ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطلاق (65) — آیت 2

فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمۡسِکُوۡہُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ فَارِقُوۡہُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ وَّ اَشۡہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ وَ اَقِیۡمُوا الشَّہَادَۃَ لِلّٰہِ ؕ ذٰلِکُمۡ یُوۡعَظُ بِہٖ مَنۡ کَانَ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ۬ؕ وَ مَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا ۙ﴿۲﴾
پھر جب وہ اپنی میعاد کو پہنچنے لگیں تو انھیں اچھے طریقے سے روک لو، یا اچھے طریقے سے ان سے جدا ہو جاؤ اور اپنوں میں سے دو صاحب عدل آدمی گواہ بنا لو اور شہادت اللہ کے لیے قائم کرو۔ یہ وہ (حکم) ہے جس سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہے اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا۔ En
پھر جب وہ اپنی میعاد (یعنی انقضائے عدت) کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو ان کو اچھی طرح (زوجیت میں) رہنے دو یا اچھی طرح سے علیحدہ کردو اور اپنے میں سے دو منصف مردوں کو گواہ کرلو اور (گواہ ہو!) خدا کے لئے درست گواہی دینا۔ ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو کوئی خدا سے ڈرے گا وہ اس کے لئے (رنج ومحن سے) مخلصی (کی صورت) پیدا کرے گا
En
پس جب یہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں یا تو قاعده کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انہیں الگ کر دو اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواه کر لو اور اللہ کی رضامندی کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دو۔ یہی ہے وه جس کی نصیحت اسے کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 2) ➊ { فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ:} یعنی جب ان کی عدت ختم ہونے کے قریب پہنچ جائے، کیونکہ عدت ختم ہونے کے بعد تو رجوع ہو نہیں سکتا۔
➋ {فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ …:} یعنی جب عورتوں کی عدت ختم ہونے کے قریب ہو، صرف اتنی باقی ہو جس میں ان سے رجوع ہو سکتا ہو تو انھیں معروف (اچھے طریقے) کے ساتھ روک لو یا معروف کے ساتھ ان سے جدا ہو جاؤ۔ معروف کے ساتھ روکنے کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ اچھے طریقے سے ان کے ساتھ رہنے کی نیت سے ان سے رجوع کر کے حسب سابق بیوی بنا کر رکھ لو اور اس رجوع پر گواہ بناؤ اور معروف طریقے سے جدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے رجوع نہ کرو بلکہ انھیں ان کے حال پر رہنے دو، تاکہ عدت ختم ہو جائے اور وہ خود بخود تم سے جدا ہو جائیں، پھر کسی لڑائی جھگڑے یا برا بھلا کہنے کے بغیر انھیں رخصت کر دو۔ اس میں اچھائی یہ ہے کہ اگرچہ عدت گزرنے کی وجہ سے وہ آزاد ہیں کہ جس مرد سے چاہیں شادی کر لیں، مگر انھیں پہلے خاوندوں سے شادی کا بھی اختیار ہے۔
➌ سورۂ بقرہ میں اور یہاں پہلی یا دوسری طلاق کے بعد دو ہی صورتیں بیان فرمائی ہیں، ایک یہ کہ عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لو، دوسری یہ کہ اچھے طریقے سے چھوڑ دو، یعنی رجوع نہ کرو بلکہ عدت ختم ہونے دو اور اچھے طریقے سے جدا ہو جاؤ، عدت ختم ہونے سے پہلے دوسری یا تیسری طلاق دینے کا حکم نہیں دیا۔ جس عورت کو حیض آتا ہو اس کے لیے طلاقِ سنت یہی ہے۔ بعض حضرات طلاق کا سنت طریقہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جب عورت حیض سے پاک ہو تو جماع کے بغیر اسے ایک طلاق دو، اگلے طہر میں دوسری طلاق دو اور تیسرے طہر میں تیسری طلاق دو، حالانکہ یہ ہرگز طلاقِ سنت نہیں ہے۔ یہ طلاقِ سنت کیسے ہو سکتی ہے جب کہ ابھی پہلی طلاق کی عدت جاری ہے، نہ وہ آخر کو پہنچی ہے نہ اس سے رجوع ہوا ہے، تو دوسری اور تیسری طلاق کا کیا مطلب؟ پھر اس میں بلا ضرورت عورت کو ہمیشہ کے لیے حرام کرنے کی تلقین کی گئی ہے جو شریعت کے مقصد ہی کے خلاف ہے۔ طلاق سنت صرف دو ہی ہیں، ایک وہ جو آیت میں مذکور ہے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ عورت حیض سے پاک ہو تو جماع کے بغیر اسے طلاق دی جائے، پھر اگر اسے بسانے کی نیت ہو تو عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لے، یا عدت ختم ہو جانے دے، جس سے وہ خود بخود جدا ہو جائے گی۔ طلاقِ سنت کی دوسری صورت یہ ہے کہ حمل کی حالت میں طلاق دے، پھر وضع حمل سے پہلے یا تو رجوع کرلے یا عدت ختم ہونے پر علیحدگی اختیار کرلے۔
