ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطلاق (65) — آیت 12

اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَہُنَّ ؕ یَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَیۡنَہُنَّ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ۬ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ قَدۡ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عِلۡمًا ﴿٪۱۲﴾
اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مانند ۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ اللہ نے یقینا ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔ En
خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ایسی ہی زمینیں۔ ان میں (خدا کے) حکم اُترتے رہتے ہیں تاکہ تم لوگ جان لو کہ خدا چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ خدا اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے
En
اللہ وه ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی۔ اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12) ➊ { اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ …:} سورت کے آخر میں اس کے اندر مذکور احکام کی عظمت کی طرف توجہ دلانے کے لیے آسمان و زمین کی پیدائش، ان میں اپنے اوامر کے نزول اور اپنے علم و قدرت کا ذکر فرمایا، تاکہ یہ بات مد نظر رہے کہ یہ احکام دینے والا کون ہے۔ بارہ (۱۲) آیات پر مشتمل اس سورت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کے تقویٰ کے ساتھ شروع ہوا ہے جو اس کے نام، اس کی ضمیر اور اس کی طرف نسبت کی صورت میں تقریباً تیس (۳۰) مرتبہ آیا ہے اور آخر میں پھر اس عظیم ہستی کا تعارف ان صفات کے ساتھ دہرایا ہے۔ (ابن عاشور)
➋ {خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ:} سات آسمانوں کی کیفیت تو اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمائی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے اوپر تہ بہ تہ ہیں، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا» ‏‏‏‏ [نوح: ۱۵] کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کس طرح اللہ نے سات آسمانوں کو اوپر تلے پیدا کیا۔
➌ { وَ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ:} قرآن مجید میں آسمان کا ذکر واحد کے صیغے { السَّمَاۤءُ } کے ساتھ بھی آیا ہے اور جمع کے صیغے { سَمٰوٰتٍ } کے ساتھ بھی، مگر زمین کا ذکر واحد کے صیغے کے ساتھ ہی آیا ہے، آسمانوں کی طرح اوپر تلے سات زمینیں ہونے کا ذکر نہیں فرمایا۔ یہاں فرمایا اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مثل یعنی مانند۔ مانند ہونے کا ایک مطلب تو یہ ہو سکتا ہے کہ زمین بھی اپنی عظمت، برکت، آبادی اور کُرویت (گول ہونے) میں آسمانوں کی طرح ہے۔ دوسرا مطلب جو اکثر مفسرین نے مراد لیا ہے، یہ ہے کہ سات آسمانوں کی طرح زمینیں بھی اوپر تلے سات ہیں۔ اس کی دلیل میں وہ صحیح حدیث پیش کی ہے جو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے بیان فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلٰي سَبْعِ أَرَضِيْنَ] [بخاري، المظالم، باب إثم من ظلم شیئا من الأرض: ۲۴۵۴] جو شخص زمین میں سے کچھ بھی اس کے حق کے بغیر لے گا اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔ حدیث میں مذکور سات زمینوں سے مراد تو ظاہر ہے کہ اسی زمین کے سات طبقات ہیں جس پر ہم رہتے ہیں، لیکن کیا آیت میں مذکور سات زمینوں سے بھی یہی طبقات مراد ہیں یا ہماری زمین جیسی اور چھ زمینیں ہیں، یہ بات اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ کائنات کی بے پناہ وسعتوں کو دیکھیں تو کچھ بعید نہیں کہ ہماری زمین جیسی اور زمینیں بھی ہوں جو ہماری زمین ہی کی طرح آباد ہوں، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ھُوَ» ‏‏‏‏ [المدثر: ۳۱] اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اکیلے ہی آسمان و زمین کو پیدا فرمایا، کوئی اس وقت موجود نہ تھا کہ ان کے اسرار سے پوری طرح واقف ہو، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ» [الکھف: ۵۱] میں نے انھیں آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں حاضر نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایجاد کا جو سلیقہ عطا فرمایا ہے جس سے بڑی بڑی طاقتور دوربینیں ایجاد ہوئی ہیں، ہیئت دان ان کے ساتھ کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہر دن نئے سے نیا انکشاف ہوتا ہے۔ ہمارے لیے اتنی بات ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات پیدا فرمائی ہیں۔ رہی ان کی کیفیت اور متعین مراد، تو وہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اس نے اسے مجمل رکھا ہے تو اس میں ہماری بہتری ہے، کیونکہ اگر اس کی واقعی کیفیت بیان ہوتی تو اپنی ذہنی نارسائی کی وجہ سے ممکن تھا کہ کئی لوگ انکار ہی کر دیتے۔
➍ {يَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ:} اللہ تعالیٰ کا امر دو قسم کا ہے، ایک امر کونی ہے، یعنی وہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے { كُنْ} (ہو جا) کہتا ہے تو وہ ہوجاتی ہے اور ایک امر شرعی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے سے اپنے احکام نازل فرماتا رہتا ہے، یعنی آسمانوں اور زمینوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کے اوامر کونی اور اوامر شرعی اترتے رہتے ہیں۔ اس میں بھی اس سورت میں مذکور احکام کی اہمیت کا اظہار ہو رہا ہے کہ وہ ان عظیم الشان آسمانوں اور زمینوں کے خالق و مالک کے احکام ہیں۔
➎ { لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا:} یعنی زمین و آسمان کی پیدائش کی یہ بات تمھیں اس لیے بتائی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی ہر چیز پر پوری قدرت کو اور اس کے ہر چیز پر علم کے ساتھ احاطے کو جان لو۔ پھر جب تم اس کی قدرت اور علم سے واقف ہو جاؤ گے تو اس کے احکام کی نافرمانی کی جرأت نہیں کرو گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 ای خلق من الارض مثلھن۔ یعنی سات آسمانوں کی طرح، اللہ نے سات زمینیں بھی پیدا کی ہیں۔ بعض نے اس سے سات اقالیم مراد لیے ہیں، لیکن یہ صحیح نہیں۔ بلکہ جس طرح اوپر نیچے سات آسمان ہیں۔ اسی طرح سات زمینیں ہیں، جن کے درمیان بعد و مسافت ہے اور ہر زمین میں اللہ کی مخلوق آباد ہے۔ (القرطبی) احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا من اخذ شبرا من الارض ظلاما فانہ یطوقہ یوم القیامۃ من سبع ارضین (صحیح مسلم) جس نے کسی کی ایک بالشت زمین بھی ہتھیالی تو قیامت والے دن اس زمین کا اتنا حصہ ساتوں زمینوں سے طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح بخاری) اور صحیح بخاری کے الفاظ ہیں خسف بہ الی سبع ارضین یعنی اس کو ساتوں زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر زمین میں اسی طرح کا پیغمبر ہے جس طرح کا پیغمبر تمہاری زمین پر آیا مثلاً آدم آدم کی طرح، نوح نوح کی طرح، ابراہیم ابراہیم کی طرح، عیسیٰ عیسیٰ کی طرح۔ لیکن یہ بات کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں۔ 12۔ 2 یعنی جس طرح ہر آسمان پر اللہ کا حکم نافذ اور غالب ہے، اسی طرح ہر زمین پر اس کا حکم چلتا ہے، آسمانوں کی طرح ساتوں زمینوں کی بھی وہ تدبیر فرماتا ہے۔ 12۔ 3 پس اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں، چاہے وہ کیسی ہی ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے انہی کے مانند [27]۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا رہتا [28] ہے۔ تاکہ تم جان لو کہ اللہ یقیناً ہر چیز پر قادر ہے، اور یہ کہ اللہ نے علم سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔
[27] سات زمینوں کے مختلف مفہوم :۔
اس جملہ کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں۔ لغوی مفہوم یہ ہے کہ سماء اور ارض دونوں اسمائے نسبیہ سے ہیں۔ سماء یعنی بلندی ہے اور ارض بمعنی پستی۔ اس لحاظ سے ہم ہر بلندی کے مقابلہ میں پستی کو ارض کہہ سکتے ہیں اور ہر پستی کے مقابلہ میں بلندی کو سماء کہہ سکتے ہیں۔ گویا ہماری زمین پہلے آسمان کے مقابلہ ارض ہے۔ اور پہلا آسمان دوسرے آسمان کے مقابلہ میں ارض ہے۔ علیٰ ہذا القیاس چھٹا آسمان ساتویں آسمان کے مقابلہ میں ارض ہے۔ اس طرح سات آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات بن جاتی ہیں۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس سے ہماری زمین کے ہی سات طبقات یا سات پرت مراد ہوں۔ جنہیں طبقات الارض کہا جاتا ہے۔ اور ان میں سے ہر طبقہ ارض ہے یا اپنے سے اوپر والے طبقہ کے مقابلہ میں ارض ہے اور اس مفہوم کی تائید اس حدیث سے بھی ہو جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:”جو شخص کسی دوسرے کی تھوڑی سی بھی زمین ناحق لے لے تو وہ قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنستا چلا جائے گا“ [بخاری۔ کتاب المظالم۔ باب اثم من ظلم شیأا من الارض]
اور تیسرا مفہوم یہ ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ ہماری ہی زمین جیسی ہی چھ اور زمینیں اس کائنات میں موجود ہوں اور وہاں کسی جاندار مخلوق کی آبادی بھی ہو۔ انسان آج تک کائنات کی وسعت کا اندازہ نہیں کر سکا اور نہ آئندہ کبھی کر سکے گا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان جس قدر جدید اور طاقتور قسم کی دوربینیں ایجاد کر رہا ہے اور رصدگاہیں تیار کر رہا ہے۔ اسے کائنات کے نئے سے نئے گوشے نظر آنے لگے ہیں اور وہ یہ سمجھنے لگا کہ کائنات میں ہر آن وسعت پیدا ہوتی جا رہی ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے: ﴿وَالسَّمَاءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْيدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ یعنی ہم نے آسمان (یہاں آسمان سے مراد فضائے بسیط ہے) کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور ہم اس میں ہر آن توسیع کر رہے ہیں اور اس مفہوم کی تائید میں چند احادیث مل جاتی ہیں۔ اگرچہ وہ ضعیف قسم کی ہیں۔
[28] یعنی عالم کے انتظام و تدبیر کے لئے اللہ کے احکام تکوینیہ اور شرعیہ ان آسمانوں اور زمینوں میں نازل ہوتے رہتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حیرت، افزا شان ذوالجلال ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور اپنی عظیم الشان سلطنت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ مخلوق اس کی عظمت و عزت کا خیال کر کے اس کے فرمان کو قدر کی نگاہ سے دیکھے اور اس پر عامل بن کر اسے خوش کرے، تو فرمایا کہ ’ ساتوں آسمانوں کا خلاق اللہ تعالیٰ ہے ‘، جیسے نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «‏‏‏‏أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّـهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا» ۱؎ [71-نوح:15]‏‏‏‏ ’ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ پاک نے ساتوں آسمانوں کس طرح اوپر تلے پیدا کیا ہے؟ ‘
اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ» ۱؎ [17-الاسراء:44]‏‏‏‏ یعنی ’ ساتوں آسمان اور زمین اور ان میں جو کچھ ہے سب اس اللہ کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ اسی کے مثال زمینیں ہیں ‘۔
جیسے کہ بخاری و مسلم کی صحیح حدیث میں ہے { جو شخص ظلم کر کے کسی کی ایک بالشت بھر زمین لے لے گا اسے ساتوں زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3196]‏‏‏‏
