وَ اَنۡفِقُوۡا مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ فَیَقُوۡلَ رَبِّ لَوۡ لَاۤ اَخَّرۡتَنِیۡۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَکُنۡ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰﴾
اور اس میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمھیں دیا ہے، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے، پھر وہ کہے اے میرے رب! تونے مجھے قریب مدت تک مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیک لوگوں میں سے ہو جاتا۔
En
اور جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس (وقت) سے پیشتر خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کی موت آجائے تو (اس وقت) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار تو نے مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا
En
اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راه میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 10) ➊ {وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ …: ” مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی تیسری آیت کی تفسیر۔ نفاق سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے جتنا ہو سکے مرنے سے پہلے خرچ کرنے کا حکم دیا۔
➋ { مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُوْلَ …:} یعنی مرتے وقت یہ دعا اور تمنا کرنا بے کار ہے، عقل مند کا کام یہ ہے کہ مہلت سے فائدہ اٹھائے اور مرنے سے پہلے آخرت کا سامان تیار کرے۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۴۴) اور سورۂ مومنون (۹۹، ۱۰۰)۔
➌ {فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ:” فَاَصَّدَّقَ “} اصل میں {”فَأَتَصَدَّقُ“} ہے، اس پر نصب اس لیے آیا ہے کہ یہ{” لَوْ لَاۤ “} کے جواب میں ہے جو تحضیض کے لیے ہے اور اس میں طلب اور شرط کا مفہوم پایا جاتا ہے اور اس پر ”فاء“ آ رہی ہے جس کے بعد {”أَنْ“} ناصبہ مقدر ہے اور {” اَكُنْ “} مجزوم اس لیے ہے کہ اس کا عطف جواب شرط کے محل پر ہے اور اس پر ”فاء“ نہیں آ رہی، گویا اصل کلام اس طرح ہے: {”رَبِّ أَخِّرْنِيْ إِلٰی أَجَلٍ قَرِيْبٍ فَإِنْ أَخَّرْتَنِيْ أَتَصَدَّقْ وَ أَكُنْ مِّنَ الصَّالِحِيْنَ۔“}
➋ { مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُوْلَ …:} یعنی مرتے وقت یہ دعا اور تمنا کرنا بے کار ہے، عقل مند کا کام یہ ہے کہ مہلت سے فائدہ اٹھائے اور مرنے سے پہلے آخرت کا سامان تیار کرے۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۴۴) اور سورۂ مومنون (۹۹، ۱۰۰)۔
➌ {فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ:” فَاَصَّدَّقَ “} اصل میں {”فَأَتَصَدَّقُ“} ہے، اس پر نصب اس لیے آیا ہے کہ یہ{” لَوْ لَاۤ “} کے جواب میں ہے جو تحضیض کے لیے ہے اور اس میں طلب اور شرط کا مفہوم پایا جاتا ہے اور اس پر ”فاء“ آ رہی ہے جس کے بعد {”أَنْ“} ناصبہ مقدر ہے اور {” اَكُنْ “} مجزوم اس لیے ہے کہ اس کا عطف جواب شرط کے محل پر ہے اور اس پر ”فاء“ نہیں آ رہی، گویا اصل کلام اس طرح ہے: {”رَبِّ أَخِّرْنِيْ إِلٰی أَجَلٍ قَرِيْبٍ فَإِنْ أَخَّرْتَنِيْ أَتَصَدَّقْ وَ أَكُنْ مِّنَ الصَّالِحِيْنَ۔“}
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 خرچ کرنے سے مراد زکوٰۃ کی ادائیگی اور دیگر امور خیر میں خرچ کرنا ہے۔ 10۔ 2 اس سے معلوم ہوا کہ زکواۃ کی ادائیگی اور انفاق فی سبیل اللہ میں اور اسی طرح اگر حج کی استطاعت ہو تو اس کی ادائیگی میں قطعا تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ موت کا کوئی پتہ نہیں کس وقت آجائے؟ اور یہ فرائض اس کے ذمے رہ جائیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ اور جو کچھ ہم نے تمہیں رزق دیا ہے۔ اس میں سے وہ وقت آنے سے پہلے پہلے خرچ کر لو کہ تم میں سے کسی کو موت آئے تو کہنے لگے: اے میرے پروردگار! تو نے مجھے تھوڑی مدت اور کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ کر لیتا [15] اور صالح لوگوں میں شامل ہو جاتا
[15] افضل ترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضروریات کے علی الرغم کیا جائے :۔
بخل یا شحّ اور ایمان دو متضاد چیزیں ہیں۔ جو ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ بخل دراصل نفاق کی علامت ہے ایمان کی نہیں۔ بخیل آدمی ساری عمر پیسہ جوڑنے میں گزار دیتا ہے۔ کسی وقت بھی مال کی محبت اس کے دل سے جدا نہیں ہوتی بلکہ بڑھاپے میں اور زیادہ بڑھنے لگتی ہے۔ پھر جب موت سر پر کھڑی ہوتی ہے اور اسے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اب مجھے یہ مال و دولت چھوڑ چھاڑ کر خالی ہاتھ جانا پڑے گا اس وقت البتہ اس کا جی چاہتا ہے کہ صدقہ کر کے اپنے مال سے جتنا زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے اٹھا لوں۔ اس وقت بھی اس کا اصل مقصد کسی محتاج کی احتیاج دور کرنا نہیں ہوتا۔ بلکہ ”بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی“ کے مصداق وہ جبراً جدا ہونے والے مال سے صدقہ کر کے ثواب حاصل کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ اس وقت صدقہ کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اجر کے لحاظ سے کون سا صدقہ بڑا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تو تندرستی کی حالت میں کرے، حرص رکھتا ہو، فقر سے ڈرتا ہو اور دولت کی امید رکھتا ہو لہٰذا صدقہ کرنے میں جلدی کر۔ ایسا نہ ہو کہ جان لبوں پر آجائے تو کہنے لگے کہ اتنا مال فلاں کو دے دو۔ اور اتنا فلاں کو۔ حالانکہ اس وقت یہ مال اس کا نہیں بلکہ اس کے وارثوں کا ہوتا ہے“ [مسلم۔ كتاب الزكوٰة۔ باب ان افضل الصدقة۔۔]
ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اعمال صالحہ میں صدقات کو خصوصی اہمیت ہے۔
ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اعمال صالحہ میں صدقات کو خصوصی اہمیت ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
موت کے وقت خواہش اعمال ٭٭
اس آیت میں تو کافروں کی مذمت کا ذکر ہے، دوسری آیت میں نیک عمل میں کمی کرنے والوں کے افسوس کا بیان اس طرح ہوا ہے، «حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدهمْ الْمَوْت قَالَ رَبّ اِرْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْت كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:99-100] یعنی ’ جب ان میں سے کسی کو موت آنے لگتی ہے، تو کہتا ہے، میرے رب! مجھے لوٹا دے، تو میں نیک اعمال کر لوں ‘۔
یہاں فرماتا ہے ’ موت کا وقت آگے پیچھے نہیں ہوتا، اللہ خود خبر رکھنے والا ہے کہ کون اپنے قول میں صادق ہے اور اپنے سوال میں حق بجانب ہے یہ لوگ تو اگر لوٹائے جائیں تو پھر ان باتوں کو بھول جائیں گے اور وہی کچھ کرنے لگ جائیں گے جو اس سے پہلے کرتے رہے ‘۔ ترمذی میں { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر وہ شخص جو مالدار ہو اور اس نے حج نہ کیا ہو یا زکوٰۃ نہ دی ہو وہ موت کے وقت دنیا میں واپس لوٹنے کی آرزو کرتا ہے، ایک شخص نے کہا: اللہ کا خوف کیجئے واپسی کی آرزو تو کافر کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: جلدی کیوں کرتے ہو؟ سنو! قرآن فرماتا ہے: پھر آپ نے یہ پورا رکوع تلاوت کر سنایا اس نے پوچھا: زکوٰۃ کتنے میں واجب ہے فرمایا: دو سو اور اس سے زیادہ میں، پوچھا: حج کب فرض ہو جاتا ہے، فرمایا: جب راہ خرچ اور سواری خرچ کی طاقت ہو۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3316،قال الشيخ الألباني:-ضعیف]
ایک مرفوع روایت بھی اسی طرح مروی ہے لیکن موقوف ہی زیادہ صحیح ہے، ضحاک رحمہ اللہ کی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی بھی منقطع ہے، دسری سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے وہ بھی ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے زیادتی عمر کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اجل آ جائے پھر مؤخر نہیں ہوتی، زیادتی عمر صرف اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو نیک صالح اولاد دے، جو اس کے لیے اس کے مرنے کے بعد دعا کرتی رہے اور دعا اسے اس کی قبر میں پہنچتی رہے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ موضوع]
اللہ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ المنافقون کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ»
یہاں فرماتا ہے ’ موت کا وقت آگے پیچھے نہیں ہوتا، اللہ خود خبر رکھنے والا ہے کہ کون اپنے قول میں صادق ہے اور اپنے سوال میں حق بجانب ہے یہ لوگ تو اگر لوٹائے جائیں تو پھر ان باتوں کو بھول جائیں گے اور وہی کچھ کرنے لگ جائیں گے جو اس سے پہلے کرتے رہے ‘۔ ترمذی میں { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر وہ شخص جو مالدار ہو اور اس نے حج نہ کیا ہو یا زکوٰۃ نہ دی ہو وہ موت کے وقت دنیا میں واپس لوٹنے کی آرزو کرتا ہے، ایک شخص نے کہا: اللہ کا خوف کیجئے واپسی کی آرزو تو کافر کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: جلدی کیوں کرتے ہو؟ سنو! قرآن فرماتا ہے: پھر آپ نے یہ پورا رکوع تلاوت کر سنایا اس نے پوچھا: زکوٰۃ کتنے میں واجب ہے فرمایا: دو سو اور اس سے زیادہ میں، پوچھا: حج کب فرض ہو جاتا ہے، فرمایا: جب راہ خرچ اور سواری خرچ کی طاقت ہو۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3316،قال الشيخ الألباني:-ضعیف]
ایک مرفوع روایت بھی اسی طرح مروی ہے لیکن موقوف ہی زیادہ صحیح ہے، ضحاک رحمہ اللہ کی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی بھی منقطع ہے، دسری سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے وہ بھی ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے زیادتی عمر کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اجل آ جائے پھر مؤخر نہیں ہوتی، زیادتی عمر صرف اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو نیک صالح اولاد دے، جو اس کے لیے اس کے مرنے کے بعد دعا کرتی رہے اور دعا اسے اس کی قبر میں پہنچتی رہے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ موضوع]
اللہ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ المنافقون کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ»