(آیت 10) {وَقَالُوْالَوْكُنَّانَسْمَعُاَوْنَعْقِلُ …:} اب وہ حسرت و افسوس سے کہیں گے کہ ہم جس گمراہی میں مبتلا رہے، اس سے نکلنے کی دو ہی صورتیں تھیں، پہلی یہ کہ ہم رسولوں اور اہل ایمان کی باتیں سن لیا کرتے تو ایمان کی نعمت مل جاتی، دوسری یہ کہ خود کچھ عقل سے کام لیا کرتے تو توحید و رسالت اور آخرت کے عقائد تک آسانی سے پہنچ سکتے تھے۔ دو نوں صورتوں میں آج جہنمیوں میں شامل نہ ہوتے، مگر ہم اپنی مرضی اور آباو اجداد کے طریقے کے خلاف کوئی بات نہ سنا کرتے تھے اور نہ سمجھنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ واضح رہے کہ رسولوں کی بات دلیل سمعی ہے اور اسے سمجھنا دلیل عقلی ہے، جبکہ اپنی مرضی پر چلنا یا آباو اجدا د کی تقلید نہ دلیل سمعی ہے اور نہ دلیل عقلی، بلکہ دلیل ہے ہی نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 یعنی غور اور توجہ سے سنتے اور ان کی باتوں اور نصیحتوں کو آویزہ گوش بنا لیتے، اسی طرح اللہ کی دی ہوئی عقل سے بھی سوچنے سمجھنے کا کام لیتے تو آج ہم دوزخ والوں میں شامل نہ ہوتے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ پھر کہیں گے: ”کاش ہم (اس کی بات) سن لیتے یا سمجھتے تو ہم (آج) اہل دوزخ میں شامل نہ ہوتے“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَقَالُوْا﴾ رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ لَوْكُنَّانَ٘سْمَعُاَوْنَعْقِلُمَاكُنَّافِیْۤاَصْحٰؔبِالسَّعِیْرِ﴾”اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دزخیوں میں نہ ہوتے۔“ پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے، جو اسے حقائق اشیاء، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو۔ مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انھوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کر لے کر آئے انھوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا،نیز انھوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسين اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتدا کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔پس پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہرہ مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقالوا}: معترفين بعدم أهليَّتهم للهدى والرشاد: {لو كنَّا نسمعُ أو نعقِلُ ما كنَّا في أصحاب السَّعير}: فنفَوْا عن أنفسهم طرق الهدى، وهي السمع لما أنزل الله وجاءتْ به الرسل، والعقلُ الذي ينفع صاحبَه ويوقفُه على حقائق الأشياء وإيثار الخير والانزجار عن كلِّ ما عاقبته ذميمةٌ، فلا سمعَ لهم ولا عقلَ. وهذا بخلاف أهل اليقين والعرفان وأرباب الصدق والإيمان؛ فإنَّهم أيَّدوا إيمانهم بالأدلَّة السمعيَّة، فسمعوا ما جاء من عند الله وجاء به رسولُ الله علماً ومعرفةً وعملاً، والأدلَّة العقليَّة المعرِّفة للهدى من الضَّلال، والحسن من القبيح، والخير من الشرِّ، وهم في الإيمان بحسب ما منَّ الله عليهم به من الاقتداء بالمعقول والمنقول؛ فسبحان مَن يختصُّ بفضله مَن يشاء، ويمنُّ على مَن يشاء من عباده، ويخذل مَن لا يصلُحُ للخير.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