ترجمہ و تفسیر — سورۃ التغابن (64) — آیت 14

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ وَ اَوۡلَادِکُمۡ عَدُوًّا لَّکُمۡ فَاحۡذَرُوۡہُمۡ ۚ وَ اِنۡ تَعۡفُوۡا وَ تَصۡفَحُوۡا وَ تَغۡفِرُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بے شک تمھاری بیویوں اور تمھارے بچوں میں سے بعض تمھارے دشمن ہیں، سو ان سے ہوشیار رہو اور اگر تم معاف کر و اور درگزر کرو اور بخش دو تو بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
مومنو! تمہاری عورتیں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن (بھی) ہیں سو ان سے بچتے رہو۔ اور اگر معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو خدا بھی بخشنے والا مہربان ہے
En
اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں پس ان سے ہوشیار رہنا اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14){ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ …: عَدُوًّا فَعُوْلٌ} کا وزن ہے، واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، { فَاحْذَرُوْهُمْ } سے ظاہر ہے کہ یہاں جمع کے لیے استعمال ہوا ہے۔ { مِنْ اَزْوَاجِكُمْ } میں { مِنْ } تبعیض کے لیے ہے، یعنی بعض بیویاں اور اولادیں دشمن ہوتی ہیں سب نہیں، بلکہ بعض دین میں مددگار اور آنکھوں کی ٹھنڈک بھی ہوتی ہیں۔اس سے پہلی آیات میں اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے، اب ایک ایسی چیز سے ہوشیار رہنے کاحکم دیاجو عموماً اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے اور وہ آدمی کی بیوی اور اس کی اولاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی صورت گوارا نہیں کہ اس کا مومن بندہ اس سے بڑھ کر اور اس کے رسول سے بڑھ کر کسی سے محبت کرے، یا کسی عزیز سے عزیز شخص کے تقاضے کو اللہ اور اس کے رسول کے تقاضے پر ترجیح دے۔ (دیکھیے توبہ: ۲۴) یہاں خاص طور پر بعض بیویوں اور بعض اولاد کا ذکر فرمایا، کیونکہ آدمی ہر وقت ان کے ساتھ رہتا ہے اور طبعی طور پر ان سے محبت ہوتی ہے، اس لیے بعض اوقات وہ ان کی محبت میں آکر اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو پس پشت پھینک دیتا ہے اور ان کے آرام و آسائش کی خاطر حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتا۔ان کے اصرار پر کئی فرائض ترک کر دیتا ہے، کئی ناجائز کاموں کا ارتکاب کرلیتا ہے اور اس طرح اپنی آخرت تباہ کرلیتا ہے، ظاہر ہے جو اہل وعیال آخرت کی بربادی کا باعث بنیں ان سے بڑھ کر آدمی کا کوئی دشمن نہیں ہوسکتا۔ بعض بیویاں اور اولاد ناموافقت یا سرکشی کی وجہ سے فی الواقع بھی اپنے خاوند یا باپ کے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں، مگر یہ ایسے دشمن ہیں کہ آدمی ان سے مسلسل دشمنی نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی ان سے علیحدگی اختیار کرسکتا ہے، بلکہ ان کے ساتھ گزارا ہی کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ ان کی دشمنی کا یہ علاج نہیں کہ انھیں مارو پیٹو، خرچہ بند کردو یا ان سے علیحدگی اختیار کر لو، بلکہ مارنے پیٹنے اور سختی کرنے کے بجائے اگر انھیں معاف کردو، ان سے در گزر کرو اور ان کی غلطیوں پر پردہ ڈال دو تو تمھارے لیے بہتر اور اللہ کو پسند ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ بے حد پردہ ڈالنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ البتہ اس عفو و درگزر کے باوجود جتنی طاقت ہے اللہ کے تقویٰ پر قائم رہو اور انھیں اس کی تلقین کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم میں یقینا بہت سی حکمتیں ہیں، کیونکہ بعض اوقات آدمی کی سختی کی وجہ سے اولاد بغاوت پر اتر آتی ہے، جب کہ عفوو درگزر، مسلسل نصیحت اور خود تقویٰ پر قائم رہنے سے ان کی اصلاح کی توقع زیادہ ہوتی ہے۔
عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے اس آیت { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ } کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: یہ اہلِ مکہ میں سے کچھ لوگ تھے جو مسلمان ہوگئے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کا ارادہ کر لیا (یاد رہے کہ ان دنوں ہر مسلمان ہونے والے کے لیے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا فرض تھا) مگر انھیں ان کی بیویوں اور بچوں نے نہیں چھوڑا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے۔ پھر جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انھوں نے دوسرے لوگوں کو دیکھا کہ وہ دین کی سمجھ حاصل کر چکے تھے تو انھوں نے ارادہ کیا کہ اپنے بیوی بچوں کو سزا دیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [ترمذي، التفسیر، سورۃ التغابن: ۳۳۱۷ وقال الألباني حسن]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

14۔ 1 یعنی جو تمہیں عمل صالح اور اطاعت الٰہی سے روکیں، سمجھ لو وہ تمہارے خیر خواہ نہیں، دشمن ہیں۔ 14۔ 2 یعنی ان کے پیچھے لگنے سے بچو، بلکہ انہیں اپنے پیچھے لگاؤ تاکہ وہ بھی اطاعت الٰہی اختیار کریں، نہ کہ ان کے پیچھ لگ کر اپنی عاقبت خراب کرلو۔ 14۔ 3 اس کا سبب نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ مکہ میں مسلمان ہونے والے بعض مسلمانوں نے مکہ چھوڑ کر مدینہ آنے کا ارادہ کیا، جیسا کہ اس وقت ہجرت کا حکم نہایت تاکید کے ساتھ دیا گیا تھا۔ لیکن ان کے بیوی بچے آڑے آگئے اور انہوں نے انہیں ہجرت نہیں کرنے دی پھر بعد میں جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تو دیکھا کہ ان سے پہلے آنے والوں نے دین میں بہت زیادہ سمجھ حاصل کرلی تو انہیں اپنے بیوی بچوں پر غصہ آیا، جنہوں نے انہیں ہجرت سے روکا تھا، چناچہ انہوں نے ان کو سزا دینے کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں انہیں معاف کرنے اور درگزر سے کام لینے کی تلقین فرمائی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ اے ایمان والو! تمہاری بیویوں میں سے اور تمہاری اولاد میں سے بعض [21] تمہارے دشمن ہیں لہذا ان سے ہشیار رہو۔ اور اگر تم معاف کرو [22] اور درگزر کرو اور انہیں بخش دو تو اللہ یقیناً بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے
[21] بیوی اور اولاد کس صورت میں انسان کی دشمن ہوتی ہے :۔
یعنی ساری بیویاں یا ساری اولاد تمہاری دشمن نہیں بلکہ بعض بیویاں اور بعض اولاد تمہاری دشمن ہے۔ اور یہی وہ رشتے ہیں جو انسان کے بہت قریبی اور اسے بہت عزیز ہوتے ہیں۔ یہ اگر اللہ کے فرمانبردار ہوں گے تو تمہارے دوست اور نافرمان ہوں گے تو تمہارے دشمن ہیں۔ گویا ان سے بھی تمہاری محبت اور دوستی کی اصل بنیاد اللہ کی فرمانبرداری ہونی چاہئے۔ انہیں کی وجہ سے لوگ کسب حرام اور دوسرے گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ انہی کی وجہ سے بعض مسلمان مدینہ کی طرف ہجرت کی جرأت نہیں کر رہے تھے۔ انہیں کی ہمدردیاں اگر کفار کے ساتھ ہوں تو تمہارے لئے کئی طرح کی مصیبتوں اور پریشانیوں کا سبب بھی بن سکتے ہیں اور تمہاری عاقبت بھی خراب کر سکتے ہیں۔ لہٰذا ان کے معاملہ میں تمہیں بالخصوص محتاط رہنا چاہئے۔
[22] یعنی اگر تم ان میں کچھ غلط رجحانات دیکھو تو ایسا نہ کرو کہ ان پر اندھا دھند سختی شروع کر دو۔ بیویوں کو طلاق دے دو یا بچوں کو گھر سے نکال دو۔ بلکہ ایسا کرو گے تو معاشرتی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ ایسے حالات میں بہتر صورت یہ ہے کہ ان کی اصلاح کی کوشش کرو اور درگزر سے کام لو۔ اور نرمی اور حسن سلوک سے کام لے کر انہیں اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرو۔ یہ طریق کار اس لحاظ سے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ خود بھی از راہ کرم لوگوں کی خطائیں معاف کرتا رہتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ کی یاد اور اولاد و مال کی محبت ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ’ بعض عورتیں اپنے مردوں کو اور بعض اولاد اپنے ماں باپ کو یاد اللہ اور نیک عمل سے روک دیتی ہے جو درحقیقت دشمنی ہے ‘۔ جس سے پہلے تنبیہ ہو چکی ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:9]‏‏‏‏ ’ ایسا نہ ہو تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں یاد اللہ سے غافل کر دیں، اگر ایسا ہو گیا تو تمہیں بڑا گھاٹا رہے گا ‘۔
