(آیت 11) {فَاعْتَرَفُوْابِذَنْۢبِهِمْ …:} وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے، یہ نہیں فرمایا کہ وہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، کیونکہ ان کو جہنم میں لے جانے والا اصل گناہ ایک ہی تھا، یعنی رسولوں کو جان بوجھ کر جھٹلا دینا، مگر ایسے اقرار کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، بلکہ جانتے بوجھتے جہنمی بننے والوں کو یہی کہا جائے گاکہ جہنمی اللہ کی رحمت سے دور ہو جائیں۔ {”سُحْقًا“”سَحِقَ“} (س، ک) کا مصدر ہے، دور ہونا اور {”سَحِيْقٌ“} بعید۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 جس کی بنا پر مستحق عذاب قرار پائے اور وہ ہے کفر اور انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب۔ 11۔ 2 یعنی اب ان کے لئے اللہ اور اس کی رحمت سے دوری ہی دوری ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ گویا وہ اپنے گناہ [14] کا اعتراف کر لیں گے، لعنت ہو اہل دوزخ پر
[14] یہاں گناہ کا لفظ واحد استعمال ہوا ہے۔ حالانکہ ان کی ساری کی ساری زندگی گناہوں سے لبریز تھی۔ اس لیے کہ اللہ کی آیات سے انکار اور جھٹلانا یہ ایک گناہ باقی سارے گناہوں کی جڑ ہے۔ باقی سب گناہ اسی ایک بڑے گناہ کی شاخیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