(آیت 50){ فَاجْتَبٰىهُرَبُّهٗفَجَعَلَهٗمِنَالصّٰلِحِيْنَ:} چنے ہوئے تو پہلے بھی تھے، اب ان کا مرتبہ اور بڑھا دیا اور انھیں اعلیٰ درجے کے نیک اور صالح بندوں میں داخل کر دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَايَنْبَغِيْلِعَبْدٍأَنْيَّقُوْلَإِنِّيْخَيْرٌمِّنْيُوْنُسَبْنِمَتّٰی][بخاري، الأنبیاء، باب قول اللّٰہتعالٰی: «و إن یونس…» : ۳۴۱۳]”کسی بندے کو لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متیّٰ سے بہتر ہوں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
50۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ انہیں توانا اور تندرست کرنے کے بعد دوبارہ رسالت سے نواز کر انہیں اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا، جیسا کہ (وَاَنْۢبَتْنَاعَلَيْهِشَجَرَةًمِّنْيَّقْطِيْنٍ 146ۚ) 37۔ الصافات:146) سے بھی واضح ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
50۔ چنانچہ ان کے پروردگار نے انہیں برگزیدہ کیا [27] اور صالحین میں شامل کر دیا
[27] یعنی ان کی نبوت کو بھی بحال کر دیا گیا اور انہیں اسی قوم کی طرف دوبارہ بھیجا گیا جہاں سے وہ بھاگ کر چلے گئے تھے۔ آپ کا قصہ پہلے سورۃ یونس کی آیت نمبر 98، سورۃ انبیاء کی آیت نمبر 87، 88 اور سورۃ صافات کی آیت نمبر 143 کے تحت گزر چکا ہے۔ وہ حواشی ملاحظہ کر لیے جائیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