صحیح بخاری میں ہے { اسے ساتویں زمین تک دھنسایا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3196]‏‏‏‏ میں نے اس کی تمام سندیں اور کل الفاظ ابتداء اور انتہا میں زمین کی پیدائش کے ذکر میں بیان کر دیئے ہیں۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ»
جن بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد ہفت اقلیم ہے انہوں نے بے فائدہ دوڑ بھاگ کی ہے اور اختلاف بے جا میں پھنس گئے ہیں اور بلا دلیل قرآن حدیث کا صریح خلاف کیا ہے۔
سورۃ الحدید میں آیت «هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» ۱؎ [57- الحديد:3]‏‏‏‏، کی تفسیر میں ساتوں زمینوں کا اور ان کے درمیان کی دوری کا اور ان کی موٹائی کا جو پانچ سو سال کی ہے پورا بیان ہو چکا ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
ایک اور حدیث میں بھی ہے { ساتوں آسمان اور جو کچھ ان میں اور ان کے درمیان ہے اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان میں اور ان کے درمیان ہے کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہیں جیسے کسی لمبے چوڑے بہت بڑے چٹیل میدان میں ایک چھلا پڑا ہو }۔ ۱؎ [البدایة و والنهایة:14/1]‏‏‏‏
ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اگر میں اس کی تفسیر تمہارے سامنے بیان کروں تو اسے نہ مانو گے اور نہ ماننا جھوٹا جاننا ہے۔‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ کسی شخص نے اس آیت کا مطلب پوچھا تھا اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ میں کیسے باور کر لوں کہ جو میں تجھے بتاؤں گا تو اس کا انکار کرے گا؟
اور روایت میں مروی ہے کہ ہر زمین میں مثل ابراہیم علیہ السلام کے اور اس زمین کی مخلوق کے ہے اور ابن مثنی والی اس روایت میں آیا ہے ہر آسمان میں مثل ابراہیم علیہ السلام کے ہے۔
بیہقی کی کتاب «الْاَسْمَاءُ والصَّفَات» میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ساتوں زمینوں میں سے ہر ایک میں نبی ہے مثل تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آدم ہیں مثل آدم علیہ السلام کے اور نوح ہیں مثل نوح علیہ السلام کے اور ابراہیم ہیں مثل ابراہیم علیہ السلام کے اور عیسیٰ ہیں مثل عیسیٰ علیہ السلام کے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:145/12]‏‏‏‏
پھر امام بیہقی نے ایک اور روایت بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وارد کی ہے اور فرمایا ہے اس کی اسناد صحیح ہے لیکن یہ بالکل شاذ ہے ابوالضحیٰ جو اس کے ایک راوی ہیں میرے علم میں تو ان کی متابعت کوئی نہیں کرتا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
مخلوق خدا میں غور و خوض ٭٭
ایک مرسل اور بہت ہی منکر روایت ابن ابی الدنیا لائے ہیں جس میں مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے مجمع میں تشریف لائے دیکھا کہ سب کسی غور و فکر میں چپ چاپ ہیں، پوچھا: کیا بات ہے؟ جواب ملا، اللہ کی مخلوق کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ فرمایا: ٹھیک ہے مخلوقات پر نظریں دوڑاؤ لیکن کہیں اللہ کی بابت غور و خوض میں نہ پڑ جانا، سنو اس مغرب کی طرف ایک سفید زمین ہے اس کی سفیدی اس کا نور ہے یا فرمایا اس کا نور اس کی سفیدی ہے، سورج کا راستہ چالیس دن کا ہے، وہاں اللہ کی ایک مخلوق ہے جس نے ایک آنکھ جھکپنے کے برابر بھی کبھی اس کی نافرمانی نہیں کی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے کہا: پھر شیطان ان سے کہاں ہیں؟ فرمایا: انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ شیطان پیدا بھی کیا گیا ہے یا نہیں؟ پوچھا: کیا وہ بھی انسان ہیں؟ فرمایا: انہیں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا بھی علم نہیں } [كتابه التفكر والاعتبار:منکر]‏‏‏‏
«فالْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الطلاق کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