تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ:} یعنی انھیں نفقہ میں کمی یا نامناسب رہائش یا بدزبانی یا مار پیٹ کے ساتھ تکلیف پہنچا کر تنگ نہ کرو کہ وہاں رہیں تو تنگی میں مبتلا رہیں یا پھر مکان چھوڑ کر چلی جائیں یا مہر چھوڑ دیں۔
➌ { وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَيْهِنَّ …:} مطلقہ عورت اگر حاملہ نہیں تو رجعی طلاق کی صورت میں اس کا نفقہ اور رہائش خاوند کے ذمے ہے، تیسری طلاق کی صورت میں اس کا نفقہ یا رہائش خاوند کے ذمے نہیں، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ البتہ اگر وہ حاملہ ہے تو رجعی طلاق کی صورت میں بچہ پیدا ہونے تک اس کا نفقہ اور رہائش دونوں خاوند کے ذمے ہیں اور اگر تیسری طلاق ہے تو وضع حمل تک صرف اس کا خرچہ خاوند کے ذمے ہے۔
➍ { فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ:} اس جملے سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بچہ باپ کا ہوتا ہے ماں کا نہیں، کیونکہ ماں اس بچے کے باپ کے لیے دودھ پلا رہی ہے اور اجرت لے رہی ہے، اگر بچہ ماں کا ہو تو اجرت لینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ عورت اپنے دودھ کی خود مالک ہے، وہ طلاق دینے والے خاوند سے بھی اسی طرح اجرت لے سکتی ہے جیسے دوسروں سے۔
➎ {وَ اْتَمِرُوْا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ: ” وَ اْتَمِرُوْا “ ”اِئْتَمَرَ يَأْتَمِرُ اِئْتِمَارًا“} (افتعال) مشورہ کرنا، جیسا کہ سورۂ قصص میں فرمایا: «يٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ يَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِيَقْتُلُوْكَ» [القصص: ۲۰] ”اے موسیٰ! بے شک سردار تیرے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ تجھے قتل کر دیں۔“ طلاق کے بعد عموماً میاں بیوی کی باہمی ناچاقی اور ناراضی کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہو چکی ہوتی ہے، ایسی صورت میں میاں بیوی دونوں کو اور ان کے تعلق والوں کو حکم دیا کہ بچے کو دودھ پلانے، اس کے علاج و تربیت اور اس کی بہتری کے لیے آپس میں اچھے طریقے سے مشورہ کرتے رہو، ایسا نہ ہو کہ تمھاری کشیدگی بچے کو نقصان پہنچانے کا باعث بن جائے۔
➏ { وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰى:} یعنی اگر ماں کسی بیماری یا کمزوری کی وجہ سے دودھ پلانے سے انکار کر دے، یا اجرت اتنی زیادہ مانگے جو خاوند کی استطاعت یا معروف رواج سے زیادہ ہو، یا خاوند اس کی طلب کردہ اجرت دینے پر تیار نہ ہو، یا کسی اور وجہ سے آپس میں ضد پیدا ہو جائے اور ماں دودھ نہ پلائے تو ضروری نہیں کہ ہر حال میں ماں ہی دودھ پلائے، بلکہ کوئی اور عورت اسے دودھ پلا دے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[19] یعنی واجبی خرچ نہ دے کر یا دوسرے طریقوں سے اس طرح تنگ نہ کر ڈالو کہ وہ از خود نکلنے اور تمہارا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں اور تم یہ سمجھنے لگو کہ جب وہ خود ہی چلی گئی ہے تو تم پر اس کا کچھ الزام نہیں۔
1۔ عورت اپنے دودھ کی خود مالک ہے اور وہ طلاق دینے والے خاوند سے بھی اسی طرح اجرت لے سکتی ہے جس طرح دوسروں سے۔
