(آیت 3) {وَاٰخَرِيْنَمِنْهُمْلَمَّايَلْحَقُوْابِهِمْ …: ”اٰخَرِيْنَ“} کا عطف {”فِيالْاُمِّيّٖنَ“} پر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس رسول کو عرب اُمیوں میں بھیجا جن کی وہ نسل میں سے ہے اور اسے غیر عرب اُمیوں میں بھی بھیجا جو ابھی مسلمان ہو کر عربوں کے ساتھ نہیں ملے، مگر آئندہ مسلمان ہو کر ان کے ساتھ ملنے والے ہیں۔ تفصیل کے لیے اسی سورت کی آیت(۲) کی تفسیر کا پہلا فائدہ ملاحظہ فرمائیں۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں:” یعنی یہی رسول دوسرے اَن پڑھوں کے واسطے بھی ہے، وہ فارس کے لوگ (ہیں)، وہ بھی نبی کی کتاب نہ رکھتے تھے۔ حق تعالیٰ نے اوّل عرب پیدا کیے اس دین کو تھامنے والے، پیچھے عجم میں ایسے کامل لوگ اٹھے۔“(موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 یہ امیین پر عطف ہے یعنی بَعَثَفِیْاَخِرِیْنَمِنْھُمْاَخَرِیْنَ سے فارس اور دیگر غیر عرب لوگ ہیں جو قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے ہونگے، بعض کہتے ہیں کہ عرب و عجم کے وہ تمام لوگ ہیں جو عہد صحابہ کرام کے بعد قیامت تک ہوں گے چناچہ اس میں فارس، روم، بربر، سوڈان، ترک، مغول، کرد، چینی اور اہل ہند وغیرہ سب آجاتے ہیں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہم کی نبوت سب کے لیے ہے چناچہ یہ سب ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ اور اسلام لانے کے بعد یہ بھی منہم کا مصداق یعنی اولین اسلام لانے والے امیین میں سے ہوگئے کیونکہ تمام مسلمان امت واحدہ ہیں۔ اسی ضمیر کی وجہ سے بعض کہتے ہیں کہ آخرین سے مراد بعد میں ہونے والے عرب ہیں کیونکہ منہم کی ضمیر کا مرجع امیین ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ اور انہی کے کچھ دوسرے لوگوں (کی طرف بھی بھیجا) جو ابھی ان سے [6] نہیں ملے اور وہ زبردست [7] ہے حکمت والا ہے
[6] آپ تمام لوگوں کے لئے تا قیام قیامت رسول ہیں :۔
نبی آخر الزمان صرف ان امی اہل عرب ہی کی طرف مبعوث نہیں کیے گئے تھے بلکہ بعد میں قیامت تک آنے والے لوگوں کے بھی نبی ہیں گویا آپ کی نبوت اور رسالت صرف اہل عرب کے لیے اور صرف اس دور کے لیے ہی نہیں تھی بلکہ اس دور کے اور بعد میں ت اقیامت آنے والے سب انسانوں کے لیے یکساں ہے۔ اس سلسلہ میں درج ذیل حدیث بھی ملاحظہ فرمائیے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: جب سورۃ جمعہ نازل ہوئی تو ہم آپ کے پاس بیٹھے تھے۔ میں نے آپ سے پوچھا کہ: ﴿وَّاٰخَرِيْنَمِنْهُمْلَمَّايَلْحَقُوْابِهِمْ﴾ سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے تین بار یہی سوال کیا۔ اس وقت ہم لوگوں میں سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے ان پر اپنا ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ:”اگر ایمان ثریا پر بھی ہوتا تو ان لوگوں (فارس والوں) سے کئی لوگ وہاں تک پہنچ جاتے“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
اہل فارس کی خدمت اسلام :۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دو بار اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس لیے کہ اس سے مراد کوئی خاص لوگ نہیں تھے۔ بلکہ اس سے مراد عامۃ الناس تھے۔ پھر جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تیسری بار بھی یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فارس کا نام لیا کہ یہ لوگ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر دین اسلام کی خدمت کریں گے۔ چنانچہ عملاً ہوا بھی ایسا ہی، صحابہ کرام کے دور کے بعد اسلام کی نشر و اشاعت کا جتنا کام اہل فارس نے سرانجام دیا۔ دوسروں کے حصہ میں یہ سعادت نہ آسکی۔ بڑے بڑے محدثین اور فقہاء کی اکثریت اسی علاقہ سے تعلق رکھتی ہے۔ [7] اللہ تعالیٰ کے زبردست اور حکمت والا ہونے کی اس سے بڑھ کر کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اس نے اپنا رسول بھیج کر بائیس تئیس سال کی مختصر مدت میں عرب بھر کی کایا پلٹ کے رکھ دی۔ شرک کی جڑ کٹ گئی۔ اور خالصتاً اللہ کے پرستار پیدا ہو گئے۔ پہلے سب ایک دوسرے کے دشمن تھے اب بھائی بھائی بن کر شیر و شکر ہو گئے۔ پہلے بہت سے گناہوں اور اخلاقی امراض میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اب اخلاق فاضلہ کے بلند مقام پر فائز ہو گئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