ترجمہ و تفسیر — سورۃ التغابن (64) — آیت 11

مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِیۡبَۃٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یُّؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ یَہۡدِ قَلۡبَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۱﴾
کوئی مصیبت نہیں پہنچی مگر اللہ کے اذن سے اور جو اللہ پر ایمان لے آئے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ En
کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر خدا کے حکم سے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔ اور خدا ہر چیز سے باخبر ہے
En
کوئی مصیبت اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچ سکتی، جو اللہ پر ایمان ﻻئے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) ➊ {مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ حدیدکی آیت (۲۲) کی تفسیر۔
➋ { اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ:} اس سے پہلی آیات میں اللہ کی توحید، رسولوں کی رسالت اور قیامت کا بیان تھا، اس آیت میں تقدیر پر ایمان کا بیان ہے جس سے آدمی کے دل میں تکلیفیں برداشت کرنے اور ان پر صبر کرنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت میں ایمان والوں کے لیے تسلی اور کفار کے اس اعتراض کا جواب بھی ہے کہ ایمان والوں پرمصیبتیں کیوں آتی ہیں۔ فرمایا جو مصیبت بھی آتی ہے اللہ کے اذن سے آتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں پہلے سے مقدر ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ دنیا میں مومن و کافر سب پر آتی ہے، کیونکہ اس کے بغیر امتحان اور آزمائش کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ البتہ مومن و کافر پر اس کا اثر اور نتیجہ مختلف ہوتا ہے، مومن اپنے رب پر راضی رہتا ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت کی روشنی، یقین اور اطمینان کی نعمت اور آخرت میں جنت عطا فرماتا ہے اور کافر اپنے رب پر ناراض ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ دنیا کے اندر ہر وقت پر یشان اور سراپا شکوہ بنا رہتا ہے اور آخرت میں اس کے لیے جہنم ہے۔
➌ یعنی جو بھی مصیبت پہنچتی ہے اللہ کے حکم سے اور اس کے طے شدہ فیصلے اور تقدیر کے مطابق پہنچتی ہے۔
➍ { وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ:} یعنی جسے کوئی مصیبت پہنچے اور وہ جان لے کہ یہ اللہ کے فیصلے اور اس کی تقدیر سے ہے، پھر اس پر صبر کرے، ثواب کی نیت رکھے اور اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کے فیصلے کے سپرد کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور دنیا میں اس کے ہاتھ سے جو کچھ نکلا یعنی اس سے جو کچھ لیا گیا اس کے بدلے میں اس کے دل میں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق اور سچا یقین عطا فرماتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو کچھ اس سے لیاگیا اس کی جگہ وہی یا اس سے بہتر چیز عطا فرما دیتا ہے۔ اس آیت کی طرح سورۂ بقرہ (۱۵۵ تا ۱۵۷) میں مصیبت پر صبر کرنے والوں کو { الْمُهْتَدُوْنَ } (ہدایت والے) قرار دیا ہے۔
طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ { وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ } کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے: [يَعْنِيْ يَهْدِ قَلْبَهُ لِلْيَقِيْنِ فَيَعْلَمُ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِه وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيْبَهُ] [طبري: 12/23، ح: ۳۴۵۰۹] یعنی (آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ پر ایمان رکھے) اللہ تعالیٰ اس کے دل کو یقین کی ہدایت دیتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ اس پر جو مصیبت آئی وہ کسی صورت اس سے خطا کرنے والی نہیں تھی اور جو خطا کر گئی وہ کسی صورت اس پر آنے والی نہیں تھی۔ اور اعمش نے ابوظبیان سے بیان کیا کہ ہم علقمہ کے پاس تھے، ان کے پاس یہ آیت پڑھی گئی: «وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ» اور اس کا مطلب پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: اس سے مراد وہ آدمی ہے جسے کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، اس پر راضی ہوجاتا ہے اور اسے تسلیم کرلیتا ہے۔(ابن جریر و ابن ابی حاتم بسند صحیح)
صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَ إِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ] [مسلم، الزہد والر قائق، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹] مومن کے معاملے پر تعجب ہے، کیونکہ اس کا سارا معاملہ ہی خیر ہے اور یہ بات مومن کے سواکسی کو حاصل نہیں، اگر اسے کوئی خوشی ملتی ہے تو شکر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے خیر ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتاہے اور وہ بھی اس کے لیے خیر ہوتا ہے۔
➎ { وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا پوری طرح علم ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ کون اس کی تقدیر پر ایمان رکھ کر صبر وشکر کرتا ہے اور کون نہیں کرتا، پھر وہ ہر ایک کو اس کے مطابق جزا و سزا دے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 یعنی اس کی تقدیر اور مشیت سے ہی اس کا ظہور ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کے نزول کا سبب کفار کا یہ قول ہے کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے تو دنیا کی مصیبتیں انہیں نہ پہنچتیں (فتح القدیر) 11۔ 2 یعنی وہ جان لیتا ہے کہ اسے جو کچھ پہنچا ہے اللہ کی مشیت اور اس کے حکم سے ہی پہنچا ہے پس وہ صبر اور رضا بالقضاء کا مظاہرہ کرتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اللہ کے اذن سے ہی آتی ہے اور جو شخص [18] اللہ پر ایمان لائے تو اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا [19] ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
[18] اس آیت میں ان دنیا دار لوگوں کے اس نظریہ کی تردید کی گئی ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے تو اس قدر مصائب میں کیوں گھرے ہوتے اور مسلمانوں کو یہ تسلی دی جا رہی ہے کہ کوئی مصیبت کسی کے لانے سے نہیں آتی۔ بلکہ اللہ کے علم میں ہوتی ہے اور اسی کے اذن سے آتی ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی کئی حکمتیں ہوتی ہیں۔ مصیبتوں کے ذریعہ آزمائش سے مقصود تمہارے ایمان کا امتحان ہوتا ہے۔ تاکہ منافقین کھل کر سامنے آجائیں۔ اور تم ان سے محتاط رہنے لگو۔ ان کے علاوہ کئی حکمتیں قرآن میں جا بجا مذکور ہیں۔
مصائب کی تین قسمیں :۔
واضح رہے کہ مصائب تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو لوگوں کے اپنے اعمال کے نتیجہ یا شامت اعمال کے طور پر آتے ہیں۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِيْ البَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أيْدِيْ النَّاسِ دوسرے وہ مصائب جن میں سے ایمانداروں کو آزمائش اور تربیت کے لئے گزارا جاتا ہے۔ جیسے فرمایا: ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ تیسرے وہ جن کا تعلق مندرجہ بالا دونوں اقسام سے نہیں ہوتا اور وہ محض اتفاقی قسم کے حوادث ہوتے ہیں۔ ایسے مصائب مومنوں کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بموجب ارشاد نبوی کسی مسلمان کو کوئی کانٹا بھی چبھے تو وہ اس کے کسی نہ کسی گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے بشرطیکہ مسلمان اس مصیبت پر صبر کرے۔
[19] یعنی جو شخص ان مصائب میں ثابت قدم رہے تو اس کا اللہ پر ایمان مزید بڑھ جاتا ہے اور اسی نسبت سے اسے اللہ مزید ہدایت بخشتا ہے اور یاد رکھو کہ اللہ کو تمہارے ان مصائب کا پورا پورا علم ہے۔ وہ اپنے بندوں کو خواہ مخواہ مصائب میں مبتلا نہیں کرتا۔ بلکہ کسی عظیم مقصد کے لئے تمہیں تیار کرنا چاہتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

وہی مختار مطلق ہے ناقابل تردید سچائی ٭٭
سورۃ الحدید میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی اجازت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے اس کی قدر و مشیت کے بغیر نہیں ہو سکتا، اب جس شخص کو کوئی تکلیف پہنچے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے مجھے یہ تکلیف پہنچی، پھر صبر و تحمل سے کام لے، اللہ کی مرضی پر ثابت قدم رہے، ثواب اور بھلائی کی امید رکھے، رضا بہ قضاء کے سوا لب نہ ہلائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کی رہبری کرتا ہے اور اسے بدلے کے طور پر ہدایت قلبی عطا فرماتا ہے۔ وہ دل میں یقین صادق کی چمک دیکھتا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس مصیبت کا بدلہ یا اس سے بھی بہتر دنیا میں ہی عطا فرما دیتا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے، اسے مصائب ڈگمگا نہیں سکتے، وہ جانتا ہے کہ جو پہنچا وہ خطا کرنے والا نہ تھا اور جو نہ پہنچا وہ ملنے والا ہی نہ تھا۔‏‏‏‏
