یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
En
مومنو! جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو خدا کی یاد (یعنی نماز) کے لئے جلدی کرو اور (خریدو) فروخت ترک کردو۔ اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے
En
اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 9) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ …:} اہلِ کتاب کی شقاوت اور امیین کی سعادت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہود و نصاریٰ پر جمعہ کا دن فرض کیا گیا تو انھوں نے اسے قبول کرنے میں اختلاف کیا۔ یہود نے اپنے لیے ہفتے کا د ن اور نصاریٰ نے اتوار کا دن عبادت کے لیے مقرر کر لیا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کو جمعہ کے دن کی ہدایت عطا فرما دی، جس سے انھیں یہودو نصاریٰ دونوں پر سبقت حاصل ہو گئی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نحل کی آیت (۱۲۴): «اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ» کی تفسیر۔
➋ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا …:} یہ آیت واضح دلیل ہے کہ جمعہ ان تمام لوگوں پر فرض ہے جو ایمان لا چکے ہیں، خواہ وہ شہر میں رہتے ہوں یا کسی بستی یا بادیہ میں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں باب قائم کیا ہے: {”بَابُ الْجُمُعَةِ فِي الْقُرٰي وَالْمُدُنِ “} (بستیوں اور شہروں میں جمعہ کا باب) اور اس میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کی حدیث لائے ہیں، انھوں نے فرمایا: [إِنَّ أَوَّلَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ بَعْدَ جُمُعَةٍ فِيْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ مَسْجِدِ عَبْدِ الْقَيْسِ بِجُوَاثٰٰی مِنَ الْبَحْرَيْنِ] [بخاري، الجمعۃ، باب الجمعۃ في القری والمدن: ۸۹۲] ”پہلا جمعہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں جمعہ کے بعد ادا کیا گیا عبد القیس قبیلے کی مسجد میں ہوا جو بحرین کے جواثی ٰمقام پر تھی۔“ ابو داؤد میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کی اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: [بِجُوَاثَاءَ قَرْيَةٍ مِّنْ قُرَی الْبَحْرَيْنِ] [أبو داوٗد، الصلاۃ، باب الجمعۃ فی القرٰی: ۱۰۶۸] ”جواثا بحرین کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے۔“ آیت میں جمعہ کے دن صلاۃ کی ندا پر اللہ کے ذکر کی طرف سعی کا حکم ہے اور باجماعت صلاۃ ادا کرنا صرف شہر میں نہیں بلکہ ہر بستی اور بادیہ میں فرض ہے۔
ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ فرما رہے تھے: [مَا مِنْ ثَلاَثَةٍ فِيْ قَرْيَةٍ وَلاَ بَدْوٍ لاَ تُقَامُ فِيْهِمُ الصَّلاَةُ إِلاَّ قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب في التشدید في ترک الجماعۃ: ۵۴۷] ”کوئی تین آدمی نہیں جو کسی بستی یا بادیہ میں ہوں، جن میں نماز قائم نہ کی جاتی ہو مگر ان پر شیطان غالب آچکا ہوتا ہے۔ سو جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ بھیڑیا صرف اس بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے دور ہو۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ لوگوں نے عمر(بن خطاب رضی اللہ عنہ) کو خط لکھ کر جمعہ کے متعلق سوال کیا، انھوں نے لکھا: [جَمِّعُوْا حَيْثُمَا كُنْتُمْ] [مصنف ابن أبي شیبۃ: 101/2، ح: ۵۱۰۸] ”تم جہا ں بھی ہو جمعہ ادا کرو۔ “ اس کی سند بخاری و مسلم کی شرط پر ہے۔ جن لوگوں نے جمعہ کے لیے شہر یا حاکم وغیرہ کی شرط لگائی ہے ان کے پاس قرآن و سنت کی کوئی دلیل نہیں اور مشہور روایت {” لَاجُمُعَةَ وَلَا تَشْرِيْقَ إِلَّا فِيْ مِصْرٍ جَامِعٍ“} (جمعہ اور عید جامع شہر کے سوا نہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ یہ علی رضی اللہ عنہ کا قول مشہور ہے، جو عمر رضی اللہ عنہ کے صحیح سند کے ساتھ مروی قول کے خلاف ہے، جب صحابہ میں اختلاف ہو تو اصل کتاب و سنت کی طرف رجوع واجب ہے (دیکھیے نساء: ۵۹) اور کتاب و سنت کے مطابق تمام مسلمانوں پر ہر جگہ جمعہ فرض ہے، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، البتہ چند لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلٰی كُلِّ مُسْلِمٍ فِيْ جَمَاعَةٍ إِلاَّ أَرْبَعَةً عَبْدٌ مَمْلُوْكٌ أَوِ امْرَأَةٌ أَوْ صَبِيٌّ أَوْ مَرِيْضٌ] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب الجمعۃ للمملوک والمرأۃ: ۱۰۶۷، قال الألباني صحیح] ”جمعہ ہر مسلم پر جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب حق ہے سوائے چار کے، غلام جو کسی کی ملکیت میں ہو یا عورت یا بچہ یا مریض۔ “ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيْسَ عَلٰی مُسَافِرٍ جُمُعَةٌ] [المعجم الأوسط للطبراني: 249/1، ح: ۸۱۸، وقال الألباني صحیح۔ دیکھیے الجامع الصغیر: ۵۴۰۵] ”مسافر پر جمعہ نہیں ہے۔“
جن لوگوں پر جمعہ فرض نہیں اگر وہ جمعہ کے لیے آئیں تو اجر کا باعث ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں بھی جمعہ کے لیے آتی تھیں، اس سے اجر کے علاوہ قرآن کی آیات سن کر انھیں یاد کرنے کا موقع ملتا، قرآن و سنت سن کر علم میں اضافہ ہو تا اور نصیحت سن کر اصلاح ہوتی تھی۔ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [مَا أَخَذْتُ «قٓ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ» إِلَّا عَنْ لِسَانِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ عَلَی الْمِنْبَرِ إِذَا خَطَبَ النَّاسَ] [مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ و الخطبۃ: ۵۲ /۸۷۳] ”میں نے سورۂ «قٓ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی، آپ اسے ہر جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے منبر پر پڑھا کرتے تھے۔“ صحیح مسلم کے اسی باب کی ایک روایت (۸۷۳) میں ام ہشام رضی اللہ عنھا ہی کے الفاظ ہیں: [مَا حَفِظْتُ «قٓ» إِلَّا مِنْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ] مطلب اوپر گزر چکا ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو منع فرمایا کہ وہ عورتوں کو اس بات سے روکیں کہ وہ مسجد میں آکر اجر اور قرآن و سنت کے علم سے اپنا حصہ حاصل کریں۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ حُظُوَظَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِذَا اسْتَأْذَنُوْكُمْ] [مسلم، الصلاۃ، باب خروج النساء إلی المساجد …: ۱۴۰ /۴۴۲] ”عورتوں کو مساجد میں سے ان کے حصے میں آنے والی چیزوں سے مت روکو، جب وہ تم سے اجازت مانگیں۔“
جمعہ کے دن کی بدعات میں سے ایک بدعت ظہر احتیاطی ہے۔ کچھ لوگ جن کا خیال ہے کہ اسلامی حاکم کے بغیر جمعہ نہیں ہوتا اور دیہات میں بھی جمعہ نہیں ہوتا، شہروں اور گاؤں میں جمعہ کی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد احتیاطاً ظہر کی چار رکعتیں بھی پڑھتے ہیں، یہ بد ترین بدعت ہے، کیونکہ اس کی بنیاد شک پر ہے جو کفار کا معمول ہے، جیسا کہ فرمایا: «بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ يَّلْعَبُوْنَ» [الدخان: ۹] ”بلکہ وہ ایک شک میں کھیل رہے ہیں۔“
➌ { اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ: ” اَلصَّلاَةُ “} پر ”الف لام“ عہد کا ہے، مراد وہ نماز ہے جو جمعہ کے دن کے ساتھ خاص ہے اور سب جانتے ہیں کہ وہ نماز جمعہ ہے جو اس دن ظہر کی جگہ ادا کی جاتی ہے اور نداسے مراد اذان ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ کی آیت (۵۸) کی تفسیر۔ آج کل عام طور پر جمعہ کے دن خطبے سے پہلے دو اذانیں کہی جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھما کے زمانے میں یہ دو اذانیں نہیں بلکہ ایک ہی اذان تھی۔ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: [كَانَ النِّدَاءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَّلُهُ إِذَا جَلَسَ الإِْمَامُ عَلَی الْمِنْبَرِ عَلٰی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ وَكَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَی الزَّوْرَاءِ] [بخاري، الجمعۃ، باب الأذان یوم الجمعۃ: ۹۱۲] ”جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھما کے عہد میں یہی معمول تھا۔ پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور لوگ زیادہ ہو گئے تو انھوں نے (بازار میں ایک مقام) زَوراء پر تیسری اذان کا اضافہ کر دیا۔“ یاد رہے کہ اس تیسری اذان سے مراد وہ اذان ہے جو آج کل خطبے سے پندرہ منٹ یا آدھ گھنٹہ پہلے کہی جاتی ہے، اس کے بعد کی دو اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہیں۔ یہ تیسری اذان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھما کے دور میں نہیں کہی جاتی تھی، عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی کثرت کے پیشِ نظر اس کا اضافہ کیا، مگر ان کے زمانے میں یہ اذان مسجد میں نہیں کہی جاتی تھی بلکہ بازار میں کہی جاتی تھی، تاکہ لوگوں کو اطلاع ہو جائے۔ آج کل نہ اس اذان کا اہتمام مسجد سے الگ بازار میں کیا جاتا ہے، نہ لاؤڈ سپیکر کی وجہ سے اس کی ضرورت باقی ہے اور نہ ہی مسجد میں خطبے سے پہلے دو اذانیں عثمان رضی اللہ عنہ کا طریقہ ہے۔ اس لیے خطبے سے پہلے مسجد میں ایک ہی اذان کہی جانی چاہیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما کا طریقہ ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ کا عمل بھی یہی ہے۔
➍ { فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ: ”سَعٰي يَسْعٰي سَعْيًا“} (ف) کا معنی دوڑنا بھی ہے اور کوشش کرنا بھی، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى» [النجم:۳۹] ”اور یہ کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔“ یہاں دوسرا معنی مراد ہے، یعنی نہایت کوشش اور اہتمام کے ساتھ آؤ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے دوڑ کر آنے سے منع فرمایا ہے۔
➎ { وَ ذَرُوا الْبَيْعَ:} اگرچہ جمعہ کے لیے پہلے آنا بہت فضیلت کا باعث ہے اور اس کے متعلق احادیث مشہور و معروف ہیں، مگر آخری حد جس کے بعد جمعہ کی طرف روانگی یا اس کے لیے درکار کام کے سوا ہر کام حرام ہو جاتاہے وہ جمعہ کی اذان ہے۔ یہاں {” الْبَيْعَ “} کا ذکر اس خاص واقعہ کے پیش نظر آیا ہے جو اگلی آیت میں آ رہا ہے، ورنہ اللہ کے ذکر کی طرف سعی جس طرح بیع ترک کرنے کے سوا نہیں ہو سکتی دوسرے تمام کام ترک کرنے کے بغیر بھی نہیں ہو سکتی اور ظاہر ہے کہ جب سعی فرض ہے تو ہر وہ کام حرام ہے جو اس سے روکنے والا ہے۔
➏ {ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ:} ظاہر ہے آخرت کے ثواب کے مقابلے میں دنیا کے فائدوں کی کوئی حیثیت نہیں۔
➐ جمعہ کے دن غسل کرنا، اچھے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، پہلے آنا، خاموشی کے ساتھ خطبہ سننا اور دوسرے متعلقہ احکام و فضائل کتب احادیث میں تفصیل سے مذکور ہیں۔
➋ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا …:} یہ آیت واضح دلیل ہے کہ جمعہ ان تمام لوگوں پر فرض ہے جو ایمان لا چکے ہیں، خواہ وہ شہر میں رہتے ہوں یا کسی بستی یا بادیہ میں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں باب قائم کیا ہے: {”بَابُ الْجُمُعَةِ فِي الْقُرٰي وَالْمُدُنِ “} (بستیوں اور شہروں میں جمعہ کا باب) اور اس میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کی حدیث لائے ہیں، انھوں نے فرمایا: [إِنَّ أَوَّلَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ بَعْدَ جُمُعَةٍ فِيْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ مَسْجِدِ عَبْدِ الْقَيْسِ بِجُوَاثٰٰی مِنَ الْبَحْرَيْنِ] [بخاري، الجمعۃ، باب الجمعۃ في القری والمدن: ۸۹۲] ”پہلا جمعہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں جمعہ کے بعد ادا کیا گیا عبد القیس قبیلے کی مسجد میں ہوا جو بحرین کے جواثی ٰمقام پر تھی۔“ ابو داؤد میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کی اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: [بِجُوَاثَاءَ قَرْيَةٍ مِّنْ قُرَی الْبَحْرَيْنِ] [أبو داوٗد، الصلاۃ، باب الجمعۃ فی القرٰی: ۱۰۶۸] ”جواثا بحرین کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے۔“ آیت میں جمعہ کے دن صلاۃ کی ندا پر اللہ کے ذکر کی طرف سعی کا حکم ہے اور باجماعت صلاۃ ادا کرنا صرف شہر میں نہیں بلکہ ہر بستی اور بادیہ میں فرض ہے۔
ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ فرما رہے تھے: [مَا مِنْ ثَلاَثَةٍ فِيْ قَرْيَةٍ وَلاَ بَدْوٍ لاَ تُقَامُ فِيْهِمُ الصَّلاَةُ إِلاَّ قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب في التشدید في ترک الجماعۃ: ۵۴۷] ”کوئی تین آدمی نہیں جو کسی بستی یا بادیہ میں ہوں، جن میں نماز قائم نہ کی جاتی ہو مگر ان پر شیطان غالب آچکا ہوتا ہے۔ سو جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ بھیڑیا صرف اس بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے دور ہو۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ لوگوں نے عمر(بن خطاب رضی اللہ عنہ) کو خط لکھ کر جمعہ کے متعلق سوال کیا، انھوں نے لکھا: [جَمِّعُوْا حَيْثُمَا كُنْتُمْ] [مصنف ابن أبي شیبۃ: 101/2، ح: ۵۱۰۸] ”تم جہا ں بھی ہو جمعہ ادا کرو۔ “ اس کی سند بخاری و مسلم کی شرط پر ہے۔ جن لوگوں نے جمعہ کے لیے شہر یا حاکم وغیرہ کی شرط لگائی ہے ان کے پاس قرآن و سنت کی کوئی دلیل نہیں اور مشہور روایت {” لَاجُمُعَةَ وَلَا تَشْرِيْقَ إِلَّا فِيْ مِصْرٍ جَامِعٍ“} (جمعہ اور عید جامع شہر کے سوا نہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ یہ علی رضی اللہ عنہ کا قول مشہور ہے، جو عمر رضی اللہ عنہ کے صحیح سند کے ساتھ مروی قول کے خلاف ہے، جب صحابہ میں اختلاف ہو تو اصل کتاب و سنت کی طرف رجوع واجب ہے (دیکھیے نساء: ۵۹) اور کتاب و سنت کے مطابق تمام مسلمانوں پر ہر جگہ جمعہ فرض ہے، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، البتہ چند لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلٰی كُلِّ مُسْلِمٍ فِيْ جَمَاعَةٍ إِلاَّ أَرْبَعَةً عَبْدٌ مَمْلُوْكٌ أَوِ امْرَأَةٌ أَوْ صَبِيٌّ أَوْ مَرِيْضٌ] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب الجمعۃ للمملوک والمرأۃ: ۱۰۶۷، قال الألباني صحیح] ”جمعہ ہر مسلم پر جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب حق ہے سوائے چار کے، غلام جو کسی کی ملکیت میں ہو یا عورت یا بچہ یا مریض۔ “ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيْسَ عَلٰی مُسَافِرٍ جُمُعَةٌ] [المعجم الأوسط للطبراني: 249/1، ح: ۸۱۸، وقال الألباني صحیح۔ دیکھیے الجامع الصغیر: ۵۴۰۵] ”مسافر پر جمعہ نہیں ہے۔“
جن لوگوں پر جمعہ فرض نہیں اگر وہ جمعہ کے لیے آئیں تو اجر کا باعث ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں بھی جمعہ کے لیے آتی تھیں، اس سے اجر کے علاوہ قرآن کی آیات سن کر انھیں یاد کرنے کا موقع ملتا، قرآن و سنت سن کر علم میں اضافہ ہو تا اور نصیحت سن کر اصلاح ہوتی تھی۔ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [مَا أَخَذْتُ «قٓ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ» إِلَّا عَنْ لِسَانِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ عَلَی الْمِنْبَرِ إِذَا خَطَبَ النَّاسَ] [مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ و الخطبۃ: ۵۲ /۸۷۳] ”میں نے سورۂ «قٓ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی، آپ اسے ہر جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے منبر پر پڑھا کرتے تھے۔“ صحیح مسلم کے اسی باب کی ایک روایت (۸۷۳) میں ام ہشام رضی اللہ عنھا ہی کے الفاظ ہیں: [مَا حَفِظْتُ «قٓ» إِلَّا مِنْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ] مطلب اوپر گزر چکا ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو منع فرمایا کہ وہ عورتوں کو اس بات سے روکیں کہ وہ مسجد میں آکر اجر اور قرآن و سنت کے علم سے اپنا حصہ حاصل کریں۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ حُظُوَظَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِذَا اسْتَأْذَنُوْكُمْ] [مسلم، الصلاۃ، باب خروج النساء إلی المساجد …: ۱۴۰ /۴۴۲] ”عورتوں کو مساجد میں سے ان کے حصے میں آنے والی چیزوں سے مت روکو، جب وہ تم سے اجازت مانگیں۔“
جمعہ کے دن کی بدعات میں سے ایک بدعت ظہر احتیاطی ہے۔ کچھ لوگ جن کا خیال ہے کہ اسلامی حاکم کے بغیر جمعہ نہیں ہوتا اور دیہات میں بھی جمعہ نہیں ہوتا، شہروں اور گاؤں میں جمعہ کی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد احتیاطاً ظہر کی چار رکعتیں بھی پڑھتے ہیں، یہ بد ترین بدعت ہے، کیونکہ اس کی بنیاد شک پر ہے جو کفار کا معمول ہے، جیسا کہ فرمایا: «بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ يَّلْعَبُوْنَ» [الدخان: ۹] ”بلکہ وہ ایک شک میں کھیل رہے ہیں۔“
➌ { اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ: ” اَلصَّلاَةُ “} پر ”الف لام“ عہد کا ہے، مراد وہ نماز ہے جو جمعہ کے دن کے ساتھ خاص ہے اور سب جانتے ہیں کہ وہ نماز جمعہ ہے جو اس دن ظہر کی جگہ ادا کی جاتی ہے اور نداسے مراد اذان ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ کی آیت (۵۸) کی تفسیر۔ آج کل عام طور پر جمعہ کے دن خطبے سے پہلے دو اذانیں کہی جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھما کے زمانے میں یہ دو اذانیں نہیں بلکہ ایک ہی اذان تھی۔ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: [كَانَ النِّدَاءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَّلُهُ إِذَا جَلَسَ الإِْمَامُ عَلَی الْمِنْبَرِ عَلٰی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ وَكَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَی الزَّوْرَاءِ] [بخاري، الجمعۃ، باب الأذان یوم الجمعۃ: ۹۱۲] ”جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھما کے عہد میں یہی معمول تھا۔ پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور لوگ زیادہ ہو گئے تو انھوں نے (بازار میں ایک مقام) زَوراء پر تیسری اذان کا اضافہ کر دیا۔“ یاد رہے کہ اس تیسری اذان سے مراد وہ اذان ہے جو آج کل خطبے سے پندرہ منٹ یا آدھ گھنٹہ پہلے کہی جاتی ہے، اس کے بعد کی دو اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہیں۔ یہ تیسری اذان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھما کے دور میں نہیں کہی جاتی تھی، عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی کثرت کے پیشِ نظر اس کا اضافہ کیا، مگر ان کے زمانے میں یہ اذان مسجد میں نہیں کہی جاتی تھی بلکہ بازار میں کہی جاتی تھی، تاکہ لوگوں کو اطلاع ہو جائے۔ آج کل نہ اس اذان کا اہتمام مسجد سے الگ بازار میں کیا جاتا ہے، نہ لاؤڈ سپیکر کی وجہ سے اس کی ضرورت باقی ہے اور نہ ہی مسجد میں خطبے سے پہلے دو اذانیں عثمان رضی اللہ عنہ کا طریقہ ہے۔ اس لیے خطبے سے پہلے مسجد میں ایک ہی اذان کہی جانی چاہیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما کا طریقہ ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ کا عمل بھی یہی ہے۔
➍ { فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ: ”سَعٰي يَسْعٰي سَعْيًا“} (ف) کا معنی دوڑنا بھی ہے اور کوشش کرنا بھی، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى» [النجم:۳۹] ”اور یہ کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔“ یہاں دوسرا معنی مراد ہے، یعنی نہایت کوشش اور اہتمام کے ساتھ آؤ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے دوڑ کر آنے سے منع فرمایا ہے۔
➎ { وَ ذَرُوا الْبَيْعَ:} اگرچہ جمعہ کے لیے پہلے آنا بہت فضیلت کا باعث ہے اور اس کے متعلق احادیث مشہور و معروف ہیں، مگر آخری حد جس کے بعد جمعہ کی طرف روانگی یا اس کے لیے درکار کام کے سوا ہر کام حرام ہو جاتاہے وہ جمعہ کی اذان ہے۔ یہاں {” الْبَيْعَ “} کا ذکر اس خاص واقعہ کے پیش نظر آیا ہے جو اگلی آیت میں آ رہا ہے، ورنہ اللہ کے ذکر کی طرف سعی جس طرح بیع ترک کرنے کے سوا نہیں ہو سکتی دوسرے تمام کام ترک کرنے کے بغیر بھی نہیں ہو سکتی اور ظاہر ہے کہ جب سعی فرض ہے تو ہر وہ کام حرام ہے جو اس سے روکنے والا ہے۔
➏ {ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ:} ظاہر ہے آخرت کے ثواب کے مقابلے میں دنیا کے فائدوں کی کوئی حیثیت نہیں۔
➐ جمعہ کے دن غسل کرنا، اچھے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، پہلے آنا، خاموشی کے ساتھ خطبہ سننا اور دوسرے متعلقہ احکام و فضائل کتب احادیث میں تفصیل سے مذکور ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
9۔ 1 یہ اذان کس طرح دی جائے، اس کے الفاظ کیا ہوں؟ یہ قرآن میں کہیں نہیں ہے۔ البتہ حدیث میں ہے جس سے یہ معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن ہے نہ اس پر عمل کرنا ہی۔ جمعہ کو، جمعہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ ہر چیز کی پیدائش سے فارغ ہوگیا تھا، یوں گویا تمام مخلوقات کا اس دن اجتماع ہوگیا، یا نماز کے لئے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے اس بنا پر کہتے ہیں (فتح القدیر) فَاَسْعَوْا کا مطلب یہ نہیں کہ دوڑ کر آؤ، بلکہ یہ ہے کہ اذان کے بعد فوراً کاروبار بند کر کے آجاؤ۔ کیونکہ نماز کے لیے دوڑ کر آنا ممنوع ہے، وقار اور سکینت کے ساتھ آنے کی تاکید کی گئی ہے۔ (صحیح بخاری) بعض حضرات نے ذروا البیع (خریدو فروخت) چھوڑ دو سے استدلال کیا ہے کہ جمعہ صرف شہروں میں فرض ہے اہل دیہات پر نہیں۔ کیونکہ کاروبار اور خریدوفروخت شہروں میں ہی ہوتی ہے دیہاتوں میں نہیں۔ حالانکہ اول تو دنیا میں کوئی ایسا گاؤں نہیں جہاں خریدو فروخت اور کاروبار نہ ہوتا ہو اس لیے یہ دعوٰی خلاف واقعہ دوسرا بیع اور کاروبار سے مطلب دنیا کے مشاغل ہیں وہ جیسے بھی اور جس قسم کے بھی ہوں۔ اذان جمعہ کے بعد انہیں ترک کردیا جائے۔ کیا اہل دیہات کے مشاغل دنیا نہیں ہوتے؟ کیا کیھتی باڑی کاروبار اور مشاغل دنیا سے مخلتف چیز ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ اے ایمان والو! جمعہ کے دن جب نماز کے لیے اذان دی جائے تو ذکر الٰہی کی طرف [14] دوڑ کر آؤ اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ اگر تم جانو تو یہی بات تمہارے لیے بہتر ہے۔
[14] سنت کے واجب الاتباع ہونے پر دلیل :۔
انداز بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کے نزول سے پیشتر اذان اور جمعہ دونوں چیزوں سے خوب متعارف تھے۔ انہیں ہدایت صرف یہ دی جا رہی ہے کہ جب جمعہ کے لیے اذان ہو جائے تو خرید و فروخت اور دوسرے دنیوی مشاغل سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فوراً جمعہ کا خطبہ سننے اور نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں پہنچ جاؤ۔ حالانکہ قرآن میں نہ کہیں اذان کے کلمات کا ذکر ہے اور نہ نماز جمعہ کی ترکیب کا۔ یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ہیں۔ جن کی قرآن سے توثیق کر دی گئی ہے۔ اس سے صاف واضح ہے کہ جس طرح قرآن کے احکام واجب الاتباع ہیں اسی طرح رسول اللہ کے احکام بھی واجب الاتباع ہیں اور جو شخص صرف قرآن کو واجب الاتباع سمجھتا ہے وہ دراصل قرآن کا بھی منکر ہے۔ اذان کی ابتدا کیسے ہوئی؟ اس کے کلمات اور مسائل و فضائل کیا ہیں؟ اس کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
اذان سے متعلق احادیث اور مسائل :۔
1۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسلمان جب مدینہ آئے تو نماز کے لیے یوں ہی جمع ہو جایا کرتے۔ ایک وقت ٹھیرا لیتے نماز کے لیے اذان نہیں ہوتی تھی۔ ایک دن انہوں نے اس بارے میں گفتگو کی تو بعض کہنے لگے نصاریٰ کی طرح ایک گھڑیال بنا لو اور بعض کہنے لگے یہود کی طرح ایک بگل بنالو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک آدمی کیوں نہیں مقرر کر لیتے جو نماز کے لیے ندا کر دیا کرے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسی رائے کو پسند کرتے ہوئے) بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بلال اٹھو اور نماز کے لیے اذان کہو۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب بدء الاذان]
2۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا گیا کہ اذان کے الفاظ دو دو بار اور تکبیر کے الفاظ ایک ایک بار کہیں۔ بجز قد قامت الصلوۃ کے۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب الاذان مثنیٰ مثنیٰ]
3۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے۔ آپ صبح ہونے تک ہمیں چڑھائی کرنے سے روکے رکھتے۔ پھر اگر وہاں (صبح کی) اذان سن لیتے تو ان پر حملہ نہ کرتے اور اگر اذان کی آواز نہ آتی تو پھر حملہ کرتے۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب ما یحقن بالاذان من الدماء]
4ـ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اذان سنو تو جو کچھ مؤذن کہے وہی کچھ تم بھی کہتے جاؤ“ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب مایقول اذا سمع المنادی]
البتہ جب وہ حی علی الصلٰوۃ کہے تو لاحول ولا قوۃ الا باللّٰه کہے۔
5۔ جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذان سننے کے بعد جو شخص یہ دعا کرے: ﴿اللٰهم ربَّ هذه الدعوةِ التامة والصلٰوة القائمة اٰتِ محمد نالوسيلةَ والفضيلةَ وابعثه مقامًا محمودَنِ الذى وعدتَه﴾ قیامت کے دن میری شفاعت کا مستحق ہو گا۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب الدعاء عندالنداء]
6۔ عبد اللہ بن حارث بصری کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس نے ہم کو (جمعہ کا) خطبہ سنایا۔ اس دن کیچڑ تھی۔ جب مؤذن حی علیٰ الصلوۃ کہنے کو تھا تو انہوں نے اسے حکم دیا کہ یوں پکارے الصلوٰۃ فی الرحال (اپنے اپنے ٹھکانوں پر ہی نماز پڑھ لو) یہ سن کو لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ کام تو اس ہستی نے کیا جو مجھ سے بہتر تھے اور اس میں شک نہیں کہ جمعہ واجب ہے۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب الکلام فی الاذان]
7۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رضی اللہ عنہ تو رات رہے سے (سحری کی) اذان دیتا ہے اور جب تک ام مکتوم کا بیٹا اذان نہ دے۔ تم لوگ کھاتے پیتے رہو“ اور ام مکتوم کے بیٹے (عبد اللہ) اندھے تھے۔ وہ اس وقت تک اذان نہ دیتے جب تک لوگ یہ نہ کہتے کہ صبح ہو گئی، صبح ہو گئی۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب اذان الاعمٰی۔۔]
8۔ ابو جحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے دیکھا اور میں بھی (ان کی طرح) اذان میں ادھر ادھر منہ پھیرنے لگا۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب ھل یتبع الموذن فاہ]
2۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا گیا کہ اذان کے الفاظ دو دو بار اور تکبیر کے الفاظ ایک ایک بار کہیں۔ بجز قد قامت الصلوۃ کے۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب الاذان مثنیٰ مثنیٰ]
3۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے۔ آپ صبح ہونے تک ہمیں چڑھائی کرنے سے روکے رکھتے۔ پھر اگر وہاں (صبح کی) اذان سن لیتے تو ان پر حملہ نہ کرتے اور اگر اذان کی آواز نہ آتی تو پھر حملہ کرتے۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب ما یحقن بالاذان من الدماء]
4ـ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اذان سنو تو جو کچھ مؤذن کہے وہی کچھ تم بھی کہتے جاؤ“ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب مایقول اذا سمع المنادی]
البتہ جب وہ حی علی الصلٰوۃ کہے تو لاحول ولا قوۃ الا باللّٰه کہے۔
5۔ جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذان سننے کے بعد جو شخص یہ دعا کرے: ﴿اللٰهم ربَّ هذه الدعوةِ التامة والصلٰوة القائمة اٰتِ محمد نالوسيلةَ والفضيلةَ وابعثه مقامًا محمودَنِ الذى وعدتَه﴾ قیامت کے دن میری شفاعت کا مستحق ہو گا۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب الدعاء عندالنداء]
6۔ عبد اللہ بن حارث بصری کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس نے ہم کو (جمعہ کا) خطبہ سنایا۔ اس دن کیچڑ تھی۔ جب مؤذن حی علیٰ الصلوۃ کہنے کو تھا تو انہوں نے اسے حکم دیا کہ یوں پکارے الصلوٰۃ فی الرحال (اپنے اپنے ٹھکانوں پر ہی نماز پڑھ لو) یہ سن کو لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ کام تو اس ہستی نے کیا جو مجھ سے بہتر تھے اور اس میں شک نہیں کہ جمعہ واجب ہے۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب الکلام فی الاذان]
7۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رضی اللہ عنہ تو رات رہے سے (سحری کی) اذان دیتا ہے اور جب تک ام مکتوم کا بیٹا اذان نہ دے۔ تم لوگ کھاتے پیتے رہو“ اور ام مکتوم کے بیٹے (عبد اللہ) اندھے تھے۔ وہ اس وقت تک اذان نہ دیتے جب تک لوگ یہ نہ کہتے کہ صبح ہو گئی، صبح ہو گئی۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب اذان الاعمٰی۔۔]
8۔ ابو جحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے دیکھا اور میں بھی (ان کی طرح) اذان میں ادھر ادھر منہ پھیرنے لگا۔ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب ھل یتبع الموذن فاہ]
نماز جمعہ سے متعلق احادیث اور مسائل :۔
آپ جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو نماز جمعہ کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ اب جمعہ کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن ہر جوان پر غسل واجب ہے اور مسواک کرنا اور اگر میسر ہو تو خوشبو بھی لگانا۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الطیب للجمعۃ]
2۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تم میں سے جمعہ کی نماز کے لیے آئے تو غسل کرے۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب فضل الغسل یوم الجمعۃ]
ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ:
1۔ جمعہ فرض کفایہ ہے فرض عین نہیں۔ نہ یہ بچوں پر فرض ہے نہ بوڑھوں پر، نہ عورتوں پر نہ مسافروں یا مریضوں پر نیز بارش کے دن کسی پر بھی فرض نہیں جیسا کہ اذان سے متعلق حدیث نمبر 6 سے بھی واضح ہوتا ہے۔
2۔ جمعہ کے دن غسل کرنا ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر جمعہ واجب ہے وہ غسل کر کے نماز کے لیے جائے جیسا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے واضح ہے۔ تاہم بعض علماء نے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو وجوب کے لیے نہیں استحباب کے معنوں میں لیا ہے اور ان کی دلیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث ہے جس میں مذکور ہے کہ لوگ دور دور سے اور بلند مقامات سے آتے۔ انہوں نے اون کی عبائیں پہنی ہوتیں اور گرد و غبار اور پسینہ کی وجہ سے ان سے بو آتی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہا کر آنے کا حکم دیا تھا۔ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
اور جب ایسی صورت نہ ہو تو نہا کر آنا واجب نہیں۔ البتہ مستحب ضرور ہے۔
3۔ مسواک کرنا اور خوشبو لگانا سنت اور مستحب ہے واجب نہیں۔
4۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ جمعہ کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب وقت الجمعۃ۔۔]
5۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جمعہ کی اذان ہوتے ہی خرید و فروخت حرام ہو جاتی ہے اور عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ ہر پیشہ (اور شغل) حرام ہو جاتا ہے۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب المشی الی الجمعۃ]
6۔ سیدنا سائب بن یزید کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جمعہ کے دن ایک ہی اذان ہوا کرتی۔ جب امام منبر پر بیٹھ جاتا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب مدینہ کی آبادی بہت بڑھ گئی تو انہوں نے زوراء (مدینہ کے بازار میں ایک مقام کا نام) پر تیسری اذان (یعنی اقامت سمیت) بڑھائی۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الاذان یوم الجمعۃ]
7۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ کے دن) دو خطبے پڑھتے اور ان کے درمیان بیٹھتے۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب القعدۃ بین الخطبتین یوم الجمعۃ]
8۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن اس وقت آیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تو نے (تحیۃ المسجد کی) نماز پڑھی؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھ دو رکعتیں (ہلکی پھلکی) پڑھ لے۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب من جاء والامام یخطب صلٰی رکعتین خفیفتین]
9۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد مسجد میں کچھ نہ پڑھتے۔ جب اپنے گھر لوٹ کر آتے تو دو رکعتیں پڑھتے۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الصلٰوۃ بعد الجمعۃ و قبلہا]
10۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے ساتھی سے جمعہ کے دن یوں کہے: ”چپ رہ“ اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تو نے لغو حرکت کی۔ [بخاری۔ کتاب الجمعۃ۔ باب الانصات یوم الجمعۃ۔۔]
11۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کے بعد پہلا جمعہ جو ہوا وہ عبد القیس کی مسجد میں ہوا جو بحرین میں جواثیٰ (جگہ کا نام) میں تھی۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الجمعۃ فی القریٰ والمدن]
اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ ہر گاؤں میں ادا کرنا چاہیے۔ شہر ہونا کوئی شرط نہیں۔
12۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن فرشتے جامع مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر آنے والوں کے باری باری نام لکھتے ہیں۔ جو پہلے آتا ہے اس کی مثال ایسے شخص کی ہے جو اونٹ کی قربانی کرے پھر دوسرے کی جیسے گائے کی قربانی کرے پھر تیسرے کی جو مینڈھا، پھر چوتھے کی جو مرغی، پھر پانچویں کی جو انڈا قربانی دے۔ پھر جب امام (خطبہ کے لئے) نکلتا ہے تو فرشتے اپنے دفتر لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ سننے لگ جاتے ہیں۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الاستماع الی الخطبۃ]
13۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:”جن دنوں میں سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سے سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے۔ اسی جمعہ کے دن سیدنا آدم علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اسی دن جنت میں داخل کیے گئے اور اسی دن نکالے گئے۔ اور قیامت بھی اسی دن قائم ہو گی“ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
1۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن ہر جوان پر غسل واجب ہے اور مسواک کرنا اور اگر میسر ہو تو خوشبو بھی لگانا۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الطیب للجمعۃ]
2۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تم میں سے جمعہ کی نماز کے لیے آئے تو غسل کرے۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب فضل الغسل یوم الجمعۃ]
ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ:
1۔ جمعہ فرض کفایہ ہے فرض عین نہیں۔ نہ یہ بچوں پر فرض ہے نہ بوڑھوں پر، نہ عورتوں پر نہ مسافروں یا مریضوں پر نیز بارش کے دن کسی پر بھی فرض نہیں جیسا کہ اذان سے متعلق حدیث نمبر 6 سے بھی واضح ہوتا ہے۔
2۔ جمعہ کے دن غسل کرنا ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر جمعہ واجب ہے وہ غسل کر کے نماز کے لیے جائے جیسا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے واضح ہے۔ تاہم بعض علماء نے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو وجوب کے لیے نہیں استحباب کے معنوں میں لیا ہے اور ان کی دلیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث ہے جس میں مذکور ہے کہ لوگ دور دور سے اور بلند مقامات سے آتے۔ انہوں نے اون کی عبائیں پہنی ہوتیں اور گرد و غبار اور پسینہ کی وجہ سے ان سے بو آتی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہا کر آنے کا حکم دیا تھا۔ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
اور جب ایسی صورت نہ ہو تو نہا کر آنا واجب نہیں۔ البتہ مستحب ضرور ہے۔
3۔ مسواک کرنا اور خوشبو لگانا سنت اور مستحب ہے واجب نہیں۔
4۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ جمعہ کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب وقت الجمعۃ۔۔]
5۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جمعہ کی اذان ہوتے ہی خرید و فروخت حرام ہو جاتی ہے اور عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ ہر پیشہ (اور شغل) حرام ہو جاتا ہے۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب المشی الی الجمعۃ]
6۔ سیدنا سائب بن یزید کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جمعہ کے دن ایک ہی اذان ہوا کرتی۔ جب امام منبر پر بیٹھ جاتا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب مدینہ کی آبادی بہت بڑھ گئی تو انہوں نے زوراء (مدینہ کے بازار میں ایک مقام کا نام) پر تیسری اذان (یعنی اقامت سمیت) بڑھائی۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الاذان یوم الجمعۃ]
7۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ کے دن) دو خطبے پڑھتے اور ان کے درمیان بیٹھتے۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب القعدۃ بین الخطبتین یوم الجمعۃ]
8۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن اس وقت آیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تو نے (تحیۃ المسجد کی) نماز پڑھی؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھ دو رکعتیں (ہلکی پھلکی) پڑھ لے۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب من جاء والامام یخطب صلٰی رکعتین خفیفتین]
9۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد مسجد میں کچھ نہ پڑھتے۔ جب اپنے گھر لوٹ کر آتے تو دو رکعتیں پڑھتے۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الصلٰوۃ بعد الجمعۃ و قبلہا]
10۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے ساتھی سے جمعہ کے دن یوں کہے: ”چپ رہ“ اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تو نے لغو حرکت کی۔ [بخاری۔ کتاب الجمعۃ۔ باب الانصات یوم الجمعۃ۔۔]
11۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کے بعد پہلا جمعہ جو ہوا وہ عبد القیس کی مسجد میں ہوا جو بحرین میں جواثیٰ (جگہ کا نام) میں تھی۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الجمعۃ فی القریٰ والمدن]
اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ ہر گاؤں میں ادا کرنا چاہیے۔ شہر ہونا کوئی شرط نہیں۔
12۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن فرشتے جامع مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر آنے والوں کے باری باری نام لکھتے ہیں۔ جو پہلے آتا ہے اس کی مثال ایسے شخص کی ہے جو اونٹ کی قربانی کرے پھر دوسرے کی جیسے گائے کی قربانی کرے پھر تیسرے کی جو مینڈھا، پھر چوتھے کی جو مرغی، پھر پانچویں کی جو انڈا قربانی دے۔ پھر جب امام (خطبہ کے لئے) نکلتا ہے تو فرشتے اپنے دفتر لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ سننے لگ جاتے ہیں۔ [بخاری۔ کتاب الجمعہ۔ باب الاستماع الی الخطبۃ]
13۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:”جن دنوں میں سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سے سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے۔ اسی جمعہ کے دن سیدنا آدم علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اسی دن جنت میں داخل کیے گئے اور اسی دن نکالے گئے۔ اور قیامت بھی اسی دن قائم ہو گی“ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
خلاف سنت امور :۔
اب ہم چند ایسی خلاف سنت باتوں کا ذکر کرتے ہیں جو آج کل ہم اپنے معاشرہ میں اور بالخصوص ہمارے علماء میں پائی جاتی ہیں:
1۔ ان میں پہلی چیز جمعہ کے وقت میں تاخیر ہے۔ چنانچہ ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب ہم جمعہ کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کر کے واپس لوٹتے تھے تو ہم دیواروں کا سایہ نہ پاتے تھے جس کی آڑ میں آئیں۔ اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مطابق زوال آفتاب شروع ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ ادا کر لیا کرتے تھے۔ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
1۔ ان میں پہلی چیز جمعہ کے وقت میں تاخیر ہے۔ چنانچہ ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب ہم جمعہ کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کر کے واپس لوٹتے تھے تو ہم دیواروں کا سایہ نہ پاتے تھے جس کی آڑ میں آئیں۔ اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مطابق زوال آفتاب شروع ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ ادا کر لیا کرتے تھے۔ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
نماز جمعہ کی ادائیگی میں تاخیر :۔
ان دونوں احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ زوال آفتاب تک دے کر فارغ ہو جایا کرتے تھے مگر ہمارے ہاں یہ رواج بڑھ چکا ہے کہ جمعہ کا خطبہ بھی زوال آفتاب سے کافی دیر بعد شروع ہوتا ہے اور بعض مساجد کا تو یہ حال ہے کہ ان کے جمعہ ختم ہونے تک عصر کا اول وقت آجاتا ہے۔
سنتوں کے لئے وقفہ :۔
2۔ بعض مساجد بالخصوص احناف کی مساجد میں پہلے خطبہ کے بعد نماز جمعہ کی سنتوں کے لیے وقفہ دیا جاتا ہے۔ یہ بات واضح طور پر سنت کے خلاف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے دیر سے آنے والے کو خطبہ کے دوران ہی دو ہلکی رکعات ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ لہٰذا خطبہ کے بعد سنتوں کے لیے وقفہ دینے کا کوئی جواز نہیں۔
خطبہ کو لمبا اور نماز کو مختصر کرنا :۔
3۔ تیسری خلاف سنت بات خطبہ کو لمبا کرنا اور نماز کو مختصر کرنا ہے۔ چنانچہ واصل بن حیان کہتے ہیں کہ ابو وائل نے کہا کہ ہمیں عمار رضی اللہ عنہ نے نہایت جامع اور بلیغ خطبہ دیا۔ پھر جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے کہا: اے ابو الیقظان! اگر آپ ذرا اس خطبہ کو لمبا کرتے تو بہت بہتر ہوتا۔ تب عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ آدمی کا نماز کو لمبا کرنا اور خطبہ کو مختصر کرنا اس کے سمجھدار ہونے کی نشانی ہے۔ سو تم نماز کو لمبا کیا کرو اور خطبہ کو چھوٹا۔ اور بعض بیان تو جادو ہوتا ہے“ (یعنی جامع اور مختصر بیان جادو کا سا اثر رکھتا ہے) [مسلم۔ كتاب الجمعه]
اور جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بھی درمیانہ تھی اور خطبہ بھی درمیانہ۔ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جمعہ کی نماز کتنی لمبی ہوتی تھی تو اس کے متعلق ابن ابی رافع کہتے ہیں کہ مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں خلیفہ مقرر کیا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو آپ نے پہلی رکعت میں سورۃ جمعہ اور دوسری میں المنافقون پڑھی۔ پھر میں ان سے ملا اور کہا کہ آپ نے وہی سورتیں پڑھیں جو سیدنا علی کوفہ میں پڑھتے تھے۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ”میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن یہی سورتیں پڑھتے سنا ہے“ (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تقلید میں نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں، میں نے یہ سورتیں پڑھی ہیں) [مسلم۔ كتاب الجمعه]
اور سیدنا لقمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدوں اور جمعہ میں سبح اسم ربک الاعلیٰ اور ھل اتاک حدیث الغاشیۃ پڑھا کرتے تھے اور جب جمعہ اور عید دونوں ایک دن میں ہوتیں تب بھی انہیں دونوں سورتوں کو دونوں نمازوں میں پڑھتے تھے۔ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
یہ تو آپ کی درمیانہ درجہ کی نماز کا حال تھا اور آپ کے خطبات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بھی خطبہ بیس منٹ سے زیادہ لمبا کبھی نہیں ہوا۔ گویا سنت طریقہ یہ ہے کہ خطبہ پر زیادہ سے زیادہ بیس منٹ اور دو رکعت نماز پر کم از کم دس منٹ صرف ہوں۔ اب اس کے مقابلہ میں موجودہ صورت حال پر غور فرما لیجیے اہلحدیثوں کی مساجد میں، جو ہر ہر بات میں کتاب و سنت کے متبع ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں، کوئی ہی مسجد ایسی ہو گی جہاں خطبہ کا وقت نصف گھنٹہ ہو۔ ورنہ پون گھنٹہ بلکہ اکثر مساجد میں ایک گھنٹہ خطبہ کے لیے وقت مقرر کیا جاتا ہے اور احناف اور بالخصوص بریلوی علماء تو ڈیڑھ گھنٹہ بلکہ اس سے بھی زیادہ وقت خطبہ میں صرف کر دیتے ہیں۔ یہ بات صریحاً خلاف سنت ہے۔ علماء حضرات اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ہمیں عربی کے علاوہ مقامی زبان یا اردو میں بھی اس کی تشریح کرنا پڑتی ہے اگر اس کا لحاظ رکھا جائے تو بھی آدھ گھنٹہ اور زیادہ سے زیادہ پون گھنٹہ بہت کافی ہے۔ کیونکہ تجربہ شاہد ہے کہ مختصر وقت میں بھی بہت سی کام کی باتیں کہی جا سکتی ہیں۔ پھر جب خطیب حضرات خطبہ میں کافی دیر لگا دیتے ہیں تو اس کی کسر جمعہ میں چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھنے سے نکالتے ہیں۔ حتیٰ کہ میں نے خود ایک ایسے ہی خطیب کو نماز جمعہ کی پہلی رکعت میں سورۃ الفیل اور دوسری میں سورۃ القریش پڑھتے سنا ہے۔ گویا خطبہ اور نماز دونوں ہی خلاف سنت ہوئے۔ خطبہ انتہائی لمبا اور نماز انتہائی مختصر۔ اب اس تطویل خطبہ کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ اکثر لوگ آتے ہی اس وقت ہیں جب نماز جمعہ کا وقت قریب ہو۔ پھر خطیب حضرات ان دیر سے آنے والوں کو وہ حدیث سنانے لگتے ہیں کہ جو شخص خطبہ جمعہ سننے کے لیے خطبہ شروع ہونے سے پیشتر سب سے پہلے آئے اس کو ایک اونٹ کی قربانی کا ثواب ملتا ہے اور دوسرے نمبر پر آنے والے کو۔۔ الحدیث۔ گویا انہیں اپنے خلاف سنت کام کا تو احساس تک نہیں ہو گا۔ اور اس کے نتیجہ میں دیر سے پہنچنے والوں کو حدیث سنا کر کو سنے لگتے ہیں۔ اس تطویل خطبہ کی وجہ جو میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ خطیب حضرات کی اصل آرزو یہ ہوتی ہے کہ ان کی تقریر کو زیادہ سے زیادہ لوگ سنیں اور اسے سراہا اور پسند کیا جائے۔ لہٰذا وہ مزید لوگوں کی انتظار میں دیر کرتے جاتے ہیں۔ اور جمعہ پڑھنے والوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ابھی مولوی خطبہ میں بہت دیر لگائے گا۔ لہٰذا نماز سے ذرا پہلے چلے جائیں گے۔ اس دوہرے عمل سے خطبہ تو خوب لمبا ہو جاتا ہے۔ پھر اس کی کسر نماز سے نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اور جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بھی درمیانہ تھی اور خطبہ بھی درمیانہ۔ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جمعہ کی نماز کتنی لمبی ہوتی تھی تو اس کے متعلق ابن ابی رافع کہتے ہیں کہ مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں خلیفہ مقرر کیا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو آپ نے پہلی رکعت میں سورۃ جمعہ اور دوسری میں المنافقون پڑھی۔ پھر میں ان سے ملا اور کہا کہ آپ نے وہی سورتیں پڑھیں جو سیدنا علی کوفہ میں پڑھتے تھے۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ”میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن یہی سورتیں پڑھتے سنا ہے“ (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تقلید میں نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں، میں نے یہ سورتیں پڑھی ہیں) [مسلم۔ كتاب الجمعه]
اور سیدنا لقمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدوں اور جمعہ میں سبح اسم ربک الاعلیٰ اور ھل اتاک حدیث الغاشیۃ پڑھا کرتے تھے اور جب جمعہ اور عید دونوں ایک دن میں ہوتیں تب بھی انہیں دونوں سورتوں کو دونوں نمازوں میں پڑھتے تھے۔ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
یہ تو آپ کی درمیانہ درجہ کی نماز کا حال تھا اور آپ کے خطبات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بھی خطبہ بیس منٹ سے زیادہ لمبا کبھی نہیں ہوا۔ گویا سنت طریقہ یہ ہے کہ خطبہ پر زیادہ سے زیادہ بیس منٹ اور دو رکعت نماز پر کم از کم دس منٹ صرف ہوں۔ اب اس کے مقابلہ میں موجودہ صورت حال پر غور فرما لیجیے اہلحدیثوں کی مساجد میں، جو ہر ہر بات میں کتاب و سنت کے متبع ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں، کوئی ہی مسجد ایسی ہو گی جہاں خطبہ کا وقت نصف گھنٹہ ہو۔ ورنہ پون گھنٹہ بلکہ اکثر مساجد میں ایک گھنٹہ خطبہ کے لیے وقت مقرر کیا جاتا ہے اور احناف اور بالخصوص بریلوی علماء تو ڈیڑھ گھنٹہ بلکہ اس سے بھی زیادہ وقت خطبہ میں صرف کر دیتے ہیں۔ یہ بات صریحاً خلاف سنت ہے۔ علماء حضرات اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ہمیں عربی کے علاوہ مقامی زبان یا اردو میں بھی اس کی تشریح کرنا پڑتی ہے اگر اس کا لحاظ رکھا جائے تو بھی آدھ گھنٹہ اور زیادہ سے زیادہ پون گھنٹہ بہت کافی ہے۔ کیونکہ تجربہ شاہد ہے کہ مختصر وقت میں بھی بہت سی کام کی باتیں کہی جا سکتی ہیں۔ پھر جب خطیب حضرات خطبہ میں کافی دیر لگا دیتے ہیں تو اس کی کسر جمعہ میں چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھنے سے نکالتے ہیں۔ حتیٰ کہ میں نے خود ایک ایسے ہی خطیب کو نماز جمعہ کی پہلی رکعت میں سورۃ الفیل اور دوسری میں سورۃ القریش پڑھتے سنا ہے۔ گویا خطبہ اور نماز دونوں ہی خلاف سنت ہوئے۔ خطبہ انتہائی لمبا اور نماز انتہائی مختصر۔ اب اس تطویل خطبہ کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ اکثر لوگ آتے ہی اس وقت ہیں جب نماز جمعہ کا وقت قریب ہو۔ پھر خطیب حضرات ان دیر سے آنے والوں کو وہ حدیث سنانے لگتے ہیں کہ جو شخص خطبہ جمعہ سننے کے لیے خطبہ شروع ہونے سے پیشتر سب سے پہلے آئے اس کو ایک اونٹ کی قربانی کا ثواب ملتا ہے اور دوسرے نمبر پر آنے والے کو۔۔ الحدیث۔ گویا انہیں اپنے خلاف سنت کام کا تو احساس تک نہیں ہو گا۔ اور اس کے نتیجہ میں دیر سے پہنچنے والوں کو حدیث سنا کر کو سنے لگتے ہیں۔ اس تطویل خطبہ کی وجہ جو میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ خطیب حضرات کی اصل آرزو یہ ہوتی ہے کہ ان کی تقریر کو زیادہ سے زیادہ لوگ سنیں اور اسے سراہا اور پسند کیا جائے۔ لہٰذا وہ مزید لوگوں کی انتظار میں دیر کرتے جاتے ہیں۔ اور جمعہ پڑھنے والوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ابھی مولوی خطبہ میں بہت دیر لگائے گا۔ لہٰذا نماز سے ذرا پہلے چلے جائیں گے۔ اس دوہرے عمل سے خطبہ تو خوب لمبا ہو جاتا ہے۔ پھر اس کی کسر نماز سے نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انداز خطاب اور موضوع خطاب :۔
4۔ چوتھی خلاف سنت بات انداز خطاب اور موضوع خطاب ہے۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ جب خطبہ پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں اور آواز بلند ہو جاتی اور غصہ زیادہ ہو جاتا۔ گویا وہ ایک ایسے لشکر سے ڈرانے والے تھے جو بس صبح و شام ہی تم پر پہنچنے والا ہے اور فرماتے کہ میں اس وقت بھیجا گیا ہوں کہ میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں پھر آپ اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا دیتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی حمد کے بعد فرماتے کہ ”ہر بات سے بہتر اللہ کی کتاب ہے اور ہر طریقہ سے بہتر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق ہے اور نئے نئے کام نکالنا سب سے برا کام ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر فرماتے میں ہر مومن کا اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ خیر خواہ ہوں۔ جو شخص مال چھوڑ جائے وہ تو اس کے گھر والوں کا ہے اور جو قرض یا چھوٹے بچے چھوڑ جائے تو اس قرض کی ادائیگی یا بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہے“ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
نیز ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور ایک ہی تھا۔ دو برس یا ایک برس اور کچھ ماہ تک (یعنی اتنی مدت ہم ان کی ہمسائیگی میں رہے) اس دوران میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زبان سے سورۃ ق سیکھی تھی۔ آپ اس کو ہر جمعہ میں منبر پر پڑھتے تھے جب لوگوں کو خطبہ سناتے۔ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
ان دو احادیث سے مندرجہ ذیل امور پر روشنی پڑتی ہے:
1۔ آپ کا خطاب یا تقریر جوشیلی ہوتی تھی۔ راگ اور سر تال والی نہیں ہوتی تھی جبکہ آج کل خطیب حضرات اپنی پوری کوشش سے راگ اور سر والا لہجہ سیکھتے ہیں۔ وہ قرآنی آیات کے علاوہ اپنی باتوں کو بھی اس طرح سریلی آواز میں پیش کرتے ہیں سامعین جھومنے اور سبحان اللہ، سبحان اللہ کے نعرے لگانے لگیں۔ اور جتنے زیادہ ایسے نعرے لگیں اتنے ہی خطیب حضرات اسے اپنی تقریر کی پذیرائی سمجھ کر پھولے نہیں سماتے۔ اور ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی تقریر کے دوران ایسے نعرے لگتے رہیں۔
