لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡہِمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ٪﴿۶﴾
بلا شبہ یقینا تمھارے لیے ان میں اچھا نمونہ تھا، اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور جو کوئی منہ پھیرے تو یقینا اللہ ہی وہ ذات ہے جو بے پروا ہے، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔
En
تم (مسلمانوں) کو یعنی جو کوئی خدا (کے سامنے جانے) اور روز آخرت (کے آنے) کی امید رکھتا ہو اسے ان لوگوں کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے۔ اور روگردانی کرے تو خدا بھی بےپرواہ اور سزاوار حمد (وثنا) ہے
En
یقیناً تمہارے لیے ان میں اچھا نمونہ (اور عمده پیروی ہے خاص کر) ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کی امید رکھتا ہو، اور اگر کوئی روگردانی کرے تو اللہ تعالیٰ بالکل بےنیاز ہے اور سزا وار حمد وﺛنا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 6) ➊ { لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ …:} اس سے پہلے {” قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْۤ اِبْرٰهِيْمَ “} میں یہی بات ذکر ہوئی ہے، لامِ قسم کے ساتھ اسے دوبارہ لانے سے ایک تو اس حکم کی تاکید مقصود ہے اور ایک اس کے بعد {” لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْيَوْمَ الْاٰخِرَ “} لا کر یہ بتانا مقصود ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھی ان لوگوں کے لیے نمونہ نہیں جن کی ساری جد و جہد دنیا کے لیے ہے، بلکہ وہ صرف ان لوگوں کے لیے نمونہ ہیں جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں۔
➋ { لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْيَوْمَ الْاٰخِرَ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ احزاب (۲۱) کی تفسیر۔
➌ { وَ مَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ:} یعنی جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت کی امید سے منہ موڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو بھی اس کی کوئی پروا نہیں، کیونکہ وہ تو غنی و حمید ہے اور غنی و حمید بھی ایسا کہ اس کے سوا کوئی غنی و حمید ہے ہی نہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ فاطر (۱۵)، حج (۶۴) اور حدید (۲۴) کی تفسیر۔
➋ { لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْيَوْمَ الْاٰخِرَ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ احزاب (۲۱) کی تفسیر۔
➌ { وَ مَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ:} یعنی جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت کی امید سے منہ موڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو بھی اس کی کوئی پروا نہیں، کیونکہ وہ تو غنی و حمید ہے اور غنی و حمید بھی ایسا کہ اس کے سوا کوئی غنی و حمید ہے ہی نہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ فاطر (۱۵)، حج (۶۴) اور حدید (۲۴) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6۔ 1 یعنی ابراہیم ؑ کے اور ان کے ساتھی اہل ایمان میں۔ یہ تکرار تاکید کے لئے ہے۔ 6۔ 2 کیونکہ ایسے ہی لوگ اللہ سے اور عذاب آخرت سے ڈرتے ہیں، یہی لوگ حالات و واقعات سے عبرت پکڑتے اور نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ 6 ۔ 3 یعنی حضرت ابراہیم ؑ کے اسوے کو اپنانے سے گریز کرے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ انہیں لوگوں میں تمہارے لئے ایک اچھا نمونہ [13] ہے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو اور جو کوئی سرتابی [14] کرے تو بلا شبہ اللہ بے نیاز اور اپنی ذات [15] میں محمود ہے۔
[13] سیدنا ابراہیم کے ساتھیوں کے تین اوصاف :۔
یعنی سیدنا ابراہیمؑ اور ان کے پیروکاروں کے یہاں اللہ تعالیٰ نے تین اوصاف بیان فرمائے۔ ایک یہ کہ انہوں نے مشرکوں سے مکمل طور پر قطع تعلق کر لیا تھا اور یہ قطع تعلق دائمی تھا، تاآنکہ مشرک شرک سے باز آجائے۔ دوسرے وہ صرف اللہ پر توکل رکھتے تھے، تیسرے وہ اپنے حق میں اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ کی توفیق کی دعائیں بھی کرتے رہتے تھے اور بجا بھی لاتے ہیں۔ یہ صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر تم لوگ فی الواقع اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے اور اس سے جزائے اعمال کی امید رکھتے ہو تو تمہیں بھی ان جیسے کام کرنے چاہئیں۔