آسان ترین افضل عمل ٭٭
سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت «مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» [64-التغابن-11]‏‏‏‏ پڑھی جاتی ہے اور آپ رضی اللہ عنہ سے اس کا مطلب دریافت کیا جاتا ہے تو فرماتے ہیں اس سے مراد وہ شخص ہے جو ہر مصیبت کے وقت اس بات کا عقیدہ رکھے کہ یہ منجانب اللہ ہے پھر راضی خوشی اسے برداشت کر لے۔‏‏‏‏ یہ بھی مطلب ہے کہ وہ «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۱؎ [2-البقرہ:156]‏‏‏‏ پڑھ لے۔‏‏‏‏
متفق علیہ حدیث میں ہے کہ { مومن پر تعجب ہے ہر ایک بات میں اس کے لیے بہتری ہوتی ہے نقصان پر صبر و ضبط کر کے نفع اور بھلائی پر شکر و احسان مندی کر کے بہتری سمیٹ لیتا ہے، یہ دو طرفہ بھلائی مومن کے سوا کسی اور کے حصے میں نہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا اس کی راہ میں جہاد کرنا۔‏‏‏‏ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں کوئی آسان کام چاہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو فیصلہ قسمت کا تجھ پر جاری ہو تو اس میں اللہ تعالیٰ کا گلہ شکوہ نہ کر، اس کی رضا پر راضی رہ یہ اس سے ہلکا امر ہے[مسند احمد:318/5:ضعیف]‏‏‏‏
پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا ہے کہ ’ امور شرعی میں ان اطاعتوں سے سر منہ تجاوز نہ کرو جس کا حکم ملے بجا لاؤ، جس سے روکا جائے رک جاؤ، اگر تم اس کے ماننے سے اعراض کرتے تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی بوجھ نہیں، ان کے ذمہ صرف تبلیغ تھی جو وہ کر چکے اب عمل نہ کرنے کی سزا تمہیں اٹھانا پڑے گی ‘۔
پھر فرمان ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ واحد و صمد ہے اس کے سوا کسی کی ذات کسی طرح کی عبادت کے لائق نہیں ‘، یہ خبر معنی میں طلب کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید مانو اخلاص کے ساتھ صرف اسی کی عبادت کرو۔
پھر فرماتا ہے ’ چونکہ توکل اور بھروسے کے لائق بھی وہی ہے تم اسی پر بھروسہ رکھو ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:9]‏‏‏‏ ’ مشرق اور مغرب کا رب وہی ہے، معبود حقیقی بھی اس کے سوا کوئی نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز بنا لے ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِـاِذْنِ اللّٰهِ جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اللہ ہی کےحکم سے آتی ہے۔ یہ آیت کریمہ جان، مال، اولاد اور احباب کے مصائب وغیرہ سب کو شامل ہے، چنانچہ بندوں پر نازل ہونے والے تمام مصائب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم ہے، اس پر اس کا قلم جاری ہو چکا، اس پر اس کی مشیت نافذ ہو چکی اور اس کی حکمت نے اس کا تقاضا کیا۔ مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ آیا بندے نے اس ذمہ داری کو پورا کیا جو اس مقام پر اس پر عائد تھی یا وہ اس کو پورا نہ کر سکا؟اگر اس نے اس ذمہ داری کو پورا کیا تو اس کے لیے دنیا و آخرت میں ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے۔ پس جب وہ اس حقیقت پر ایمان لے آیا کہ یہ مصیبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تب اس پر راضی ہوا، اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا، تو اللہ اس کے قلب کو ہدایت سے بہرہ مند کر دیتا ہے، پس وہ مطمئن ہو جاتا ہے، تب وہ مصائب کے وقت گھبراتا نہیں، جیسا کہ اس شخص کا وتیرہ ہے جس کے قلب کو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا نہیں کرتا، مگر مصائب کے وارد ہونے پر اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی اور موجبات صبر کو قائم کرنے کی توفیق سے نوازتا ہے، اس سے اس کو دنیاوی ثواب حاصل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ، جزا و سزا کے دن کے لیے ثواب کو ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰؔبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ (الزمر: 39؍10) جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بے حد و حساب اجر عطا کیا جائے گا۔
