ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحاقة (69) — آیت 13

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ نَفۡخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ ﴿ۙ۱۳﴾
پس جب صور میں پھونکا جائے گا، ایک بار پھونکنا۔ En
تو جب صور میں ایک (بار) پھونک مار دی جائے گی
En
پس جب کہ صور میں ایک پھونک پھونکی جائے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14،13){ فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ …:} قرآن مجید میں بعض مقامات پر پہلے نفخہ کے وقت پیش آنے والے واقعات ذکر کیے گئے ہیں، بعض پر دوسرے نفخہ کے وقت اور بعض مقامات پر انھیں اکٹھا ہی ذکر کر دیا گیا ہے۔ ان آیات میں بھی پہلے نفخہ سے لے کر دوسرے نفخہ کے بعد تک کے حالات بیان ہوئے ہیں، زمین اور پہاڑوں کے ٹوٹنے کا سلسلہ تو پہلے نفخہ کے وقت کا ہے اور آسمان کا پھٹنا، فرشتوں کا اس کے کناروں پر ہونا، عرشِ الٰہی کو آٹھ فرشتوں کا اٹھائے ہوئے ہونا، اللہ تعالیٰ کا میدانِ محشر میں نزول فرمانا اور سب بندوں کا حساب کتاب کے لیے پیش کیا جانا، یہ سب کچھ دوسرے نفخہ کے بعد کا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

13۔ 1 مکذبین کا انجام بیان کرنے کے بعد اب بتلایا جارہا ہے کہ یہ الحاقہ کس طرح واقع ہوگی اسرافیل کی ایک ہی پھونک سے یہ برپا ہوجائے گی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ پھر جب صور میں ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

