تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا «نفخه» ایک ہی ہے اس لیے کہ جب اللہ کا حکم ہو گیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہو سکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آخری «نفخه» ہے لیکن ظاہر قول وہی ہے جو ہم نے کہا۔
اسی لیے یہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ ’ زمین و آسمان اٹھا لیے جائیں گے اور کھال کی طرح پھیلا دیئے جائیں گے اور زمین بدل دی جائے گی اور قیامت واقع ہو جائے گی۔ ‘
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان ہر کھلنے کی جگہ سے پھٹ جائے گا، جیسے سورۃ نبا میں ہے «وَّفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا» ۱؎ [78-النبأ:19] یعنی ’ آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے کھول دیے جائیں گے۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آسمان میں سوراخ اور غاریں پڑ جائیں گی اور شق ہو جائے گی عرش اس کے سامنے ہو گا فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جو کنارے اب تک ٹوٹے نہ ہوں گے اور دوازوں پر ہوں گے آسمان کی لمبائی میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور زمین والوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ایک سو سال کا راستہ ہے۔
ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں تمہیں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کی نسبت خبر دوں کہ اس کی گردن اور کان کے نیچے کے لَو کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اڑنے والا پرندہ سات سو سال تک اڑتا چلا جائے۔ } اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں، اسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4727،قال الشيخ الألباني:حسن]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہ مروی ہے۔
پھر فرمایا: ’ قیامت کے روز تم اس اللہ کے سامنے کئے جاؤ گے جو پوشیدہ کو اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے جس طرح کھلی سے کھلی چیز کا وہ عالم ہے اس طرح چھپی سے چھپی چیز کو بھی وہ جانتا ہے، اسی لیے فرمایا تمہارا کوئی بھید اس روز چھپ نہ سکے گا۔ ‘
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”لوگو اپنی جانوں کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا آپ اندازہ کر لو اس سے پہلے کہ ان اعمال کا وزن کیا جائے تاکہ کل قیامت والے دن تم پر آسانی ہو جس دن کو تمہارا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور بڑی پیشی میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے تم پیش کر دیئے جاؤ گے۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے پہلی اور دوسری بار تو عذر، معذرت اور جھگڑا بحث کرتے رہیں گے لیکن تیسری پیشی جو آخری ہو گی اس وقت نامہ اعمال اڑائے جائیں گے، کسی کے دائیں ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔“ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2425،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی یہی روایت ابن جریر میں مروی ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بھی اس جیسی روایت مرسل مروی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لمَّا ذكر تعالى ما فعله بالمكذِّبين لرسله، وكيف جازاهم وعجَّل لهم العقوبة في الدُّنيا، وأنَّ الله نجَّى الرسل وأتباعهم؛ كان هذا مقدِّمةً للجزاء الأخرويِّ وتوفيةَ الأعمال كاملةً يوم القيامةِ، فذكر الأمور الهائلة التي تقع أمام يوم القيامةِ، وأنَّ أوَّل ذلك أنَّه ينفخ إسرافيل {في الصور} - إذا تكاملتِ الأجسادُ نابتةً - نفخةً واحدةً؛ فتخرج الأرواح، فتدخلُ كلُّ روح في جسدها؛ فإذا الناس قيامٌ لربِّ العالمين، {وحُمِلَتِ الأرضُ والجبالُ فدُكَّتا دكةً واحدةً}؛ أي: فتِّتت الجبال، واضمحلَّت وخلطت بالأرض، ونُسِفَتْ عليها ، فكان الجميع قاعاً صفصفاً، لا ترى فيها عوجاً ولا أمتاً. هذا ما يُصنع بالأرض وما عليها، وأمَّا ما يُصنع بالسماء؛ فإنَّها تضطرب وتمور وتشقَّق - ويتغيَّر لونُها، وتهي بعد تلك الصلابة والقوة العظيمة، وما ذاك إلا لأمرٍ عظيم أزعجها وكربٍ جسيم هائل أوهاها وأضعفها، {والمَلَكُ}؛ أي: الملائكة الكرام {على أرجائِها}؛ أي: على جوانب السماء وأركانها، خاضعين لربِّهم، مستكينين لعظمته، {ويحمِلُ عرشَ ربِّك فوقَهم يومئذٍ ثمانيةٌ}: أملاكٌ في غاية القوة، إذا أتى للفصل بين العباد والقضاء بينهم بعدله وقسطه وفضله، ولهذا قال: {يومئذٍ تُعْرَضون}: على الله، {لا تَخْفى منكم خافيةٌ}: لا من أجسادكم وذواتكم ، ولا من أعمالكم وصفاتكم؛ فإنَّ الله تعالى عالمُ الغيب والشهادة، ويحشُرُ العباد حفاةً عراةً غُرلاً في أرض مستويةٍ يسمِعُهم الدَّاعي ويَنْفُذُهم البصرُ، فحينئذٍ يجازيهم بما عملوا، ولهذا ذَكَرَ كيفيةَ الجزاءِ، فقال: