اس آیت کی تفسیر آیت 44 میں تا آیت 46 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
45۔ اور میں ان کی رسی دراز کر رہا ہوں۔ بلا شبہ میری تدبیر [21] کا کوئی توڑ نہیں
[21]﴿كيد﴾﴿كاد﴾ بمعنی کسی کام کو سرانجام دینے کے لئے خفیہ تدبیر کرنا۔ داؤ یا چال چلنا اور ﴿كَيْدَسَاحِرٍ﴾ کے معنی جادوگر کے ہتھکنڈے۔ ایسی تدبیر کا مقصد اگر درست اور نیک ہو تو یہ جائز ہے اور اگر برا ہو تو یہ مذموم ہے۔ رہی یہ بات کہ اللہ کی وہ تدبیر کیا تھی جس کا ان کے پاس کوئی توڑ نہیں تھا۔ یہ تدبیر وہی استدراج ہے جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں گزر چکا ہے یعنی ہم انہیں مہلت بھی دیئے جاتے ہیں۔ اور نعمتیں بھی۔ جوں جوں وہ اللہ کی آیات کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ بجائے عذاب کے ہم ان پر نعمتیں برساتے جا رہے ہیں۔ اور انہیں یہ محسوس تک نہیں ہو رہا کہ وہ اپنی ہلاکت کے کون سے مقام تک پہنچ چکے ہیں۔ ان کے گناہوں کا پیمانہ لبریز ہوتے ہی ہم انہیں دھر لیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