ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطلاق (65) — آیت 4

وَ الِّٰٓیۡٔ یَئِسۡنَ مِنَ الۡمَحِیۡضِ مِنۡ نِّسَآئِکُمۡ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشۡہُرٍ ۙ وَّ الِّٰٓیۡٔ لَمۡ یَحِضۡنَ ؕ وَ اُولَاتُ الۡاَحۡمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنۡ یَّضَعۡنَ حَمۡلَہُنَّ ؕ وَ مَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مِنۡ اَمۡرِہٖ یُسۡرًا ﴿۴﴾
اور وہ عورتیں جو تمھاری عورتوں میں سے حیض سے ناامید ہو چکی ہیں، اگر تم شک کرو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنھیں حیض نہیں آیا اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کر دیں اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے اس کے کام میں آسانی پیدا کر دے گا ۔ En
اور تمہاری (مطلقہ) عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہوں اگر تم کو (ان کی عدت کے بارے میں) شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور جن کو ابھی حیض نہیں آنے لگا (ان کی عدت بھی یہی ہے) اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل (یعنی بچّہ جننے) تک ہے۔ اور جو خدا سے ڈرے گا خدا اس کے کام میں سہولت پیدا کردے گا
En
تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) ➊ {وَ الّٰٓـِٔيْ يَىِٕسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَآىِٕكُمْ …: الّٰٓـِٔيْ اَللَّاتِيْ} کی طرح {اَلَّتِيْ} کی جمع ہے، وہ عورتیں۔ { ارْتَبْتُمْ رَيْبٌ} (شک) میں سے باب افتعال ماضی مطلق معروف جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے، اصل میں {اِرْتَيَبْتُمْ} تھا۔ یعنی وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہو چکی ہیں اور وہ عورتیں جنھیں حیض آیا ہی نہیں، اگر انھیں دخول کے بعد طلاق ہو تو ان کی عدت تین قمری مہینے ہے، جب کہ دخول کے بغیر طلاق ہو تو ان پر کوئی عدت نہیں۔ دیکھیے سورۂ احزاب (۴۹)۔
➋ { اِنِ ارْتَبْتُمْ } (اگر تمھیں شک ہو) کے تین مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اگر تمھیں شک ہو کہ عدت تو حیض سے شمار ہوتی ہے اور ان عورتوں کا حیض بند ہے یا آیا ہی نہیں تو ان کی عدت کا کیا کیا جائے، تو ہم تمھیں بتاتے ہیں کہ ان کی عدت تین قمری مہینے ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ سعید بن جبیر سے مروی ہے اور ابن جریر نے یہی معنی پسند فرمایا ہے اور معنی کے لحاظ سے زیادہ ظاہر یہی ہے۔ ابن جریر نے اس پر اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی روایت بطور دلیل ذکر فرمائی ہے کہ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کئی طرح کی عورتوں کی عدت کا ذکر قرآن میں نہیں آیا، یعنی چھوٹی عمر کی عورتیں، عمر رسیدہ عورتیں اور حاملہ عورتیں۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «‏‏‏‏وَ الّٰٓـِٔيْ يَىِٕسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَآىِٕكُمْ» ‏‏‏‏ اور وہ عورتیں جو تمھاری عورتوں میں سے حیض سے ناامید ہو چکی ہیں۔ ابن کثیر نے اس کے علاوہ ابن ابی حاتم کی سند کے ساتھ اسی مفہوم کی مفصل روایت ذکر کی ہے، مگر تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا کہ ان دونوں کی سند میں عمرو بن سالم (ابو عثمان انصاری) راوی ہے جسے تقریب میں مقبول کہا گیا ہے، یعنی اس کی متابعت ہو تو اس کی روایت قبول ہے ورنہ کمزور ہے اور یہاں اس کی متابعت نہیں کی گئی، لہٰذا اس کی سند ضعیف ہے۔ اس تفسیر کے مطابق { اِنِ ارْتَبْتُمْ } کے الفاظ کا کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آتا۔
دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر ایسی عورتوں کو جو حیض سے مایوس ہو چکی ہیں، بیماری کا خون (استحاضہ) شروع ہو جائے اور تم فیصلہ نہ کر سکو کہ یہ حیض ہے یا استحاضہ تو ان کی عدت تین قمری مہینے ہے۔ یہ مجاہد اور زہری کا قول ہے۔ [طبري: 69/23، ح: ۳۴۶۱۷، ۳۴۶۱۸، بسند صحیح] اس سے ظاہر ہے کہ جب شک کی صورت میں ان کی عدت تین ماہ ہے تو اگر انھیں کسی قسم کا خون آتا ہی نہیں اور ان کے حیض سے مایوس ہونے میں کوئی شک ہی نہیں تو ان کی عدت بالاولیٰ تین ماہ ہے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ عام قاعدہ یہی ہے کہ جن عورتوں کا حیض بند ہو گیا ہو یا شروع ہی نہ ہوا ہو انھیں حمل نہیں ہوتا، مگر شاذ و نادر ایسی عورتوں کو بھی حمل ہو جاتا ہے اور یہاں مسئلہ ان عورتوں کا بیان ہو رہا ہے جنھیں دخول کے بعد طلاق دی گئی ہے، اس میں حمل کا امکان بہر حال رہتا ہے۔ سو اگر تمھیں آثار سے ان کے حاملہ ہونے کا شک پڑ جائے تو ان کی عدت تین ماہ ہے، اتنی مدت میں ان کا حاملہ ہونا یا نہ ہونا واضح ہو جائے گا۔ اگر حاملہ نہ ہوں تو عدت تین ماہ ہی ہے اور اگر حمل ظاہر ہو جائے تو ان کی عدت وضع حمل ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ» کہ حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر حیض سے مایوس عمر رسیدہ عورت یا ایسی عورت جسے حیض آیا ہی نہیں اور ان کے متعلق حمل کا کوئی شک بھی نہ ہو تو ان کی عدت بالاولیٰ تین ماہ ہے۔
➌ { وَ الّٰٓـِٔيْ يَىِٕسْنَ:} یعنی وہ عورتیں جنھیں حیض آیا ہی نہیں ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ اس میں چھوٹی عمر کی عورتیں بھی شامل ہیں جنھیں ابھی حیض نہ آیا ہو اور بڑی عمر کی عورتیں بھی جنھیں کسی وجہ سے حیض شروع ہی نہیں ہو سکا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ چھوٹی عمر کی لڑکی سے نکاح ہو سکتا ہے اور اس کا خاوند اس سے جماع بھی کر سکتا ہے۔ کفار کے کہنے پر چھوٹی عمر کی شادی پر پابندی لگانا یا بالغ ہو جانے والی لڑکیوں کی شادی پر اٹھارہ سال کی یا کسی مخصوص عمر کی پابندی لگانا اللہ تعالیٰ کے احکام کی صریح مخالفت ہے۔
➍ { وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ: اُولَاتُ ذَاتٌ} کی جمع ہے جیسا کہ {أُوْلُوْ ذُوْ} کی جمع ہے۔ { اُولَاتُ الْاَحْمَالِ } حمل والیاں۔ آیت کے الفاظ عام ہیں، اس لیے حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہی ہے، خواہ اس کے خاوند نے اسے طلاق دی ہو یا اس کا خاوند فوت ہو جائے۔ صحیح احادیث سے بھی یہی بات ثابت ہے کہ حاملہ عورت کا خاوند فوت ہو جائے تو بچہ پیدا ہونے کے ساتھ اس کی عدت ختم ہو جائے گی، خواہ خاوند فوت ہونے کے فوراً بعد بچہ پیدا ہو جائے یا کئی ماہ کے بعد پیدا ہو۔ ام سلمہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ کے ہاں ان کے خاوند کے قتل ہونے کے چالیس دن بعد بچہ پیدا ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نکاح کرنے کی اجازت دے دی۔ [بخاري، التفسیر، باب: «و أولات الأحمال أجلہن…» : ۴۹۰۹] رہی وہ عورتیں جو حاملہ نہ ہوں اور ان کے خاوند فوت ہو جائیں تو ان کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۳۴)۔
➎ { وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ يُسْرًا:} اس سورت میں بار بار اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی تاکید کی گئی ہے، وجہ یہ ہے کہ میاں بیوی کے مسائل بھی کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک آدمی ہر وقت اللہ سے ڈرتا نہ رہے وہ اپنی بیوی کے معاملہ میں بے راہ رو ہو جاتا ہے، اس لیے کتاب و سنت میں اپنی بیویوں سے حسن سلوک کی بار بار تاکید آئی ہے۔ (کیلانی) اس مقام کی مناسبت سے اس کے کام میں آسانی پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرے گا اوّل تو طلاق کے وقت کے انتظار کی وجہ سے طلاق کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور اگر اللہ کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق طلاق دے گا تو عدت کے اندر اسے رجوع کا حق حاصل رہے گا اور اگر عدت ختم ہو جائے تو دوبارہ نکاح کا موقع باقی رہے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 یہ ان کی عدت ہے جن کا حیض عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے بند ہوگیا ہو، یا جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو۔ واضح رہے کہ نادر طور پر ایسا ہوتا ہے کہ عورت سن بلوغت کو پہنچ جاتی ہے اور اسے حیض ہی نہیں آتا۔ 4۔ 2 مطلقہ اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے، چاہے دوسرے روز ہی وضع حمل ہوجائے، ہر حاملہ عورت کی عدت یہی ہے چاہے وہ مطلقہ ہو یا اس کا خاوند فوت ہوگیا ہو۔ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے (صحیح بخاری) اور جن کے خاوند فوت ہوجائیں ان کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ اور تمہاری عورتوں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں، اگر تمہیں کچھ شبہ ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنہیں [15] ابھی حیض شروع ہی نہ ہوا ہو۔ اور حمل والی عورتوں کی عدت [16] ان کے وضع حمل تک ہے۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرے [17] تو اللہ اس کے لئے اس کے کام میں آسانی پیدا کر دیتا ہے۔
[15] نکاح نابالغاں :۔
یعنی جو عورتیں اتنی بوڑھی ہو چکی ہوں کہ انہیں حیض آنا بند ہو چکا ہو یا وہ نابالغ لڑکیاں جنہیں ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو۔ اور بعض عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ انہیں عمر کی نسبت سے بڑی دیر کے بعد حیض آتا ہے اور ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی عورت کو عمر بھر حیض نہ آئے۔ ایسی سب عورتوں کی عدت تین ماہ ہے اور یہ اس دن سے شروع ہو جائے گا جس دن سے اسے طلاق دی گئی اور تین ماہ قمری شمار ہوں گے، شمسی نہیں۔ ضمناً اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ نابالغ بچیوں کی شادی بھی جائز ہے اور ان سے صحبت کرنا بھی جائز ہے۔ اسی طرح جن بڑی عورتوں کو بھی حیض نہ آیا ہو یا اتنی بوڑھی ہو چکی ہوں کہ ان کا حیض بند ہو چکا ہو ان سے بھی صحبت کرنا جائز ہے۔ اس آیت میں ﴿ارْتَبْتُمْ کے الفاظ بڑے ذومعنی ہیں۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اگر تمہیں ایسی عورتوں کی عدت معلوم کرنے میں تشویش ہو اور تم ان کی عدت معلوم کرنا چاہتے ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی عدت تین ماہ ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بے حیض عورت کے ہاں عموماً اولاد پیدا نہیں ہوتی۔ تاہم ایسی عورتوں کے ہاں اولاد کا پیدا ہو جانا اللہ کی قدرت سے کچھ بعید بھی نہیں۔ اور اس کی مثالیں بھی اس دنیا میں پائی جاتی ہیں اگرچہ ایسی مثالیں شاذ ہیں۔ تاہم ناممکن اور مفقود بھی نہیں۔ اسی لئے ایسی عورتوں کی عدت مقرر کر دی گئی۔
[16] عورت مطلقہ ہو یا بیوہ ہو یعنی اس کا خاوند فوت ہو جائے اس کی عدت وضع حمل تک ہو گی۔ جیسا کہ اسی سورۃ کی پہلی آیت کے حاشیہ نمبر 1 میں اس کی وضاحت پیش کی جا چکی ہے۔
[17] اس سورت میں بار بار اللہ سے ڈرتے رہنے کی تاکید کی گئی ہے وجہ یہ ہے کہ ازدواجی زندگی کے مسائل بھی کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک انسان ہر وقت اللہ سے ڈرتا نہ رہے وہ اپنی بیوی کے معاملہ میں بے راہ رو ہو جاتا ہے اور اسی لیے کتاب و سنت میں اپنی بیویوں سے حسن سلوک کی بار بار تاکید آئی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مسائل عدت ٭٭
جن بڑھیا عورتوں کی اپنی بڑی عمر کی وجہ سے ایام بند ہو گئے ہوں یہاں ان کی عدت بتائی جاتی ہے کہ تین مہینے کی عدت گزاریں، جیسے کہ ایام والی عورتوں کی عدت تین حیض ہے۔ ملاحظہ ہو سورۃ البقرہ کی آیت «وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» ۱؎ [2-البقرة:234]‏‏‏‏ ’ تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وه عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس (‏‏‏‏دن) عدت میں رکھیں ‘۔
اسی طرح وہ لڑکیاں جو اس عمر کو نہیں پہنچیں کہ انہیں حیض آئے، ان کی عدت بھی یہی تین مہینے رکھی، اگر تمہیں شک ہو، اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ خون دیکھ لیں اور تمہیں شبہ گزرے کہ آیا حیض کا خون ہے یا استخاضہ کی بیماری کا۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ان کی عدت کے حکم میں تمہیں شک باقی رہ جائے اور تم اسے نہ پہچان سکو تو تین مہینے یاد رکھو لو۔‏‏‏‏ یہ دوسرا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، اس کی دلیل یہ روایت بھی ہے کہ { سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا یا رسول اللہ! بہت سی عورتوں کی عدت ابھی بیان نہیں ہوئی، کمسن لڑکیاں، بوڑھی بڑی عورتیں اور حمل والی عورتیں اس کے جواب میں یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:392/4:منقطع ضعیف]‏‏‏‏
پھر حاملہ کی عدت بیان فرمائی کہ ’ وضع حمل اس کی عدت ہے، گو طلاق یا خاوند کی موت کے ذرا سی دیر بعد ہی ہو جائے ‘، جیسے کہ اس آیت کریمہ کے الفاظ ہیں اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور جمہور علماء سلف و خلف کا قول ہے۔
ہاں سیدنا علی ابن طالب اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ سورۃ البقرہ کی آیت اور اس آیت کو ملا کر ان کا فتویٰ یہ ہے کہ ان دونوں میں سے جو زیادہ دیر میں ختم ہو وہ عدت یہ گزارے یعنی اگر بچہ تین مہینے سے پہلے پیدا ہو گیا تو تین مہینے کی عدت ہے اور تین مہینے گزر چکے اور بچہ نہیں ہوا تو بچے کے ہونے تک عدت ہے۔‏‏‏‏
صحیح بخاری میں سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس وقت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے اس نے سوال کیا کہ اس عورت کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے جسے اپنے خاوند کے انتقال کے بعد چالیسویں دن بچہ ہو جائے؟ آپ نے فرمایا: دونوں عدتوں میں سے آخری عدت اسے گزارنی پڑے گی یعنی اس صورت میں تین مہینے کی عدت اس پر ہے۔ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قرآن میں تو ہے کہ حمل والیوں کی عدت بچہ کا ہو جانا ہے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اپنے چچا زاد بھائی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں یعنی میرا بھی یہی فتویٰ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی وقت اپنے غلام کریب کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ جاؤ ان سے یہ مسئلہ پوچھ آؤ انہوں نے فرمایا: سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر قتل کئے گئے اور یہ اس وقت امید سے تھیں، چالیس راتوں کے بعد بچہ ہو گیا، اسی وقت نکاح کا پیغام آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر دیا پیغام دینے والوں میں ابوالسنابل بھی تھے۱؎ [صحیح بخاری:4909]‏‏‏‏ یہ حدیث قدرے طوالت کے ساتھ اور کتابوں میں بھی ہے۔
{ عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری رحمہ اللہ کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے ان کا واقعہ دریافت کر کے انہیں لکھ بھیجیں، یہ گئے، دریافت کیا اور لکھا کہ ان کے خاوند سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ تھے یہ بدری صحابی تھے حجتہ الوداع میں فوت ہو گئے اس وقت یہ حمل سے تھیں، تھوڑے ہی دن کے بعد انہیں بچہ پیدا ہو گیا، جب نفاس سے پاک ہوئیں تو اچھے کپڑے پہن کر بناؤ سنگھار کر کے بیٹھ گئیں ابوالسنابل بن بعلک رضی اللہ عنہ جب ان کے پاس آئے تو انہیں اس حالت میں دیکھ کر کہنے لگے تم جو اس طرح بیٹھی ہو تو کیا نکاح کرنا چاہتی ہو، واللہ! تم نکاح نہیں کر سکتیں جب تک کہ چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں۔