2۔ خطاب کے دوران آپ کا موضوع ایک نہیں بلکہ متفرق ہوتے تھے۔ گویا آپ کا انداز خطاب تقریر کا نہیں بلکہ وعظ و نصیحت کا ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اللہ اور سنت رسول سے تمسک کی تاکید فرماتے اور بدعات سے اجتناب کا حکم دیتے اور اس کے انجام سے ڈراتے تھے اور سب سے پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان فرماتے تھے اور یہی خطبہ مسنونہ کے موضوع ہیں۔ خطبہ جمعہ کا موضوع دراصل ’ذکر اللّٰہ‘ ہے جیسے اس سورۃ میں فرمایا: ﴿فَاسْعَوْا اِلٰي ذِكْرِ اللّٰهِ﴾ اور ذکر اللہ سے مراد سارا قرآن ہے۔ تاہم حدیث نمبر 2 سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ خطبہ میں سورۃ ق پڑھنا زیادہ پسند فرماتے تھے۔ آپ سورۃ ق کو مد نظر رکھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے بعث الموت پر دلائل پیش کئے ہیں۔ آخرت کا انکار کرنے والی چند اقوام کا مختصراً انجام بتایا ہے۔ اور انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اس کے اعمال کا ریکارڈ ساتھ ساتھ تیار کیا جا رہا ہے اور اس کے مطابق اس کا مؤاخذہ ہونے والا ہے۔ پھر کچھ جنت اور دوزخ کا ذکر ہے اور سورت کے آخر میں خلاصہ کے طور پر فرمایا کہ: ﴿فَذَكِّرْ بالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ﴾ اور حدیث نمبر 1 سے بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ کا اصل موضوع لوگوں کو ان کے اخروی انجام سے ڈرانا ہوتا تھا اور یہ بات آپ بڑے جوش و خروش سے بتایا کرتے تھے۔ اب دیکھئے ہمارے ہاں خطبات جمعہ میں وعظ و نصیحت اور انذار و تبشیر کا بیان تقریباً مفقود ہے۔ ہمارے ہاں عمومی رواج ایک موضوع پر تقریر کرنے کا ہے یہ بھی اس صورت میں تو درست ہے کہ جو کچھ بیان کیا جائے کتاب و سنت سے ہی اور اس کی حدود میں رہ کر بیان کیا جائے۔ مگر ہمارے ہاں تو خطبہ مسنونہ اور قرآن کی ایک آدھ آیت محض برکت کے لیے پڑھ لی جاتی ہے جسے عامۃ الناس سمجھتے ہی نہیں بعد میں اولیاء اللہ کی حکایات، ان کے تصرفات اور ان کی کرامات اس انداز سے بیان کی جاتی ہیں کہ اگر وہ خدا نہیں تو کم از کم اس سے کم درجہ کے بھی نہیں ہوتے مثلاً مولانا روم کا یہ شعر آپ نے خطبات جمعہ میں اکثر سنا ہو گا۔
اولیاء را ہست قدرت از الٰہ
تیر جستہ باز گرد انند زراہ
یعنی اولیاء کو اللہ کی طرف سے اس قدر قدرت حاصل ہوتی ہے کہ وہ چھوڑے ہوئے تیر کو راستہ سے ہی واپس لا سکتے ہیں۔ یہ واضح رہے کہ مشرکین مکہ بھی اپنے بتوں کے متعلق یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ ان کو جو تصرفات حاصل ہیں وہ اللہ کے عطا کردہ ہیں۔ [مسلم۔ کتاب الحج۔ تلبیۃ المشرکین]
پھر ان کی محیر العقول اور مہیب قسم کی کرامات بیان کی جاتی ہیں جن پر عوام کی طرف سے سبحان اللہ کے نعرے لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کسی کو زیادہ جوش آجائے تو اجتماعی نعرے شروع ہو جاتے ہیں۔ پہلے نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت اور پھر نعرہ حیدری۔ اب سوال یہ ہے کہ صدر اول میں مساجد میں ایسے نعرے بازی ہوتی تھی؟ اور کیا یہ خالص بدعت نہیں؟
نیز ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور ایک ہی تھا۔ دو برس یا ایک برس اور کچھ ماہ تک (یعنی اتنی مدت ہم ان کی ہمسائیگی میں رہے) اس دوران میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زبان سے سورۃ ق سیکھی تھی۔ آپ اس کو ہر جمعہ میں منبر پر پڑھتے تھے جب لوگوں کو خطبہ سناتے۔ [مسلم۔ كتاب الجمعه]
ان دو احادیث سے مندرجہ ذیل امور پر روشنی پڑتی ہے:
1۔ آپ کا خطاب یا تقریر جوشیلی ہوتی تھی۔ راگ اور سر تال والی نہیں ہوتی تھی جبکہ آج کل خطیب حضرات اپنی پوری کوشش سے راگ اور سر والا لہجہ سیکھتے ہیں۔ وہ قرآنی آیات کے علاوہ اپنی باتوں کو بھی اس طرح سریلی آواز میں پیش کرتے ہیں سامعین جھومنے اور سبحان اللہ، سبحان اللہ کے نعرے لگانے لگیں۔ اور جتنے زیادہ ایسے نعرے لگیں اتنے ہی خطیب حضرات اسے اپنی تقریر کی پذیرائی سمجھ کر پھولے نہیں سماتے۔ اور ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی تقریر کے دوران ایسے نعرے لگتے رہیں۔
2۔ خطاب کے دوران آپ کا موضوع ایک نہیں بلکہ متفرق ہوتے تھے۔ گویا آپ کا انداز خطاب تقریر کا نہیں بلکہ وعظ و نصیحت کا ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اللہ اور سنت رسول سے تمسک کی تاکید فرماتے اور بدعات سے اجتناب کا حکم دیتے اور اس کے انجام سے ڈراتے تھے اور سب سے پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان فرماتے تھے اور یہی خطبہ مسنونہ کے موضوع ہیں۔ خطبہ جمعہ کا موضوع دراصل ’ذکر اللّٰہ‘ ہے جیسے اس سورۃ میں فرمایا: ﴿فَاسْعَوْا اِلٰي ذِكْرِ اللّٰهِ﴾ اور ذکر اللہ سے مراد سارا قرآن ہے۔ تاہم حدیث نمبر 2 سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ خطبہ میں سورۃ ق پڑھنا زیادہ پسند فرماتے تھے۔ آپ سورۃ ق کو مد نظر رکھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے بعث الموت پر دلائل پیش کئے ہیں۔ آخرت کا انکار کرنے والی چند اقوام کا مختصراً انجام بتایا ہے۔ اور انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اس کے اعمال کا ریکارڈ ساتھ ساتھ تیار کیا جا رہا ہے اور اس کے مطابق اس کا مؤاخذہ ہونے والا ہے۔ پھر کچھ جنت اور دوزخ کا ذکر ہے اور سورت کے آخر میں خلاصہ کے طور پر فرمایا کہ: ﴿فَذَكِّرْ بالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ﴾ اور حدیث نمبر 1 سے بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ کا اصل موضوع لوگوں کو ان کے اخروی انجام سے ڈرانا ہوتا تھا اور یہ بات آپ بڑے جوش و خروش سے بتایا کرتے تھے۔ اب دیکھئے ہمارے ہاں خطبات جمعہ میں وعظ و نصیحت اور انذار و تبشیر کا بیان تقریباً مفقود ہے۔ ہمارے ہاں عمومی رواج ایک موضوع پر تقریر کرنے کا ہے یہ بھی اس صورت میں تو درست ہے کہ جو کچھ بیان کیا جائے کتاب و سنت سے ہی اور اس کی حدود میں رہ کر بیان کیا جائے۔ مگر ہمارے ہاں تو خطبہ مسنونہ اور قرآن کی ایک آدھ آیت محض برکت کے لیے پڑھ لی جاتی ہے جسے عامۃ الناس سمجھتے ہی نہیں بعد میں اولیاء اللہ کی حکایات، ان کے تصرفات اور ان کی کرامات اس انداز سے بیان کی جاتی ہیں کہ اگر وہ خدا نہیں تو کم از کم اس سے کم درجہ کے بھی نہیں ہوتے مثلاً مولانا روم کا یہ شعر آپ نے خطبات جمعہ میں اکثر سنا ہو گا۔
اولیاء را ہست قدرت از الٰہ
تیر جستہ باز گرد انند زراہ
یعنی اولیاء کو اللہ کی طرف سے اس قدر قدرت حاصل ہوتی ہے کہ وہ چھوڑے ہوئے تیر کو راستہ سے ہی واپس لا سکتے ہیں۔ یہ واضح رہے کہ مشرکین مکہ بھی اپنے بتوں کے متعلق یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ ان کو جو تصرفات حاصل ہیں وہ اللہ کے عطا کردہ ہیں۔ [مسلم۔ کتاب الحج۔ تلبیۃ المشرکین]
پھر ان کی محیر العقول اور مہیب قسم کی کرامات بیان کی جاتی ہیں جن پر عوام کی طرف سے سبحان اللہ کے نعرے لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کسی کو زیادہ جوش آجائے تو اجتماعی نعرے شروع ہو جاتے ہیں۔ پہلے نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت اور پھر نعرہ حیدری۔ اب سوال یہ ہے کہ صدر اول میں مساجد میں ایسے نعرے بازی ہوتی تھی؟ اور کیا یہ خالص بدعت نہیں؟
ہمارے پسندیدہ موضوع :۔
ہمارے خطیب حضرات کا دوسرا پسندیدہ موضوع اپنے اختلافی عقائد کی نشر و اشاعت اور ان کو فروغ بخشنا ہے۔ پھر ان عقائد کو سنجیدہ طریق پر پیش نہیں کیا جاتا بلکہ فریق مخالف کو طنزو مزاح، تضحیک اور طعن و ملامت کا ہدف بنا کر فرقہ وارانہ فسادات کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ اور خطیب مخالف فریق پر جتنا زیادہ کیچڑ اچھالنا اور انہیں طعن و ملامت کرنا جانتا ہو اتنا ہی وہ اپنے لوگوں میں ہر دلعزیز اور کامیاب خطیب متصور ہوتا ہے۔ جس خطیب کو یہ فن آ گیا۔ بس اس کے وارے نیارے ہو گئے اسے جلسوں جلوسوں میں مدعو کیا جاتا اور گرانقدر نذرانے پیش کئے جاتے ہیں۔ عوام کا ذوق بھی کچھ ایسا بن جاتا ہے کہ وہ ایسے خطیب کو پسند کرتے ہیں۔ جو ایک تو گیت کے انداز میں سریلی آواز سے تقریر کر سکتا ہو دوسرے طعن و تشنیع میں اتنا فن کار ہو کہ فریق مخالف کے بخیے ادھیڑ کے رکھ دے۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا تھا کہ: ﴿اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ﴾ مگر یہ بات نہ ہمارے خطیب حضرات کو اچھی لگتی ہے اور نہ ہمارے عوام کو۔ کیا یہی چیز اللہ کا ذکر ہے جس کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ: ﴿فَاسْعَوْا اِلٰي ذِكْرِ اللّٰهِ﴾ علاوہ ازیں فرقہ بازی اور بدعات کے فروغ میں لاؤڈ سپیکر نہایت کارگر ہتھیار ثابت ہوا ہے۔ جب لاؤڈ سپیکر کی ایجاد معرض وجود میں آئی تو اس وقت علماء نے کہا تھا کہ اس میں سے شیطان بولتا ہے لہٰذا اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا مگر آج یہ صورت حال ہے کہ جونئی مسجد تعمیر ہوتی ہے اس کی چھت پڑنے سے پیشتر یہی لاؤڈ سپیکر کا اہتمام ضروری سمجھا جاتا ہے اور ہر فریق اس کا فائدہ یہی بتاتا ہے کہ اس سے کتاب و سنت کا پیغام لوگوں کے گھروں تک پہنچایا جائے گا۔ مگر عملاً اس سے دوسرے فریق پر سنگ باری مقصود ہوتی ہے۔ اگر مخالف فریق کے لاؤڈ سپیکر کے ہارن دو ہوں تو یہ فریق چار ہارن لگوائے گا۔ اور اس کے چار ہارن ہو تو یہ چھ لگوائے گا۔ حالانکہ مسجد میں جمع ہونے والے لوگوں کے لیے سرے سے لاؤڈ سپیکر کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ پھر ہمارے خطیب اور علماء حضرات کا بھی مزاج کچھ ایسا بن چکا ہے کہ وہ لاؤڈ سپیکر کے بغیر تقریر کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ چنانچہ عام طور پر مشاہدہ میں آیا ہے کہ صرف گنتی کے چند نمازی سامنے بیٹھے ہیں اور خطیب صاحب لاؤڈ سپیکر کھول کر درس یا خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں لاؤڈ سپیکر کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی مگر اس بات کا کیا علاج کہ مولانا لاؤڈ سپیکر کے بغیر درس یا خطبہ ارشاد فرمانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور اس کا فائدہ یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کی یہ آواز لوگوں کے گھروں تک پہنچ رہی ہے۔ اور عملاً یہ ہوتا ہے کہ جب ہر طرف سے اور ہر مسجد سے لوگوں کے گھروں تک یہ آوازیں پہنچنا شروع ہو جاتی ہیں۔ تو لوگ ایسے شور و غل اور سمع خراشی سے بیزار اور متنفر ہو جاتے ہیں اور بعض لوگ تو محض اسی وجہ سے کسی مسجد کے قرب و جوار میں مکان بنانا پسند نہیں کرتے۔ پھر معاشرہ میں کچھ لوگ مریض بھی ہوتے ہیں جنہیں اس قسم کے شور و غل سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔
لاؤڈ سپیکر کے نقصانات :۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ لاؤڈ سپیکر بدعات اور بدعی عقائد و اعمال کے فروغ کے لیے ایک نہایت کامیاب ہتھیار ہے۔ مثلاً اذان سے پہلے درود شریف پڑھنے کی بدعت کو لاؤڈ سپیکر ہی کی وجہ سے فروغ حاصل ہوا ہے۔ اگر لاؤڈ سپیکر کو قانوناً بند کر دیا جائے تو یہ بدعت تھوڑی ہی مدت بعد از خود دم توڑ دے گی۔ کیونکہ اس کی اصل بنیاد ہے ہی نہیں جس پر یہ قائم رہ سکے۔ یہی حال دوسری بدعات کا ہے اور یہ بات بھی مشاہدہ میں آچکی ہے کہ جہاں فرقہ وارانہ تقریروں کی وجہ سے فسادات ہو رہے ہوں وہاں حکومت لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی لگا دیتی ہے۔ تو اس کے نتائج نہایت مفید برآمد ہوتے ہیں۔ اور وہاں فرقہ وارانہ فضا ماند پڑ جاتی ہے۔ گویا آج کے دور میں بدعات اور بدعی عقائد کا سب سے بڑا سہارا یہی لاؤڈ سپیکر ہے۔ اور ہمیں یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ علماء نے لاؤڈ سپیکر سے متعلق ابتداءً جو رائے قائم کی تھی کہ: ”اس میں شیطان بولتا ہے“ وہ بہت حد تک درست تھی۔ رہے وہ عقائد و اعمال جو کتاب و سنت سے ثابت ہیں تو ان کے لیے لاؤڈ سپیکر کی قطعاً ضرورت نہیں۔ وہ اس کے بغیر بھی ہر دور میں زندہ و ثابت رہ سکتے ہیں کیونکہ وہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔
جمعہ کی غرض و غایت :۔
اب ذرا موضوع خطاب سے متعلقہ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی پہلی حدیث کا آخری حصہ سامنے لائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: ”میں ہر مومن کا اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ خیر خواہ ہوں“ جس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی ایک اہم غرض مسلمانوں کی خیرخواہی اور ان کی باہمی صلاح و فلاح ہے نہ کہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا، سنگ باری کرنا اور فرقہ وارانہ فسادات کو پھیلا کر عوام الناس کو سرے سے اسلام ہی سے متنفر بنا دینا۔ اس کے بعد فرمایا کہ: ”جو شخص مال چھوڑ جائے وہ تو اس کے وارثوں کا ہے اور جو قرض یا چھوٹے بچے چھوڑ جائے تو اس قرض کی ادائیگی یا بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہے“ اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن مسلمانوں کے اس اجتماع کی ایک اہم غرض ان کی معاشی حالات کا جائزہ لینا اور محتاج اور ناتواں افراد کی کفالت اور مقروضوں کے قرض کی ادائیگی کا اہتمام کرنا بھی ہے۔ گویا جمعہ فرض تو اس غرض کے لیے کیا گیا تھا کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ تعداد میں اکٹھے ہو کر اللہ کا ذکر سنیں اس کی حمد و ثنا بیان کریں۔ ایک دوسرے کی خیر خواہی اور باہمی اصلاح و فلاح کے امور پر غور کریں۔ اپنے معاشی حالات کا جائزہ لیں۔ محتاج اور یتیموں، بیواؤں اور ناداروں کی کفالت کا اہتمام کریں تاکہ ان میں محبت، مروت، ہمدردی، ایثار اور اخوت جیسے بلند پایہ اخلاق فروغ پائیں۔ لیکن ہمارے سامنے جمعہ کی ادائیگی کے اغراض ان سے یکسر مختلف ہوتے ہیں جنہیں ہم غیر شعوری طور پر اور عادتاً بجا لاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جمعہ کا دن کیا ہے ، اس کی اہمیت کیوں ہے؟ ٭٭
«جمعہ» کا لفظ جمع سے مشتق ہے، وجہ اشتقاق یہ ہے کہ اس دن مسلمان بڑی بڑی مساجد میں اللہ کی عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں اور یہ بھی وجہ ہے کہ اسی دن تمام مخلوق کامل ہوئی، چھ دن میں ساری کائنات بنائی گئی ہے، چھٹا دن جمعہ کا ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے، اسی دن جنت میں بسائے گئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے، اسی دن میں قیامت قائم ہو گی، اس دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے جو طلب کرے اللہ تعالیٰ اسے عنایت فرماتا ہے، جیسے کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”جانتے ہو جمعہ کا دن کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی دن تیرے ماں باپ [یعنی آدم و حواء] کو اللہ تعالیٰ نے جمع کیا“، یا یوں فرمایا: کہ تمہارے باپ کو جمع کیا۔ اسی طرح ایک موقوف حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ «فاللہ اعلم»
پہلے اسے «یومِ العروبہ» کہا جاتا تھا، پہلی امتوں کو بھی ہر سات دن میں ایک دن دیا گیا تھا، لیکن جمعہ کی ہدایت انہیں نہیں ہوئی، یہودیوں نے ہفتہ پسند کیا جس میں مخلوق کی پیدائش شروع بھی نہ ہوئی تھی، نصاریٰ نے اتوار اختیار کیا جس میں مخلوق کی پیدائش کی ابتداء ہوئی ہے اور اس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پورا کیا تھا، جیسے صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے تو سب کے پیچھے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، سوائے اس کے کہ انہیں ہم سے پہلے کتاب اللہ دی گئی، پھر ان کے اس دن میں انہوں نے اختلاف کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں راہ راست دکھائی پس لوگ اس میں بھی ہمارے پیچھے ہیں، یہودی کل اور نصرانی پرسوں۔ [صحیح بخاری:876] مسلم میں اتنا اور بھی ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلہ ہمارے بارے میں کیا جائے گا۔ [صحیح مسلم:856]
یہاں اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمعہ کے دن اپنی عبادت کے لیے جمع ہونے کا حکم دے رہا ہے، «سعی» سے مراد یہاں دوڑنا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ذکر اللہ یعنی نماز کے لیے قصد کرو، چل پڑو، کوشش کرو، کام کاج چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہو جاؤ، جیسے اس آیت میں سعی کوشش کے معنی میں ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَة وَسَعَى لَهَا سَعْيهَا وَهُوَ مُؤْمِن» [17-الاسراء:19] یعنی جو شخص آخرت کا ارادہ کرے پھر اس کے لیے کوشش بھی کرے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں بجائے «فَاسْعَوْا» کے «فَامْضُوا» ہے۔
پہلے اسے «یومِ العروبہ» کہا جاتا تھا، پہلی امتوں کو بھی ہر سات دن میں ایک دن دیا گیا تھا، لیکن جمعہ کی ہدایت انہیں نہیں ہوئی، یہودیوں نے ہفتہ پسند کیا جس میں مخلوق کی پیدائش شروع بھی نہ ہوئی تھی، نصاریٰ نے اتوار اختیار کیا جس میں مخلوق کی پیدائش کی ابتداء ہوئی ہے اور اس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پورا کیا تھا، جیسے صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے تو سب کے پیچھے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، سوائے اس کے کہ انہیں ہم سے پہلے کتاب اللہ دی گئی، پھر ان کے اس دن میں انہوں نے اختلاف کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں راہ راست دکھائی پس لوگ اس میں بھی ہمارے پیچھے ہیں، یہودی کل اور نصرانی پرسوں۔ [صحیح بخاری:876] مسلم میں اتنا اور بھی ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلہ ہمارے بارے میں کیا جائے گا۔ [صحیح مسلم:856]
یہاں اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمعہ کے دن اپنی عبادت کے لیے جمع ہونے کا حکم دے رہا ہے، «سعی» سے مراد یہاں دوڑنا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ذکر اللہ یعنی نماز کے لیے قصد کرو، چل پڑو، کوشش کرو، کام کاج چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہو جاؤ، جیسے اس آیت میں سعی کوشش کے معنی میں ہے «وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَة وَسَعَى لَهَا سَعْيهَا وَهُوَ مُؤْمِن» [17-الاسراء:19] یعنی جو شخص آخرت کا ارادہ کرے پھر اس کے لیے کوشش بھی کرے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں بجائے «فَاسْعَوْا» کے «فَامْضُوا» ہے۔
یہ یاد رہے کہ نماز کے لیے دوڑ کر جانا منع ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے { جب تم اقامت سنو تو نماز کیلئے سکینت اور وقار کے ساتھ چلو، دوڑو نہیں، جو پاؤ پڑھ لو، جو فوت ہو ادا کر لو۔ } [صحیح بخاری:636] ایک اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے کہ لوگوں کے پاؤں کی آہٹ زور زور سے سنی، فارغ ہو کر فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہم جلدی جلدی نماز میں شامل ہوئے، فرمایا: ”ایسا نہ کرو نماز کو اطمینان کے ساتھ چل کر آؤ جو پاؤ پڑھ لو جو چھوٹ جائے پوری کر لو“ }۔ [صحیح مسلم:603]
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہاں یہ حکم نہیں کہ دوڑ کر نماز کے لیے آؤ یہ تو منع ہے بلکہ مراد دل اور نیت اور خشوع خضوع ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اپنے دل اور اپنے عمل سے کوشش کرو، جیسے اور جگہ ہے «فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْي» [37-الصافات:102] ذبیح اللہ علیہ السلام جب خلیل اللہ علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہاں یہ حکم نہیں کہ دوڑ کر نماز کے لیے آؤ یہ تو منع ہے بلکہ مراد دل اور نیت اور خشوع خضوع ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اپنے دل اور اپنے عمل سے کوشش کرو، جیسے اور جگہ ہے «فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْي» [37-الصافات:102] ذبیح اللہ علیہ السلام جب خلیل اللہ علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔
غسلِ جمعہ اور آداب جمعہ ٭٭
جمعہ کے لیے آنے والے کو غسل بھی کرنا چاہیئے، بخاری مسلم میں ہے کہ { جب تم میں سے کوئی جمعہ کی نماز کے لیے جانے کا ارادہ کرے وہ غسل کر لیا کرے۔ } [صحیح بخاری:877]
اور حدیث میں ہے { جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے۔ } [صحیح بخاری:858]
اور روایت میں ہے کہ { ہر بالغ پر ساتویں دن سر اور جسم کا دھونا ہے۔ } [صحیح مسلم:849]
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { وہ دن جمعہ کا دن ہے۔ } [سنن نسائی:1379،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سنن اربعہ میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کرے اور سویرے سے ہی مسجد کی طرف چل دے، پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر بیٹھے، خطبے کو کان لگا کر سنے، لغو کام نہ کرے، تو اسے ہر ایک قدم کے بدلے سال بھر کے روزوں اور سال بھر کے قیام کا ثواب ہے۔ } [سنن ترمذي:496،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے { جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے۔ } [صحیح بخاری:858]
اور روایت میں ہے کہ { ہر بالغ پر ساتویں دن سر اور جسم کا دھونا ہے۔ } [صحیح مسلم:849]