ہر طہر میں طلاق کو سنت قرار دینے والے دلیل میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول بیان کرتے ہیں، سنن نسائی میں ہے: [أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ أَيُّوْبَ قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِيْ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ أَنَّهُ قَالَ طَلاَقُ السُّنَّةِ تَطْلِيْقَةٌ وَهِيَ طَاهِرٌ فِيْ غَيْرِ جِمَاعٍ فَإِذَا حَاضَتْ وَطَهُرَتْ طَلَّقَهَا أُخْرٰی فَإِذَا حَاضَتْ وَطَهُرَتْ طَلَّقَهَا أُخْرٰی ثُمَّ تَعْتَدُّ بَعْدَ ذٰلِكَ بِحَيْضَةٍ] [نسائي، الطلاق، باب طلاق السنۃ: ۳۴۲۳] عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: طلاق سنت یہ ہے کہ عورت کو طہر کی حالت میں جماع کے بغیر ایک طلاق دے، پھر جب اسے حیض آئے اور وہ پاک ہو تو اسے دوسری طلاق دے، پھر جب اسے حیض آئے اور وہ پاک ہو تو اسے تیسری طلاق دے، پھر اس کے بعد ایک حیض عدت گزارے۔ مگر اس روایت میں طلاقِ سنت کی جو تفصیل آئی ہے درست نہیں، کیونکہ یہ قرآن کی آیت کے خلاف ہے اور خود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے طلاق کا طریقہ آیت کے مطابق اس سند سے بہتر سند کے ساتھ ثابت ہے۔ ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [حَدَّثَنَا وَكِيْعٌ، عَنْ إِسْرَائِيْلَ، عَنْ أَبِيْ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ مَنْ أَرَادَ الطَّلاَقَ الَّذِيْ هُوَ الطَّلاَقُ فَلْيُطَلِّقْهَا تَطْلِيْقَةً، ثُمَّ يَدَعُهَا حَتّٰی تَحِيْضَ ثَلاَثَ حِيَضٍ] [مصنف ابن أبي شیبۃ، الطلاق، باب ما یستحب من طلاق السنۃ: 4/5، ح: ۱۸۰۳۶] عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص طلاق دینا چاہے، جو اصل طلاق ہے، وہ عورت کو ایک طلاق دے، پھر اسے اس کے حال پر چھوڑ دے یہاں تک کہ اسے تین حیض آ جائیں۔
واضح رہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی دونوں روایتوں کی سند ابو اسحاق سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تک ایک ہی ہے، پھر نسائی کی روایت میں ابو اسحاق سے بیان کرنے والے اعمش ہیں جو مشہور مدلس ہیں، جب کہ ابن ابی شیبہ کی سند میں ابو اسحاق سے بیان کرنے والے ان کے پوتے اسرائیل بن یونس بن اسحاق ہیں جن کے متعلق ابو حاتم نے فرمایا: {هُوَ مِنْ أَتْقَنِ أَصْحَابِ أَبِيْ إِسْحَاقَ} وہ ابو اسحاق کے سب سے پختہ شاگردوں میں سے ہیں۔ یاد رہے کہ اسرائیل پر تدلیس کی تہمت بھی نہیں، اس لیے انھی کی روایت معتبر ہوگی۔ نسائی میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے طلاقِ سنت کی جو تعریف اعمش نے روایت کی ہے وہ صحیح نہیں۔
➍ { وَ اَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ:} یعنی جب رجوع کا ارادہ کرو تو دو صاحب عدل آدمی گواہ بنا لو، تاکہ بعد میں کسی قسم کے جھگڑے کا یا گناہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ باقی نہ رہے۔ مثلاً اگر خاوند نے رجوع کر لیا ہو مگر گواہ نہ بنائے ہوں اور فوت ہو جائے تو اس کے وارث اس کی بیوی کو اس کی میراث سے یہ کہہ کر محروم کر سکتے ہیں کہ تمھیں تو طلاق ہو چکی تھی اور رجوع کا کوئی گواہ نہیں، اس لیے تم نہ اس کی بیوی رہی ہو اور نہ میراث میں تمھارا حق ہے۔ اسی طرح اگر خاوند گواہوں کے بغیر رجوع کر لے اور عورت اللہ سے نہ ڈرتی ہو اور کہیں اور نکاح کرنا چاہتی ہو تو عدت ختم ہونے پر کہہ سکتی ہے کہ خاوند نے مجھ سے رجوع نہیں کیا، اب میں آزاد ہوں اور جہاں چاہوں نکاح کروں۔ اسی طرح اگر گواہی کی شرط نہ ہو تو عدت ختم ہونے کے بعد بھی خاوند دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں نے عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لیا تھا۔ رجوع کی طرح عدت کے خاتمے پر ایک دوسرے سے علیحدگی کی صورت میں بھی گواہ بنانے کا حکم ہے، تاکہ اس طرح کی قباحتوں میں سے کوئی قباحت پیدا نہ ہو جن کا اوپر ذکر ہوا۔
واضح رہے کہ سنت یہی ہے کہ طلاق اور رجوع دونوں پر گواہ بنائے جائیں، مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں: [أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يَقَعُ بِهَا وَلَمْ يُشْهِدْ عَلٰی طَلاَقِهَا وَلاَ عَلٰی رَجْعَتِهَا فَقَالَ طَلَّقْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ وَرَاجَعْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ أَشْهِدْ عَلٰی طَلاَقِهَا وَعَلٰی رَجْعَتِهَا وَلاَ تَعُدْ] [أبو داوٗد، الطلاق، باب الرجل یراجع ولایشھد: ۲۱۸۶] عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے پھر اس سے جماع کر لیتا ہے، لیکن نہ اس نے اس کی طلاق پر کوئی گواہ بنایا ہے اور نہ اس کے رجوع پر؟ تو انھوں نے فرمایا: تم نے سنت کے خلاف طلاق دی اور سنت کے خلاف ہی رجوع کیا۔ اس کی طلاق پر گواہ بناؤ اور اس کے رجوع پر بھی گواہ بناؤ اور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔
➎ { وَ اَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ:} یہ گواہوں کو حکم ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے شہادت دو۔ یہ حکم اس لیے دیا کہ گواہی دینے میں آدمی کو کئی مشکلات درپیش ہوتی ہیں، اسے اپنے نہایت اہم کام ترک کرنا پڑتے ہیں، حاکم کے پاس حاضری دینا پڑتی ہے اور بعض اوقات دور دراز سے آنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی لوگوں کی ناراضی کا خطرہ مول لینا پڑتا ہے اور کئی اور موانع بھی ہوتے ہیں، صرف اللہ کی رضا ایسی چیز ہے جس کی خاطر آدمی ہر مشقت برداشت کرتے ہوئے شہادت دیتا ہے اور سچی شہادت دیتا ہے۔
➏ { ذٰلِكُمْ يُوْعَظُ بِهٖ …:} بعض حضرات نے یہاں یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ اوپر طلاق کا وقت مقرر کرنے یا اس کا شمار کرنے، عدت کے دوران گھر سے نہ نکالنے، عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لینے یا علیحدگی اختیار کرنے اور گواہ بنانے کے جو احکام دیے گئے ہیں ان کی حیثیت وعظ و نصیحت کی ہے، قانون کی نہیں۔ ان حضرات کی یہ بات درست نہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ احکام بھی قانون کی حیثیت رکھتے ہیں، طلاق یا رجوع یا جو بھی عمل ان کے خلاف ہوگا اس کا کچھ اعتبار نہیں، مثلاً کوئی شخص عدت کا شمار ہی نہیں کرتا تو اس کا رجوع یا فراق کیسے معتبر ہو سکتا ہے؟ ہاں اگر کسی دوسری دلیل سے ثابت ہو جائے کہ ان میں سے فلاں حکم استحباب کے لیے ہے تو الگ بات ہے۔ قرآن مجید کی اصطلاح میں وعظ کا لفظ نہایت تاکید والے احکام کے لیے آتا ہے، جن کے قانون ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں۔ دیکھیے سورۂ مجادلہ (۳)، بقرہ (۲۳۱)، نحل (۹۰) اور نور (۱۷)۔
➐ { وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا:} میاں بیوی کے باہمی معاملات کو ان کے سوا یا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اگر ان میں سے کوئی ظلم، زیادتی یا خیانت کے بعد غلط بیانی پر اتر آئے تو دنیا میں اسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا، صرف اللہ تعالیٰ کا ڈر ہی ایسی چیز ہے جو انھیں ہر قسم کے گناہ سے باز رکھ سکتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر معاملے کی طرح نکاح و طلاق کے معاملے میں بھی اپنے تقویٰ کی تاکید فرمائی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کے موقع پر جو تین آیات پڑھتے تھے ان تینوں میں تقویٰ کی تاکید فرمائی ہے۔ یہاں اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ گھریلو جھگڑوں میں آدمی اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنے کے لیے غلط کام یا غلط بات کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس طرح میرے مسائل حل ہو جائیں گے اور اگر میں اللہ سے ڈر کر صحیح کام کروں گا یا صحیح بات کروں گا تو پھنس جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آسان یا مشکل ہر موقع پر تم اللہ سے ڈرتے رہو اور وہی کام کرو جو اس کے تقویٰ کا تقاضا ہے۔ پھنسنے سے مت گھبراؤ، جو بھی اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دے گا اور تقویٰ اختیار کرنے میں اگر کوئی نقصان ہوتا ہے، بیوی ساتھ نہیں رہتی یا مال کا نقصان ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی تلافی کے لیے اس سے بھی بہتر چیز وہاں سے دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوگا۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے بگڑے ہوئے معاملات کو درست کرنے کے لیے چالاکی اختیار کرنے اور جھوٹ فریب سے اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنے کے بجائے اللہ سے ڈرنے اور سیدھی اور صاف بات کہنے کا حکم دیا اور اس پر تمام بگڑے ہوئے معاملات کو درست کر دینے اور گزشتہ غلطیوں پر پردہ ڈال دینے کا وعدہ کیا، فرمایا: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا (70) يُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيْمًا» ‏‏‏‏ [الأحزاب: 71،10] اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور بالکل سیدھی بات کہو۔ وہ تمھارے لیے تمھارے اعمال درست کر دے گا اور تمھارے لیے تمھارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے تو یقینا اس نے کامیابی حاصل کرلی، بہت بڑی کامیابی۔
➑ { وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا (2) وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ } کی جو تفسیر اوپر کی گئی ہے وہ اس مقام کی مناسبت سے ہے، ورنہ آیت کے الفاظ عام ہیں۔ اس لیے صرف نکاح و طلاق ہی نہیں، کسی مسئلے میں بھی جو شخص اللہ سے ڈرے گا اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی اس کی نافرمانی سے بچے گا اللہ تعالیٰ جلدی یا دیر سے اس کے لیے نکلنے کا راستہ ضرور نکال دے گا اور اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا۔ اسی طرح جو اللہ سے ڈرتا رہے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا کے غم، آخرت کی فکر اور موت اور قیامت کی سختیوں سے نکلنے کا راستہ بھی بنا دے گا۔
➒ ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کے حوالے سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: [إِنَّ أَجْمَعَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ: «‏‏‏‏اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ» [النحل: ۹۰] وَإِنَّ أَكْبَرَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ فَرَجًا: «‏‏‏‏وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا» ‏‏‏‏ [الطلاق: ۲]] قرآن کی سب سے جامع آیت { اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ } ہے اور قرآن کی مشکل سے نکلنے کی سب سے بڑی آیت { وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا } ہے۔ ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا کہ اس کی سند جید ہے۔
➓ واضح رہے کہ اس مقام پر ابن کثیر نے مالک بن اشجعی رضی اللہ عنہ کے بیٹے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کیا ہے جو دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا اور انھوں نے اسے باندھ رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی طرف پیغام بھیجو کہ وہ {لاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللّٰهِ} کثرت سے پڑھے، جس کے نتیجے میں اس کی ہتھکڑیاں گر گئیں اور وہ دشمن کے اونٹ سمیٹ کر خیریت سے واپس آگیا۔ اس پر یہ آیت اتری: «‏‏‏‏وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا (2) وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور قدرت کے لحاظ سے ایسا ہونا کچھ مشکل نہیں، مگر تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے لکھا ہے کہ اس کی سب سندیں مرسل یا منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

