(آیت 52) {وَمَاهُوَاِلَّاذِكْرٌلِّلْعٰلَمِيْنَ:} یعنی قرآن کی آیات میں تو وہ نصیحتیں ہیں جن کے اثر سے ایک دو نہیں بلکہ بے شمار جہان راہِ راست پر آنے والے ہیں، ایسی نصیحت کے سنانے والے کو جو دیوانہ بتاتا ہے وہ خود دیوانہ ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
52۔ 1 جب واقعہ یہ ہے کہ یہ قرآن جن و انس کی ہدایت و رہنمائی کے لئے آیا ہے تو پھر اس کو لانے والا اور بیان کرنے والا مجنون (دیوانہ) کس طرح ہوسکتا ہے؟
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
52۔ حالانکہ یہ (قرآن) تمام اہل عالم [29] کے لیے نصیحت ہے۔
[29] یعنی جو قرآن تم انہیں پڑھ کر سنا رہے ہو نہ اس میں کوئی دیوانگی کی بات ہے اور نہ آپ میں ہے۔ بلکہ یہ کتاب تو تمام اہل عالم کی ہدایت کے لیے نازل کی جا رہی ہے۔ اس سے بنی نوع انسان کی کایا پلٹ اصلاح ہو گی۔ عنقریب یہ کتاب معاشرہ میں انقلاب بپا کر دے گی۔ اس وقت سب کو معلوم ہو جائے گا کہ اصل دیوانے کون تھے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں