {” مَاۤ اَغْنٰى عَنِّيْ مَالِيَهْ (28) هَلَكَ عَنِّيْ سُلْطٰنِيَهْ “} مال اور سرداری کی حرص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا ذِئْبَانِ جََائِعَانِ أُرْسِلَا فِيْ غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَی الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهٖ] [ترمذي، الزھد، باب ما ذئبان جائعان…: ۲۳۷۶، قال الألباني صحیح] ”دو بھوکے بھیڑیے جو بھیڑ بکریوں میں چھوڑ دیے جائیں، وہ انھیں اس سے زیادہ تباہ و برباد نہیں کرتے جتناآدمی کی مال اور سرداری کی حرص اس کے دین کو تباہ وبرباد کرتی ہے۔“ تمام عمر انھی دو چیزوں کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں گزار دینے کے بعد اس وقت افسوس سے کہے گا کہ میرا مال میرے کسی کام نہ آیا اور میری سرداری بھی برباد ہو گئی۔ {” سُلْطٰنِيَهْ “ ”سُلْطَانٌ“} سے مراد دلیل و حجت ہو تو مطلب یہ ہے کہ میرے سارے دلائل اور حجت بازیاں، جن سے میں حق والوں کو لاجواب کرتا تھا، آج بے کار ہو گئے اور سرداری و حکومت ہو تو مطلب یہ ہے کہ آج میرا سارا اقتدار ختم ہو گیا۔ وہ جتھے اور پارٹیاں، وہ فوج اور پولیس کے دستے، وہ اہلِ خانہ، وہ نوکر چاکر جن پر میرا حکم چلتا تھا سب غائب ہو گئے۔ دوسروں پر اقتدار تو دور کی بات ہے اپنے ہی اعضا نے میری سرداری ماننے سے انکار کر دیا ہے، بلکہ میرے خلاف شہادتیں دے رہے ہیں۔ {” سُلْطٰنِيَهْ “} سے حجت و دلیل اور حکومت و سرداری دونوں بھی مراد ہو سکتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ’ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ ‘
منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔
ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔
فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ } یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرمایا کہ ’ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ ‘ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ { نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے ‘۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هؤلاء هم أهل الشقاء؛ يعطَوْن كتبهم المشتملة على أعمالهم السيِّئة بشمالهم؛ تمييزاً لهم وخزياً وعاراً وفضيحةً، فيقول أحدُهم من الهمِّ والغمِّ والحزن: {يا ليتني لم أوتَ كتابِيَهْ}؛ لأنَّه يبشر بدخول النار والخسارة الأبديَّة، {ولم أدرِ ما حسابِيَهْ}؛ أي: ليتني كنت نسياً منسيًّا ولم أُبْعَثْ وأحاسب، ولهذا قال: {يا ليتَها كانتِ القاضيةَ}؛ أي: يا ليت موتتي هي الموتة التي لا بَعْثَ بعدها.
ثم التفت إلى ماله وسلطانه؛ فإذا هو وبالٌ عليه لم يقدِّم منه لآخرته ولا ينفعه لو افتدى به من العذاب شيئاً ، فيقول: {ما أغنى عنِّي مالِيَهْ}؛ أي: ما نفعني لا في الدُّنيا - لم أقدِّم منه شيئاً - ولا في الآخرة؛ قد ذهب وقت نفعه، {هلك عني سُلطانِيَهْ}؛ أي: ذهب واضمحلَّ، فلم تنفع الجنود ولا الكثرة ولا العَدَدُ ولا العُدَدُ ولا الجاه العريض، بل ذهب ذلك كله أدراج الرياح، وفاتت بسببه المتاجر والأرباح، وحضرت بدله الهموم والغموم والأتراح.