2۔ 1 مطلقہ مد خولہ کی عدت تین حیض ہے۔ اگر رجوع کرنا مقصود ہو تو عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے رجوع کرلو۔ بصورت دیگر انہیں معروف کے مطابق اپنے سے جدا کردو۔ 2۔ 2 اس رجعت اور بعض کے نزدیک طلاق پر گواہ کرلو۔ یہ امر وجوب کے لئے نہیں، استحباب کے لئے ہے، یعنی گواہ بنا لینا بہتر ہے تاہم ضروری نہیں۔ 2۔ 3 یہ تاکید گواہوں کو ہے کہ وہ کسی کی رعایت اور لالچ کے بغیر صحیح صحیح گواہی دیں۔ 2۔ 4 یعنی شدائد اور آزمائشوں سے نکلنے کی سبیل پیدا فرما دیتا ہے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ پھر جب وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو پھر انہیں یا تو بھلے طریقے سے [7] (اپنے نکاح میں) روکے رکھو یا پھر بھلے طریقے سے انہیں چھوڑ دو اور اپنے میں سے دو صاحب عدل [8] گواہ بنا لو۔ اور (اے گواہو!)! اللہ کے لئے شہادت ٹھیک ٹھیک [9] ادا کرو۔ یہی بات ہے جس کی اس شخص کو نصیحت [10] کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کی کوئی راہ پیدا [11] کر دے گا۔
[7] دور جاہلیت میں طلاق کے سلسلہ میں عورتوں کی حالت زار :۔
یعنی تمہارے ہی گھر میں تمہاری مطلقہ بیوی کی عدت ختم ہونے کو آئے، تو تمہارے سامنے دو راستے ہیں ایک یہ کہ بہرحال تم انہیں چھوڑنا ہی چاہتے ہو ایسی صورت میں ان کے سب حقوق انہیں ادا کرو اور علاوہ ازیں ان سے فیاضانہ سلوک کرتے ہوئے کچھ مزید بھی اپنی استطاعت کے مطابق دے دو۔ جاتے جاتے اس پر کوئی الزام تراشی نہ کرو نہ اسے کسی طرح کا دکھ پہنچاؤ۔ بلکہ اپنی زندگی کے ساتھی کو شکر رنجیوں کے باوجود بھلے مانسوں اور شریفوں کی طرح رخصت کرو۔ اور اگر تم انہیں اپنے گھر میں ہی آباد رکھنا چاہتے ہو تو رجوع کر لو۔ اور اس معاملہ میں تمہاری نیت بخیر اور اس عورت کو فی الواقع آباد رکھنے کی ہونی چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ اپنی بیوی کو مزید سزائیں دینے کی خاطر اس سے رجوع کر کے اپنے ہاں روکے رکھو۔ یہ حکم دے کر اللہ تعالیٰ نے عورتوں پر ان بے پناہ مظالم کا خاتمہ کر دیا جو دور جاہلیت میں ان پر ڈھائے جاتے تھے۔ عورتوں کی اس دردناک کیفیت کو امام ترمذی نے یوں بیان فرمایا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرد جتنی بھی طلاقیں چاہتا اپنی بیویوں کو دیئے جاتا اور عدت کے اندر پھر رجوع کر لیتا۔ اگرچہ وہ مرد سو بار یا اس سے بھی زیادہ طلاقیں دیتا جائے۔ یہاں تک کہ ایک (انصاری) مرد نے اپنی بیوی سے کہا: اللہ کی قسم! میں نہ تو تجھے طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہو سکے اور نہ ہی میں بساؤں گا۔ اس عورت نے پوچھا وہ کیسے؟ کہنے لگا:”میں تجھے طلاق دوں گا اور جب تیری عدت گزرنے کے قریب ہو گی تو رجوع کر لوں گا“ یہ سن کر وہ عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور اپنا یہ دکھڑا سنایا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خاموش رہیں تاآنکہ رسول اللہ تشریف لائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو یہ ماجرا سنایا تو آپ بھی خاموش رہے تاآنکہ قرآن (کی یہ آیت) نازل ہوئی۔ ”طلاق صرف دو بار ہے پھر یا تو ان عورتوں کو بھلے مانسوں کی طرح اپنے پاس رکھو یا پھر اچھی طرح سے رخصت کر دو“ [ترمذی۔ ابو اب الطلاق واللعان۔ باب بلا عنوان]
[8] رجوع و طلاق پر گواہ بنانے کا فائدہ :۔
یعنی اگر رجوع کر کے اسے اپنے پاس رکھ لیا ہے تو بھی دو معتبر گواہ بنا لے تاکہ بعد میں زوجین متہم نہ ہوں۔ اور اگر رخصت کرنا ہے تو بھی گواہ بنا لو۔ واضح رہے کہ یہ گواہی رجوع اور طلاق کے لیے شرط نہیں کہ اگر گواہ نہ بنائے جائیں تو رجوع اور طلاق غیر موثر ہوتے ہیں اور واقع نہیں ہوتے۔ بلکہ یہ حکم اس احتیاط کے لیے دیا گیا ہے کہ بعد میں کوئی فریق کسی واقعہ کا انکار نہ کر دے اور نزاع پیدا ہونے کی صورت میں بآسانی فیصلہ ہو سکے اور شکوک و شبہات کا دروازہ بھی بند ہو جائے۔
[9] یعنی اگر رخصتی یا رجوع کے بعد فریقین میں کسی بات میں نزاع پیدا ہو جائے تو گواہ جانبداری سے ہرگز کام نہ لیں نہ گول مول بات کریں نہ ہیرا پھیری سے کام لیں بلکہ صاف اور سیدھی سچی گواہی دیں۔
[10] طلاق سے متعلق اخلاقی ہدایات :۔
یعنی یہ ہدایات تمہاری ہی خیرخواہی کے لئے ہیں اور بطور پند و نصیحت ہیں۔ ان کی حیثیت قانونی نہیں ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص اپنی عورت کو حالت حیض میں یا اس طہر میں جس میں اس نے صحبت کی ہو طلاق دے دے گا تو اگرچہ اس نے خلاف سنت اور گناہ کا کام کیا تاہم طلاق واقع ہو جائے گی اسی طرح اگر اس نے ستانے کی خاطر ہی رجوع کیا ہو تو یہ بھی رجوع قانوناً تسلیم کیا جائے گا۔ یا عورت کو رخصت کرتے وقت حسن سلوک کے بجائے دھکے مار کر نکال دیا ہو تب بھی طلاق کے واقع ہونے میں کوئی شک نہ رہے گا۔ یہ ہدایات تو اس شخص کے لئے ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا اور اللہ سے ڈرتا ہو۔ وہ ان پر اس لئے عمل کرے گا کہ یہ اس کے ایمان کا تقاضا ہے۔ اور اس لئے بھی کہ ان احکام کی نافرمانی کرنے پر آخرت میں اس سے باز پرس بھی ہو گی اور گرفت بھی۔
[11] گھریلو مسائل اور بالخصوص میاں بیوی کے تعلقات بعض دفعہ ایسی پیچیدہ صورت اختیار کر جاتے ہیں کہ انسان انہیں جس قدر حل کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اور زیادہ پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں اور الجھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ ایسے پریشان کن حالات میں انسان کا طرز عمل یہ ہونا چاہئے کہ جو کام بھی کرے اللہ سے ڈر کر کرے۔ اگر واضح احکام موجود ہیں تو ان پر عمل کرے اور اگر واضح احکام نہیں ملتے تو بھی اللہ کے ڈر کو ہی مشعل راہ بنائے اور اللہ کی منشا معلوم کرنے کی کوشش کرنے کے بعد اس پر عمل کرے اور انجام اللہ کے سپرد کر دے۔ آگے ان پیچیدہ حالات سے نکالنا اور ان سے نجات دینا اللہ کا کام ہے۔ وہ خود کوئی راہ اسے سمجھا دے گا یا نئی راہ پیدا کر دے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عائلی قوانین ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ’ عدت والی عورتوں کی عدت جب پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو ان کے خاوندوں کو چاہیئے کہ دو باتوں میں سے ایک کر لیں یا تو انہیں بھلائی اور سلوک کے ساتھ اپنے ہی نکاح میں روک رکھیں یعنی طلاق جو دی تھی اس سے رجوع کر کے باقاعدہ اس کے ساتھ بود و باش رکھیں یا انہیں طلاق دے دیں، لیکن برا بھلا کہے بغیر، گالی گلوچ دیئے بغیر، سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ بغیر، بھلائی اچھائی اور خوبصورتی کے ساتھ ‘۔ (‏‏‏‏یہ یاد رہے کہ رجعت کا اختیار اس وقت ہے جب ایک طلاق ہوئی ہو یا دو ہوئی ہوں)۔
پھر فرمایا ہے ’ اگر رجعت کا ارادہ ہو اور رجعت کرو، یعنی لوٹا لو تو اس پر دو عادل مسلمان گواہ رکھ لو ‘۔
ابوداؤد اور اور ابن ماجہ میں ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے پھر اس سے جماع کرتا ہے نہ طلاق پر گواہ رکھتا ہے نہ رجعت پر تو آپ نے فرمایا اس نے خلاف سنت طلاق دی اور خلاف سنت رجوع کیا، طلاق پر بھی گواہ رکھنا چاہیئے اور رجعت پر بھی، اب دوبارہ ایسا نہ کرنا۔‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ابوداود:2186،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
عطاء رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں نکاح، رجعت بغیر دو عادل گواہوں کے جائز نہیں، جیسے فرمان اللہ ہے ہاں مجبوی ہو تو اور بات ہے۔‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے ’ گواہ مقرر کرنے اور سچی شہادت دینے کا حکم انہیں ہو رہا ہے، جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، اللہ کی شریعت کے پابند اور عذاب آخرت سے ڈرنے والے ہوں ‘۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں رجعت پر گواہ رکھنا واجب ہے، گو آپ رحمہ اللہ سے ایک دوسرا قول بھی مروی ہے، اسی طرح نکاح پر گواہ رکھنا بھی آپ واجب بتاتے ہیں۔ ایک اور جماعت کا بھی یہی قول ہے، اس مسئلہ کو ماننے والی علماء کرام کی جماعت یہ بھی کہتی ہے کہ رجعت زبانی کہے بغیر ثابت نہیں ہوتی کیونکہ گواہ رکھنا ضروری ہے اور جب تک زبان سے نہ کہے گواہ کیسے مقرر کئے جائیں گے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ جو شخص احکام اللہ بجا لائے اس کی حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے مخلصی پیدا کر دیتا ہے ایک اور جگہ ہے اس طرح رزق پہنچاتا ہے کہ اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو ‘۔
