اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِیۡہَا سَمِعُوۡا لَہَا شَہِیۡقًا وَّ ہِیَ تَفُوۡرُ ۙ﴿۷﴾
جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے، اس کے لیے گدھے کے زور سے چیخنے جیسی آواز سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہو گی۔
En
جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کا چیخنا چلانا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی
En
جب اس میں یہ ڈالے جائیں گے تو اس کی بڑے زور کی آواز سنیں گے اور وه جوش مار رہی ہوگی
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 7){ اِذَاۤ اُلْقُوْا فِيْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِيْقًا وَّ هِيَ تَفُوْرُ:”شَهِيْقٌ“} گدھے کے ہینگنے کے آخر کی آواز اور {” زَفِيْرٌ “} شروع کی آواز۔ (قاموس) سورۂ فرقان (۱۲) میں فرمایا کہ جہنم جب انھیں دور سے دیکھے گی تو وہ جہنم کے سخت غصے کی اور گدھے کی طرح چلانے کی آواز سنیں گے۔ ساتھ ہی جہنمیوں کے چیخنے چلانے کی جو آوازیں آرہی ہوں گی وہ بھی گدھے کی آوازوں جیسی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّ شَهِيْقٌ» [ھود: ۱۰۶] ”تو وہ لوگ جو بد بخت ہوئے سو وہ آگ میں ہوں گے، ان کے لیے گدھے کی طرح آواز کھینچنا اور نکالنا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
7۔ 1 شَھِیْق، اس آواز کو کہتے ہیں جو گدھا پہلی مرتبہ نکالتا ہے، یہ قبیح ترین آواز ہوتی ہے۔ جہنم بھی گدھے کی طرح چیخ اور چلا رہی اور آگ پر رکھی ہوئی ہانڈی کی طرح جوش مار رہی ہوگی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دہاڑنے [11] کی آواز سنیں گے اور وہ اچھل [12] رہی ہو گی۔
[11] ﴿شَهِيْقًا﴾ زفیر اور ﴿شهيق﴾ گدھے کے ہینگنے کے وقت اس آواز کی ابتدائی اور آخری حالت کا نام ہے۔ ﴿زفر﴾ بمعنی لمبا سانس باہر نکالنا اور زفیر گدھے کے ہینگنے کی ابتدائی آواز جو آہستہ سے اونچی ہونا شروع ہو جاتی ہے اور جب گدھا ہینگنے کے عمل کو ختم کرنے لگے تو وہ آواز جو اونچی آواز سے پست ہونا شروع ہوتی ہے اسے ﴿شَهِيْقٌ﴾ کہتے ہیں۔ پھر یہ گدھے کی آواز قرآن کی تصریح کے مطابق سب سے زیادہ مکروہ اور کانوں کو ناگوار محسوس ہونے والی ہوتی ہے۔ ایسی ہی مکروہ آواز دوزخ کی پیدا ہو رہی ہو گی۔ پھر اس کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ایسی آواز جہنم کے جوش مارنے سے پیدا ہو گی۔ دوسرے یہ کہ دوزخ میں جو لوگ پہلے پڑے ہوں گے۔ وہ اس قسم کی مکروہ آوازیں نکالیں گے۔ [12] ﴿تفور﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿تَفُوْرُ﴾ ﴿فار الماء﴾ بمعنی پانی کا جوش مارنا اور ابلنا۔ اور اس جوش مارنے یا ابلنے کی وجہ حرارت کی شدت نہیں ہوتی بلکہ پانی کا دباؤ ہوتا ہے۔ نیچے سے پانی کا دباؤ زیادہ ہو اور سوراخ تنگ ہو تو پانی بڑے جوش سے اوپر کو اچھلتا ہے۔ لفظ فوارہ اسی سے مشتق ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جہنم کا داروغہ سوال کرے گا ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے ‘۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے، اور جوش و غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لیے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ ”بدنصیبو! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا؟“ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کوستے ہوئے جواب دیتے ہیں آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی کتاب کو بھی نہ مانا اور پیغمبروں کو بےراہ بتایا۔
اب عدل اللہ صاف ثابت ہو چکا ہے اور فرمان باری پورا اترتا ہے جو اس نے فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:15] ’ ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:71] الخ ’ جب جہنمی جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے، اور جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور داروغہ جہنم ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے تو کہیں گے ہاں آئے تو تھے اور ڈرا بھی دیا تھا لیکن کافروں پر کلمہ عذاب حق ہو گیا ‘۔
اب اپنے آپ کو ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہمارے کان ہوتے، اگر ہم میں عقل ہوتی تو دھوکے میں نہ پڑے رہتے، اپنے خالق مالک کے ساتھ کفر نہ کرتے، نہ رسولوں کو جھٹلاتے، نہ ان کی تابعداری سے منہ موڑتے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اب تو انہوں نے خود اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا ان کے لیے لعنت ہو، دوری ہو ‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”لوگ جب تک دنیا میں اپنے آپ میں غور کریں گے اور اپنی برائیوں کو خود دیکھ لیں گے ہلاک نہ ہوں گے۔“ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ { قیامت والے دن اس طرح حجت قائم کی جائے گی کہ خود انسان سمجھ لے گا کہ میں دوزخ میں جانے کے ہی قابل ہوں }۔ [مسند احمد:موضوع] (حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں ہمیں یہ روایت نہیں ملی)
اب عدل اللہ صاف ثابت ہو چکا ہے اور فرمان باری پورا اترتا ہے جو اس نے فرمایا «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:15] ’ ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:71] الخ ’ جب جہنمی جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے، اور جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور داروغہ جہنم ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے تو کہیں گے ہاں آئے تو تھے اور ڈرا بھی دیا تھا لیکن کافروں پر کلمہ عذاب حق ہو گیا ‘۔
اب اپنے آپ کو ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہمارے کان ہوتے، اگر ہم میں عقل ہوتی تو دھوکے میں نہ پڑے رہتے، اپنے خالق مالک کے ساتھ کفر نہ کرتے، نہ رسولوں کو جھٹلاتے، نہ ان کی تابعداری سے منہ موڑتے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اب تو انہوں نے خود اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا ان کے لیے لعنت ہو، دوری ہو ‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”لوگ جب تک دنیا میں اپنے آپ میں غور کریں گے اور اپنی برائیوں کو خود دیکھ لیں گے ہلاک نہ ہوں گے۔“ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ { قیامت والے دن اس طرح حجت قائم کی جائے گی کہ خود انسان سمجھ لے گا کہ میں دوزخ میں جانے کے ہی قابل ہوں }۔ [مسند احمد:موضوع] (حافظ زبیر علی زئی فرماتے ہیں ہمیں یہ روایت نہیں ملی)