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ ان سے ہوشیار رہو، اپنے دین کی نگہبانی ان کی ضروریات اور فرمائشات کے پورا کرنے پر مقدم رکھو ‘۔
بیوی بچوں اور مال کی خاطر انسان قطع رحمی کر گزرتا ہے اللہ کی نافرمانی پر تل جاتا ہے ان کی محبت میں پھنس کر احکام اسلامی کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بعض اہل مکہ اسلام قبول کر چکے تھے مگر زن و فرزند کی محبت نے انہیں ہجرت سے روک دیا، پھر جب اسلام کا خوب افشأ ہو گیا، تب یہ لوگ حاضر ہوئے دیکھا کہ ان سے پہلے کے مہاجرین نے بہت کچھ علم دین حاصل کر لیا ہے، اب جی میں آیا کہ اپنے بال بچوں کو سزا دیں جس پر یہ فرمان ہوا کہ «وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [64-التغابن:14]‏‏‏‏، یعنی ’ اب درگزر کرو، آئندہ کے لیے ہوشیار رہو، اللہ تعالیٰ مال و اولاد دے کر انسان کو پرکھ لیتا ہے کہ معصیت میں مبتلا ہونے والے کون ہیں اور اطاعت گزار کون ہیں؟ اللہ کے پاس جو اجر عظیم ہے تمہیں چاہیئے کہ اس پر نگاہیں رکھو ‘۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَات مِنْ النِّسَاء وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِير الْمُقَنْطَرَة مِنْ الذَّهَب وَالْفِضَّة وَالْخَيْل الْمُسَوَّمَة وَالْأَنْعَام وَالْحَرْث ذَلِكَ مَتَاع الْحَيَاة الدُّنْيَا وَاَللَّه عِنْده حُسْن الْمَآب» ۱؎ [3-آل عمران:14-15]‏‏‏‏، یعنی ’ بطور آزمائش کے لوگوں کے لیے دنیوی خواہشات یعنی بیویاں اور اولاد، سونے چاندی کے بڑے بڑے لگے ہوئے ڈھیر، شائستہ گھوڑے، مویشی، کھیتی کی محبت کو زینت دی گئی ہے مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان ہے اور ہمیشہ رہنے والا اچھا ٹھکانا تو اللہ ہی کے پاس ہے ‘۔
اولاد ایک فتنہ بھی ٭٭
مسند احمد میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ فرما رہے تھے کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما لمبے لمبے کرتے پہنے آ گئے، دونوں بچے کرتوں میں الجھ الجھ کر گرتے پڑتے آ رہے تھے یہ کرتے سرخ رنگ کے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظریں جب ان پر پڑیں تو منبر سے اتر کر انہیں اٹھا کر لائے اور اپنے سامنے بٹھا لیا پھر فرمانے لگے: اللہ تعالیٰ سچا ہے اور اس کے رسول نے بھی سچ فرمایا ہے کہ تمہارے مال اولاد فتنہ ہیں، میں ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے دیکھ کر صبر نہ کر سکا آخر خطبہ چھوڑ کر انہیں اٹھانا پڑا۱؎ [سنن ترمذي:3774،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
مسند میں ہے { سیدنا اشعت بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کندہ قبیلے کے وفد میں، میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہاری کچھ اولاد بھی ہے۔‏‏‏‏ میں نے کہا: ہاں، اب آتے ہوئے ایک لڑکا ہوا ہے، کاش کہ اس کے بجائے کوئی درندہ ہی ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار، ایسا نہ کہو، ان میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور انتقال کر جائیں تو اجر ہے، پھر فرمایا: ہاں ہاں یہی بزدلی اور غم کا سبب بھی بن جاتے ہیں یہ بزدلی اور غم و رنج بھی ہیں۔ } [مسند احمد:211/5:صحیح اسناد ضعیف]‏‏‏‏
بزاز میں ہے { اولاد دل کا پھل ہے اور یہ بخل و نامردی اور غمگینی کا باعث بھی ہے }۔ [مسند بزار:1819:ضعیف]‏‏‏‏
طبرانی میں ہے { تیرا دشمن صرف وہی نہیں جو تیرے مقابلہ میں کفر پر جم کر لڑائی کے لیے آیا کیونکہ اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو تیرے لیے باعث نور ہے اور اگر اس نے تجھے قتل کر دیا تو قطعاً جنتی ہو گیا۔ پھر فرمایا: شاید تیرا دشمن تیرا بچہ ہے، جو تیری پیٹھ سے نکلا، پھر تجھ سے دشمنی کرنے لگا، تیرا پورا دشمن تیرا مال ہے، جو تیری ملکیت میں ہے، پھر دشمنی کرتا ہے[طبرانی:3445:ضعیف]‏‏‏‏