یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوۡہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَ اَحۡصُوا الۡعِدَّۃَ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ رَبَّکُمۡ ۚ لَا تُخۡرِجُوۡہُنَّ مِنۡۢ بُیُوۡتِہِنَّ وَ لَا یَخۡرُجۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّاۡتِیۡنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ؕ وَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰہِ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَہٗ ؕ لَا تَدۡرِیۡ لَعَلَّ اللّٰہَ یُحۡدِثُ بَعۡدَ ذٰلِکَ اَمۡرًا ﴿۱﴾
اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انھیں ان کی عدت کے وقت طلاق دو اور عدت کو گنو اور اللہ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے، نہ تم انھیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ نکلیں مگر یہ کہ کوئی کھلی بے حیائی (عمل میں) لائیں۔ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو یقینا اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ تو نہیں جانتا شاید اللہ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا کر دے۔
En
اے پیغمبر (مسلمانوں سے کہہ دو کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو۔ اور خدا سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرو۔ (نہ تو تم ہی) ان کو (ایام عدت میں) ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں۔ ہاں اگر وہ صریح بےحیائی کریں (تو نکال دینا چاہیئے) اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ جو خدا کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کردے
En
اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں انہیں طلاق دو اور عدت کا حساب رکھو، اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو، نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وه (خود) نکلیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وه کھلی برائی کر بیٹھیں، یہ اللہ کی مقرر کرده حدیں ہیں، جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناً اپنے اوپر ﻇلم کیا، تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
سورۂ تغابن میں بیویوں کے ساتھ رہن سہن میں کشادہ دلی اور عفو و درگزر کے ساتھ مدارات اور گزارا کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، لیکن اگر میاں بیوی کا اختلاف حد سے بڑھ جائے اور گزارے کی کوئی صورت نہ رہے تو اللہ تعالیٰ نے طلاق کی بھی اجازت دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح زنا کو حرام قرار دینا اور نکاح کا حکم دینا اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، کیونکہ اس سے نسب اور نسل کی حفاظت ہوتی ہے اور معاشرے میں فسق و فجور اور قتل و غارت کے بجائے پاکیزگی اور امن و امان کا دور دورہ ہوتا ہے، اسی طرح زوجین میں موافقت نہ رہے تو مرد کو طلاق کی اور عورت کو خلع کی اجازت بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت ہے، جس سے وہ ایسی زندگی سے نکل آتے ہیں جو ہر لمحہ ان کے لیے شدید اذیت کا باعث تھی اور دونوں کو نیا نکاح کر کے آئندہ کے لیے خوشگوار زندگی گزارنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے سے جدا ہونے والے مرد اور عورت میں سے ہر ایک کو اپنی وسعت کے ساتھ غنی کر دینے کا وعدہ فرمایا ہے اور اسے اپنی وسعت و حکمت کا ایک مظہر قرار دیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنْ يَّتَفَرَّقَا يُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ وَ كَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِيْمًا» [النساء: ۱۳۰] ”اور اگر وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنی وسعت سے غنی کر دے گا اور اللہ ہمیشہ سے وسعت والا، کمال حکمت والا ہے۔“ جن اقوام نے طلاق پر پابندی لگائی اور اسے ناجائز قرار دیا ہے یا اس پر نامناسب پابندیاں لگائی ہیں، مثلاً یہ کہ طلاق دینے والا مرد ساری عمر اپنی مطلقہ کے نان و نفقہ کا ذمہ دار ہوگا وغیرہ، انھوں نے ایک دوسرے سے موافقت نہ رکھنے والے میاں بیوی پر شدید ظلم کیا ہے اور ساری عمر ان پر دل کی اس خوشی کا دروازہ بند کر دیا ہے جو میاں بیوی کو نکاح سے حاصل ہوتی ہے۔ کفار کے اس اقدام کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے نکاح کرنا ہی چھوڑ دیا، کیونکہ اس صورت میں وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکیں گے، یا جدا ہوئے تو انھیں ناقابل برداشت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب ان میں کم ہی کوئی نکاح کرتا ہے، مردوں اور عورتوں کی اکثریت نکاح کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ رہ کر حرام اولاد کو جنم دے رہی ہے اور جس کا دوسرے سے دل بھر جاتا ہے وہ اسے چھوڑ کر آگے روانہ ہو جاتا ہے۔
طلاق صرف ایک دوسرے سے جدا ہونے کا ذریعہ نہیں بلکہ میاں بیوی کے بگڑے ہوئے معاملات کو درست کرنے کا آخری ذریعہ بھی ہے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کے مقرر کر دہ طریقے کے مطابق طلاق دی جائے تو عدت کی صورت میں مرد کے پاس رجوع کا اور عورت کے پاس خاوند کو منا لینے کا موقع موجود ہوتا ہے اور تین حیض یا وضع حمل تک ایک گھر میں اکٹھے رہنے کی وجہ سے امید ہوتی ہے کہ جدائی کا باعث بننے والی کشیدگی ختم ہو جائے اور وہ دونوں آپس میں صلح کر لیں۔ سورۂ طلاق کی پہلی آیت {” لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا “} میں یہی بات بیان ہوئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح ہر کام میں ہمارے لیے نمونہ ہیں نکاح و طلاق میں بھی نمونہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح بھی کیے ہیں اور بعض کو طلاق بھی دی ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنت الجون کو {” أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْكَ “} کہنے پر طلاق دے دی۔ [یکھیے بخاري، الطلاق، باب من طلق وھل یواجہ الرجل امرأتہ بالطلاق؟: ۵۲۵۴] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے کر رجوع بھی کیا ہے، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں: [أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا] [أبو داوٗد، الطلاق، باب في المراجعۃ: ۲۲۸۳، وقال الألباني صحیح] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ(رضی اللہ عنھا) کو طلاق دے دی، پھر ان سے رجوع کر لیا۔“
(آیت 1) ➊ {يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ …:} یہاں ایک سوال ہے کہ پہلے {” يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ “} کے ساتھ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کیا، پھر {” اِذَا طَلَّقْتُمْ“} میں جمع کے صیغے کے ساتھ خطاب کیوں کیا گیا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ چونکہ طلاق کے احکام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت دونوں مشترک ہیں، اس لیے آپ کو اور آپ کی امت دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے {” اِذَا طَلَّقْتُمْ“} فرمایا، مگر پہلے خاص طور پر آپ کو خطاب آپ کی تعظیم کے لیے ہے، جیسے کسی قوم کے سردار سے کہا جاتا ہے، اے فلاں! تم ایسا کرو، یعنی تم اور تمھاری قوم ایسا کرو۔ گویا یوں فرمایا کہ اے نبی! جب تم لوگ طلاق دو، یعنی آپ اور آپ کی امت طلاق دے۔
➋ {” اِذَا طَلَّقْتُمْ“} (جب تم طلاق دو) سے مراد یہ ہے کہ جب تم طلاق کا ارادہ کرو، جیسا کہ سورۂ مائدہ کی آیت (۶) {” اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ “} میں ہے۔
➌ {” النِّسَآءَ “} سے مراد صرف وہ عورتیں ہیں جن کے ساتھ نکاح کے بعد دخول ہو چکا ہو، کیونکہ جن عورتوں کو دخول سے پہلے طلاق دے دی جائے ان کی کوئی عدت نہیں۔ (دیکھیے سورۂ احزاب: ۴۹)۔
➍ {فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ: } جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو یہ نہیں کہ جب چاہو طلاق دے دو، بلکہ ان کی عدت کے وقت طلاق دو، یعنی جب عورت حیض سے پاک ہو تو طہر کی حالت میں جماع کے بغیر طلاق دو، تاکہ اس کی عدت کسی کمی یا زیادتی کے بغیر پوری ہو، کیونکہ اگر تم حالت حیض میں طلاق دوگے تو اگر اس حیض کو عدت میں شمار کرو تو عدت تین حیض سے کم رہ جائے گی اور اگر شمار نہ کرو تو تین حیض سے زیادہ ہو جائے گی، کیونکہ بعد میں آنے والے تین حیضوں کے ساتھ اس حیض کے وہ ایام بھی شامل ہوں گے جو طلاق کے بعد باقی ہوں گے۔ اسی طرح اگر تم انھیں ایسے طہر میں طلاق دو گے جس میں ان کے ساتھ جماع کیا ہے تو ممکن ہے کہ حمل قرار پا جائے، اس صورت میں معلوم نہیں ہو سکے گا کہ اس کی عدت کے لیے تین حیض کا اعتبار ہو گا یا وضع حمل کا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی جب وہ حیض کی حالت میں تھی، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتّٰی تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيْضَ، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِيْ أَمَرَ اللّٰهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ] [بخاري، الطلاق، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «یا أیھا النبي…» : ۵۲۵۱] ”اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرے، پھر اسے اپنے پاس رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو، پھر اسے حیض آئے، پھر پاک ہو، پھر اگر چاہے تو اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے تو چھونے سے پہلے طلاق دے دے، کیونکہ یہ ہے وہ عدت جس کے وقت اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔“ اگر عورت حاملہ ہو تو اسے کسی بھی وقت طلاق دی جا سکتی ہے، کیونکہ اس کی عدت وضع حمل معلوم اور واضح ہے، جیسا کہ آگے {” وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ “} میں آرہا ہے۔
➎ اللہ تعالیٰ نے طلاق کے لیے یہ وقت اس لیے مقرر فرمایا ہے کہ جہاں تک ہو سکے میاں بیوی کا تعلق قائم رہے، اگر کبھی آدمی کو غصہ آئے تو فوراً طلاق نہ دے بلکہ اس وقت کا انتظار کرے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اتنی دیر میں غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا اور حیض سے فراغت کے بعد خاوند کو بیوی کی طرف جو رغبت ہوتی ہے وہ طلاق سے باز رکھنے کا باعث ہوگی۔ اسی طرح حمل کی حالت خاوند کو طلاق سے روکنے کا باعث ہے، کیونکہ آنے والے مہمان کی امید اسے اس اقدام سے باز رکھنے والی ہے۔ ان دونوں وقتوں میں طلاق دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ طلاق کسی وقتی اشتعال کی وجہ سے نہیں بلکہ خوب سوچ سمجھ کر دی جا رہی ہے، اس کے بعد عدت کی صورت میں ایک خاصی مدت تک دونوں کو ایک گھر میں رہنے کا حکم دیا گیا، ہو سکتا ہے کہ ان کا تعلق باقی رہنے کی کوئی صورت نکل آئے۔ افسوس! مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پروا ہی نہیں کی، (الاّما شاء اللہ) حالانکہ اگر وہ طلاق کے لیے اس وقت کا انتظار کرتے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے تو طلاق کی نوبت ہی بہت کم آتی، پھر عدت کی برکت سے دوبارہ رجوع کی بھی بہت امید تھی۔
➏ ایک وقت میں صرف ایک طلاق دینا ہی جائز ہے، اس سے زیادہ دینا حرام ہے۔ اگر کوئی شخص ایک وقت میں ایک سے زیادہ طلاقیں دے دے تو صرف ایک طلاق ہوگی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (230،229)کی تفسیر۔
➐ { وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ: ”أَحْصٰي يُحْصِيْ“} اچھی طرح شمار کرنا، گننا۔ یہ {”حَصًي“} (کنکریاں) سے مشتق ہے۔ عرب اُمی تھے، جب انھیں ایسی چیز گننا ہوتی جو تعداد میں زیادہ ہوتی تو ہر ایک کے لیے ایک کنکری رکھتے جاتے، آخر میں کنکریوں کو گن لیتے۔ {” الْعِدَّةَ “} (بروزن {فِعْلَةٌ}) بمعنی {”مَعْدُوْدٌ“} ہے، گنے ہوئے دن، جیسے {”طِحْنٌ“} بمعنی {”مَطْحُوْنٌ“} (پسا ہوا آٹا) ہے۔ یعنی وہ دن جن کے گزر جانے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح حلال ہو جاتا ہے۔ اس پر ”الف لام“ عہد کا ہے، یعنی وہ عدت جو دوسری آیات میں بتائی گئی ہے۔ (دیکھیے بقرہ: ۲۲۸۔ طلاق: ۴) عدت کو اچھی طرح گننے کا حکم اس لیے دیا کہ ایسا نہ ہو کہ عدت گزرنے کے بعد بھی تم رجوع کر لو یا عدت گزرنے سے پہلے عورت کسی اور مرد سے نکاح کر لے، جب کہ یہ دونوں کام ناجائز ہیں۔
➑ { وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ:} ذاتی نام {” اللّٰهَ “} اور وصفی نام {”رَبٌّ“} کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے، جو ہر لمحے انسان کی پرورش کر رہا ہے، ڈرنے کا حکم دیا، یعنی ان ایام میں طلاق دینے سے اللہ سے ڈرتے رہو جن میں طلاق دینا ممنوع ہے، کیونکہ اس میں اللہ کی نافرمانی بھی ہے اور عورت کو اذیت رسانی بھی۔ اسی طرح عدت کے ایام میں عورتوں کو گھروں سے نکالنے سے بھی ڈرو۔
➒ { لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُيُوْتِهِنَّ وَ لَا يَخْرُجْنَ: ” بُيُوْتِهِنَّ “} سے مراد خاوندوں کے گھر ہیں جن میں عورتیں رہ رہی ہیں، ان میں رہنے کی وجہ سے انھیں ان کے گھر فرمایا ہے۔ یعنی عورت کے لیے عدت کے ایام خاوند کے گھر میں گزارنا ضروری ہے، نہ خاوندوں کو انھیں ان کے گھروں سے نکالنے کی اجازت ہے نہ انھیں خود ان سے نکل جانے کی۔ اس کی حکمت آگے {” لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا “} میں بیان فرمائی کہ اتنی مدت ایک گھر میں اکٹھے رہنے سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی باہمی صلح اور رجوع کی کوئی صورت پیدا فرما دے گا۔ اگر وہ دونوں ایک دوسرے سے اسی وقت الگ ہو گئے اور ملاقات کا موقع ہی نہ رہا تو رجوع کا معاملہ بہت مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا خوف دلا کر نہایت تاکید کے ساتھ یہ حکم دیا ہے، مگر مسلمانوں نے کم ہی اس کی پروا کی ہے، شاید ہی کوئی ایسا مرد ہو جو طلاق کے بعد عورت کو اپنے گھر میں رہنے دے یا کوئی ایسی عورت ہو جو وہاں رہے۔
➓ { اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ: ” فَاحِشَةٌ “} کوئی بھی قول یا فعل جس میں بہت بڑی قباحت ہو۔ {” مُبَيِّنَةٍ “} کھلی اور واضح۔ {” بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ “} میں زنا، چوری وغیرہ کے علاوہ عورت کا خاوند سے یا اس کے اہلِ خانہ سے بدزبانی اور گالی گلوچ کرنا بھی شامل ہے۔ طبری نے محمد بن ابراہیم کی حسن سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل فرمایا ہے، انھوں نے فرمایا: [اَلْفَاحِشَةُ أَنْ تَبْذُؤَ عَلٰی أَهْلِهَا] ”فاحشہ یہ ہے کہ گھر والوں پر زبان درازی کرے۔“
⓫ {وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ وَ مَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ:} یعنی وہ مرد جو عورت کو اس وقت طلاق دیتا ہے جب طلاق دینے کا وقت نہیں، یا عدت میں عورت کو گھر سے نکال دیتا ہے، یا وہ عورت جو خود ہی نکل جاتی ہے، یہ نہ سمجھیں کہ وہ معمولی خطا کر رہے ہیں، بلکہ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں پھلانگ رہے ہیں اور جو اللہ کی حدیں پھلانگتا ہے یقینا وہ اپنی جان پر ظلم کر رہا ہے۔
⓬ {لَا تَدْرِيْ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا:} یعنی طلاق کے بعد عورت کو عدت کے دوران خاوند کے گھر میں رہنے کا حکم اس لیے ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ اس کے بعد ان کی باہمی موافقت کی کوئی صورت پیدا فرما دے اور خاوند اس سے رجوع کر لے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خاوند کے گھر میں رہ کر عدت گزارنے کا حکم اس طلاق میں ہے جس سے رجوع ہو سکتا ہو اور وہ صرف پہلی اور دوسری طلاق ہے، ان دونوں کو رجعی طلاق کہتے ہیں، ان کی عدت کے دوران عورت کی رہائش اور نفقہ خاوند کے ذمے ہے۔ رہی تیسری طلاق کی عدت، تو اگرچہ عورت اس کے دوران آگے نکاح نہیں کر سکتی مگر خاوند رجوع بھی نہیں کر سکتا، اس لیے اس کے دوران اس کی رہائش نہ صرف یہ کہ خاوند کے ذمے نہیں بلکہ اس کا خاوند کے ساتھ اس کے گھر میں رہنا ہی ٹھیک نہیں، کیونکہ اس میں سابقہ بے تکلفی کی وجہ سے ان کے حد سے تجاوز کا خطرہ ہے جب کہ وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں، جیسا کہ فرمایا: «فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ» [البقرۃ: ۲۳۰] ”پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے۔“ اگرچہ بہت سے ائمہ نے اس کی رہائش خاوند کے ذمے قرار دی ہے، مگر اس آیت کے مطابق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث کے مطابق تیسری طلاق کے بعد اس کی رہائش خاوند کے ذمے نہیں ہے۔ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [أَنَّهُ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فِيْ عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ كَانَ أَنْفَقَ عَلَيْهَا نَفَقَةَ دُوْنٍ، فَلَمَّا رَأَتْ ذٰلِكَ قَالَتْ وَاللّٰهِ! لَأُعْلِمَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَ لِيْ نَفَقَةٌ أَخَذْتُ الَّذِيْ يُصْلِحُنِيْ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لِيْ نَفَقَةٌ لَمْ آخُذْ مِنْهُ شَيْئًا، قَالَتْ فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا نَفَقَةَ لَكِ وَلَا سُكْنٰي] [مسلم، الطلاق، باب المطلقۃ البائن لا نفقۃ لہا: ۳۷ /۱۴۸۰] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کے خاوند نے انھیں طلاق دے دی اور انھیں معمولی خرچہ دیا۔ جب انھوں نے یہ دیکھا تو کہا: ”اللہ کی قسم! میں یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں لاؤں گی، پھر اگر میرے لیے خرچہ ہوا تو اتنا لوں گی جو میری حالت درست رکھ سکے اور اگر میرے لیے خرچہ نہ ہوا تو میں اس سے کچھ بھی نہیں لوں گی۔“ فرماتی ہیں، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے نہ خرچہ ہے نہ رہائش۔“ یاد رہے کہ صحیح مسلم کے اسی باب کی ایک روایت میں صراحت ہے کہ ان کے خاوند نے انھیں تیسری طلاق دے دی تھی۔
طلاق صرف ایک دوسرے سے جدا ہونے کا ذریعہ نہیں بلکہ میاں بیوی کے بگڑے ہوئے معاملات کو درست کرنے کا آخری ذریعہ بھی ہے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کے مقرر کر دہ طریقے کے مطابق طلاق دی جائے تو عدت کی صورت میں مرد کے پاس رجوع کا اور عورت کے پاس خاوند کو منا لینے کا موقع موجود ہوتا ہے اور تین حیض یا وضع حمل تک ایک گھر میں اکٹھے رہنے کی وجہ سے امید ہوتی ہے کہ جدائی کا باعث بننے والی کشیدگی ختم ہو جائے اور وہ دونوں آپس میں صلح کر لیں۔ سورۂ طلاق کی پہلی آیت {” لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا “} میں یہی بات بیان ہوئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح ہر کام میں ہمارے لیے نمونہ ہیں نکاح و طلاق میں بھی نمونہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح بھی کیے ہیں اور بعض کو طلاق بھی دی ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنت الجون کو {” أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْكَ “} کہنے پر طلاق دے دی۔ [یکھیے بخاري، الطلاق، باب من طلق وھل یواجہ الرجل امرأتہ بالطلاق؟: ۵۲۵۴] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے کر رجوع بھی کیا ہے، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں: [أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا] [أبو داوٗد، الطلاق، باب في المراجعۃ: ۲۲۸۳، وقال الألباني صحیح] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ(رضی اللہ عنھا) کو طلاق دے دی، پھر ان سے رجوع کر لیا۔“
(آیت 1) ➊ {يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ …:} یہاں ایک سوال ہے کہ پہلے {” يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ “} کے ساتھ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کیا، پھر {” اِذَا طَلَّقْتُمْ“} میں جمع کے صیغے کے ساتھ خطاب کیوں کیا گیا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ چونکہ طلاق کے احکام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت دونوں مشترک ہیں، اس لیے آپ کو اور آپ کی امت دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے {” اِذَا طَلَّقْتُمْ“} فرمایا، مگر پہلے خاص طور پر آپ کو خطاب آپ کی تعظیم کے لیے ہے، جیسے کسی قوم کے سردار سے کہا جاتا ہے، اے فلاں! تم ایسا کرو، یعنی تم اور تمھاری قوم ایسا کرو۔ گویا یوں فرمایا کہ اے نبی! جب تم لوگ طلاق دو، یعنی آپ اور آپ کی امت طلاق دے۔
➋ {” اِذَا طَلَّقْتُمْ“} (جب تم طلاق دو) سے مراد یہ ہے کہ جب تم طلاق کا ارادہ کرو، جیسا کہ سورۂ مائدہ کی آیت (۶) {” اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ “} میں ہے۔
➌ {” النِّسَآءَ “} سے مراد صرف وہ عورتیں ہیں جن کے ساتھ نکاح کے بعد دخول ہو چکا ہو، کیونکہ جن عورتوں کو دخول سے پہلے طلاق دے دی جائے ان کی کوئی عدت نہیں۔ (دیکھیے سورۂ احزاب: ۴۹)۔
➍ {فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ: } جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو یہ نہیں کہ جب چاہو طلاق دے دو، بلکہ ان کی عدت کے وقت طلاق دو، یعنی جب عورت حیض سے پاک ہو تو طہر کی حالت میں جماع کے بغیر طلاق دو، تاکہ اس کی عدت کسی کمی یا زیادتی کے بغیر پوری ہو، کیونکہ اگر تم حالت حیض میں طلاق دوگے تو اگر اس حیض کو عدت میں شمار کرو تو عدت تین حیض سے کم رہ جائے گی اور اگر شمار نہ کرو تو تین حیض سے زیادہ ہو جائے گی، کیونکہ بعد میں آنے والے تین حیضوں کے ساتھ اس حیض کے وہ ایام بھی شامل ہوں گے جو طلاق کے بعد باقی ہوں گے۔ اسی طرح اگر تم انھیں ایسے طہر میں طلاق دو گے جس میں ان کے ساتھ جماع کیا ہے تو ممکن ہے کہ حمل قرار پا جائے، اس صورت میں معلوم نہیں ہو سکے گا کہ اس کی عدت کے لیے تین حیض کا اعتبار ہو گا یا وضع حمل کا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی جب وہ حیض کی حالت میں تھی، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتّٰی تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيْضَ، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِيْ أَمَرَ اللّٰهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ] [بخاري، الطلاق، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «یا أیھا النبي…» : ۵۲۵۱] ”اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرے، پھر اسے اپنے پاس رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو، پھر اسے حیض آئے، پھر پاک ہو، پھر اگر چاہے تو اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے تو چھونے سے پہلے طلاق دے دے، کیونکہ یہ ہے وہ عدت جس کے وقت اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔“ اگر عورت حاملہ ہو تو اسے کسی بھی وقت طلاق دی جا سکتی ہے، کیونکہ اس کی عدت وضع حمل معلوم اور واضح ہے، جیسا کہ آگے {” وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ “} میں آرہا ہے۔
➎ اللہ تعالیٰ نے طلاق کے لیے یہ وقت اس لیے مقرر فرمایا ہے کہ جہاں تک ہو سکے میاں بیوی کا تعلق قائم رہے، اگر کبھی آدمی کو غصہ آئے تو فوراً طلاق نہ دے بلکہ اس وقت کا انتظار کرے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اتنی دیر میں غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا اور حیض سے فراغت کے بعد خاوند کو بیوی کی طرف جو رغبت ہوتی ہے وہ طلاق سے باز رکھنے کا باعث ہوگی۔ اسی طرح حمل کی حالت خاوند کو طلاق سے روکنے کا باعث ہے، کیونکہ آنے والے مہمان کی امید اسے اس اقدام سے باز رکھنے والی ہے۔ ان دونوں وقتوں میں طلاق دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ طلاق کسی وقتی اشتعال کی وجہ سے نہیں بلکہ خوب سوچ سمجھ کر دی جا رہی ہے، اس کے بعد عدت کی صورت میں ایک خاصی مدت تک دونوں کو ایک گھر میں رہنے کا حکم دیا گیا، ہو سکتا ہے کہ ان کا تعلق باقی رہنے کی کوئی صورت نکل آئے۔ افسوس! مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پروا ہی نہیں کی، (الاّما شاء اللہ) حالانکہ اگر وہ طلاق کے لیے اس وقت کا انتظار کرتے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے تو طلاق کی نوبت ہی بہت کم آتی، پھر عدت کی برکت سے دوبارہ رجوع کی بھی بہت امید تھی۔
➏ ایک وقت میں صرف ایک طلاق دینا ہی جائز ہے، اس سے زیادہ دینا حرام ہے۔ اگر کوئی شخص ایک وقت میں ایک سے زیادہ طلاقیں دے دے تو صرف ایک طلاق ہوگی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (230،229)کی تفسیر۔
➐ { وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ: ”أَحْصٰي يُحْصِيْ“} اچھی طرح شمار کرنا، گننا۔ یہ {”حَصًي“} (کنکریاں) سے مشتق ہے۔ عرب اُمی تھے، جب انھیں ایسی چیز گننا ہوتی جو تعداد میں زیادہ ہوتی تو ہر ایک کے لیے ایک کنکری رکھتے جاتے، آخر میں کنکریوں کو گن لیتے۔ {” الْعِدَّةَ “} (بروزن {فِعْلَةٌ}) بمعنی {”مَعْدُوْدٌ“} ہے، گنے ہوئے دن، جیسے {”طِحْنٌ“} بمعنی {”مَطْحُوْنٌ“} (پسا ہوا آٹا) ہے۔ یعنی وہ دن جن کے گزر جانے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح حلال ہو جاتا ہے۔ اس پر ”الف لام“ عہد کا ہے، یعنی وہ عدت جو دوسری آیات میں بتائی گئی ہے۔ (دیکھیے بقرہ: ۲۲۸۔ طلاق: ۴) عدت کو اچھی طرح گننے کا حکم اس لیے دیا کہ ایسا نہ ہو کہ عدت گزرنے کے بعد بھی تم رجوع کر لو یا عدت گزرنے سے پہلے عورت کسی اور مرد سے نکاح کر لے، جب کہ یہ دونوں کام ناجائز ہیں۔
➑ { وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ:} ذاتی نام {” اللّٰهَ “} اور وصفی نام {”رَبٌّ“} کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے، جو ہر لمحے انسان کی پرورش کر رہا ہے، ڈرنے کا حکم دیا، یعنی ان ایام میں طلاق دینے سے اللہ سے ڈرتے رہو جن میں طلاق دینا ممنوع ہے، کیونکہ اس میں اللہ کی نافرمانی بھی ہے اور عورت کو اذیت رسانی بھی۔ اسی طرح عدت کے ایام میں عورتوں کو گھروں سے نکالنے سے بھی ڈرو۔
➒ { لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُيُوْتِهِنَّ وَ لَا يَخْرُجْنَ: ” بُيُوْتِهِنَّ “} سے مراد خاوندوں کے گھر ہیں جن میں عورتیں رہ رہی ہیں، ان میں رہنے کی وجہ سے انھیں ان کے گھر فرمایا ہے۔ یعنی عورت کے لیے عدت کے ایام خاوند کے گھر میں گزارنا ضروری ہے، نہ خاوندوں کو انھیں ان کے گھروں سے نکالنے کی اجازت ہے نہ انھیں خود ان سے نکل جانے کی۔ اس کی حکمت آگے {” لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا “} میں بیان فرمائی کہ اتنی مدت ایک گھر میں اکٹھے رہنے سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی باہمی صلح اور رجوع کی کوئی صورت پیدا فرما دے گا۔ اگر وہ دونوں ایک دوسرے سے اسی وقت الگ ہو گئے اور ملاقات کا موقع ہی نہ رہا تو رجوع کا معاملہ بہت مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا خوف دلا کر نہایت تاکید کے ساتھ یہ حکم دیا ہے، مگر مسلمانوں نے کم ہی اس کی پروا کی ہے، شاید ہی کوئی ایسا مرد ہو جو طلاق کے بعد عورت کو اپنے گھر میں رہنے دے یا کوئی ایسی عورت ہو جو وہاں رہے۔
➓ { اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ: ” فَاحِشَةٌ “} کوئی بھی قول یا فعل جس میں بہت بڑی قباحت ہو۔ {” مُبَيِّنَةٍ “} کھلی اور واضح۔ {” بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ “} میں زنا، چوری وغیرہ کے علاوہ عورت کا خاوند سے یا اس کے اہلِ خانہ سے بدزبانی اور گالی گلوچ کرنا بھی شامل ہے۔ طبری نے محمد بن ابراہیم کی حسن سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل فرمایا ہے، انھوں نے فرمایا: [اَلْفَاحِشَةُ أَنْ تَبْذُؤَ عَلٰی أَهْلِهَا] ”فاحشہ یہ ہے کہ گھر والوں پر زبان درازی کرے۔“
⓫ {وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ وَ مَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ:} یعنی وہ مرد جو عورت کو اس وقت طلاق دیتا ہے جب طلاق دینے کا وقت نہیں، یا عدت میں عورت کو گھر سے نکال دیتا ہے، یا وہ عورت جو خود ہی نکل جاتی ہے، یہ نہ سمجھیں کہ وہ معمولی خطا کر رہے ہیں، بلکہ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں پھلانگ رہے ہیں اور جو اللہ کی حدیں پھلانگتا ہے یقینا وہ اپنی جان پر ظلم کر رہا ہے۔
⓬ {لَا تَدْرِيْ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا:} یعنی طلاق کے بعد عورت کو عدت کے دوران خاوند کے گھر میں رہنے کا حکم اس لیے ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ اس کے بعد ان کی باہمی موافقت کی کوئی صورت پیدا فرما دے اور خاوند اس سے رجوع کر لے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خاوند کے گھر میں رہ کر عدت گزارنے کا حکم اس طلاق میں ہے جس سے رجوع ہو سکتا ہو اور وہ صرف پہلی اور دوسری طلاق ہے، ان دونوں کو رجعی طلاق کہتے ہیں، ان کی عدت کے دوران عورت کی رہائش اور نفقہ خاوند کے ذمے ہے۔ رہی تیسری طلاق کی عدت، تو اگرچہ عورت اس کے دوران آگے نکاح نہیں کر سکتی مگر خاوند رجوع بھی نہیں کر سکتا، اس لیے اس کے دوران اس کی رہائش نہ صرف یہ کہ خاوند کے ذمے نہیں بلکہ اس کا خاوند کے ساتھ اس کے گھر میں رہنا ہی ٹھیک نہیں، کیونکہ اس میں سابقہ بے تکلفی کی وجہ سے ان کے حد سے تجاوز کا خطرہ ہے جب کہ وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں، جیسا کہ فرمایا: «فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ» [البقرۃ: ۲۳۰] ”پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے۔“ اگرچہ بہت سے ائمہ نے اس کی رہائش خاوند کے ذمے قرار دی ہے، مگر اس آیت کے مطابق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث کے مطابق تیسری طلاق کے بعد اس کی رہائش خاوند کے ذمے نہیں ہے۔ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [أَنَّهُ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فِيْ عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ كَانَ أَنْفَقَ عَلَيْهَا نَفَقَةَ دُوْنٍ، فَلَمَّا رَأَتْ ذٰلِكَ قَالَتْ وَاللّٰهِ! لَأُعْلِمَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَ لِيْ نَفَقَةٌ أَخَذْتُ الَّذِيْ يُصْلِحُنِيْ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لِيْ نَفَقَةٌ لَمْ آخُذْ مِنْهُ شَيْئًا، قَالَتْ فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا نَفَقَةَ لَكِ وَلَا سُكْنٰي] [مسلم، الطلاق، باب المطلقۃ البائن لا نفقۃ لہا: ۳۷ /۱۴۸۰] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کے خاوند نے انھیں طلاق دے دی اور انھیں معمولی خرچہ دیا۔ جب انھوں نے یہ دیکھا تو کہا: ”اللہ کی قسم! میں یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں لاؤں گی، پھر اگر میرے لیے خرچہ ہوا تو اتنا لوں گی جو میری حالت درست رکھ سکے اور اگر میرے لیے خرچہ نہ ہوا تو میں اس سے کچھ بھی نہیں لوں گی۔“ فرماتی ہیں، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے نہ خرچہ ہے نہ رہائش۔“ یاد رہے کہ صحیح مسلم کے اسی باب کی ایک روایت میں صراحت ہے کہ ان کے خاوند نے انھیں تیسری طلاق دے دی تھی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو (1) تو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں انہیں طلاق دو (2) اور عدت کا حساب رکھو (3) اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو، نہ تم انہیں ان کے گھر سے نکالو (4) اور نہ وہ (خود) نکلیں (5) ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں (6) یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناً اپنے اوپر ظلم کیا (7) تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کردے
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت [1] کے لیے طلاق دیا کرو اور عدت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک حساب رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا پروردگار ہے۔ (زمانہ عدت میں) انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں [2] اِلا یہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں [3]۔ یہ اللہ کی حدیں [4] ہیں۔ اور جو شخص حدود الٰہی سے تجاوز کرے تو اس نے اپنے اوپر خود ظلم [5] کیا۔ (اے مخاطب) تو نہیں جانتا شاید اللہ اس کے بعد (موافقت کی) کوئی نئی صورت پیدا [6] کر دے۔
[1] عورتوں کی عدت کی کمی بیشی کی مختلف صورتیں :۔
طلاق اور عدت کے بہت سے احکام سورۃ بقرہ میں گزر چکے ہیں۔ اور کچھ سورۃ احزاب میں بھی مذکور ہیں۔ اور ان کی تکمیل سورۃ طلاق میں مذکور احکام سے ہوئی۔ لہٰذا سابقہ احکام پر بھی ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ چونکہ طلاق کی صورت میں عورتوں کی حالت مختلف اور ان کی عدت بھی مختلف ہوتی ہے۔ لہٰذا پہلے عدت کی وضاحت کی جاتی ہے:
1۔ بیوہ غیر حاملہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ [2: 239]
2۔ بیوہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے۔ [65: 4]
جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے: ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا۔ اس وقت ابوہریرہؓ بھی ان کے پاس بیٹھے تھے۔ وہ شخص کہنے لگا:”ایک عورت کے ہاں اس کا خاوند مرنے کے چالیس دن بعد بچہ پیدا ہوا؟ اس کی عدت کے بارے میں آپ کیا فتویٰ دیتے ہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ”وہ لمبی عدت (چار ماہ دس دن) پوری کرے“ ابو سلمہؓ کہنے لگے: پھر اس آیت کا کیا مطلب ہوا کہ: ”حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل تک ہے“ اور سیدنا ابوہریرہؓ کہنے لگے: ”میں تو اپنے بھتیجے ابو سلمہؓ کی رائے سے متفق ہوں“ آخر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کریب کو ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”سبیعہ اسلمیہ کا خاوند (سعد بن خولہ) اس وقت فوت ہوا جبکہ اس کی بیوی حاملہ تھی۔ خاوند کے چالیس دن بعد اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اسے نکاح کے پیغام آنے لگے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکاح کی اجازت دے دی۔ ان پیغام دینے والوں میں سے ایک ابو السنابل بھی تھا“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
3۔ غیر مدخولہ عورت خواہ وہ بیوہ ہو یا مطلقہ اس کی کوئی عدت نہیں۔ [32: 49]
4۔ بے حیض عورت، اسے خواہ ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو یعنی نابالغہ ہو یا بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے آنا بند ہو چکا ہو، کی عدت تین ماہ قمری ہے۔ [65: 4] یعنی اس صورت کی آیت نمبر 4
5۔ مطلقہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے۔ [65: 4] یعنی اسی سورۃ کی آیت نمبر 4
6۔ حیض والی غیر حاملہ کی عدت تین قروء ہے [2: 228] قرء کا معنی حیض بھی ہے اور حالت طہر بھی۔ احناف اس سے تین حیض مراد لیتے ہیں جبکہ شافعی اور مالکی تین طہر مراد لیتے ہیں۔ اس فرق کو درج ذیل مثال سے سمجھئے۔
