اس آیت کی تفسیر آیت 8 میں تا آیت 10 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
9۔ 1 یہ گذشتہ بات ہی کی تاکید ہے، اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے پھر دہرایا گیا ہے۔ 9۔ 1 تاہم یہ لامحالہ ہو کر رہے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اسے سب دینوں [11] پر غالب کر دے اگرچہ مشرکوں [12] کو کتنا ہی ناگوار ہو۔
[11] اس آیت کی تشریح کے لیے سورۃ توبہ کی آیت نمبر 33 پر حاشیہ نمبر 33 ملاحظہ فرمائیے۔
[12] مشرکوں کو خالص توحید ناگوار گزرتی ہے :۔
یعنی مشرک تو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی بندگی کے ساتھ دوسروں کی بندگیاں بھی چلاتے رہیں۔ بڑے خدا کے ساتھ چھوٹے خداؤں یا اس کے اپنے پیاروں کو کائنات کے تصرف میں، حاجت روائیوں اور مشکل کشائیوں میں شامل اور شریک کرتے رہیں۔ اللہ کے دین میں دوسرے دینوں کی اور غیر اسلامی فلسفوں اور نظریات کی آمیزش کرتے رہیں۔ مگر اللہ کو ایسی شراکت اور ایسے سمجھوتے قطعاً منظور نہیں۔ وہ ہر قسم کے شرک سے پاک سچے اور ستھرے دین کو ہر دین پر غالب کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اسے پورا کر کے رہے گا اگر مشرکوں کو یہ بات ناگوار ہے تو وہ اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگا دیکھیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