اس سے یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ جو کوئی مصائب کے وارد ہونے پر اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا، اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کا لحاظ نہیں کرتا بلکہ محض اسباب کے ساتھ ٹھہر جاتا ہے، اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے۔
جب بندہ نفس پر بھروسہ کرتا ہے تو نفس کے پاس چیخ و پکار اور بے صبری کے سوا کچھ نہیں۔ یہ وہ فوری سزا ہے جو آخرت کی سزا سے پہلے بندے کو اس دنیا میں اس پاداش میں ملتی ہے کہ اس نے صبر میں کوتاہی کی جو اس پر واجب تھا۔یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق ہے ﴿ وَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ اور جو کوئی اللہ پر ایمان لائے تو مصائب کے خاص مقام میں بھی اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت عطا کرتا ہے۔ رہی وہ چیز جو عموم لفظی کی حیثیت سے اس سے تعلق رکھتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ہر وہ شخص جو ایمان لایا، یعنی ایسا ایمان جو مامور بہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا، پھر ایمان جن لوازم و واجبات کا تقاضا کرتا ہے، اس کے ایمان نے ان کی تصدیق کی۔ یہ سبب جس کو بندے نے اختیار کیا، اس کے اقوال و افعال، اس کے تمام احوال اور اس کے علم و عمل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے ہدایت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یہ بہترین جزا ہے جو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو عطا کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی سے بہرہ مند کرتا ہے۔
اصل ثابت قدمی، دل کی ثابت قدمی، اس کا صبر اور ہر قسم کے فتنہ کے وارد ہونے کے وقت اس کا یقین ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَةِ (ابراہیم:14؍27) اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے مضبوط بات کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثبات عطا کرتا ہے۔ پس اہل ایمان کے دل لوگوں میں سب سے زیادہ راہ ہدایت پر اور وہ گھبراہٹ اور خوف کے موقعوں پر سب سے زیادہ ثابت قدم ہوتے ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایمان ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {ما أصاب من مصيبةٍ إلاَّ بإذنِ الله}: وهذا عامٌّ لجميع المصائب في النفس والمال والولد والأحباب ونحوهم؛ فجميع ما أصاب العباد بقضاء الله وقدره؛ قد سبق بذلك علمُ الله وجرى به قلمُه ونفذت به مشيئتُه واقتضتْه حكمتُه، ولكنَّ الشأن كل الشأن: هل يقومُ العبد بالوظيفة التي عليه في هذا المقام أم لا يقوم بها؟ فإنْ قام بها؛ فله الثواب الجزيل والأجر الجميل في الدُّنيا والآخرة؛ فإذا آمن أنها من عند الله، فرضي بذلك وسلَّم لأمره؛ هدى الله قلبه، فاطمأنَّ ولم ينزعجْ عند المصائب؛ كما يجري ممَّن لم يهدِ الله قلبه، بل يرزقه الله الثبات عند ورودِها والقيام بموجب الصبر، فيحصل له بذلك ثوابٌ عاجلٌ مع ما يدَّخر اللهُ له يوم الجزاء من الأجر العظيم ؛ كما قال تعالى: {إنَّما يُوَفَّى الصابرون أجرهم بغير حساب}.

وعُلِمَ من ذلك أنَّ من لم يؤمنْ بالله عند ورود المصائب؛ بأن لم يلحظْ قضاء الله وقدره بل وقف مع مجرَّد الأسباب؛ أنَّه يُخذل ويَكِلُه الله إلى نفسه، وإذا وُكِلَ العبد إلى نفسه؛ فالنفس ليس عندها إلاَّ الهلع والجزع الذي هو عقوبةٌ عاجلةٌ على العبد قبل عقوبة الآخرة على ما فرَّط في واجب الصبر، هذا ما يتعلَّق بقوله: {ومَن يؤمِنْ بالله يَهْدِ قلبَه} في مقام المصائب الخاصِّ، وأمَّا ما يتعلَّق بها من حيث العموم اللَّفظيُّ؛ فإنَّ الله أخبر أنَّ كلَّ مَنْ آمنَ؛ أي: الإيمان المأمور به، وهو الإيمان بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشرِّه، وصدَّق إيمانه بما يقتضيه الإيمان من لوازمه وواجباته؛ أنَّ هذا السبب الذي قام به العبدُ أكبرُ سببٍ لهداية الله له في أقواله وأفعاله وجميع أحواله وفي علمه وعمله، وهذا أفضل جزاءٍ يعطيه الله لأهل الإيمان؛ كما قال تعالى مخبراً أنَّه يثبِّت

المؤمنين في الحياة الدنيا وفي الآخرة، وأصل الثبات ثباتُ القلب وصبرُه ويقينُه عند ورود كلِّ فتنة، فقال: {يُثبِّتُ الله الذين آمنوا بالقول الثابتِ في الحياة الدُّنيا وفي الآخرة}؛ فأهلُ الإيمان أهدى الناس قلوباً وأثبتُهم عند المزعجات والمقلقات، وذلك لما معهم من الإيمان.