طلاق دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ عورت جب حیض سے فارغ ہو تو اسے طہر کے شروع میں ہی بغیر مقاربت کے طلاق دے دی جائے اور پوری عدت گزر جانے دی جائے عدت کے بعد عورت بائن ہو جائے گی۔ اب فرض کیجئے ایک عورت ہندہ نامی کو ہر قمری مہینہ کے ابتدائی تین دن ماہواری آتی ہے۔ اس کے خاوند نے اسے حیض سے فراغت کے بعد 4 محرم کو طلاق دے دی۔ اب احناف کے نزدیک اس کی عدت تین حیض پورے یعنی 3 ربیع الثانی کی شام کو جب وہ حیض سے غسل کرے گی۔ اس کی عدت ختم ہو جائے گی۔ جبکہ شوافع اور موالک کے نزدیک تیسرا حیض شروع ہونے تک اس کے تین طہر پورے ہو چکے ہوں گے یعنی یکم ربیع الثانی کی صبح کو حیض شروع ہونے پر اس کی عدت ختم ہو جائے گی یعنی تین دن کا فرق پڑ جائے گا۔
1۔ بیوہ غیر حاملہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ [2: 239]
2۔ بیوہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے۔ [65: 4]
جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے: ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا۔ اس وقت ابوہریرہؓ بھی ان کے پاس بیٹھے تھے۔ وہ شخص کہنے لگا:”ایک عورت کے ہاں اس کا خاوند مرنے کے چالیس دن بعد بچہ پیدا ہوا؟ اس کی عدت کے بارے میں آپ کیا فتویٰ دیتے ہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ”وہ لمبی عدت (چار ماہ دس دن) پوری کرے“ ابو سلمہؓ کہنے لگے: پھر اس آیت کا کیا مطلب ہوا کہ: ”حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل تک ہے“ اور سیدنا ابوہریرہؓ کہنے لگے: ”میں تو اپنے بھتیجے ابو سلمہؓ کی رائے سے متفق ہوں“ آخر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کریب کو ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”سبیعہ اسلمیہ کا خاوند (سعد بن خولہ) اس وقت فوت ہوا جبکہ اس کی بیوی حاملہ تھی۔ خاوند کے چالیس دن بعد اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اسے نکاح کے پیغام آنے لگے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکاح کی اجازت دے دی۔ ان پیغام دینے والوں میں سے ایک ابو السنابل بھی تھا“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
3۔ غیر مدخولہ عورت خواہ وہ بیوہ ہو یا مطلقہ اس کی کوئی عدت نہیں۔ [32: 49]
4۔ بے حیض عورت، اسے خواہ ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو یعنی نابالغہ ہو یا بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے آنا بند ہو چکا ہو، کی عدت تین ماہ قمری ہے۔ [65: 4] یعنی اس صورت کی آیت نمبر 4
5۔ مطلقہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے۔ [65: 4] یعنی اسی سورۃ کی آیت نمبر 4
6۔ حیض والی غیر حاملہ کی عدت تین قروء ہے [2: 228] قرء کا معنی حیض بھی ہے اور حالت طہر بھی۔ احناف اس سے تین حیض مراد لیتے ہیں جبکہ شافعی اور مالکی تین طہر مراد لیتے ہیں۔ اس فرق کو درج ذیل مثال سے سمجھئے۔
طلاق دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ عورت جب حیض سے فارغ ہو تو اسے طہر کے شروع میں ہی بغیر مقاربت کے طلاق دے دی جائے اور پوری عدت گزر جانے دی جائے عدت کے بعد عورت بائن ہو جائے گی۔ اب فرض کیجئے ایک عورت ہندہ نامی کو ہر قمری مہینہ کے ابتدائی تین دن ماہواری آتی ہے۔ اس کے خاوند نے اسے حیض سے فراغت کے بعد 4 محرم کو طلاق دے دی۔ اب احناف کے نزدیک اس کی عدت تین حیض پورے یعنی 3 ربیع الثانی کی شام کو جب وہ حیض سے غسل کرے گی۔ اس کی عدت ختم ہو جائے گی۔ جبکہ شوافع اور موالک کے نزدیک تیسرا حیض شروع ہونے تک اس کے تین طہر پورے ہو چکے ہوں گے یعنی یکم ربیع الثانی کی صبح کو حیض شروع ہونے پر اس کی عدت ختم ہو جائے گی یعنی تین دن کا فرق پڑ جائے گا۔
عدت کی اہمیت :۔
اس کے بعد اب ارشاد ربانی کی طرف آئیے۔ فرمایا: ”عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے لیے طلاق دو“ جس سے معلوم ہوا کہ عدت کا ٹھیک ٹھیک شمار نہایت اہم چیز ہے۔ لہٰذا اس کی طرف پوری پوری توجہ دیا کرو۔ اس کی اہمیت کی وجوہ درج ذیل ہیں:
1۔ عدت کا مقصد تحفظ نسب اور وراثت کے تنازعات کو ختم کرنا ہے۔ عدت کے اندر اندر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں۔ اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل تک ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ جس عورت کو صحبت سے پہلے ہی طلاق دے دی جائے اس پر کوئی عدت نہیں [33: 49]
کیونکہ اس صورت میں نہ نسب کے اختلاط کا کوئی امکان ہے اور نہ وراثت کے تنازعہ کا۔
2۔ عدت کے دوران مطلقہ عورت اپنے خاوند کی بیوی ہی رہتی ہے۔ اور اس دوران خاوند کے حقوق کی نگہداشت کو ملحوظ رکھا گیا ہے جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ﴾ [49:33] یعنی خاوند کے ہاں عدت گزارنا مطلقہ عورت کی ذمہ داری ہے اور مرد کا یہ حق ہے کہ عورت اسی کے ہاں عدت گزارے اس دوران مرد اس سے صحبت کرنے کا پورا پورا حق رکھتا ہے۔ اور وہ عورت کی رضا مندی کے بغیر بھی اپنا یہ حق استعمال کر سکتا ہے۔
3۔ عدت کے دوران کسی دوسرے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس عورت سے نکاح تو دور کی بات ہے منگنی کے لیے پیغام تک بھی دے سکے۔ اور اگر خاوند نے عورت کو اس حالت میں طلاق دی کہ وہ گھر پر موجود ہی نہ تھی یا اپنے میکے گئی ہوئی تھی یا اسے اس کے میکے پیغام بھیج دیا گیا تھا اور عورت عدت کے دوران نکاح کر لے تو وہ نکاح باطل ہو گا۔
1۔ عدت کا مقصد تحفظ نسب اور وراثت کے تنازعات کو ختم کرنا ہے۔ عدت کے اندر اندر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں۔ اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل تک ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ جس عورت کو صحبت سے پہلے ہی طلاق دے دی جائے اس پر کوئی عدت نہیں [33: 49]
کیونکہ اس صورت میں نہ نسب کے اختلاط کا کوئی امکان ہے اور نہ وراثت کے تنازعہ کا۔
2۔ عدت کے دوران مطلقہ عورت اپنے خاوند کی بیوی ہی رہتی ہے۔ اور اس دوران خاوند کے حقوق کی نگہداشت کو ملحوظ رکھا گیا ہے جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ﴾ [49:33] یعنی خاوند کے ہاں عدت گزارنا مطلقہ عورت کی ذمہ داری ہے اور مرد کا یہ حق ہے کہ عورت اسی کے ہاں عدت گزارے اس دوران مرد اس سے صحبت کرنے کا پورا پورا حق رکھتا ہے۔ اور وہ عورت کی رضا مندی کے بغیر بھی اپنا یہ حق استعمال کر سکتا ہے۔
3۔ عدت کے دوران کسی دوسرے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس عورت سے نکاح تو دور کی بات ہے منگنی کے لیے پیغام تک بھی دے سکے۔ اور اگر خاوند نے عورت کو اس حالت میں طلاق دی کہ وہ گھر پر موجود ہی نہ تھی یا اپنے میکے گئی ہوئی تھی یا اسے اس کے میکے پیغام بھیج دیا گیا تھا اور عورت عدت کے دوران نکاح کر لے تو وہ نکاح باطل ہو گا۔
[2] عدت کا عرصہ خاوند کے ہاں گزارنے کا حکم اور مصلحت :۔
خاوند کے گھر کے علاوہ کسی دوسری جگہ عدت گزارنا غیر شرعی اور گناہ کا کام ہے: ہمارے ہاں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ میاں بیوی میں لڑائی ہوئی تو بیوی روٹھ کر میکے چلی گئی یا خود میاں نے اسے میکے روانہ کر دیا۔ بعد میں کسی وقت بیک وقت تین طلاق لکھ کر بھیج دیں۔ یا خاوند بیوی کو طلاق دے کر گھر سے نکال دیتا ہے یا بیوی خود ہی اپنے میکے چلی جاتی ہے۔ ان سب صورتوں میں عورت کی عدت اس کے میکے میں ہی گزرتی ہے۔ یہ سب باتیں خلاف شرع اور گناہ کے کام ہیں۔ کیونکہ اللہ کا یہ حکم ہے کہ عورت عدت اپنے طلاق دینے والے خاوند کے ہاں گزارے گی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے عدت کے دوران سکنیٰ اور نفقہ کی ذمہ داری مرد کے سر پر ڈال دی ہے۔ اور بیوہ کے اخراجات کی ذمہ داری میت کے لواحقین پر جو ترکہ کے وارث ہوں گے۔ اور اس حکم میں کئی مصلحتیں ہیں۔ سب سے بڑی مصلحت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ جس مرد اور عورت کے درمیان رشتہ ازدواج قائم ہو چکا ہے۔ اسے زوجین کو اپنی اپنی امکانی حد تک نبھانا ہی چاہئے۔ طلاق کی اجازت صرف ناگزیر حالات کی بنا پر دی گئی ہے۔ جبکہ حالات کنٹرول سے باہر ہو جائیں۔ چنانچہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ﴿ان ابغض الحلال الي الله الطلاق﴾ [ابوداؤد۔ كتاب الطلاق] یعنی طلاق جائز اور حلال تو ہے مگر یہ اللہ کے ہاں سخت ناگوار چیز ہے۔ اب عورت اگر اپنے خاوند کے گھر میں رہے گی تو ان کے ملاپ، صلح صفائی، رضا مندی اور رجوع کی کئی صورتیں پیش آسکتی ہیں۔ جو عدت باہر گزارنے کی حالت میں ناممکن ہو جاتی ہیں۔
[3] صریح برائی کے مختلف پہلو :۔
یعنی صریح برائی کی مرتکب ہوں تو انہیں گھر سے نکال دینے کی اجازت ہے۔ صریح برائی سے مراد زنا بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ قرآن میں زنا کے لئے یہ الفاظ متعدد مقامات پر استعمال ہوئے ہیں۔ اور نشوز بھی یعنی عورت کا ہر بات میں ضد اور کھینچا تانی کا رویہ اختیار کرنا اور مرد کی رائے کی بہرحال مخالفت پر آمادہ رہنا یا بد زبانی کرنا اور کرتے رہنا یعنی ایسے حالات پیدا کر دینے سے مصالحت کے بجائے مزید بگاڑ اور تناؤ کی فضا بن جائے۔ اور یہ بد زبانی یا کھینچا تانی مرد سے بھی ہو سکتی ہے اور اس کے قریبی رشتہ داروں مثلاً اس کے والدین وغیرہ سے بھی اور اس سے چوتھی مراد بذات خود ایسی عورتوں کا گھر سے نکل جانا بھی ہے۔ یعنی عدت کے دوران عورتوں کے از خود مرد کے گھر سے نکل جانے کو ہی ﴿فَاحِشَةً مُّبَيِّنَةً﴾ قرار دیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں بھی انہیں واپس گھر لے جانے کی ضرورت نہیں۔
