آپ کہہ دیجئے! اچھا اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کردے یا ہم پر رحم کرے (بہر صورت یہ تو بتاؤ) کہ کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا؟
En
(آیت 28) {قُلْاَرَءَيْتُمْاِنْاَهْلَكَنِيَاللّٰهُ …: ”يُجِيْرُ“”أَجَارَيُجِيْرُإِجَارَةً“} افعال اجوف واوی۔ کفار مکہ اسلام کے پھیلنے سے پریشان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے خلاف اپنی تمام کوششوں کا ناکام ہونا دیکھ کر اس امید پر جی رہے تھے کہ کبھی نہ کبھی زمانے کی گردش ان کا کام تمام کر دے گی۔ (دیکھیے طور: ۳۰) اس پر حکم ہوا کہ ان سے کہو مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے، توتمھیں اس سے کیا غرض ہے؟ تم اپنی فکر کرو کہ کفر کے نتیجے میں جو عذاب الیم تم پر آنے والا ہے، تمھیں اس سے کون بچائے گا؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
28۔ 1 مطلب یہ ہے کہ کافروں کو تو اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہے چاہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کو موت یا قتل کے ذریعے ہلا کر دے یا انہیں مہلت دے دے یا یہ مطلب ہے کہ ہم باوجود ایمان کے خوف اور رجا کے درمیان پس تمہیں تمہارے کفر کے باوجود عذاب سے کون بچائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
28۔ آپ ان سے کہیے: ”بھلا دیکھو، اگر اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم فرما دے، کافروں [31] کو دردناک عذاب سے کون پناہ دے گا؟
[31] کفار مکہ اور دوسرے قبائل اس انتظار میں رہتے تھے کہ اسلام اور مسلمانوں پر کوئی ایسی ناگہانی بلا نازل ہو، جس سے ان کا خاتمہ ہو جائے اور ہماری جان چھوٹے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کی اسی آرزو کا جواب دیا ہے۔ اور فرمایا کہ ان سے کہیے۔ کہ ہمارے حق میں دونوں صورتیں ممکن ہیں ایک یہ کہ تمہاری خواہش کے مطابق ہم پر کوئی بلا نازل ہو جو ہمیں ہلاک کر دے۔ اور دوسری یہ کہ اللہ ہم پر رحم فرمائے اور کسی طرح کا ہمیں گزند نہ پہنچے۔ لیکن تم اپنی خیر مناؤ کہ آخرت میں تمہیں یقیناً دردناک عذاب پہنچنے والا ہے۔ اس وقت تمہیں کوئی اس عذاب سے بچا سکتا ہے؟ اور ہماری تو یہ صورت ہے کہ آخرت میں یقیناً ہمیں اللہ سے مغفرت اور جنت کی امید ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
زمین سے پانی ابلنا بند ہو جائے تو؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اے نبی! ان مشرکوں سے کہو جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کر رہے ہیں کہ تم جو اس بات کی تمنا کر رہے ہو کہ ہمیں نقصان پہنچے تو فرض کرو کہ ہمیں اللہ کی طرف سے نقصان پہنچا یا اس نے مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر رحم کیا لیکن اس سے تمہیں کیا؟ صرف اس امر سے تمہارا چھٹکارا تو نہیں ہو سکتا؟ تمہاری نجات کی صورت یہ تو نہیں۔ نجات تو موقوف ہے توبہ کرنے پر، اللہ کی طرف جھکنے پر، اس کے دین کو مان لینے پر، ہمارے بچاؤ یا ہلاکت پر تمہاری نجات نہیں، تم ہمارا خیال چھوڑ کر اپنی بخشش کی صورتیں تلاش کرو ‘۔ پھر فرمایا ’ ہم رب العالمین رحمن و رحیم پر ایمان لا چکے اپنے تمام امور میں ہمارا بھروسہ اور توکل اسی کی پاک ذات پر ہے ‘، ارشاد ہے «فَاعْبُدْهُوَتَوَكَّلْعَلَيْهِوَمَارَبُّكَبِغَافِلٍعَمَّاتَعْمَلُوْنَ»۱؎[11-ھود:123] ’ اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر۔ اب تم عنقریب جان لو گے کہ دنیا اور آخرت میں فلاح و بہبود کسے ملتی ہے اور نقصان و خسر ان میں کون پڑتا ہے؟ رب کی رحمت کس پر ہے؟ اور ہدایت پر کون ہے؟ اللہ کا غضب کس پر ہے؟ اور بری راہ پر کون ہے؟ ‘ پھر فرماتا ہے ’ اگر اس پانی کو جس کے پینے پر انسانی زندگی کا مدار ہے زمین چوس لے یعنی زمین سے نکلے نہیں گو تم کھودتے کھودتے تھک جاؤ تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی ہے جو بہنے والا، ابلنے والا اور جاری ہونے والا پانی تمہیں دے سکے؟ ‘ یعنی اللہ کے سوا اس پر قادر کوئی نہیں وہی ہے جو اپنے فضل و کرم سے صاف نتھرے ہوئے اور صاف پانی کو زمین پر جاری کرتا ہے جو ادھر سے ادھر تک پھر جاتا ہے اور بندوں کی حاجتوں کو پورا کرتا ہے، ضرورت کے مطابق ہر جگہ بآسانی مہیا ہو جاتا ہے۔ «فالْحَمْدُلِلَّـه» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الملک کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُلِلَّـهرَبِّالْعَالَمِينَ» ۔ (حدیث میں ہے کہ اس آیت کے جواب میں «اللَّـهُرَبِّالْعَالَمِينَ» کہنا چاہیئے، مترجم)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