2۔ قانونی طور پر بچہ باپ کا ہوتا ہے، ماں کا نہیں ہو گا۔ اگر بچہ ماں کا ہو تو اجرت لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
3۔ اگر ماں بھی وہی اجرت مانگے جو دوسری عورتیں مانگتی ہیں تو ماں دودھ پلانے کی زیادہ حقدار ہے۔
4۔ اگر ماں کسی بیماری یا کمزوری کی وجہ سے دودھ پلانے سے انکار کر دے یا اجرت اتنی زیادہ مانگے جو اس کے خاوند کی استطاعت یا معروف رواج سے زیادہ ہو تو باپ کسی دوسری عورت سے بھی دودھ پلوانے کی خدمت لے سکتا ہے۔
5۔ طلاق کے بعد اگر فریقین میں شکر رنجی باقی رہ گئی ہو تب بھی بچہ کی تربیت کے سلسلہ میں ماں اور باپ کو بچہ کی اور ایک دوسرے کی بھلائی ہی سوچنا چاہئے۔ باپ محض ماں کو ستانے، تنگ کرنے اور اس کی نظروں سے بچہ غائب رکھنے کی خاطر کسی دوسری عورت سے دودھ نہ پلائے یا ماں کو اس کا بہت کم معاوضہ دے یا سرے سے کچھ دینے پر آمادہ ہی نہ ہو۔ اور نہ ہی ماں اتنا خرچ طلب کرے یا ایسے حالات پیدا کر دے کہ باپ کسی دوسری عورت سے دودھ پلانے پر مجبور ہو جائے۔
6۔ ہمارے ہاں یہ دستور بن چکا ہے کہ مطلقہ عورت اور طلاق دینے والا مرد بعد میں تا زیست نہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں اور نہ کلام کریں اور اسے غیرت کا مسئلہ بنا لیا گیا ہے۔ بلکہ بسا اوقات مرد اور عورت کے خاندان میں بغض اور عداوت چل جاتی ہے۔ شرعاً ان باتوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں بالخصوص ﴿وَاْتَمِرُوْا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ﴾ کے الفاظ قابل توجہ ہیں۔ نیز جب سیدنا زید بن حارثہ نے سیدہ زینب کو طلاق دے دی تو اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب کو اپنے لیے نکاح کا پیغام سیدنا زید کی زبانی ہی بھیجا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ جگہ اپنی طاقت کے مطابق ہے یہاں تک کہ فتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر زیادہ وسعت نہ ہو تو اپنے ہی مکان کا ایک کونہ اسے دے دے“، اسے تکلیفیں پہنچا کر اس قدر تنگ نہ کرو کہ وہ مکان چھوڑ کر چلی جائے یا تم سے چھوٹنے کے لیے اپنا حق مہر چھوڑ دے یا اس طرح کہ طلاق دی دیکھا کہ دو ایک روز عدت کے رہ گئے ہیں رجوع کا اعلان کر دیا پھر طلاق دے دی اور عدت کے ختم ہونے کے قریب رجعت کر لی تاکہ نہ وہ بیچاری سہاگن رہے نہ رانڈ۔
اکثر علماء کا فرمان ہے کہ یہ خصوصاً ان عورتوں کے لیے بیان ہو رہا ہے جنہیں آخری طلاق دے دی گئی ہو جس سے رجوع کرنے کا حق ان کے خاوندوں کو نہ رہا ہو اس لیے کہ جن سے رجوع ہو سکتا ہے ان کی عدت تک کا خرچ تو خاوند کے ذمہ ہے ہی وہ حمل سے ہوں تب اور بے حمل ہوں تو بھی۔
اور حضرات علماء فرماتے ہیں، یہ حکم بھی انہیں عورتوں کا بیان ہو رہا ہے جن سے رجعت کا حق حاصل ہے کیونکہ اوپر بھی انہی کا بیان تھا، اسے الگ اس لیے بیان کر دیا کہ عموماً حمل کی مدت لمبی ہوتی ہے، اس لمحے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ عدت کے زمانے جتنا نفقہ تو ہمارے ذمہ ہے پھر نہیں، اس لیے صاف طور پر فرما دیا کہ ’ رجعت والی طلاق کے وقت اگر عورت حمل سے ہو تو جب تک بچہ نہ ہو اس کا کھلانا پلانا خاوند کے ذمہ ہے ‘۔
پھر اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے کہ خرچ اس کے لیے حمل کے واسطے سے ہے یا حمل کے لیے ہے، امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ سے دونوں قول مروی ہیں اور اس بناء پر بہت سے فروعی مسائل میں بھی اختلاف رونما ہوا ہے۔
ہاں عورت کو اختیار ہے خواہ دودھ پلائے یا نہ پلائے لیکن اول دفعہ کا دودھ اسے ضرور پلانا چاہیئے، گو پھر دودھ نہ پلائے کیونکہ عموماً بچہ کی زندگی اس دودھ کے ساتھ وابستہ ہے اگر وہ بعد میں بھی دودھ پلاتی رہے تو ماں باپ کے درمیان جو اجرت طے ہو جائے وہ ادا کرنی چاہیئے۔
فرمایا ’ تم میں آپس میں جو کام ہوں وہ بھلائی کے ساتھ باقاعدہ دستور کے مطابق ہونے چاہئیں نہ اس کے نقصان کے درپے رہے نہ وہ اسے ایذاء پہنچانے کی کوشش کرے ‘، جیسے سورۃ البقرہ میں فرمایا «لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ» ۱؎ [2-البقرۃ:233] یعنی ’ بچہ کے بارے میں نہ اس کی ماں کو ضرور پہنچایا جائے نہ اس کے باپ کو ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ اگر آپس میں اختلاف بڑھ جائے مثلاً لڑکے کا باپ کم دینا چاہتا ہے اور اس کی ماں کو منظور نہیں یا ماں زائد مانگتی ہے جو باپ پر گراں ہے اور موافقت نہیں ہو سکتی دونوں کسی بات پر رضامند نہیں ہوتے تو اختیار ہے کہ کسی اور دایہ کو دیں ہاں جو اور دایہ کو دیا جانا منظور کیا جاتا ہے اگر اسی پر اس بچہ کی ماں رضامند ہو جائے تو زیادہ مستحق یہی ہے ‘۔
تفسیر ابن جریر میں ہے کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی بابت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ موٹا کپڑا پہنتے ہیں اور ہلکی غذا کھاتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں ایک ہزار دینار بھجوا دو اور جس کے ہاتھ بھجوائے ان سے کہہ دیا کہ ”دیکھنا وہ ان دیناروں کو پا کر کیا کرتے ہیں؟“
جب یہ اشرفیاں انہیں مل گئیں تو انہوں نے باریک کپڑے پہننے اور نہایت نفیس غذائیں کھانی شروع کر دیں، قاصد نے واپس آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا ”اللہ اس پر رحم کرے اس نے اس آیت پر عمل کیا کہ کشادگی والا اپنی کشادگی کے مطابق خرچ کرے اور تنگی و ترشی والا اپنی حالت کے موافق۔“
طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کے پاس دس دینار تھے، اس نے ان میں سے ایک راہ اللہ صدقہ کیا، دوسرے کے پاس دس اوقیہ تھے، اس نے اس میں سے ایک اوقیہ یعنی چالیس درہم خرچ کئے، تیسرے کے پاس سو اوقیہ تھے، جس میں سے اس نے اللہ کے نام پر دس اوقیہ خرچ کئے، تو یہ سب اجر میں اللہ کے نزدیک برابر ہیں اس لیے کہ ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ فی سبیل اللہ دیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سچا وعدہ دیتا ہے کہ وہ تنگی کے بعد آسانی کر دے گا“ } ۱؎ [طبرانی:3439:ضعیف]
جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» ۱؎ [94-الشرح:6] ’ بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے ‘۔
اور روایت میں ہے کہ { ایک شخص اپنے گھر پہنچا دیکھا کہ بھوک کے مارے گھر والوں کا برا حال ہے، آپ جنگل کی طرف نکل کھڑے ہوئے، یہاں ان کی نیک بخت بیوی صاحبہ نے جب دیکھا کہ میاں بھی پریشان حال ہیں اور یہ منظر دیکھ نہیں سکے اور چل دیئے تو چکی کو ٹھیک ٹھاک کیا، تنور سلگایا اور الله تعالیٰ سے دعا کرنے لگیں، اے اللہ! ہمیں روزی دے، دعا کر کے اٹھیں تو دیکھا کہ ہنڈیا گوشت سے پر ہے، تنور میں روٹیاں لگ رہی ہیں اور چکی سے برابر آٹا ابلا چلا آتا ہے، اتنے میں میاں صاحب بھی تشریف لائے، پوچھا کہ میرے بعد تمہیں کچھ ملا؟ بیوی صاحبہ نے کہا: ہاں! ہمارے رب نے ہمیں بہت کچھ عطا فرما دیا اس نے جا کر چکی کے دوسرے پاٹ کو اٹھا لیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اسے نہ اٹھاتا تو قیامت تک یہ چکی چلتی ہی رہتی۔“ ۱؎ [مسند احمد:513/2:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
تقدَّم أنَّ الله نهى عن إخراج المطلَّقات عن البيوت، وهنا أمر بإسكانهنَّ وقدر إسكانهنَّ بالمعروف، وهو البيت الذي يسكنه مثلُه ومثلُها؛ بحسب وُجْد الزوج وعسره، {ولا تُضارُّوهنَّ لِتُضَيِّقوا عليهنَّ}؛ أي: لا تضاروهنَّ عند سكناهنَّ بالقول أو الفعل؛ لأجل أن يمللنَ فيخرجنَ من البيوت قبل تمام العدة، فتكونوا أنتم المخرِجين لهنَّ. وحاصل هذا أنَّه نهى عن إخراجهنَّ ونهاهنَّ عن الخروج، وأمر بسكناهنَّ على وجهٍ لا يحصلُ عليهن ضررٌ ولا مشقَّة، وذلك راجعٌ إلى العرف. {وإن كنَّ}؛ أي: المطلَّقات {أولاتِ حَمْلٍ فأنفقوا عليهنَّ حتى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ}: وذلك لأجل الحمل الذي في بطنها إن كانت بائناً، ولها ولحملها إن كانت رجعيةً، ومنتهى النَّفقة إلى وضع الحمل ؛ فإذا وضَعْنَ حملَهُنَّ؛ فإمَّا أن يرضِعْن أولادهنَّ أو لا، {فإنْ أرْضَعْنَ لكم فآتوهنَّ أجورهنَّ}: المسمَّاة لهنَّ إن كان مسمًّى، وإلاَّ؛ فأجر المثل، {وائْتَمِروا بينكم بمعروفٍ}؛ أي: ليأمر كلُّ واحدٍ من الزوجين وغيرهما الآخر بالمعروف، وهو كلُّ ما فيه منفعةٌ ومصلحةٌ في الدُّنيا والآخرة؛ فإنَّ الغفلة عن الائتمار بالمعروف يحصُلُ فيها من الضَّرر والشرِّ ما لا يعلمه إلاَّ الله، وفي الائتمار تعاونٌ على البرِّ والتَّقوى. ومما يناسب هذا المقام أنَّ الزوجين عند الفراق وقت العدَّة، خصوصاً إذا ولد بينهما ولدٌ، في الغالب يحصُلُ من التنازع والتشاجر لأجل النفقة عليها وعلى الولد مع الفراق الذي لا يحصُلُ في الغالب إلاَّ مقروناً بالبغض، فيتأثَّر من ذلك شيءٌ كثيرٌ، فكلٌّ منهما يؤمر بالمعروف والمعاشرة الحسنة وعدم المشاقَّة والمنازعة وينصحُ على ذلك، {وإن تعاسَرْتُم}: بأن لم يتَّفق الزوجان على إرضاعها لولدها، {فسترضِعُ له أخرى}: غيرها، و {لا جُناح عليكم إذا سلَّمتم ما آتيتم بالمعروف}، وهذا حيثُ كان الولد يقبلُ ثدي غير أمِّه؛ فإنْ لم يقبلْ إلاَّ ثدي أمِّه؛ تعينتْ لإرضاعه، ووجب عليها، وأجْبِرَتْ إن امتنعتْ، وكان لها أجرة المثل إن لم يتَّفقا على مسمًّى. وهذا مأخوذ من الآية الكريمة من حيث المعنى؛ فإنَّ الولد لمَّا كان في بطن أمِّه مدةَ الحمل لا خروج له منه ؛ عيَّن تعالى على وليِّه النفقة، فلما ولد وكان يتمكَّن أن يتقوَّت من أمِّه ومن غيرها؛ أباح تعالى الأمرين؛ فإذا كان بحالة لا يمكن أن يتقوَّت إلاَّ من أمِّه؛ كان بمنزلة الحمل، وتعينت أمُّه طريقاً لِقُوتِه.