[4] اللہ کی حدوں کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے پہلے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی (آمنہ بنت غفار) کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔ سیدنا عمرؓ نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات پر غصہ آگیا اور سیدنا عمرؓ سے فرمایا کہ ”ابن عمر (رضی اللہ عنہما) کو حکم دو کہ رجوع کر لے اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھے تاآنکہ وہ پاک ہو۔ پھر اسے حیض آئے۔ پھر وہ اس سے پاک ہو۔ پھر اگر طلاق ہی دینا چاہے تو دے دے لیکن طہر کی حالت میں دے اور اس دوران صحبت نہ کرے۔ یہ ہے وہ عدت جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ اور ﴿طَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ سے یہی مراد ہے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
[4] اللہ کی حدوں کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے پہلے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی (آمنہ بنت غفار) کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔ سیدنا عمرؓ نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات پر غصہ آگیا اور سیدنا عمرؓ سے فرمایا کہ ”ابن عمر (رضی اللہ عنہما) کو حکم دو کہ رجوع کر لے اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھے تاآنکہ وہ پاک ہو۔ پھر اسے حیض آئے۔ پھر وہ اس سے پاک ہو۔ پھر اگر طلاق ہی دینا چاہے تو دے دے لیکن طہر کی حالت میں دے اور اس دوران صحبت نہ کرے۔ یہ ہے وہ عدت جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ اور ﴿طَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ سے یہی مراد ہے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
طلاق دینے کا صحیح اور مسنون طریقہ :۔
اس حدیث میں طلاق دینے کا اور عدت کو ٹھیک طور پر شمار کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے اور اس سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:
1۔ حالت حیض میں طلاق دینا اتنا گناہ کا کام اور اللہ کی حد یا قانون کی خلاف ورزی ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا۔ کیونکہ حیض کی حالت میں طلاق دینے سے تین قروء کا شمار درست طور پر نہیں سکتا خواہ قرء کو حیض کے معنی میں لیا جائے یا طہر کے معنی میں۔ طہر کے معنی میں لیا جائے تو طلاق کے بعد حیض کے بقایا ایام عدت سے زائد شمار ہو جاتے ہیں اور اگر حیض کے معنی میں لیا جائے تو سوال پیدا ہو گا کہ آیا اس حیض کو جس میں طلاق دی گئی ہے، شمار کیا جائے یا چھوڑ دیا جائے؟ جو صورت بھی اختیار کی جائے وہ اللہ کے قانون کی خلاف ورزی ہی ہو گی۔
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ”اسے حکم دو کہ رجوع کر لے“ سے معلوم ہوا کہ اگرچہ حیض کی حالت میں طلاق دینا خلاف سنت اور گناہ کا کام ہے۔ تاہم قانونی لحاظ سے وہ ایک طلاق شمار ہو جائے گی ورنہ رجوع کرنے کا کچھ مطلب ہی نہیں نکلتا۔ اسی بات پر قیاس کرتے ہوئے فقہاء کہتے ہیں کہ اگرچہ ایک ہی مجلس میں تین طلاق دینا خلاف سنت اور حرام ہے تاہم تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔
3۔ قیاس کی حد تک تو ان کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس نص کی موجودگی میں کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، دور صدیقی صلی اللہ علیہ وسلم اور دور فاروقی صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی دو سال تک ایک ہی مجلس میں دی ہوئی تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھی۔ [مسلم۔ كتاب الطلاق۔ باب طلاق الثلاث]
اس قیاس کی چنداں وقعت باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ نص کی موجودگی میں قیاس کرنا ناجائز ہے۔
4۔ طلاق طہر کی حالت میں دینا چاہیے جس میں صحبت نہ کی گئی ہو، اور بہتر صورت یہی ہے طہر کے ابتدا میں طلاق دی جائے۔ البتہ غیر مدخولہ عورت کو طہر اور حیض دونوں صورتوں میں طلاق دی جا سکتی ہے۔ کیونکہ اس سے نہ نسب کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور نہ وراثت کے۔ اسی طرح بے حیض عورت یا حاملہ عورت کو مباشرت کے بعد بھی طلاق دی جا سکتی ہے۔ کیونکہ ان صورتوں میں عدت کا کوئی مقصد مجروح یا مشکوک نہیں ہوتا۔
5۔ طلاق کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جس طہر میں مرد طلاق دینا چاہے اس میں صحبت نہ کرے۔ پھر ایک ہی بار کی طلاق کو کافی سمجھے اور پوری عدت گزر جانے دے۔ اس طرح عورت پر طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور اس کے دو فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ عدت کے آخری وقت تک مرد کو رجوع کا حق باقی رہتا ہے اور دوسرا یہ کہ طلاق واقع ہو جانے کے بعد بھی اگر فریقین رضامند ہوں تو تجدید نکاح کی گنجائش باقی رہتی ہے۔
1۔ حالت حیض میں طلاق دینا اتنا گناہ کا کام اور اللہ کی حد یا قانون کی خلاف ورزی ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا۔ کیونکہ حیض کی حالت میں طلاق دینے سے تین قروء کا شمار درست طور پر نہیں سکتا خواہ قرء کو حیض کے معنی میں لیا جائے یا طہر کے معنی میں۔ طہر کے معنی میں لیا جائے تو طلاق کے بعد حیض کے بقایا ایام عدت سے زائد شمار ہو جاتے ہیں اور اگر حیض کے معنی میں لیا جائے تو سوال پیدا ہو گا کہ آیا اس حیض کو جس میں طلاق دی گئی ہے، شمار کیا جائے یا چھوڑ دیا جائے؟ جو صورت بھی اختیار کی جائے وہ اللہ کے قانون کی خلاف ورزی ہی ہو گی۔
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ”اسے حکم دو کہ رجوع کر لے“ سے معلوم ہوا کہ اگرچہ حیض کی حالت میں طلاق دینا خلاف سنت اور گناہ کا کام ہے۔ تاہم قانونی لحاظ سے وہ ایک طلاق شمار ہو جائے گی ورنہ رجوع کرنے کا کچھ مطلب ہی نہیں نکلتا۔ اسی بات پر قیاس کرتے ہوئے فقہاء کہتے ہیں کہ اگرچہ ایک ہی مجلس میں تین طلاق دینا خلاف سنت اور حرام ہے تاہم تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔
3۔ قیاس کی حد تک تو ان کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس نص کی موجودگی میں کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، دور صدیقی صلی اللہ علیہ وسلم اور دور فاروقی صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی دو سال تک ایک ہی مجلس میں دی ہوئی تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھی۔ [مسلم۔ كتاب الطلاق۔ باب طلاق الثلاث]
اس قیاس کی چنداں وقعت باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ نص کی موجودگی میں قیاس کرنا ناجائز ہے۔
4۔ طلاق طہر کی حالت میں دینا چاہیے جس میں صحبت نہ کی گئی ہو، اور بہتر صورت یہی ہے طہر کے ابتدا میں طلاق دی جائے۔ البتہ غیر مدخولہ عورت کو طہر اور حیض دونوں صورتوں میں طلاق دی جا سکتی ہے۔ کیونکہ اس سے نہ نسب کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور نہ وراثت کے۔ اسی طرح بے حیض عورت یا حاملہ عورت کو مباشرت کے بعد بھی طلاق دی جا سکتی ہے۔ کیونکہ ان صورتوں میں عدت کا کوئی مقصد مجروح یا مشکوک نہیں ہوتا۔
5۔ طلاق کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جس طہر میں مرد طلاق دینا چاہے اس میں صحبت نہ کرے۔ پھر ایک ہی بار کی طلاق کو کافی سمجھے اور پوری عدت گزر جانے دے۔ اس طرح عورت پر طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور اس کے دو فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ عدت کے آخری وقت تک مرد کو رجوع کا حق باقی رہتا ہے اور دوسرا یہ کہ طلاق واقع ہو جانے کے بعد بھی اگر فریقین رضامند ہوں تو تجدید نکاح کی گنجائش باقی رہتی ہے۔
طلاق کی تین قسمیں :۔
احناف کے ہاں طلاق کی تین اقسام ہیں۔ (1) احسن، (2) حسن، (3) بدعی [هدايه اولين۔ كتاب الطلاق۔ باب طلاق السنة]
احسن تو یہی صورت ہے جو مندرجہ بالا حدیث میں مذکور ہے۔ اسے طلاق السنۃ بھی کہتے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسی طریق کو پسند فرماتے تھے اور طلاق حسن یہ ہے کہ ہر طہر میں مقاربت کیے بغیر ایک طلاق دے۔ یعنی ایک طہر میں پہلی، دوسرے طہر میں دوسری، اور تیسرے طہر میں تیسری۔ اس صورت میں تیسری طلاق دیتے ہی مرد کا حق رجوع ختم ہو جاتا ہے۔ جبکہ عدت ابھی باقی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں فریقین تجدید نکاح بھی نہیں کر سکتے۔ تاآنکہ عورت کسی دوسرے سے غیر مشروط نکاح کرے۔ پھر وہ نیا خاوند اپنی رضا مندی سے کسی وقت اسے طلاق دے دے یا مر جائے تو بعد میں عورت اپنے پہلے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے۔ اس طریقہ طلاق کو عموماً شرعی طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن میری معلومات کی حد تک یہ طریقہ کسی مرفوع حدیث سے ثابت نہیں۔ اس کا ماخذ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کی وہ رائے ہے جو مسند احمد ج 1 ص 265 پر حدیث رکانہ کے آخر میں بایں الفاظ مذکور ہے۔ فکان ابن عباس یری انما الطلاق عندکل طھر یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ تین طلاقیں ایک ساتھ نہیں بلکہ ہر طہر میں الگ الگ ہونی چاہئیں۔ اور امام شافعی اس طرح کی طلاق کو بھی خلاف سنت کہتے ہیں۔
احسن تو یہی صورت ہے جو مندرجہ بالا حدیث میں مذکور ہے۔ اسے طلاق السنۃ بھی کہتے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسی طریق کو پسند فرماتے تھے اور طلاق حسن یہ ہے کہ ہر طہر میں مقاربت کیے بغیر ایک طلاق دے۔ یعنی ایک طہر میں پہلی، دوسرے طہر میں دوسری، اور تیسرے طہر میں تیسری۔ اس صورت میں تیسری طلاق دیتے ہی مرد کا حق رجوع ختم ہو جاتا ہے۔ جبکہ عدت ابھی باقی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں فریقین تجدید نکاح بھی نہیں کر سکتے۔ تاآنکہ عورت کسی دوسرے سے غیر مشروط نکاح کرے۔ پھر وہ نیا خاوند اپنی رضا مندی سے کسی وقت اسے طلاق دے دے یا مر جائے تو بعد میں عورت اپنے پہلے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے۔ اس طریقہ طلاق کو عموماً شرعی طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن میری معلومات کی حد تک یہ طریقہ کسی مرفوع حدیث سے ثابت نہیں۔ اس کا ماخذ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کی وہ رائے ہے جو مسند احمد ج 1 ص 265 پر حدیث رکانہ کے آخر میں بایں الفاظ مذکور ہے۔ فکان ابن عباس یری انما الطلاق عندکل طھر یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ تین طلاقیں ایک ساتھ نہیں بلکہ ہر طہر میں الگ الگ ہونی چاہئیں۔ اور امام شافعی اس طرح کی طلاق کو بھی خلاف سنت کہتے ہیں۔
بدعی طلاق کی صورتیں :۔
اور بدعی طلاق یہ ہے کہ کوئی شخص (1) بیک وقت تین طلاق دے دے، (2) ایک طہر میں ہی الگ الگ موقعہ پر تین طلاقیں دے دے، (3) حالت حیض میں طلاق دے اور (4) ایسے طہر میں طلاق دے جس میں اس سے صحبت کی ہو۔ ان میں جو فعل بھی کرے گا، گنہگار ہو گا۔ واضح رہے کہ بدعی طریقہ طلاق کو سب فقہاء حرام سمجھتے ہیں۔
[5] غیر شرعی طلاق کے نقصانات :۔
یعنی جو شخص بھی ان قوانین کی پابندی نہیں کرے گا اس کا کچھ نہ کچھ نقصان اسے دنیا میں پہنچ کے رہے گا۔ صحیح طور پر سنت کے مطابق طلاق نہ دینے سے عدت کی گنتی میں اختلاف بھی پیدا ہو گا۔ اور مشکل بھی پھر نسب اور وراثت کے مسائل بھی اٹھ کھڑے ہوں گے، حق رجوع کی عدت یا اس کا کچھ حصہ ساقط ہو جائے گا اور تجدید نکاح کی بھی بغیر تحلیل کے کوئی صورت باقی نہ رہے گی۔ اس آیت سے بھی بعض علماء نے یہ دلیل لی ہے کہ بیک وقت تین طلاق دینے سے تین ہی واقع ہو جاتی ہیں۔ ورنہ اگر اسے ایک ہی رجعی طلاق شمار کیا جائے اور اس کا حق رجوع باقی رہنے دیا جائے تو اس کو کیا نقصان پہنچا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دلیل بھی بہرحال ایک قیاس ہے۔ اور نص کے مقابلہ میں قیاس کی کچھ حقیقت نہیں ہوتی۔
بیک وقت تین طلاق دینا گناہ کبیرہ اور حرام ہے :۔
رہی اس کے نقصان کی بات تو کیا یہ تھوڑا نقصان ہے کہ وہ ایک حرام کام اور گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا ہے اور اس بات پر سب فقہاء کا اتفاق ہے اور یہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک شخص نے بیک وقت تین طلاقیں دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غصہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میری موجودگی میں کتاب اللہ سے اس طرح کا تلاعب اور مذاق؟ یہاں تک کہ ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اسے قتل نہ کر دوں“ [نسائی۔ کتاب الطلاق۔ باب الطلاق الثلاث المجموعۃ ومافیہ من التغلیظ]
علاوہ ازیں یہ انداز فکر ہی درست نہیں کہ جسے کسی گناہ کبیرہ کے ارتکاب پر دنیا میں کوئی سزا نہ ملے یا اس کا کوئی نقصان نہ ہو وہ اپنے نفس پر کچھ ظلم نہیں کرتا۔ بلکہ اصل نقصان تو آخرت کا نقصان ہے۔
[6] نئی صورت سے مراد مصالحت، رضا مندی اور رجوع کی وہ راہیں ہیں جو طلاق کے بعد فریقین کو ہوش میں آنے اور طلاق کے نقصانات پر غور کرنے کے بعد درست نظر آنے لگتی ہیں۔
علاوہ ازیں یہ انداز فکر ہی درست نہیں کہ جسے کسی گناہ کبیرہ کے ارتکاب پر دنیا میں کوئی سزا نہ ملے یا اس کا کوئی نقصان نہ ہو وہ اپنے نفس پر کچھ ظلم نہیں کرتا۔ بلکہ اصل نقصان تو آخرت کا نقصان ہے۔
[6] نئی صورت سے مراد مصالحت، رضا مندی اور رجوع کی وہ راہیں ہیں جو طلاق کے بعد فریقین کو ہوش میں آنے اور طلاق کے نقصانات پر غور کرنے کے بعد درست نظر آنے لگتی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
طلاق کے مسائل ٭٭
اولاً تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرافت و کرامت کے طور پر خطاب کیا گیا پھر تبعاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے خطاب کیا گیا اور طلاق کے مسئلہ کو سمجھایا گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی وہ اپنے میکے آ گئیں اس پر یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا کہ ’ ان سے رجوع کر لو، وہ بہت زیادہ روزہ رکھنے والی اور بہت زیادہ نماز پڑھنے والی ہیں اور وہ یہاں بھی آپ کی بیوی ہیں اور جنت میں بھی آپ کی ازواج میں داخل ہیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24244:ضعیف و مرسل] یہی روایت مرسلاً ابن جریر میں بھی ہے اور سندوں سے بھی آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی پھر رجوع کر لیا۔
صحیح بخاری میں ہے کہ { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی صاحبہ کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور فرمایا: ”اسے چاہیئے کہ رجوع کر لے، پھر حیض سے پاک ہونے تک روکے رکھے، پھر دوسرا حیض آئے اور اس سے نہا لیں پھر اگر جی چاہے طلاق دیں“، یعنی اس پاکیزگی کی حالت میں بات چیت کرنے سے پہلے، یہی وہ عدت ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4908] یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں کے ساتھ مذکور ہے۔
{ عبدالرحمٰن بن ایمن رحمہ الله نے جو عزہ کے مولیٰ ہیں ابوالزبیر رحمہ الله کے سنتے ہوئے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی؟، تو آپ نے فرمایا ”سنو! ابن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں طلاق دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے لوٹا لے، چنانچہ ابن عمر نے رجوع کر لیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”اس سے پاک ہو جانے کے بعد اسے اختیار ہے خواہ طلاق دے خواہ بسا لے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ» } ۱؎ [65-الطلاق:1] ۱؎ [صحیح مسلم:1471]
دوسری روایت میں «فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ» یعنی طہر کی حالت میں جماع سے پہلے، بہت سے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی حیض میں طلاق نہ دو، نہ اس طہر میں طلاق دو جس میں جماع ہو چکا ہو بلکہ اس وقت تک چھوڑ دے جب حیض آ جائے پھر اس سے نہا لے تب ایک طلاق دے۔
{ عبدالرحمٰن بن ایمن رحمہ الله نے جو عزہ کے مولیٰ ہیں ابوالزبیر رحمہ الله کے سنتے ہوئے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی؟، تو آپ نے فرمایا ”سنو! ابن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں طلاق دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے لوٹا لے، چنانچہ ابن عمر نے رجوع کر لیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”اس سے پاک ہو جانے کے بعد اسے اختیار ہے خواہ طلاق دے خواہ بسا لے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ» } ۱؎ [65-الطلاق:1] ۱؎ [صحیح مسلم:1471]
دوسری روایت میں «فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ» یعنی طہر کی حالت میں جماع سے پہلے، بہت سے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی حیض میں طلاق نہ دو، نہ اس طہر میں طلاق دو جس میں جماع ہو چکا ہو بلکہ اس وقت تک چھوڑ دے جب حیض آ جائے پھر اس سے نہا لے تب ایک طلاق دے۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «عدت» سے مراد طہر ہے۔“ «قرء» سے مراد حیض ہے یا حمل کی حالت میں، جب حمل ظاہر ہو، جس طہر میں مجامعت کر چکا ہے اس میں طلاق نہ دے نہ معلوم حاملہ ہے یا نہیں، یہیں سے باسمجھ علماء نے احکام طلاق لیے ہیں اور طلاق کی دو قسمیں کی ہیں طلاق سنت اور طلاق بدعت۔
