تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ:} اس سے پہلی آیات میں اللہ کی توحید، رسولوں کی رسالت اور قیامت کا بیان تھا، اس آیت میں تقدیر پر ایمان کا بیان ہے جس سے آدمی کے دل میں تکلیفیں برداشت کرنے اور ان پر صبر کرنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت میں ایمان والوں کے لیے تسلی اور کفار کے اس اعتراض کا جواب بھی ہے کہ ایمان والوں پرمصیبتیں کیوں آتی ہیں۔ فرمایا جو مصیبت بھی آتی ہے اللہ کے اذن سے آتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں پہلے سے مقدر ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ دنیا میں مومن و کافر سب پر آتی ہے، کیونکہ اس کے بغیر امتحان اور آزمائش کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ البتہ مومن و کافر پر اس کا اثر اور نتیجہ مختلف ہوتا ہے، مومن اپنے رب پر راضی رہتا ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت کی روشنی، یقین اور اطمینان کی نعمت اور آخرت میں جنت عطا فرماتا ہے اور کافر اپنے رب پر ناراض ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ دنیا کے اندر ہر وقت پر یشان اور سراپا شکوہ بنا رہتا ہے اور آخرت میں اس کے لیے جہنم ہے۔
➌ یعنی جو بھی مصیبت پہنچتی ہے اللہ کے حکم سے اور اس کے طے شدہ فیصلے اور تقدیر کے مطابق پہنچتی ہے۔
➍ { وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ:} یعنی جسے کوئی مصیبت پہنچے اور وہ جان لے کہ یہ اللہ کے فیصلے اور اس کی تقدیر سے ہے، پھر اس پر صبر کرے، ثواب کی نیت رکھے اور اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کے فیصلے کے سپرد کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور دنیا میں اس کے ہاتھ سے جو کچھ نکلا یعنی اس سے جو کچھ لیا گیا اس کے بدلے میں اس کے دل میں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق اور سچا یقین عطا فرماتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو کچھ اس سے لیاگیا اس کی جگہ وہی یا اس سے بہتر چیز عطا فرما دیتا ہے۔ اس آیت کی طرح سورۂ بقرہ (۱۵۵ تا ۱۵۷) میں مصیبت پر صبر کرنے والوں کو {” الْمُهْتَدُوْنَ “} (ہدایت والے) قرار دیا ہے۔
طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ {” وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ “} کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے: [يَعْنِيْ يَهْدِ قَلْبَهُ لِلْيَقِيْنِ فَيَعْلَمُ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِه وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيْبَهُ] [طبري: 12/23، ح: ۳۴۵۰۹] ”یعنی (آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ پر ایمان رکھے) اللہ تعالیٰ اس کے دل کو یقین کی ہدایت دیتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ اس پر جو مصیبت آئی وہ کسی صورت اس سے خطا کرنے والی نہیں تھی اور جو خطا کر گئی وہ کسی صورت اس پر آنے والی نہیں تھی۔“ اور اعمش نے ابوظبیان سے بیان کیا کہ ہم علقمہ کے پاس تھے، ان کے پاس یہ آیت پڑھی گئی: «وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ» اور اس کا مطلب پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ آدمی ہے جسے کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، اس پر راضی ہوجاتا ہے اور اسے تسلیم کرلیتا ہے۔“(ابن جریر و ابن ابی حاتم بسند صحیح)
صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَ إِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ] [مسلم، الزہد والر قائق، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹] ”مومن کے معاملے پر تعجب ہے، کیونکہ اس کا سارا معاملہ ہی خیر ہے اور یہ بات مومن کے سواکسی کو حاصل نہیں، اگر اسے کوئی خوشی ملتی ہے تو شکر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے خیر ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتاہے اور وہ بھی اس کے لیے خیر ہوتا ہے۔“