مسند احمد میں ہے { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اے ابوذر! اگر تمام لوگ صرف اسے ہی لے لیں تو کافی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باربار اس کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ مجھے اونگھ آنے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! تم کیا کرو گے جب تمہیں مدینہ سے نکال دیا جائے گا؟ جواب دیا کہ میں اور کشادگی اور رحمت کی طرف چلا جاؤں گا، یعنی مکہ شریف کو، وہیں کا کبوتر بن کر رہ جاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کیا کرو گے، جب تمہیں وہاں سے بھی نکالا جائے؟ میں نے کہا: شام کی پاک زمین میں چلا جاؤ گا۔ فرمایا: جب شام سے نکالا جائے گا تو کیا کرے گا؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ پیغمبر بنا کر بھیجا ہے پھر تو اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ کر مقابلہ پر اتر آؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تجھے اس سے بہتر ترکیب بتاؤں؟ میں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ضرور ارشاد فرمائیے، فرمایا: سنتا رہ اور مانتا رہ اگرچہ حبشی غلام ہو۱؎ [سنن ابن ماجه:4220،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں بہت ہی جامع آیت «‏‏‏‏إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ» ۱؎ [16-النحل:90]‏‏‏‏ ہے اور سب سے زیادہ کشادگی کا وعدہ اس آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا» ۱؎ [65-الطلاق:2]‏‏‏‏، میں ہے۔‏‏‏‏
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جو شخص بکثرت استغفار کرتا رہے، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے فراخی دے گا اور ایسی جگہ سے رزق پہنچائے گا جہاں کا اسے خیال و گمان تک نہ ہو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1518،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کے ہر کرب و بے چینی سے نجات دے گا۔‏‏‏‏ ربیع رحمہ الله فرماتے ہیں لوگوں پر کام بھاری ہو اس پر آسان ہو جائے گا۔‏‏‏‏ عکرمہ رحمہ الله فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دے گا اللہ اسے نکاسی اور نجات دے گا۔‏‏‏‏
ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اللہ اگر چاہے دے اگر نہ چاہے نہ دے۔‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام امور کے شبہ سے اور موت کی تکلیف سے بچا لے گا اور روزی ایسی جگہ سے دے گا جہاں کا گمان بھی نہ ہو۔‏‏‏‏ سدی رحمہ الله فرماتے ہیں یہاں اللہ سے ڈرنے کے یہ معنی ہیں کہ سنت کے مطابق طلاق دے اور سنت کے مطاق رجوع کرے۔‏‏‏‏
آپ فرماتے ہیں عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو کفار گرفتار کر کے لے گئے اور انہیں جیل خانہ میں ڈال دیا ان کے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکثر آتے اور اپنے بیٹے کی حالت اور حاجت مصیبت اور تکلیف بیان کرتے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صبر کرنے کی تلقین کرتے اور فرماتے عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے چھٹکارے کی سبیل بنا دے گا، تھوڑے ہی دن گزرے ہوں گے کہ ان کے بیٹے دشمنوں میں سے نکل بھاگے، راستہ میں دشمنوں کی بکریوں کا ریوڑ مل گیا جسے اپنے ساتھ ہنکا لائے اور بکریاں لیے ہوئے اپنے والد کی خدمت میں جا پہنچے پس یہ آیت اتری کہ ’ متقی بندوں کو اللہ نجات دے دیتا ہے اور اس کا گمان بھی نہ ہو وہاں سے اسے روزی پہنچاتا ہے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34287]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گناہ کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم ہو جاتا ہے، تقدیر کو لوٹانے والی چیز صرف دعا ہے، عمر میں زیادتی کرنے والی چیز صرف نیکی اور خوش سلوکی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة]‏‏‏‏
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ { سیدنا مالک بن اشجعی رضی اللہ عنہ کے لڑکے عوف رضی اللہ عنہ جب کافروں کی قید میں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان سے کہلوا دو کہ بکثرت «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاِ» پڑھتا رہے، ایک دن اچانک بیٹھے بیٹھے ان کی قید کھل گئی اور یہ وہاں سے نکل بھاگے اور ان لوگوں کی ایک اونٹنی ہاتھ لگ گئی جس پر سوار ہو لیے راستے میں ان کے اونٹوں کے ریوڑ ملے انہیں بھی اپنے ساتھ ہنکا لائے، وہ لوگ پیچھے دوڑے لیکن یہ کسی کے ہاتھ نہ لگے، سیدھے اپنے گھر آئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر آواز دی، باپ نے آواز سن کر فرمایا: اللہ کی قسم! یہ تو عوف ہے، ماں نے کہا: ہائے، وہ کہاں، وہ تو قید و بند کی مصیبتیں جھیل رہا ہو گا۔
اب دونوں ماں باپ اور خادم دروازے کی طرف دوڑے، دروازہ کھولا تو ان کے لڑکے عوف رضی اللہ عنہ ہیں اور تمام انگنائی اونٹوں سے بھری پڑی ہے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسے ہیں، انہوں نے واقعہ بیان فرمایا کہا اچھا ٹھہرو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بابت مسئلہ دریافت کر آؤں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سب تمہارا مال ہے، جو چاہو کرو اور یہ آیت اتری کہ اللہ سے ڈرنے والوں کی مشکل اللہ آسان کرتا ہے اور بےگمان روزی پہنچاتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34288:مرسل]‏‏‏‏
جو اللہ کا، اللہ اس کا ٭٭
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { جو شخص ہر طرف سے کھچ کر اللہ کا ہو جائے، اللہ اس کی ہر مشکل میں اسے کفایت کرتا ہے اور بے گمان روزیاں دیتا ہے اور جو اللہ سے ہٹ کر دنیا ہی کا ہو جائے اللہ بھی اسے اسی کے حوالے کر دیتا ہے }۔ ۱؎ [طبرانی صغیر:321:ضعیف]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ { ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے! میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں سنو، تم اللہ کو یاد رکھو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ کے احکام کی حفاظت کرو تو اللہ کو اپنے پاس بلکہ اپنے سامنے پاؤ گے، جب کچھ مانگنا ہو اللہ ہی سے مانگو، جب مدد طلب کرنی ہو اسی سے مدد چاہو۔ تمام امت مل کر تمہیں نفع پہنچانا چاہے اور اللہ کو منظور نہ ہو تو ذرا سا بھی نفع نہیں پہنچا سکتی اور اسی طرح سارے کے سارے جمع ہو کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو بھی نہیں پہنچا سکتے اگر تقدیر میں نہ لکھا ہو، قلمیں اٹھ چکیں اور صحیفے خشک ہو گئے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2516،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔
مسند احمد کی اور حدیث میں ہے { جسے کوئی حاجت ہو اور وہ لوگوں کی طرف لے جائے تو بہت ممکن ہے کہ وہ سختی میں پڑ جائے اور کام مشکل ہو جائے اور جو اپنی حاجت اللہ کی طرف لے جائے اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مراد پوری کرتا ہے یا تو جلدی اسی دنیا میں ہی یا دیر کے ساتھ موت کے بعد }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1645،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ اپنے قضاء اور احکام جس طرح اور جیسے چاہے اپنی مخلوق میں پورے کرنے والا اور اچھی طرح جاری کرنے والا ہے، ہر چیز کا اس نے اندازہ مقرر کیا ہوا ہے ‘۔
جیسے اور جگہ ہے «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ» ۱؎ [13-الرعد:8]‏‏‏‏ ’ ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے ‘۔