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { وہ دن جمعہ کا دن ہے۔ } [سنن نسائی:1379،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سنن اربعہ میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کرے اور سویرے سے ہی مسجد کی طرف چل دے، پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر بیٹھے، خطبے کو کان لگا کر سنے، لغو کام نہ کرے، تو اسے ہر ایک قدم کے بدلے سال بھر کے روزوں اور سال بھر کے قیام کا ثواب ہے۔ } [سنن ترمذي:496،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بخاری مسلم میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن جنابت کے غسل کی طرح غسل کرے، اول ساعت میں جائے، اس نے گویا ایک اونٹ اللہ کی راہ میں قربان کیا، دوسری ساعت میں جانے والا مثل گائے کی قربانی کرنے والے کے ہے، تیسری ساعت میں جانے والا مثل بھیڑ کی قربانی کرنے والے کے ہے، چوتھی ساعت میں جانے والا مرغ راہ اللہ میں تصدق کرنے والے کی طرح ہے، پانچویں ساعت میں جانے والا انڈا راہ اللہ دینے والے جیسا ہے، پھر جب امام آئے فرشتے خطبہ سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔ } [صحیح بخاری:881]
مستحب ہے کہ جعہ کے دن اپنی طاقت کے مطابق اچھا لباس پہنے، خوشبو لگائے، مسواک کرے اور صفائی اور پاکیزگی کے ساتھ جمعہ کی نماز کے لیے آئے، ایک حدیث میں غسل کے بیان کے ساتھ ہی مسواک کرنا اور خوشبو ملنا بھی ہے، [صحیح بخاری:880] مسند احمد میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنے گھر والوں کو خوشبو ملے اگر ہو اور اچھا لباس پہنے پھر مسجد میں آئے اور کچھ نوافل پڑھے اگر جی چاہے اور کسی کے ایذاء نہ دے (یعنی گردنیں پھلانگ کر نہ آئے نہ کسی بیٹھے ہوئے کو ہٹائے) پھر جب امام آ جائے اور خطبہ شروع ہو خاموشی سے سنے تو اس کے گناہ جو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے ہوں سب کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ } [سنن ابوداود:1078،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ہے { سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر بیان فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کسی پر کیا حرج ہے اگر وہ اپنے روزمرہ کے محنتی لباس کے علاوہ دو کپڑے خرید کر جمعہ کے لیے مخصوص رکھے۔ } [سنن ابن ماجہ:1096،قال الشيخ الألباني:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان اس وقت فرمایا جب لوگوں پر وہی معمولی چادریں دیکھیں تو فرمایا کہ اگر طاقت ہو تو ایسا کیوں نہ کر لو۔
مستحب ہے کہ جعہ کے دن اپنی طاقت کے مطابق اچھا لباس پہنے، خوشبو لگائے، مسواک کرے اور صفائی اور پاکیزگی کے ساتھ جمعہ کی نماز کے لیے آئے، ایک حدیث میں غسل کے بیان کے ساتھ ہی مسواک کرنا اور خوشبو ملنا بھی ہے، [صحیح بخاری:880] مسند احمد میں ہے { جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنے گھر والوں کو خوشبو ملے اگر ہو اور اچھا لباس پہنے پھر مسجد میں آئے اور کچھ نوافل پڑھے اگر جی چاہے اور کسی کے ایذاء نہ دے (یعنی گردنیں پھلانگ کر نہ آئے نہ کسی بیٹھے ہوئے کو ہٹائے) پھر جب امام آ جائے اور خطبہ شروع ہو خاموشی سے سنے تو اس کے گناہ جو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے ہوں سب کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ } [سنن ابوداود:1078،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ہے { سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر بیان فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کسی پر کیا حرج ہے اگر وہ اپنے روزمرہ کے محنتی لباس کے علاوہ دو کپڑے خرید کر جمعہ کے لیے مخصوص رکھے۔ } [سنن ابن ماجہ:1096،قال الشيخ الألباني:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان اس وقت فرمایا جب لوگوں پر وہی معمولی چادریں دیکھیں تو فرمایا کہ اگر طاقت ہو تو ایسا کیوں نہ کر لو۔
جمعہ کی پہلی آذان ٭٭
جس اذان کا یہاں اس آیت میں ذکر ہے اس سے مراد وہ اذان ہے جو امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی اذان تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے تشریف لاتے منبر پر جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھ جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ اذان ہوتی تھی، اس سے پہلے کی اذان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ تھی اسے امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے صرف لوگوں کی کثرت کو دیکھ کر زیادہ کیا۔
صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کی اذان صرف اسی وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر خطبہ کہنے کے لیے بیٹھ جاتا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب لوگ بہت زیادہ ہو گئے تو آپ نے دوسری اذان ایک الگ مکان پر کہلوائی، زیادہ کی، اس مکان کا نام زورا تھا [صحیح بخاری:912]
مسجد سے قریب سب سے بلند یہی مکان تھا۔ مکحول رحمہ اللہ سے ابن ابی حاتم میں رویات ہے کہ اذان صرف ایک ہی تھی جب امام آتا تھا اس کے بعد صرف تکبیر ہوتی تھی، جب نماز کھڑی ہونے لگے، اسی اذان کے وقت خرید و فروخت حرام ہوتی ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے پہلے کی اذان کا حکم صرف اس لیے دیا تھا کہ لوگ جمع ہو جائیں۔ جمعہ میں آنے کا حکم آزاد مردوں کو ہے عورتوں، غلاموں اور بچوں کو نہیں، مسافر، مریض اور تیمار دار اور ایسے ہی اور عذر والے بھی معذور گنے گئے ہیں جیسے کہ کتب فروغ میں اس کا ثبوت موجود ہے۔
صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کی اذان صرف اسی وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر خطبہ کہنے کے لیے بیٹھ جاتا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب لوگ بہت زیادہ ہو گئے تو آپ نے دوسری اذان ایک الگ مکان پر کہلوائی، زیادہ کی، اس مکان کا نام زورا تھا [صحیح بخاری:912]
مسجد سے قریب سب سے بلند یہی مکان تھا۔ مکحول رحمہ اللہ سے ابن ابی حاتم میں رویات ہے کہ اذان صرف ایک ہی تھی جب امام آتا تھا اس کے بعد صرف تکبیر ہوتی تھی، جب نماز کھڑی ہونے لگے، اسی اذان کے وقت خرید و فروخت حرام ہوتی ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے پہلے کی اذان کا حکم صرف اس لیے دیا تھا کہ لوگ جمع ہو جائیں۔ جمعہ میں آنے کا حکم آزاد مردوں کو ہے عورتوں، غلاموں اور بچوں کو نہیں، مسافر، مریض اور تیمار دار اور ایسے ہی اور عذر والے بھی معذور گنے گئے ہیں جیسے کہ کتب فروغ میں اس کا ثبوت موجود ہے۔
جمعہ کے وقت خرید و فروخت حرام ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے «بیع» کو چھوڑ دو یعنی ذکر اللہ کے لیے چل پڑو تجارت کو ترک کر دو، جب نماز جمعہ کی اذان ہو جائے، علماء کرام رحمہ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ اذان کے بعد خرید و فروخت حرام ہے، اس میں اختلاف ہے کہ دینے والا اگر دے تو وہ بھی صحیح ہے یا نہیں؟ ظاہر آیت سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی صحیح نہ ٹھہرے گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے «بیع» کو چھوڑ کر ذکر اللہ اور نماز کی طرف تمہارا آنا ہی تمہارے حق میں دین دنیا کی بہتری کا باعث ہے اگر تم میں علم ہو۔ ہاں جب نماز سے فراغت ہو جائے تو اس مجمع سے چلے جانا اور اللہ کے فضل کی تلاش میں لگ جانا، تمہارے لیے حلال ہے۔ سیدنا عراک بن مالک رضی اللہ عنہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹ کر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَجَبْت دَعْوَتك وَصَلَّيْت فَرِيضَتك وَانْتَشَرْت كَمَا أَمَرْتَنِي فَارْزُقْنِي مِنْ فَضْلك وَأَنْتَ خَيْر الرَّازِقِينَ» یعنی اے اللہ! میں نے تیری آواز پر حاضری دی اور تیری فرض کردہ نماز ادا کی، پھر تیرے حکم کے مطابق اس مجمع سے اٹھ آیا، اب تو مجھے اپنا فضل نصیب فرما، تو سب سے بہتر روزی رساں ہے [ابن ابی حاتم]
اس آیت کو پیش نظر رکھ کر بعض سلف صالحین نے فرمایا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد خرید و فروخت کرے اسے اللہ تعالیٰ ستر حصے زیادہ برکت دے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ خرید فروخت کی حالت میں بھی ذکر اللہ کیا کرو، دنیا کے نفع میں اس قدر مشغول نہ ہو جاؤ کہ آخروی نفع بھول بیٹھو۔ حدیث شریف میں ہے جو شخص کسی بازار جائے اور وہاں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَحْده لَا شَرِيك لَهُ لَهُ الْمُلْك وَلَهُ الْحَمْد وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِير» پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور ایک لاکھ برائیاں معاف فرماتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:2235،قال الشيخ الألباني:حسن] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندہ کثیر الذکر اسی وقت کہلاتا ہے جبکہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر وقت اللہ کی یاد کرتا رہے۔
پھر فرماتا ہے «بیع» کو چھوڑ کر ذکر اللہ اور نماز کی طرف تمہارا آنا ہی تمہارے حق میں دین دنیا کی بہتری کا باعث ہے اگر تم میں علم ہو۔ ہاں جب نماز سے فراغت ہو جائے تو اس مجمع سے چلے جانا اور اللہ کے فضل کی تلاش میں لگ جانا، تمہارے لیے حلال ہے۔ سیدنا عراک بن مالک رضی اللہ عنہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹ کر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَجَبْت دَعْوَتك وَصَلَّيْت فَرِيضَتك وَانْتَشَرْت كَمَا أَمَرْتَنِي فَارْزُقْنِي مِنْ فَضْلك وَأَنْتَ خَيْر الرَّازِقِينَ» یعنی اے اللہ! میں نے تیری آواز پر حاضری دی اور تیری فرض کردہ نماز ادا کی، پھر تیرے حکم کے مطابق اس مجمع سے اٹھ آیا، اب تو مجھے اپنا فضل نصیب فرما، تو سب سے بہتر روزی رساں ہے [ابن ابی حاتم]
اس آیت کو پیش نظر رکھ کر بعض سلف صالحین نے فرمایا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد خرید و فروخت کرے اسے اللہ تعالیٰ ستر حصے زیادہ برکت دے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ خرید فروخت کی حالت میں بھی ذکر اللہ کیا کرو، دنیا کے نفع میں اس قدر مشغول نہ ہو جاؤ کہ آخروی نفع بھول بیٹھو۔ حدیث شریف میں ہے جو شخص کسی بازار جائے اور وہاں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَحْده لَا شَرِيك لَهُ لَهُ الْمُلْك وَلَهُ الْحَمْد وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِير» پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور ایک لاکھ برائیاں معاف فرماتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:2235،قال الشيخ الألباني:حسن] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندہ کثیر الذکر اسی وقت کہلاتا ہے جبکہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر وقت اللہ کی یاد کرتا رہے۔