(آیت 30تا32) {فَاَقْبَلَبَعْضُهُمْعَلٰىبَعْضٍ …: ”يَتَلَاوَمُوْنَ“”لَامَيَلُوْمُ“} سے باب تفاعل ہے جس کے معنی میں تشارک ہوتا ہے، ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ {”طٰغِيْنَ“”طَغٰييَطْغٰي“} (ف) سے اسم فاعل کی جمع ہے۔ اب ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو ملامت شروع کر دی، کوئی کسی کو قصور وار ٹھہراتا تو کوئی کسی کو، پھر خود ہی کہنے لگے کہ ہائے ہماری بربادی! ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے کہ اللہ کے مال کو اپنا مال سمجھ بیٹھے اور حق دار کو محروم کرنے کے منصوبے بنانے لگے۔ اب ہم توبہ کرتے ہیں، اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنے رب سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
30۔ پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں ملامت کرنے لگے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