ترجمہ و تفسیر — سورۃ التغابن (64) — آیت 8

فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ النُّوۡرِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلۡنَا ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۸﴾
سو تم اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کیا اوراللہ اس سے جو تم کرتے ہو، خوب با خبر ہے۔ En
تو خدا پر اور اس کے رسول پر اور نور (قرآن) پر جو ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لاؤ۔ اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
En
سو تم اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان ﻻؤ اور اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل پر باخبر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 8) ➊ {فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِيْۤ اَنْزَلْنَا:} اس فاء کو فصیحہ کہتے ہیں، کیو نکہ وہ اس شرط کا اظہار کر رہی ہوتی ہے جو وہاں مقدر ہے، یعنی جب تم یہ سب کچھ جان چکے تو اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر ایمان لے آؤ جو ہم نے نازل کیا ہے، یعنی دل اور زبان سے انھیں سچا مان کر ان کے احکام کی پیروی کرو۔ { النُّوْرِ } سے مراد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے، کیونکہ اسی سے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ روشن ہوتا ہے، اس میں قرآن و سنت دونوں شامل ہیں۔ دیکھیے سورہ شوریٰ(۵۲) کی تفسیر۔
➋ {وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ:} خبیر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ اس میں ایمان لانے والوں کے لیے وعدہ اور ایمان نہ لانے والوں کے لیے وعید ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

8۔ 1 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نازل ہونے والا یہ نور قرآن مجید ہے، جس سے گمراہی کی تاریکیاں چھٹتی ہیں اور ایمان کی روشنی پھیلتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

لہٰذا اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس نور (قرآن) پر بھی جو ہم نے نازل [16] کیا ہے۔ اور جو کام تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح با خبر ہے۔
[16] یعنی قرآن ایسی کتاب ہے جس کی روشنی میں تم اقوام سابقہ کے حالات سے باخبر ہوتے ہو جن کو ٹھیک طور پر معلوم کرنے کا تمہارے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا۔ پھر وہ تمہارے موجودہ حالات میں تمہاری پوری رہنمائی کرتا ہے اور زندگی کے ہر شعبہ کے لئے تمہیں ایسی ہدایات دیتا ہے، جس سے تم فتنہ و فساد اور بد امنی کی پریشان کن زندگی سے بچ کر امن و امان کی اور اطمینان کی زندگی گزار سکو، پھر وہ تمہیں تمہارے مرنے کے بعد کے حالات سے بھی پوری طرح خبردار کر رہا ہے۔ حالانکہ ان باتوں پر اطلاع پانے کے لئے کوئی ذریعہ علم نہ تھا اور نہ ہی عقل انسانی کی ایسے حالات معلوم کرنے تک رسائی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا اس روشنی کی قدر کرو اور اسے غنیمت سمجھو اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پوری طرح فرمانبردار بن جاؤ۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

منکرین قیامت مشرکین و ملحدین ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی! تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے، پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے، چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں ‘۔
یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے۔
پہلی آیت تو سورۃ یونس میں ہے «وَيَسْتَنبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ» ۱؎ [10-یونس:53]‏‏‏‏ یعنی ’ یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے ‘۔
دوسری آیت سورۃ سبا میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ» ۱؎ [34-سبأ:3]‏‏‏‏ ’ کافر کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم یقیناً اور بالضرور آئے گی ‘۔ اور تیسری آیت یہی «زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ» ۱؎ [64-التغابن:7]‏‏‏‏
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اللہ پر، رسول پر، نور منزل یعنی قرآن کریم پر ایمان لاؤ تمہارا کوئی خفیہ عمل بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو جمع کرے گا اور اسی لیے اس کا نام «یوم الجمع» ہے ‘۔
جیسے اور جگہ ہے «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» ۱؎ [11-ھود:103]‏‏‏‏ ’ یہ لوگوں کے جمع کئے جانے اور ان کے حاضر باش ہونے کا دن ہے ‘۔
اور جگہ ہے «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ» ۱؎ [56-الواقعة:49-50]‏‏‏‏ یعنی ’ قیامت والے دن تمام اولین اور آخرین جمع کئے جائیں گے ‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «یوم التغابن» قیامت کا ایک نام ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اہل جنت، اہل دوزخ کو نقصان میں ڈالیں گے۔‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے زیادہ «تغابن» کیا ہو گا کہ ان کے سامنے انہیں جنت میں اور ان کے سامنے انہیں جہنم میں لے جائیں گے۔‏‏‏‏
گویا اسی کی تفسیر اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ ایماندار، نیک اعمال والوں کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت میں انہیں داخل کیا جائے گا اور پوری کامیابی کو پہنچ جائے گا اور کفر و تکذیب کرنے والے جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں ہمیشہ جلنے کا عذاب پاتے رہیں گے بھلا اس سے برا ٹھکانا اور کیا ہو سکتا ہے؟