آواز کا بم صور اسرافیل ٭٭
قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہو گا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر «نفخه» پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہو جائے گی مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہو جائے گی یہاں اسی پہلے «نفخه» کا بیان ہے۔
یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا «نفخه» ایک ہی ہے اس لیے کہ جب اللہ کا حکم ہو گیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہو سکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آخری «نفخه» ہے لیکن ظاہر قول وہی ہے جو ہم نے کہا۔
اسی لیے یہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ ’ زمین و آسمان اٹھا لیے جائیں گے اور کھال کی طرح پھیلا دیئے جائیں گے اور زمین بدل دی جائے گی اور قیامت واقع ہو جائے گی۔ ‘
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان ہر کھلنے کی جگہ سے پھٹ جائے گا، جیسے سورۃ نبا میں ہے «وَّفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا» ۱؎ [78-النبأ:19]‏‏‏‏ یعنی ’ آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے کھول دیے جائیں گے۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آسمان میں سوراخ اور غاریں پڑ جائیں گی اور شق ہو جائے گی عرش اس کے سامنے ہو گا فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جو کنارے اب تک ٹوٹے نہ ہوں گے اور دوازوں پر ہوں گے آسمان کی لمبائی میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور زمین والوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔
اللہ کا عرش اٹھانے والے فرشتے ٭٭
پھر فرمایا ’ قیامت والے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ ‘ پس یا تو مراد عرش عظیم کا اٹھانا ہے یا اس عرش کا اٹھانا مراد ہے جس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ایک سو سال کا راستہ ہے۔
ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں تمہیں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کی نسبت خبر دوں کہ اس کی گردن اور کان کے نیچے کے لَو کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اڑنے والا پرندہ سات سو سال تک اڑتا چلا جائے۔ } اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں، اسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4727،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہ مروی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اعلیٰ فرشتوں کے آٹھ حصے ہیں جن میں سے ہر ایک حصہ کی گنتی تمام انسانوں جنوں اور سب فرشتوں کے برابر ہے۔
پھر فرمایا: ’ قیامت کے روز تم اس اللہ کے سامنے کئے جاؤ گے جو پوشیدہ کو اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے جس طرح کھلی سے کھلی چیز کا وہ عالم ہے اس طرح چھپی سے چھپی چیز کو بھی وہ جانتا ہے، اسی لیے فرمایا تمہارا کوئی بھید اس روز چھپ نہ سکے گا۔ ‘
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے لوگو اپنی جانوں کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا آپ اندازہ کر لو اس سے پہلے کہ ان اعمال کا وزن کیا جائے تاکہ کل قیامت والے دن تم پر آسانی ہو جس دن کو تمہارا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور بڑی پیشی میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے تم پیش کر دیئے جاؤ گے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے پہلی اور دوسری بار تو عذر، معذرت اور جھگڑا بحث کرتے رہیں گے لیکن تیسری پیشی جو آخری ہو گی اس وقت نامہ اعمال اڑائے جائیں گے، کسی کے دائیں ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2425،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی یہی روایت ابن جریر میں مروی ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بھی اس جیسی روایت مرسل مروی ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انھیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا۔یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے۔ ان میں سے اولین واقعہ یہ ہو گا کہ اسرافیل ﴿ فِی الصُّوْرِ صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے﴿نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہو جائے گی، تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔
﴿وَّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْؔجِبَالُ فَدُكَّـتَا دَؔكَّةً وَّاحِدَةً یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے، وہ نیست و نابود ہو کر رزق خاک ہو جائیں گے، یعنی ان کو ڈھا کر زمین میں برابر کر دیا جائے گا، چنانچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے۔ یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہو گا۔ رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہو گا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہو جائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہو جائیں گے، یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہو گا جو ان کو کمزور کر دے گا۔
﴿وَّالْمَلَكُ اور مکرم فرشتے ﴿عَلٰۤى اَرْجَآىِٕهَا آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے ﴿وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِیَةٌ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جو انتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہو گا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ، فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا: ﴿یَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ ﴿لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ تمھارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمھارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے۔ تمام بندے ننگے پاؤ ں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی، اس وقت اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لمَّا ذكر تعالى ما فعله بالمكذِّبين لرسله، وكيف جازاهم وعجَّل لهم العقوبة في الدُّنيا، وأنَّ الله نجَّى الرسل وأتباعهم؛ كان هذا مقدِّمةً للجزاء الأخرويِّ وتوفيةَ الأعمال كاملةً يوم القيامةِ، فذكر الأمور الهائلة التي تقع أمام يوم القيامةِ، وأنَّ أوَّل ذلك أنَّه ينفخ إسرافيل {في الصور} - إذا تكاملتِ الأجسادُ نابتةً - نفخةً واحدةً؛ فتخرج الأرواح، فتدخلُ كلُّ روح في جسدها؛ فإذا الناس قيامٌ لربِّ العالمين، {وحُمِلَتِ الأرضُ والجبالُ فدُكَّتا دكةً واحدةً}؛ أي: فتِّتت الجبال، واضمحلَّت وخلطت بالأرض، ونُسِفَتْ عليها ، فكان الجميع قاعاً صفصفاً، لا ترى فيها عوجاً ولا أمتاً. هذا ما يُصنع بالأرض وما عليها، وأمَّا ما يُصنع بالسماء؛ فإنَّها تضطرب وتمور وتشقَّق - ويتغيَّر لونُها، وتهي بعد تلك الصلابة والقوة العظيمة، وما ذاك إلا لأمرٍ عظيم أزعجها وكربٍ جسيم هائل أوهاها وأضعفها، {والمَلَكُ}؛ أي: الملائكة الكرام {على أرجائِها}؛ أي: على جوانب السماء وأركانها، خاضعين لربِّهم، مستكينين لعظمته، {ويحمِلُ عرشَ ربِّك فوقَهم يومئذٍ ثمانيةٌ}: أملاكٌ في غاية القوة، إذا أتى للفصل بين العباد والقضاء بينهم بعدله وقسطه وفضله، ولهذا قال: {يومئذٍ تُعْرَضون}: على الله، {لا تَخْفى منكم خافيةٌ}: لا من أجسادكم وذواتكم ، ولا من أعمالكم وصفاتكم؛ فإنَّ الله تعالى عالمُ الغيب والشهادة، ويحشُرُ العباد حفاةً عراةً غُرلاً في أرض مستويةٍ يسمِعُهم الدَّاعي ويَنْفُذُهم البصرُ، فحينئذٍ يجازيهم بما عملوا، ولهذا ذَكَرَ كيفيةَ الجزاءِ، فقال: