ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطلاق (65) — آیت 6

اَسۡکِنُوۡہُنَّ مِنۡ حَیۡثُ سَکَنۡتُمۡ مِّنۡ وُّجۡدِکُمۡ وَ لَا تُضَآرُّوۡہُنَّ لِتُضَیِّقُوۡا عَلَیۡہِنَّ ؕ وَ اِنۡ کُنَّ اُولَاتِ حَمۡلٍ فَاَنۡفِقُوۡا عَلَیۡہِنَّ حَتّٰی یَضَعۡنَ حَمۡلَہُنَّ ۚ فَاِنۡ اَرۡضَعۡنَ لَکُمۡ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ ۚ وَ اۡتَمِرُوۡا بَیۡنَکُمۡ بِمَعۡرُوۡفٍ ۚ وَ اِنۡ تَعَاسَرۡتُمۡ فَسَتُرۡضِعُ لَہٗۤ اُخۡرٰی ؕ﴿۶﴾
انھیں وہاں سے رہائش دو جہاں تم رہتے ہو، اپنی طاقت کے مطابق اور انھیں اس لیے تکلیف نہ دو کہ ان پر تنگی کرو اور اگر وہ حمل والی ہوں تو ان پر خرچ کرو، یہاں تک کہ وہ اپنا حمل وضع کر لیں، پھر اگر وہ تمھارے لیے دودھ پلائیں تو انھیں ان کی اجرتیں دو اور آپس میں اچھے طریقے سے مشورہ کرو اور اگر تم آپس میں تنگی کرو تو عنقریب اسے کوئی اور عورت دودھ پلا دے گی۔ En
عورتوں کو (ایام عدت میں) اپنے مقدور کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ دو اور اگر حمل سے ہوں تو بچّہ جننے تک ان کا خرچ دیتے رہو۔ پھر اگر وہ بچّے کو تمہارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو۔ اور (بچّے کے بارے میں) پسندیدہ طریق سے مواقفت رکھو۔ اور اگر باہم ضد (اور نااتفاقی) کرو گے تو (بچّے کو) اس کے (باپ کے) کہنے سے کوئی اور عورت دودھ پلائے گی
En
تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں تم رہتے ہو وہاں ان (طلاق والی) عورتوں کو رکھو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے تکلیف نہ پہنچاؤ اور اگر وه حمل سے ہوں تو جب تک بچہ پیدا ہولے انہیں خرچ دیتے رہا کرو پھر اگر تمہارے کہنے سے وہی دودھ پلائیں تو تم انہیں ان کی اجرت دے دو اور باہم مناسب طور پر مشوره کر لیا کرو اور اگر تم آپس میں کشمکش کرو تو اس کے کہنے سے کوئی اور دودھ پلائے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6) ➊ { اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ:} اس میں ان عورتوں کا حکم بیان فرمایا ہے جنھیں پہلی یا دوسری طلاق دی گئی ہو۔ پہلے ان کے متعلق فرمایا تھا کہ عدت پوری ہونے تک انھیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں، اب اسی کی تفصیل ہے۔ { مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ } میں { مِنْ } تبعیض کے لیے ہے، یعنی جہاں تم رہتے ہو اس کے کسی حصے میں انھیں بھی رہنے کے لیے جگہ دو۔ { مِنْ وُّجْدِكُمْ } اپنی وسعت کے مطابق، یعنی مکان ذاتی ہے یا کرائے کا یاخیمہ وغیرہ ہے، جہاں رہتے ہو وہیں انھیں رکھو۔ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بیان فرمایا ہے کہ اتنی مدت ایک جگہ رہنے کی وجہ سے ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ دوبارہ موافقت کی صورت پیدا فرما دے اور رجوع ہو جائے، اس دوران ان کا نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہے۔ تیسری طلاق کے بعد چونکہ رجوع کی گنجائش نہیں، اس لیے خاوند کے ساتھ رہائش کا حکم بھی نہیں اور نہ ہی ان کا خرچ خاوند کے ذمے ہے، جیسا کہ پہلی آیت کے فائدہ (۱۲) میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنھا کی صحیح حدیث میں گزر چکا ہے۔
➋ { وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ:} یعنی انھیں نفقہ میں کمی یا نامناسب رہائش یا بدزبانی یا مار پیٹ کے ساتھ تکلیف پہنچا کر تنگ نہ کرو کہ وہاں رہیں تو تنگی میں مبتلا رہیں یا پھر مکان چھوڑ کر چلی جائیں یا مہر چھوڑ دیں۔
➌ { وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَيْهِنَّ …:} مطلقہ عورت اگر حاملہ نہیں تو رجعی طلاق کی صورت میں اس کا نفقہ اور رہائش خاوند کے ذمے ہے، تیسری طلاق کی صورت میں اس کا نفقہ یا رہائش خاوند کے ذمے نہیں، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ البتہ اگر وہ حاملہ ہے تو رجعی طلاق کی صورت میں بچہ پیدا ہونے تک اس کا نفقہ اور رہائش دونوں خاوند کے ذمے ہیں اور اگر تیسری طلاق ہے تو وضع حمل تک صرف اس کا خرچہ خاوند کے ذمے ہے۔
➍ { فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ:} اس جملے سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بچہ باپ کا ہوتا ہے ماں کا نہیں، کیونکہ ماں اس بچے کے باپ کے لیے دودھ پلا رہی ہے اور اجرت لے رہی ہے، اگر بچہ ماں کا ہو تو اجرت لینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ عورت اپنے دودھ کی خود مالک ہے، وہ طلاق دینے والے خاوند سے بھی اسی طرح اجرت لے سکتی ہے جیسے دوسروں سے۔
➎ {وَ اْتَمِرُوْا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ: وَ اْتَمِرُوْا اِئْتَمَرَ يَأْتَمِرُ اِئْتِمَارًا} (افتعال) مشورہ کرنا، جیسا کہ سورۂ قصص میں فرمایا: «يٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ يَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِيَقْتُلُوْكَ» [القصص: ۲۰] اے موسیٰ! بے شک سردار تیرے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ تجھے قتل کر دیں۔ طلاق کے بعد عموماً میاں بیوی کی باہمی ناچاقی اور ناراضی کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہو چکی ہوتی ہے، ایسی صورت میں میاں بیوی دونوں کو اور ان کے تعلق والوں کو حکم دیا کہ بچے کو دودھ پلانے، اس کے علاج و تربیت اور اس کی بہتری کے لیے آپس میں اچھے طریقے سے مشورہ کرتے رہو، ایسا نہ ہو کہ تمھاری کشیدگی بچے کو نقصان پہنچانے کا باعث بن جائے۔
➏ { وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰى:} یعنی اگر ماں کسی بیماری یا کمزوری کی وجہ سے دودھ پلانے سے انکار کر دے، یا اجرت اتنی زیادہ مانگے جو خاوند کی استطاعت یا معروف رواج سے زیادہ ہو، یا خاوند اس کی طلب کردہ اجرت دینے پر تیار نہ ہو، یا کسی اور وجہ سے آپس میں ضد پیدا ہو جائے اور ماں دودھ نہ پلائے تو ضروری نہیں کہ ہر حال میں ماں ہی دودھ پلائے، بلکہ کوئی اور عورت اسے دودھ پلا دے گی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6۔ 1 یعنی مطلقہ رجعیہ کو۔ اس لیے کہ مطلقہ بائنہ کے لیے تو رہائش اور نفقہ ضروری ہی نہیں۔ اپنی طاقت کے مطابق رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر مکان فراخ ہو اور اس میں متعدد کمرے ہوں تو ایک کمرہ اس کے لیے مخصوص کردیا جائے۔ بصورت دیگر اپنا کمرہ اس کے لیے خالی کردے۔ اس میں حکمت یہی ہے کہ قریب رہ کر عدت گزارے گی تو شاید خاوند کا دل پسیج جائے اور رجوع کرنے کی رغبت اس کے دل میں پیدا ہوجائے خاص طور پر اگر بچے بھی ہوں تو پھر رغبت اور رجوع کا قوی امکان ہے۔ مگر افسوس ہے کہ مسلمان اس ہدایت پر عمل نہیں کرتے جس کی وجہ سے اس حکم کے فوائد سے بھی محروم ہیں۔ ہمارے معاشرے میں طلاق کے ساتھ ہی جس طرح عورت کو فوراً چھوت بنا کر گھر سے نکال دیا جاتا ہے، یا بعض دفعہ لڑکی والے اسے اپنے گھر لے جاتے ہیں، یہ رواج قرآن کریم کی صریح تعلیم کے خلاف ہے۔ 6۔ 2 یعنی نان نفقہ میں یا رہائش میں اسے تنگ اور بےآبرو کرنا تاکہ وہ گھر چھوڑ جائے۔ عدت کے دوران ایسا رویہ اختیار نہ کیا جائے۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے عدت ہوجانے کے قریب ہو تو رجوع کرلے اور بار بار ایسا نہ کرے، جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں کیا جاتا تھا۔ جس کے سدباب کے لیے شریعت نے طلاق کے بعد رجوع کرنے کی حد مقرر فرمادی تاکہ کوئی شخص آئندہ اس طرح عورت کو تنگ نہ کرے، اب ایک انسان دو مرتبہ تو ایسا کرسکتا ہے یعنی طلاق دے کر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرلے۔ لیکن تیسری مرتبہ جب طلاق دے گا تو اس کے بعد اس کے رجوع کا حق بھی ختم ہوجائے گا۔ 6۔ 2 یعنی مطلقہ خواہ بائنہ ہی کیوں نہ ہو، اگر حاملہ ہے تو اس کا نفقہ و رہائش ضروری ہے، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے۔ 6۔ 3 یعنی طلاق دینے کے بعد اگر وہ تمہارے بچے کو دودھ پلائے تو اس کی اجرت تمہارے ذمے ہے۔ 6۔ 4 یعنی باہم مشورے سے اجرت اور دیگر معاملات طے کر لئے جائیں۔ مثلاً بچے کا باپ حیثیت کے مطابق اجرت دے اور ماں، باپ کی حیثیت کے مطابق اجرت طلب کرے، وغیرہ۔ 6۔ 5 یعنی آپس میں اجرت وغیرہ کا معاملہ طے نہ ہوسکے تو کسی دوسری انا کے ساتھ معاملہ کرلے جو اسکے بچے کو دودھ پلائے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ مطلقہ عورتوں کو (ان کے زمانہ عدت میں) وہیں رکھو جہاں تم خود رہتے ہو [18]، جیسی جگہ تمہیں میسر ہو، اور انہیں تنگ کرنے کے لئے ایذا [19] نہ دو۔ اور اگر وہ حمل والی ہوں تو وضع حمل تک ان پر خرچ [20] کرتے رہو۔ پھر اگر وہ تمہارے لیے (نومولود) کو دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو۔ اور باہمی مشورہ سے بھلے طریقے سے (اجرت کا معاملہ) طے کر لو۔ اور اگر تم نے (اجرت طے کرنے میں) ایک دوسرے [21] کو تنگ کیا تو کوئی دوسری عورت دودھ پلائے گی۔
[18] عدت کے دوران رہائش اور نان ونقہ خاوند کے ذمہ ہے :۔
مطلقہ عورت کی عدت کے دوران اس کی رہائش اور اس کی خوراک و پوشاک کا سارا خرچ طلاق دینے والے مرد کے ذمہ ہے۔ اس قطعی اصل سے استثناء کی ایک مثال دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ملتی ہے۔ وہ قصہ یہ تھا کہ فاطمہ بنت قیس کے خاوند عمرو بن حفص نے جب اپنی بیوی کو تیسری طلاق دی تو اس وقت وہ خود شام کے علاقے میں تھے۔ فاطمہ بنت قیس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور انہیں یہ معاملہ بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنی عدت ام شریک کے گھر میں گزارے، پھر فرمایا: یہ عورت (ام شریک) ایسی ہے جس کے ہاں میرے صحابہ اکثر آتے جاتے ہیں لہٰذا تم ابن ام مکتوم کے ہاں عدت گزارو۔ کیونکہ وہ اندھا آدمی ہے تو اس کے ہاں کپڑے تک اتار سکتی ہے اور ایک روایت میں ہے کہ تو اپنے چچا ابن ام مکتوم کے ہاں چلی جا۔ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ”فاطمہ بنت قیس اللہ سے نہیں ڈرتی جو کہتی ہے کہ جس عورت پر طلاق بائن پڑے اس کے لئے نہ رہائش ہے اور نہ نفقہ (خوراک و پوشاک)“ [بخاری۔ کتاب الطلاق۔ باب قصۃ فاطمۃ بنت قیس]
فاطمہ بنت قیس کا استثنائی قصہ :۔
فاطمہ بنت قیس کا قصہ تقریباً سب کتب احادیث میں مذکور ہے۔ لیکن ان کی عدت گزارنے اور نفقہ کا قصہ بالکل اضطراری نوعیت کا تھا۔ یہ ایک درشت مزاج اور زبان دراز خاتون تھیں جب طلاق مغلظہ واقع ہوئی اس وقت ان کا خاوند شام میں تھا۔ تیسری طلاق کے بعد چونکہ خاوند کا حق رجوع ختم ہو جاتا ہے اور وہ اس کی بیوی نہیں رہتی۔ لہٰذا یہ مسئلہ بذات خود مختلف فیہ ہے۔ کہ طلاق مغلظہ کے بعد سکنیٰ اور نفقہ واجب بھی ہے یا نہیں۔ تاہم جمہور علماء کی یہی رائے ہے کہ پوری عدت کے دوران سکنیٰ اور نان و نفقہ واجب ہے۔ فاطمہ بنت قیس کا گھر جنگل میں تھا جہاں آس پاس مکانات نہیں تھے لہٰذا وہاں مال اور ناموس دونوں باتوں کا خطرہ تھا علاوہ ازیں اس کے خاوند نے جو کچھ ﴿سَرَاحًا جَمِيْلاً کے طور پر بھیجا تھا اسے فاطمہ بنت قیس نے حقیر سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا۔ یہ تھے وہ خصوصی حالات جن کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کے حق میں یہ فیصلہ دیا تھا اور یہ انہی کے لئے خاص تھا۔ اسی لئے سیدنا عمر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دوسرے صحابہ فاطمہ کے اس قول کو کہ: ”طلاق بائن والی عورت کے لئے سکنیٰ اور نفقہ نہیں ہے“ کا انکار کرتے اور اس کے ذاتی واقعہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی اجازت سمجھتے تھے جو کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں۔
[19] یعنی واجبی خرچ نہ دے کر یا دوسرے طریقوں سے اس طرح تنگ نہ کر ڈالو کہ وہ از خود نکلنے اور تمہارا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں اور تم یہ سمجھنے لگو کہ جب وہ خود ہی چلی گئی ہے تو تم پر اس کا کچھ الزام نہیں۔
[20] بیوہ کا نان و نفقہ واجب نہیں :۔
حاملہ خواہ مطلقہ ہو یا بیوہ اس کی عدت تا وضع حمل ہے۔ خواہ یہ چند دن بعد ہی وضع حمل ہو یا چھ سات ماہ تک لمبی ہو جائے۔ اس دوران اگر مطلقہ ہے تو اس کے سکنیٰ اور نفقہ کا ذمہ دار اس کا خاوند ہو گا۔ اور اگر بیوہ ہے تو اس کا سکنیٰ تو مرد کے لواحقین کے ذمہ ہو گا اور وہ عدت اپنے خاوند کے گھر میں گزارے گی۔ لیکن نفقہ کی حقدار نہ رہے گی کیونکہ اب وہ وراثت کی حقدار بن گئی ہے وہ اپنے حصہ میں سے اپنی ذات پر خرچ کرے گی۔ یہ نہیں ہو گا کہ پہلے خاوند کے مشترکہ ورثہ سے اس کا نفقہ بھی اسے دیا جائے اور پھر وراثت کا حصہ بھی۔
[21] طلاق کے بعد بچہ کو دودھ پلانے سے متعلقہ مسائل :۔
اس آیت اور اگلی آیت سے مندرجہ ذیل باتیں مستفاد ہوتی ہیں:
1۔ عورت اپنے دودھ کی خود مالک ہے اور وہ طلاق دینے والے خاوند سے بھی اسی طرح اجرت لے سکتی ہے جس طرح دوسروں سے۔
2۔ قانونی طور پر بچہ باپ کا ہوتا ہے، ماں کا نہیں ہو گا۔ اگر بچہ ماں کا ہو تو اجرت لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
3۔ اگر ماں بھی وہی اجرت مانگے جو دوسری عورتیں مانگتی ہیں تو ماں دودھ پلانے کی زیادہ حقدار ہے۔
4۔ اگر ماں کسی بیماری یا کمزوری کی وجہ سے دودھ پلانے سے انکار کر دے یا اجرت اتنی زیادہ مانگے جو اس کے خاوند کی استطاعت یا معروف رواج سے زیادہ ہو تو باپ کسی دوسری عورت سے بھی دودھ پلوانے کی خدمت لے سکتا ہے۔
5۔ طلاق کے بعد اگر فریقین میں شکر رنجی باقی رہ گئی ہو تب بھی بچہ کی تربیت کے سلسلہ میں ماں اور باپ کو بچہ کی اور ایک دوسرے کی بھلائی ہی سوچنا چاہئے۔ باپ محض ماں کو ستانے، تنگ کرنے اور اس کی نظروں سے بچہ غائب رکھنے کی خاطر کسی دوسری عورت سے دودھ نہ پلائے یا ماں کو اس کا بہت کم معاوضہ دے یا سرے سے کچھ دینے پر آمادہ ہی نہ ہو۔ اور نہ ہی ماں اتنا خرچ طلب کرے یا ایسے حالات پیدا کر دے کہ باپ کسی دوسری عورت سے دودھ پلانے پر مجبور ہو جائے۔
6۔ ہمارے ہاں یہ دستور بن چکا ہے کہ مطلقہ عورت اور طلاق دینے والا مرد بعد میں تا زیست نہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں اور نہ کلام کریں اور اسے غیرت کا مسئلہ بنا لیا گیا ہے۔ بلکہ بسا اوقات مرد اور عورت کے خاندان میں بغض اور عداوت چل جاتی ہے۔ شرعاً ان باتوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں بالخصوص ﴿وَاْتَمِرُوْا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ کے الفاظ قابل توجہ ہیں۔ نیز جب سیدنا زید بن حارثہ نے سیدہ زینب کو طلاق دے دی تو اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب کو اپنے لیے نکاح کا پیغام سیدنا زید کی زبانی ہی بھیجا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

طلاق کے بعد بھی سلوک کی ہدایت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ’ جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گزر جانے تک اس کے رہنے سہنے کو اپنا مکان دے ‘۔
یہ جگہ اپنی طاقت کے مطابق ہے یہاں تک کہ فتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر زیادہ وسعت نہ ہو تو اپنے ہی مکان کا ایک کونہ اسے دے دے، اسے تکلیفیں پہنچا کر اس قدر تنگ نہ کرو کہ وہ مکان چھوڑ کر چلی جائے یا تم سے چھوٹنے کے لیے اپنا حق مہر چھوڑ دے یا اس طرح کہ طلاق دی دیکھا کہ دو ایک روز عدت کے رہ گئے ہیں رجوع کا اعلان کر دیا پھر طلاق دے دی اور عدت کے ختم ہونے کے قریب رجعت کر لی تاکہ نہ وہ بیچاری سہاگن رہے نہ رانڈ۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اگر طلاق والی عورت حمل سے ہو تو بچہ ہونے تک اس کا نان نفقہ اس کے خاوند کے ذمہ ہے ‘۔
اکثر علماء کا فرمان ہے کہ یہ خصوصاً ان عورتوں کے لیے بیان ہو رہا ہے جنہیں آخری طلاق دے دی گئی ہو جس سے رجوع کرنے کا حق ان کے خاوندوں کو نہ رہا ہو اس لیے کہ جن سے رجوع ہو سکتا ہے ان کی عدت تک کا خرچ تو خاوند کے ذمہ ہے ہی وہ حمل سے ہوں تب اور بے حمل ہوں تو بھی۔
اور حضرات علماء فرماتے ہیں، یہ حکم بھی انہیں عورتوں کا بیان ہو رہا ہے جن سے رجعت کا حق حاصل ہے کیونکہ اوپر بھی انہی کا بیان تھا، اسے الگ اس لیے بیان کر دیا کہ عموماً حمل کی مدت لمبی ہوتی ہے، اس لمحے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ عدت کے زمانے جتنا نفقہ تو ہمارے ذمہ ہے پھر نہیں، اس لیے صاف طور پر فرما دیا کہ ’ رجعت والی طلاق کے وقت اگر عورت حمل سے ہو تو جب تک بچہ نہ ہو اس کا کھلانا پلانا خاوند کے ذمہ ہے ‘۔
پھر اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے کہ خرچ اس کے لیے حمل کے واسطے سے ہے یا حمل کے لیے ہے، امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ سے دونوں قول مروی ہیں اور اس بناء پر بہت سے فروعی مسائل میں بھی اختلاف رونما ہوا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ جب یہ مطلقہ عورتیں حمل سے فارغ ہو جائیں تو اگر تمہاری اولاد کو وہ دودھ پلائیں تو تمہیں ان کی دودھ پلائی دینی چاہیئے ‘۔
ہاں عورت کو اختیار ہے خواہ دودھ پلائے یا نہ پلائے لیکن اول دفعہ کا دودھ اسے ضرور پلانا چاہیئے، گو پھر دودھ نہ پلائے کیونکہ عموماً بچہ کی زندگی اس دودھ کے ساتھ وابستہ ہے اگر وہ بعد میں بھی دودھ پلاتی رہے تو ماں باپ کے درمیان جو اجرت طے ہو جائے وہ ادا کرنی چاہیئے۔
فرمایا ’ تم میں آپس میں جو کام ہوں وہ بھلائی کے ساتھ باقاعدہ دستور کے مطابق ہونے چاہئیں نہ اس کے نقصان کے درپے رہے نہ وہ اسے ایذاء پہنچانے کی کوشش کرے ‘، جیسے سورۃ البقرہ میں فرمایا «لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ» ۱؎ [2-البقرۃ:233]‏‏‏‏ یعنی ’ بچہ کے بارے میں نہ اس کی ماں کو ضرور پہنچایا جائے نہ اس کے باپ کو ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ اگر آپس میں اختلاف بڑھ جائے مثلاً لڑکے کا باپ کم دینا چاہتا ہے اور اس کی ماں کو منظور نہیں یا ماں زائد مانگتی ہے جو باپ پر گراں ہے اور موافقت نہیں ہو سکتی دونوں کسی بات پر رضامند نہیں ہوتے تو اختیار ہے کہ کسی اور دایہ کو دیں ہاں جو اور دایہ کو دیا جانا منظور کیا جاتا ہے اگر اسی پر اس بچہ کی ماں رضامند ہو جائے تو زیادہ مستحق یہی ہے ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ بچے کا باپ یا ولی جو ہو اسے چاہیئے کہ بچے پر اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے، تنگی والا اپنی طاقت کے مطابق دے، طاقت سے بڑھ کر تکلیف کسی کو اللہ نہیں دیتا ‘۔
تفسیر ابن جریر میں ہے کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی بابت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ موٹا کپڑا پہنتے ہیں اور ہلکی غذا کھاتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں ایک ہزار دینار بھجوا دو اور جس کے ہاتھ بھجوائے ان سے کہہ دیا کہ دیکھنا وہ ان دیناروں کو پا کر کیا کرتے ہیں؟
جب یہ اشرفیاں انہیں مل گئیں تو انہوں نے باریک کپڑے پہننے اور نہایت نفیس غذائیں کھانی شروع کر دیں، قاصد نے واپس آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا اللہ اس پر رحم کرے اس نے اس آیت پر عمل کیا کہ کشادگی والا اپنی کشادگی کے مطابق خرچ کرے اور تنگی و ترشی والا اپنی حالت کے موافق۔‏‏‏‏
طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص کے پاس دس دینار تھے، اس نے ان میں سے ایک راہ اللہ صدقہ کیا، دوسرے کے پاس دس اوقیہ تھے، اس نے اس میں سے ایک اوقیہ یعنی چالیس درہم خرچ کئے، تیسرے کے پاس سو اوقیہ تھے، جس میں سے اس نے اللہ کے نام پر دس اوقیہ خرچ کئے، تو یہ سب اجر میں اللہ کے نزدیک برابر ہیں اس لیے کہ ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ فی سبیل اللہ دیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سچا وعدہ دیتا ہے کہ وہ تنگی کے بعد آسانی کر دے گا } ۱؎ [طبرانی:3439:ضعیف]‏‏‏‏
جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» ۱؎ [94-الشرح:6]‏‏‏‏ ’ بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے ‘۔
اللہ پر توکل کا نتیجہ ٭٭
مسند احمد کی حدیث اس جگہ وارد کرنے کے قابل ہے جس میں ہے کہ { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگلے زمانہ میں ایک میاں بیوی تھے جو فقر و فاقہ سے اپنی زندگی گزار رہے تھے پاس کچھ بھی نہ تھا، ایک مرتبہ یہ شخص سفر سے آیا اور سخت بھوکا تھا، بھوک کے مارے بے تاب تھا، آتے ہی اپنی بیوی سے پوچھا: کچھ کھانے کو ہے؟ اس نے کہا: آپ خوش ہو جایئے، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی ہمارے ہاں آ پہنچی ہے، اس نے کہا: پھر لاؤ، جو کچھ ہو دے دو، میں بہت بھوکا ہوں۔ بیوی نے کہا اور ذرا سی دیر صبر کر لو، اللہ کی رحمت سے ہمیں بہت کچھ امید ہے، پھر جب کچھ دیر اور ہو گئی، اس نے بے تاب ہو کر کہا: جو کچھ تمہارے پاس ہے دیتی کیوں نہیں؟ مجھے تو بھوک سے سخت تکلیف ہو رہی ہے، بیوی نے کہا: اتنی جلدی کیوں کرتے ہو؟ اب تنور کھولتی ہوں۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد جب بیوی نے دیکھا کہ یہ اب پھر تقاضہ کرنا چاہتے ہیں، تو خودبخود کہنے لگیں، اب اٹھ کر تنور کو دیکھتی ہوں، اٹھ کر جو دیکھتی ہیں تو قدرت اللہ سے ان کے توکل کے بدلے وہ بکری کے پہلو کے گوشت سے بھرا ہوا ہے، دیکھتی ہیں کہ گھر کی دونوں چکیاں از خود چل رہی ہیں اور برابر آٹا نکل رہا ہے، انہوں نے تنور میں سے سب گوشت نکال لیا اور چکیوں میں سارا آٹا اٹھا لیا اور جھاڑ دیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر وہ صرف آٹا لے لیتیں اور چکی نہ جھاڑتیں تو وہ قیامت تک چلتی رہتیں۔ ۱؎ [مسند احمد:421/2:ضعیف]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { ایک شخص اپنے گھر پہنچا دیکھا کہ بھوک کے مارے گھر والوں کا برا حال ہے، آپ جنگل کی طرف نکل کھڑے ہوئے، یہاں ان کی نیک بخت بیوی صاحبہ نے جب دیکھا کہ میاں بھی پریشان حال ہیں اور یہ منظر دیکھ نہیں سکے اور چل دیئے تو چکی کو ٹھیک ٹھاک کیا، تنور سلگایا اور الله تعالیٰ سے دعا کرنے لگیں، اے اللہ! ہمیں روزی دے، دعا کر کے اٹھیں تو دیکھا کہ ہنڈیا گوشت سے پر ہے، تنور میں روٹیاں لگ رہی ہیں اور چکی سے برابر آٹا ابلا چلا آتا ہے، اتنے میں میاں صاحب بھی تشریف لائے، پوچھا کہ میرے بعد تمہیں کچھ ملا؟ بیوی صاحبہ نے کہا: ہاں! ہمارے رب نے ہمیں بہت کچھ عطا فرما دیا اس نے جا کر چکی کے دوسرے پاٹ کو اٹھا لیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اسے نہ اٹھاتا تو قیامت تک یہ چکی چلتی ہی رہتی۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند احمد:513/2:ضعیف]‏‏‏‏