میں یہ سن کر چادر اوڑھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ پیدا ہوتے ہی تم عدت سے نکل گئیں اب تمہیں اختیار ہے اگر چاہو تو اپنا نکاح کر لو۱؎ [صحیح بخاری:3991]‏‏‏‏
صحیح بخاری میں اس آیت کے تحت اس حدیث کے وارد کرنے کے بعد یہ بھی ہے کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ ایک مجلس میں تھے، جہاں عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ بھی تھے، جن کی تعظیم تکریم ان کے ساتھی بہت ہی کیا کرتے تھے، انہوں نے حاملہ کی عدت آخری دو عدتوں کی میعاد بتائی، اس پر میں نے سبیعہ رضی اللہ عنہا والی حدیث بیان کی، اس پر میرے بعض ساتھی مجھے ٹہوکے لگانے لگے، میں نے کہا: پھر تو میں نے بڑی جرأت کی اگر عبداللہ پر میں نے بہتان باندھا حالانکہ وہ کوفہ کے کونے میں زندہ موجود ہیں، پس وہ ذرا شرما گئے اور کہنے لگے لیکن ان کے چچا تو یہ نہیں کہتے، میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا، انہوں نے مجھے سبیعہ رضی اللہ عنہا والی حدیث پوری سنائی، میں نے کہا: تم نے اس بابت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی کچھ سنا ہے؟ فرمایا: یہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے، آپ نے فرمایا: کیا تم اس پر سختی کرتے ہو اور رخصت نہیں دیتے؟ سورۃ نساء قصریٰ یعنی سورۃ الطلاق سورۃ نساء طولی کے بعد اتری ہے اور اس میں فرمان ہے کہ ’ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4910]‏‏‏‏
ابن جریر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو «ملاعنہ» کرنا چاہے، میں اس سے «ملاعنہ» کرنے کو تیار ہوں یعنی میرے فتوے کے خلاف جس کا فتویٰ ہو میں تیار ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں آئے اور جھوٹے پر اللہ لعنت کرے، میرا فتویٰ یہ ہے کہ حمل والی کی عدت بچہ کا پیدا ہو جانا ہے، پہلے عام الحکم تھا کہ جن عورتوں کے خاوند مر جائیں وہ چار مہینے دس دن عدت گزاریں اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ حمل والیوں کی عدت بچے کا پیدا ہو جانا ہے پس یہ عورتیں ان عورتوں میں سے مخصوص ہو گئیں اب مسئلہ یہی ہے کہ جس عورت کا خاوند مر جائے اور وہ حمل سے ہو تو جب حمل سے فارغ ہو جائے، عدت سے نکل گئی۔
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ اس وقت فرمایا تھا جب انہیں معلوم ہوا کہ سیدنا علی ابن طالب رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہ ہے کہ اس کی عدت ان دونوں عدتوں میں سے جو آخری ہو وہ ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2307،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ { ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ حمل والیوں کی عدت جو وضع حمل ہے یہ تین طلاق والیوں کی عدت ہے یا فوت شدہ خاوند والیوں کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں کی۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34317:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث بہت غریب ہے بلکہ منکر ہے اس لیے کہ اس کی اسناد میں مثنی بن صباح ہے اور وہ بالکل متروک الحدیث ہے، لیکن اس کی دوسری سندیں بھی ہیں۔
پھر فرماتا ہے ’ اللہ تعالیٰ متقیوں کے لیے ہر مشکل سے آسانی اور ہر تکلیف سے راحت عنایت فرما دیتا ہے، یہ اللہ کے احکام اور اس کی پاک شریعت ہے جو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے تمہاری طرف اتار رہا ہے اللہ سے ڈرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اور چیزوں کے ڈر سے بچا لیتا ہے اور ان کے تھوڑے عمل پر بڑا اجر دیتا ہے ‘۔