(آیت 25) {وَيَقُوْلُوْنَمَتٰىهٰذَاالْوَعْدُ …:} ان کا یہ پوچھنا معلوم کرنے کے لیے نہیں تھا، وہ تو یہ ماننے کو تیار ہی نہ تھے کہ ایسا ہو سکتا ہے۔مسلمانوں سے ان کایہ پوچھنا صرف طنز و استہزا کے لیے تھا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
25۔ 1 یہ کافر بطور مذاق قیامت کو دور دراز کی باتیں سمجھتے ہوئے کہتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
25۔ اور وہ کہتے ہیں کہ: ”اگر تم سچے [28] ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پورا ہو گا“
[28] کافر جب بھی یہ بات پوچھتے ہیں از راہ تمسخر اور مذاق ہی پوچھتے تھے۔ اور اس سوال سے ان کا اصل مقصد اللہ کی کتاب، اللہ کے رسول اور قیامت سب کی تکذیب ہوتی تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