طلاق سنت تو یہ ہے کہ طہر کی یعنی پاکیزگی کی حالت میں جماع کرنے سے پہلے طلاق دے دے یا حالت حمل میں طلاق دے اور بدعی طلاق یہ ہے کہ حالت حیض میں طلاق دے یا طہر میں دے لیکن مجامعت کر چکا ہو اور معلوم نہ ہو کہ حمل ہے یا نہیں؟
طلاق کی تیسری قسم بھی ہے جو نہ طلاق سنت ہے نہ طلاق بدعت اور وہ نابالغہ کی طلاق ہے اور اس عورت کی جسے حیض کے آنے سے ناامیدی ہو چکی ہو اور اس عورت کی جس سے دخول نہ ہوا۔ ان سب کے احکام اور تفصیلی بحث کی جگہ کتب فروغ ہیں نہ کہ تفسیر۔ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ»
طلاق سنت تو یہ ہے کہ طہر کی یعنی پاکیزگی کی حالت میں جماع کرنے سے پہلے طلاق دے دے یا حالت حمل میں طلاق دے اور بدعی طلاق یہ ہے کہ حالت حیض میں طلاق دے یا طہر میں دے لیکن مجامعت کر چکا ہو اور معلوم نہ ہو کہ حمل ہے یا نہیں؟
طلاق کی تیسری قسم بھی ہے جو نہ طلاق سنت ہے نہ طلاق بدعت اور وہ نابالغہ کی طلاق ہے اور اس عورت کی جسے حیض کے آنے سے ناامیدی ہو چکی ہو اور اس عورت کی جس سے دخول نہ ہوا۔ ان سب کے احکام اور تفصیلی بحث کی جگہ کتب فروغ ہیں نہ کہ تفسیر۔ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ»
عدت کی حفاظت کرو ٭٭
پھر فرمان ہے ’ عدت کی حفاظت کرو اور اس بارے میں اپنے ابتداء انتہا کی دیکھ بھال رکھو ایسا نہ ہو کہ عدت کی لمبائی عورت کو دوسرا خاوند کرنے سے روک دے اور اس بارے میں اپنے معبود حقیقی پروردگار عالم سے ڈرتے رہو ‘۔ عدت کے زمانہ میں مطلقہ عورت کی رہائش کا مکان خاوند کے ذمہ ہے وہ اسے نکال نہ دے اور نہ خود اسے نکلنا جائز ہے کیونکہ وہ اپنے خاوند کے حق میں رکی ہوئی ہے۔
«فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» زنا کو بھی شامل ہے اور اسے بھی کہ عورت اپنے خاوند کو تنگ کرے، اس کا خلاف کرے اور ایذاء پہنچائے، یا بدزبانی و کج خلقی شروع کر دے اور اپنے کاموں سے اور اپنی زبان سے سسرال والوں کو تکلیف پہنچائے تو ان صورتوں میں بیشک خاوند کو جائز ہے کہ اسے اپنے گھر سے نکال باہر کرے، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اس کی شریعت اور اس کے بتائے ہوئے احکام ہیں۔ جو شخص ان پر عمل نہ کرے انہیں بے حرمتی کے ساتھ توڑ دے ان سے آگے بڑھ جائے وہ اپنا ہی برا کرنے والا اور اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا ہے شاید کہ اللہ کو نئی بات پیدا کر دے اللہ کے ارادوں کو اور ہونے والی باتوں کو کوئی نہیں جان سکتا۔
«فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» زنا کو بھی شامل ہے اور اسے بھی کہ عورت اپنے خاوند کو تنگ کرے، اس کا خلاف کرے اور ایذاء پہنچائے، یا بدزبانی و کج خلقی شروع کر دے اور اپنے کاموں سے اور اپنی زبان سے سسرال والوں کو تکلیف پہنچائے تو ان صورتوں میں بیشک خاوند کو جائز ہے کہ اسے اپنے گھر سے نکال باہر کرے، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اس کی شریعت اور اس کے بتائے ہوئے احکام ہیں۔ جو شخص ان پر عمل نہ کرے انہیں بے حرمتی کے ساتھ توڑ دے ان سے آگے بڑھ جائے وہ اپنا ہی برا کرنے والا اور اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا ہے شاید کہ اللہ کو نئی بات پیدا کر دے اللہ کے ارادوں کو اور ہونے والی باتوں کو کوئی نہیں جان سکتا۔
عدت کا زمانہ مطلقہ عورت کو خاوند کے گھر گزارنے کا حکم دینا اس مصلحت سے ہے کہ ممکن ہے اس مدت میں اس کے خاوند کے خیالات بدل جائیں، طلاق دینے پر نادم ہو، دل میں لوٹا لینے کا خیال پیدا ہو جائے اور پھر رجوع کر کے دونوں میاں بیوی امن و امان سے گزارا کرنے لگیں، نیا کام پیدا کرنے سے مراد بھی رجعت ہے۔
اسی بنا پر بعض سلف اور ان کے تابعین مثلاً امام احمد بن حنبل رحمة الله علیہم وغیرہ کا مذہب ہے کہ «مبتوتہ» یعنی وہ عورت جس کی طلاق کے بعد خاوند کو رجعت کا حق باقی نہ رہا ہو اس کے لیے عدت گزارنے کے زمانے تک مکان کا دینا خاوند کے ذمہ نہیں، اسی طرح جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اسے بھی رہائشی مکان عدت تک کے لیے دینا اس کے وارثوں پر نہیں۔
ان کی اعتمادی دلیل فاطمہ بنت قیس فہریہ رضی اللہ عنہا والی حدیث ہے کہ جب ان کے خاوند ابوعمر بن حفص رضی اللہ عنہ نے ان کو تیسری آخری طلاق دی اور وہ اس وقت یہاں موجود نہ تھے بلکہ یمن میں تھے اور وہیں سے طلاق دی تھی تو ان کے وکیل نے ان کے پاس تھوڑے سے جو بھیج دیئے تھے کہ یہ تمہاری خوراک ہے یہ بہت ناراض ہوئیں اس نے کہا بگڑتی کیوں ہو؟ تمہارا نفقہ کھانا پینا ہمارے ذمہ نہیں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے تیرا نفقہ اس پر نہیں۔“
مسلم میں ہے { نہ تیرے رہنے سہنے کا گھر اور ان سے فرمایا: ”تم ام شریک کے گھر اپنی عدت گزارو“، پھر فرمایا: ”وہاں تو میرے اکثر صحابہ آیا جایا کرتے ہیں تم عبداللہ بن ام مکتوم کے ہاں اپنی عدت کا زمانہ گزارو وہ ایک نابینا آدمی ہیں تم وہاں آرام سے اپنے کپڑے بھی رکھ سکتی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1480]
اسی بنا پر بعض سلف اور ان کے تابعین مثلاً امام احمد بن حنبل رحمة الله علیہم وغیرہ کا مذہب ہے کہ «مبتوتہ» یعنی وہ عورت جس کی طلاق کے بعد خاوند کو رجعت کا حق باقی نہ رہا ہو اس کے لیے عدت گزارنے کے زمانے تک مکان کا دینا خاوند کے ذمہ نہیں، اسی طرح جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اسے بھی رہائشی مکان عدت تک کے لیے دینا اس کے وارثوں پر نہیں۔
ان کی اعتمادی دلیل فاطمہ بنت قیس فہریہ رضی اللہ عنہا والی حدیث ہے کہ جب ان کے خاوند ابوعمر بن حفص رضی اللہ عنہ نے ان کو تیسری آخری طلاق دی اور وہ اس وقت یہاں موجود نہ تھے بلکہ یمن میں تھے اور وہیں سے طلاق دی تھی تو ان کے وکیل نے ان کے پاس تھوڑے سے جو بھیج دیئے تھے کہ یہ تمہاری خوراک ہے یہ بہت ناراض ہوئیں اس نے کہا بگڑتی کیوں ہو؟ تمہارا نفقہ کھانا پینا ہمارے ذمہ نہیں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے تیرا نفقہ اس پر نہیں۔“
مسلم میں ہے { نہ تیرے رہنے سہنے کا گھر اور ان سے فرمایا: ”تم ام شریک کے گھر اپنی عدت گزارو“، پھر فرمایا: ”وہاں تو میرے اکثر صحابہ آیا جایا کرتے ہیں تم عبداللہ بن ام مکتوم کے ہاں اپنی عدت کا زمانہ گزارو وہ ایک نابینا آدمی ہیں تم وہاں آرام سے اپنے کپڑے بھی رکھ سکتی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1480]
مسند احمد میں ہے کہ { ان کے خاوند کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جہاد پر بھیجا تھا، انہوں نے وہیں سے انہیں طلاق بھیج دی، ان کے بھائی نے ان سے کہا کہ ہمارے گھر سے چلی جاؤ، انہوں نے کہا: نہیں! جب تک عدت ختم نہ ہو جائے میرا کھانا پینا اور رہنا سہنا میرے خاوند کے ذمہ ہے۔ اس نے انکار کیا، آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ معاملہ پہنچا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ یہ آخری تیسری طلاق ہے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”نان نفقہ، گھربار خاوند کے ذمہ اس صورت میں ہے کہ اسے حق رجعت حاصل ہو جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں، تم یہاں سے چلی جاؤ اور فلاں عورت کے گھر اپنی عدت گزارو }۔ پھر فرمایا: ”وہاں تو صحابہ کی آمد و رفت ہے تم ابن ام مکتوم کے گھر عدت کا زمانہ گزارو وہ نابینا ہیں تمہیں دیکھ نہیں سکتے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:373/6:ضعیف]
طبرانی میں ہے یہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا ضحاک بن قیس قرشی رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں ان کے خاوند مخزومی قبیلہ کے تھے، طلاق کی خبر کے بعد ان کے نفقہ طلب کرنے پر ان کے خاوند کے اولیاء نے کہا تھا، نہ تو تمہارے میاں نے کچھ بھیجا ہے، نہ ہمیں دینے کو کہا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں یہ بھی مروی ہے کہ ”جب عورت کو وہ طلاق مل جائے جس کے بعد وہ اپنے اگلے خاوند پر حرام ہو جاتی ہے، جب تک دوسرے سے نکاح اور پھر طلاق نہ ہو جائے، تو اس صورت میں عدت کا نان نفقہ اور رہنے کا مکان اس کے خاوند کے ذمہ نہیں“ }۔ ۱؎ [سنن نسائی:3432،قال الشيخ الألباني:صحیح]
طبرانی میں ہے یہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا ضحاک بن قیس قرشی رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں ان کے خاوند مخزومی قبیلہ کے تھے، طلاق کی خبر کے بعد ان کے نفقہ طلب کرنے پر ان کے خاوند کے اولیاء نے کہا تھا، نہ تو تمہارے میاں نے کچھ بھیجا ہے، نہ ہمیں دینے کو کہا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں یہ بھی مروی ہے کہ ”جب عورت کو وہ طلاق مل جائے جس کے بعد وہ اپنے اگلے خاوند پر حرام ہو جاتی ہے، جب تک دوسرے سے نکاح اور پھر طلاق نہ ہو جائے، تو اس صورت میں عدت کا نان نفقہ اور رہنے کا مکان اس کے خاوند کے ذمہ نہیں“ }۔ ۱؎ [سنن نسائی:3432،قال الشيخ الألباني:صحیح]