ترجمہ و تفسیر — سورۃ الملك (67) — آیت 17

اَمۡ اَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِی السَّمَآءِ اَنۡ یُّرۡسِلَ عَلَیۡکُمۡ حَاصِبًا ؕ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ کَیۡفَ نَذِیۡرِ ﴿۱۷﴾
یا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھراؤ والی آندھی بھیج دے، پھر عنقریب تم جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے؟ En
کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر ہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑ دے۔ سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے
En
یا کیا تم اس بات سے نڈر ہوگئے ہو کہ آسمانوں واﻻ تم پر پتھر برسادے؟ پھر تو تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 17) ➊ {اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَآءِ اَنْ يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا:} جیسا کہ قوم لوط کے ساتھ ہوا، فرمایا: «اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ نَجَّيْنٰهُمْ بِسَحَرٍ» ‏‏‏‏ [القمر: ۳۴] بے شک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ایک ہوا بھیجی، سوائے لوط کے گھر والوں کے، انھیں صبح سے کچھ پہلے بچا کر نکال لیا۔
➋ { نَذِيْرِ } مصدر ہے، اصل میں { نَذِيْرِيْ} تھا، میرا ڈرانا۔ یاء حذف کر دی اور راء پر کسرہ باقی رہنے دیا، ورنہ اس پر رفع ہونا تھا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

17۔ 1 جیسے اس نے قوم لوط اور اصحاب فیل پر برسائے اور پتھروں کی بارش سے ان کو ہلاک کردیا۔ 17۔ 2 لیکن اس وقت یہ علم، بےفائدہ ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ یا اس سے نڈر ہو گئے جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیج دے پھر فوراً تمہیں معلوم ہو جائے کہ میرا ڈرانا کیسا ہوتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے ٭٭
ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ ’ لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا ‘۔
جیسے اور جگہ فرمایا «‏‏‏‏وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاِذَا جَاءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا» ۱؎ [35-فاطر:45]‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی برائیوں پر پکڑ لیتا تو روئے زمین پر کسی کو باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ ایک مقررہ وقت تک انہیں مہلت دیئے ہوئے ہے، جب ان کا وہ وقت آ جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان مجرموں سے آپ سمجھ لے گا ‘۔
یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین ادھر ادھر ہو جاتی، ہلنے اور کانپنے لگ جاتی اور یہ سارے کے سارے اس میں دھنسا دیئے جاتے، یا ان پر ایسی آندھی بھیج دی جاتی جس میں پتھر ہوتے اور ان کے دماغ توڑ دیئے جاتے ‘۔
جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:68]‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ کیا تم نڈر ہو گئے ہو کہ زمین کے کسی کنارے میں تم دھنس جاؤ یا تم پر وہ پتھر برسائے اور کوئی نہ ہو جو تمہاری وکالت کر سکے ‘۔
یہاں بھی فرمان ہے کہ ’ اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری دھمکیوں کو نہ ماننے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ تم خود دیکھ لو کہ پہلے لوگوں نے بھی نہ مانا اور انکار کر کے میری باتوں کی تکذیب کی تو ان کا کس قدر برا اور عبرتناک انجام ہوا۔ کیا تم میری قدرتوں کا روزمرہ کا یہ مشاہدہ نہیں کر رہے کہ پرند تمہارے سروں پر اڑتے پھرتے ہیں کبھی دونوں پروں سے کبھی کسی کو روک کر، پھر کیا میرے سوا کوئی اور انہیں تھامے ہوئے ہے؟ میں نے ہواؤں کو مسخر کر دیا ہے اور یہ معلق اڑتے پھرتے یہیں یہ بھی میرا لطف و کرم اور رحمت و نعمت ہے۔ مخلوقات کی حاجتیں ضرورتیں ان کی اصلاح اور بہتری کا نگراں اور کفیل میں ہی ہوں ‘۔
جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاءِ» ۱؎ [16-النحل:79]‏‏‏‏ الخ، ’ کیا انہوں نے ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر ہیں جن کا تھامنے والا سوائے ذات باری کے اور کوئی نہیں یقیناً اس میں ایمانداروں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، بے خوف ہو کہ وہ تم پر پتھر برسادے۔ یعنی آسمان سے عذاب نازل کرے، تم پر پتھر برسائے اور اللہ تعالیٰ تم سے انتقام لے ﴿ فَسَتَعْلَمُوْنَ۠ كَیْفَ نَذِیْرِ یعنی تمھیں عنقریب معلوم ہو گا کہ وہ عذاب تم پر کیسے آتا ہے جس کے بارے میں تمھیں رسولوں اور کتابوں نے ڈرایا تھا۔ پس تم یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین اور آسمان کے عذاب سے تمھارا محفوظ ومامون ہونا تمھیں کوئی فائدہ دے گا۔ تم عنقریب اپنے کرتوتوں کا انجام ضرور دیکھو گے، خواہ یہ مدت لمبی ہو یا چھوٹی کیونکہ تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں نے بھی جھٹلایا جیسے تم نے جھٹلایا ہے تو دیکھ لوکیسے اللہ تعالیٰ نے انھیں اس تکذیب سے روکا؟ اللہ تعالیٰ نے آخرت کے عذاب سے پہلے انھیں دنیا میں عذاب کا مزا چکھایا، اس لیے ڈرو کہ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أم أمنتُم مَن في السماء أن يرسلَ عليكم حاصباً}؛ أي: عذاباً من السماء يحصِبُكم وينتقمُ الله منكم، {فستعلمون كيف نذيرِ}؛ أي: كيف يأتيكم ما أنذرتْكُم به الرسل والكتب؛ فلا تحسَبوا أنَّ أمنكم من الله أن يعاقِبَكم بعقابٍ من الأرض ومن السماء ينفعُكم، فستجدون عاقبة أمرِكم سواءً طال عليكم الأمدُ أو قَصُرَ؛ فإنَّ مَن قبلكم كذَّبوا كما كذَّبتم، فأهلكهم الله تعالى؛ فانظُروا كيف إنكارُ الله عليهم؛ عاجلهم بالعقوبة الدنيويَّة قبل عقوبة الآخرة؛ فاحذَروا أن يصيبَكم ما أصابَهم.