ترجمہ و تفسیر — سورۃ الملك (67) — آیت 4

ثُمَّ ارۡجِعِ الۡبَصَرَ کَرَّتَیۡنِ یَنۡقَلِبۡ اِلَیۡکَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّ ہُوَ حَسِیۡرٌ ﴿۴﴾
پھر بار بار نگاہ لوٹا، نظر ناکام ہو کر تیری طرف پلٹ آئے گی اور وہ تھکی ہوئی ہوگی۔ En
پھر دو بارہ (سہ بارہ) نظر کر، تو نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی
En
پھر دوہرا کر دو دو بار دیکھ لے تیری نگاه تیری طرف ذلیل (و عاجز) ہو کر تھکی ہوئی لوٹ آئے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4){ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ …: كَرَّتَيْنِ } کا لفظی معنی دو مرتبہ ہے، مگر یہاں مراد صرف دو مرتبہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ(دوبارہ غور کرنے سے بھی کوئی خلل نہ ملے تو) بار بار دیکھ! جیسا کہ {لَبَّيْكَ} کا لفظ تثنیہ ہے مگر اس کا معنی یہ نہیں کہ میں دو دفعہ حاضر ہوں بلکہ یہ ہے کہ میں بار بار حاضر ہوں۔ { خَاسِئًا } کسی چیز کو طلب کرنے والا جو اس سے دور ہٹا دیا جائے۔ { حَسِيْرٌ } جو تھک کر عاجز رہ جائے۔ بار بار دیکھنے کا حکم ان کی بے بسی واضح کرنے کے لیے ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 یہ مذید تاکید ہے کہ جس سے مقصد اپنی عظیم قدرت اور وحدانیت کو واضح تر کرنا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ پر اسے بار بار دیکھو۔ تمہاری نگاہ تھک کر ناکام [8] پلٹ آئے گی۔
[8] یعنی انسان کو بار بار اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر تم اللہ کی ہستی، اس کے تصرف اور اس کے علیم و حکیم ہونے میں کچھ شک رکھتے ہو تو بتاؤ کہ اس کائنات کے نظام میں فلاں نقص باقی رہ گیا ہے۔ بار بار آسمانوں کی طرف نظر دوڑاؤ اور غور و فکر کر کے اس نظام میں کوئی عیب تلاش کرنے کی کوشش کرو تم دیکھ دیکھ کر اور غور و فکر کر کر کے عاجز رہ جاؤ گے مگر تمہیں ایسا کوئی عیب یا نقص نظر نہیں آئے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