اس آیت کی تفسیر آیت 5 میں تا آیت 7 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ کہ تم میں سے کون جنون [6] میں مبتلا ہے
[6] یعنی یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا نتیجہ جلد از جلد سامنے نہ آئے۔ ایک شخص جو حکم دیتا ہے وہ نیکی اور بھلائی پر مبنی ہوتا ہے پھر وہ خود سب سے پہلے اس حکم پر عمل کر کے دکھاتا ہے۔ ہر برے کام سے اسے طبعاً نفرت ہے۔ وہ انتقام کی صورت میں بھی کوئی بری بات اپنانے کو تیار نہیں۔ فیاضی اور سماحت اس کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس کے مقابلہ میں جو لوگ ہیں انہیں طعن و تشنیع، ایذا رسانی اور انتقامی کارروائیوں کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں، جو بات وہ سوچتے ہیں بغض و عناد اور دوسروں کی جڑ کاٹ دینے کے لیے سوچتے ہیں۔ لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ جلد از جلد ان دونوں کا انجام ایک دوسرے کے سامنے نہ آجائے۔ اس وقت ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ دیوانگی اور پاگل پن کی حرکتیں کون کر رہا تھا؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