➎ { وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا پوری طرح علم ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ کون اس کی تقدیر پر ایمان رکھ کر صبر وشکر کرتا ہے اور کون نہیں کرتا، پھر وہ ہر ایک کو اس کے مطابق جزا و سزا دے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[19] یعنی جو شخص ان مصائب میں ثابت قدم رہے تو اس کا اللہ پر ایمان مزید بڑھ جاتا ہے اور اسی نسبت سے اسے اللہ مزید ہدایت بخشتا ہے اور یاد رکھو کہ اللہ کو تمہارے ان مصائب کا پورا پورا علم ہے۔ وہ اپنے بندوں کو خواہ مخواہ مصائب میں مبتلا نہیں کرتا۔ بلکہ کسی عظیم مقصد کے لئے تمہیں تیار کرنا چاہتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے، اسے مصائب ڈگمگا نہیں سکتے، وہ جانتا ہے کہ جو پہنچا وہ خطا کرنے والا نہ تھا اور جو نہ پہنچا وہ ملنے والا ہی نہ تھا۔“
متفق علیہ حدیث میں ہے کہ { مومن پر تعجب ہے ہر ایک بات میں اس کے لیے بہتری ہوتی ہے نقصان پر صبر و ضبط کر کے نفع اور بھلائی پر شکر و احسان مندی کر کے بہتری سمیٹ لیتا ہے، یہ دو طرفہ بھلائی مومن کے سوا کسی اور کے حصے میں نہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999]
مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں کوئی آسان کام چاہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو فیصلہ قسمت کا تجھ پر جاری ہو تو اس میں اللہ تعالیٰ کا گلہ شکوہ نہ کر، اس کی رضا پر راضی رہ یہ اس سے ہلکا امر ہے“ }۔ [مسند احمد:318/5:ضعیف]
پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا ہے کہ ’ امور شرعی میں ان اطاعتوں سے سر منہ تجاوز نہ کرو جس کا حکم ملے بجا لاؤ، جس سے روکا جائے رک جاؤ، اگر تم اس کے ماننے سے اعراض کرتے تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی بوجھ نہیں، ان کے ذمہ صرف تبلیغ تھی جو وہ کر چکے اب عمل نہ کرنے کی سزا تمہیں اٹھانا پڑے گی ‘۔
پھر فرمان ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ واحد و صمد ہے اس کے سوا کسی کی ذات کسی طرح کی عبادت کے لائق نہیں ‘، یہ خبر معنی میں طلب کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید مانو اخلاص کے ساتھ صرف اسی کی عبادت کرو۔
پھر فرماتا ہے ’ چونکہ توکل اور بھروسے کے لائق بھی وہی ہے تم اسی پر بھروسہ رکھو ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:9] ’ مشرق اور مغرب کا رب وہی ہے، معبود حقیقی بھی اس کے سوا کوئی نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز بنا لے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {ما أصاب من مصيبةٍ إلاَّ بإذنِ الله}: وهذا عامٌّ لجميع المصائب في النفس والمال والولد والأحباب ونحوهم؛ فجميع ما أصاب العباد بقضاء الله وقدره؛ قد سبق بذلك علمُ الله وجرى به قلمُه ونفذت به مشيئتُه واقتضتْه حكمتُه، ولكنَّ الشأن كل الشأن: هل يقومُ العبد بالوظيفة التي عليه في هذا المقام أم لا يقوم بها؟ فإنْ قام بها؛ فله الثواب الجزيل والأجر الجميل في الدُّنيا والآخرة؛ فإذا آمن أنها من عند الله، فرضي بذلك وسلَّم لأمره؛ هدى الله قلبه، فاطمأنَّ ولم ينزعجْ عند المصائب؛ كما يجري ممَّن لم يهدِ الله قلبه، بل يرزقه الله الثبات عند ورودِها والقيام بموجب الصبر، فيحصل له بذلك ثوابٌ عاجلٌ مع ما يدَّخر اللهُ له يوم الجزاء من الأجر العظيم ؛ كما قال تعالى: {إنَّما يُوَفَّى الصابرون أجرهم بغير حساب}.
وعُلِمَ من ذلك أنَّ من لم يؤمنْ بالله عند ورود المصائب؛ بأن لم يلحظْ قضاء الله وقدره بل وقف مع مجرَّد الأسباب؛ أنَّه يُخذل ويَكِلُه الله إلى نفسه، وإذا وُكِلَ العبد إلى نفسه؛ فالنفس ليس عندها إلاَّ الهلع والجزع الذي هو عقوبةٌ عاجلةٌ على العبد قبل عقوبة الآخرة على ما فرَّط في واجب الصبر، هذا ما يتعلَّق بقوله: {ومَن يؤمِنْ بالله يَهْدِ قلبَه} في مقام المصائب الخاصِّ، وأمَّا ما يتعلَّق بها من حيث العموم اللَّفظيُّ؛ فإنَّ الله أخبر أنَّ كلَّ مَنْ آمنَ؛ أي: الإيمان المأمور به، وهو الإيمان بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشرِّه، وصدَّق إيمانه بما يقتضيه الإيمان من لوازمه وواجباته؛ أنَّ هذا السبب الذي قام به العبدُ أكبرُ سببٍ لهداية الله له في أقواله وأفعاله وجميع أحواله وفي علمه وعمله، وهذا أفضل جزاءٍ يعطيه الله لأهل الإيمان؛ كما قال تعالى مخبراً أنَّه يثبِّت
المؤمنين في الحياة الدنيا وفي الآخرة، وأصل الثبات ثباتُ القلب وصبرُه ويقينُه عند ورود كلِّ فتنة، فقال: {يُثبِّتُ الله الذين آمنوا بالقول الثابتِ في الحياة الدُّنيا وفي الآخرة}؛ فأهلُ الإيمان أهدى الناس قلوباً وأثبتُهم عند المزعجات والمقلقات، وذلك لما معهم من الإيمان.