ترجمہ و تفسیر — سورۃ القلم (68) — آیت 44

فَذَرۡنِیۡ وَ مَنۡ یُّکَذِّبُ بِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ ؕ سَنَسۡتَدۡرِجُہُمۡ مِّنۡ حَیۡثُ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾
پس چھوڑ مجھے اور اس کو جو اس بات کو جھٹلاتا ہے، ہم ضرور انھیں آہستہ آہستہ (ہلاکت کی طرف) اس طرح سے لے جائیں گے کہ وہ نہیں جانیں گے۔ En
تو مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دو۔ ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی
En
پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 45،44) {فَذَرْنِيْ وَ مَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ …:} یعنی جھٹلانے والوں کو سزا دینے میں اگر تاخیر ہو رہی ہے تو آپ فکر مت کریں، انھیں ہمارے سپرد کر دیں، پھر ہم جانیں اور وہ۔ { سَنَسْتَدْرِجُهُمْ } ہم انھیں درجہ بدرجہ ہلاکت کی طرف لے جائیں گے، یعنی ہم انھیں عمر، صحت اور دوسری نعمتیں مسلسل دیتے جائیں گے، وہ شکر کے بجائے کفر میں بڑھتے جائیں گے اور انجام کار جہنم میں پہنچ جائیں گے۔ کفر و فسق کے باوجود نعمتیں بڑھتی جائیں تو یہ اللہ کی طرف سے استدراج اور اس کی خفیہ تدبیر ہے۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۵۶)، انعام (۴۴) اور اعراف (۱۸۳)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

44۔ 1 یعنی میں ہی ان سے نمٹ لوں گا تو ان کی فکر نہ کر یہ ڈھیل دینے کا ذکر ہے۔ قرآن میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے اور حدیث میں بھی وضاحت کی گئی ہے کہ نافرمانی کے باوجود دنیاوی مال و اسباب کی فراوانی، اللہ کا فضل نہیں ہے، اللہ کے قانون پھر جب وہ گرفت کرنے پر آتا ہے تو کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ ہٰذا جو شخص اس کلام کو جھٹلاتا ہے اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو۔ ہم انہیں بتدریج یوں [20] تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر بھی نہ ہو گی
[20] ﴿سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ استدراج کے لغوی معنی میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں۔ ایک تدریج، دوسرے آہستگی، یعنی یہ قریشی سردار جو اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ پھر وہ یہ بھی سمجھے بیٹھے ہیں کہ چونکہ وہ خوشحال اور آسودہ ہیں۔ لہٰذا ان کا پروردگار ان پر مہربان ہے۔ حالانکہ اللہ انہیں آہستہ آہستہ ہلاکت اور تباہی کی طرف لیے جا رہا ہے۔ اور جن چیزوں کو وہ اللہ کے انعامات سمجھ رہے ہیں وہ دراصل ان کی ہلاکت کا سامان ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی چھوڑو مجھے! مجھے قرآن کو جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دو، ان کی جزا میرے ذمے ہے، ان کے لیے جلدی نہ مچا، پس ﴿ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ عنقریب ہم انھیں تدریج کے ساتھ پکڑیں گے کہ انھیں معلوم بھی نہ ہوگا۔ ہم انھیں مال اور اولاد کی کثرت سے بہرہ مند کرتے ہیں، ہم ان کے رزق اور اعمال کو زیادہ کرتے ہیں تاکہ وہ فریب میں مبتلا رہیں اور ایسے کاموں پر جمے رہیں جو ان کو نقصان پہنچائیں گے۔ یہ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی چال ہے اور اپنے دشمنوں کے خلاف اللہ تعالیٰ کی چال بہت مضبوط اور طاقتور ہوتی ہے۔ جو ان کو نقصان پہنچانے اور سزا دینے میں بہت کارگر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: دعني والمكذِّبين بالقرآن العظيم؛ فإنَّ عليَّ جزاءهم، ولا تستعجل لهم؛ فسنستدرِجُهم {من حيث لا يعلمونَ}: فنُمِدُّهم بالأموال والأولاد، ونُمِدُّهم في الأرزاق والأعمال؛ ليغتروا ويستمرُّوا على ما يضرُّهم، وهذا من كيد الله لهم. وكيدُ الله لأعدائه متينٌ قويٌّ، يبلغ من ضررهم وعقوبتهم كلَّ مبلغ.