(آیت 22){ اَفَمَنْيَّمْشِيْمُكِبًّاعَلٰىوَجْهِهٖۤ …: ”مُكِبًّا“”أَكَبَّيُكِبُّإِكْبَابًا“} (افعال) اُوندھا گرنا۔ مزیدفیہ ہونے کے باوجود یہ باب لازم ہے، اس کا مجرد {”كَبَّيَكُبُّكَبًّا“} (ن) متعدی ہے، جس کا معنی کسی کو اُوندھا گرانا ہے۔ {”اَهْدٰۤى“”هَدٰييَهْدِيْهِدَايَةً“} (ض) سے اسم تفضیل ہے جو عموماً اسم فاعل کے معنی میں آتا ہے، مگر کبھی کبھی اسم مفعول کے معنی میں بھی آجاتا ہے اور یہاں یہ اسم مفعول کے معنی میں ہے، اس لیے اس کا معنی زیادہ ہدایت دینے والا نہیں بلکہ زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔ یہ موحد مومن اور مشرک کافر کی مثال ہے۔ کافر سیدھے راستے پر چلنے کے بجائے گمراہی کے گڑھوں میں پڑ جانے کی وجہ سے منہ کے بل گرتا پڑتا چلا جا رہا ہوتا ہے۔ ایسا شخص منزل مقصود پر کیسے پہنچ سکتا ہے؟ اس کے برعکس مومن توحید و سنت کے صراطِ مستقیم پر سیدھا ہو کر چل رہا ہوتا ہے، اسے دائیں بائیں اور سامنے ہر طرف سے اپنا راستہ اور اس کا گردو پیش نظر آرہا ہوتا ہے۔ وہ یقینا اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے گا جو جنت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ کافروں کے متعلق فرمایا: «وَنَحْشُرُهُمْيَوْمَالْقِيٰمَةِعَلٰىوُجُوْهِهِمْعُمْيًاوَّبُكْمًاوَّصُمًّامَاْوٰىهُمْجَهَنَّمُ» [بني إسرائیل: ۹۷]”اور قیامت کے دن ہم انھیں ان کے چہروں پر اندھے اور گونگے اور بہرے اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔“ اور حقیقت یہ ہے کہ آخرت میں ان کے اوندھے منہ اٹھائے جانے کا سبب یہی ہے کہ دنیا میں بھی وہ الٹے ہی چلتے تھے، سیدھے ہو کر راہِ راست پر چلنا انھیں گوارا نہ تھا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
22۔ 1 منہ کے بل اوندھے چلنے والے کو دائیں بائیں کچھ نظر نہیں آتا نہ وہ ٹھوکروں سے محفوظ ہوتا ہے کیا ایسا شخص اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے؟ یقینا نہیں اسی طرح دنیا میں اللہ کی معصیتوں میں ڈوبا ہوا شخص آخرت کی کامیابی سے محروم رہے گا۔ (2) جس میں کوئی کجی اور انحراف نہ ہوا اور اس کو آگے اور دائیں بائیں بھی نظر آرہا ہو ظاہر ہے یہ شخص اپنی منزل مقصود کو پہنچ جائے گا یعنی اللہ کی اطاعت کا سیدھا راستہ اپنانے والا آخرت میں سرخرو رہے گا بعض کہتے ہیں کہ مومن اور کافر دونوں کی اس کیفیت کا بیان ہے جو قیامت والے دن انکی ہوگی کافر منہ کے بل جہنم میں جائے جائیں گے اور مومن سیدھے قدموں سے چل کر جنت میں جائیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ بھلا جو شخص اپنے منہ کے بل اوندھا ہو کر چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سیدھا کھڑا ہو کر راہ راست [25] پر چل رہا ہو؟
[25] یعنی کوئی شخص کامیابی اور مقصد کے حصول کی راہ اسی صورت میں طے کر سکتا ہے جب وہ سیدھے راستے پر چلے اور سیدھا ہو کر چلے۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص کسی ناہموار اور ٹیڑھے میڑھے راستہ پر چلنا شروع کر دے اور وہ بھی منہ کے بل یا چوپایوں کی طرح منہ ڈالے ہوئے تو اس کے منزل مقصود تک پہنچنے کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ اس آیت میں یہ دراصل ایک موحد اور ایک مشرک کی مثال بیان کی گئی ہے۔ موحد کی راہ سیدھی اور صاف ہوتی ہے اور اس پر چلنے کے لئے اس کے پاس واضح ہدایات اور علم کی روشنی میں موجود ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مشرک کی ایک نہیں کئی راہیں ہوتی ہیں اور وہ سب راہیں تاریکی اور ضلالت کی ہی ہو سکتی ہیں۔ پھر اس کے پاس علم کی روشنی کے بجائے محض اوہام و قیاسات ہوتے ہیں۔ محشر میں بھی دونوں کی چال میں ایسا ہی فرق ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