[14] ﴿تَوَلَّ﴾ کا ایک معنی تو وہی ہے جو ترجمہ میں مذکور ہے۔ اس کا دوسرا معنی دوست بنانا، دوستی گانٹھنا ہے۔ یعنی جو شخص سیدنا ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں کے قابل تقلید نمونہ کے باوجود اللہ اور آخرت پر ایمان لانے اور توقع رکھنے کے باوجود مشرکوں سے دوستی گانٹھتا ہے تو اللہ کو اس کے ایسے ایمان کی کوئی پروا نہیں۔ کیونکہ وہ تو بے نیاز ہے۔ اور یہ مطلب اصل مضمون سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
[15] یہ صورت نہیں کہ اگر کوئی اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے تو تب ہی وہ محمود ہے۔ وہ کسی کے حمد و ثنا بیان کرنے کا محتاج نہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ اس کی حمدو ثنا بیان کرنے سے حمد کرنے والے کو ہی فائدہ پہنچتا ہے۔ اللہ کا اس سے کچھ نہیں سنورتا اور حمد و ثنا نہ کرنے سے اس کا بگڑتا بھی کچھ نہیں۔
[14] ﴿تَوَلَّ﴾ کا ایک معنی تو وہی ہے جو ترجمہ میں مذکور ہے۔ اس کا دوسرا معنی دوست بنانا، دوستی گانٹھنا ہے۔ یعنی جو شخص سیدنا ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں کے قابل تقلید نمونہ کے باوجود اللہ اور آخرت پر ایمان لانے اور توقع رکھنے کے باوجود مشرکوں سے دوستی گانٹھتا ہے تو اللہ کو اس کے ایسے ایمان کی کوئی پروا نہیں۔ کیونکہ وہ تو بے نیاز ہے۔ اور یہ مطلب اصل مضمون سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
[15] یہ صورت نہیں کہ اگر کوئی اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے تو تب ہی وہ محمود ہے۔ وہ کسی کے حمد و ثنا بیان کرنے کا محتاج نہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ اس کی حمدو ثنا بیان کرنے سے حمد کرنے والے کو ہی فائدہ پہنچتا ہے۔ اللہ کا اس سے کچھ نہیں سنورتا اور حمد و ثنا نہ کرنے سے اس کا بگڑتا بھی کچھ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مومنوں کی دعا ٭٭
پھر کہتے ہیں الٰہی تو ہمیں کافروں کے لیے فتنہ نہ بنا، یعنی ایسا نہ ہو کہ یہ ہم پر غالب آ کر ہمیں مصیبت میں مبتلا کر دیں، اسی طرح یہ بھی نہ ہو کہ تیری طرف سے ہم پر کوئی عتاب و عذاب نازل ہو اور وہ ان کے اور بہکنے کا سبب بنے کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو اللہ انہیں عذاب کیوں کرتا؟ اگر یہ کسی میدان میں جیت گئے تو بھی ان کے لیے یہ فتنہ کا سبب ہو گا وہ سمجھیں گے کہ ہم اس لیے غالب آئے کہ ہم ہی حق پر ہیں، اسی طرح اگر یہ ہم پر غالب آ گئے تو ایسا نہ ہو کہ ہمیں تکلیفیں پہنچا پہنچا کر تیرے دین سے برگشتہ کر دیں۔ پھر دعا مانگتے ہیں کہ الٰہی ہمارے گناہوں کو بھی بخش دے، ہماری پردہ پوشی کر اور ہمیں معاف فرما، تو عزیز ہے تیری جناب میں پناہ لینے والا نامراد نہیں پھرتا، تیرے در پر دستک دینے والا خالی ہاتھ نہیں جاتا، تو اپنی شریعت کے تقرر میں، اپنے اقوال و افعال میں اور قضاء و قدر کے مقدر کرنے میں حکمتوں والا ہے، تیرا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں۔ پھر بطور تاکید کے وہی پہلی بات دہرائی جاتی ہے کہ ان میں تمہارے لیے نیک نمونہ ہے جو بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے آنے کی حقانیت پر ایمان رکھتا ہو اسے ان کی اقتداء میں آگے بڑھ کر قدم رکھنا چاہیئے اور جو احکام اللہ سے روگردانی کرے وہ جان لے کہ اللہ اس سے بےپرواہ ہے، وہ لائق حمد و ثناء ہے، مخلوق اس خالق کی تعریف میں مشغول ہے، جیسے اور جگہ ہے «إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» [14-ابراھیم:8] ”اگر تم اور تمام روئے زمین کے لوگ کفر پر اور اللہ کے نہ ماننے پر اتر آئیں تو اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ تعالیٰ سب سے غنی سب سے بے نیاز اور سب سے بےپرواہ ہے اور وہ تعریف کیا گیا ہے“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں غنی اسے کہا جاتا ہے جو اپنی غنا میں کامل ہو۔ اللہ تعالیٰ ہی کی یہ صفت ہے کہ وہ ہر طرح سے بے نیاز اور بالکل بےپرواہ ہے کسی اور کی ذات ایسی نہیں، اس کا کوئی ہمسر نہیں اس کے مثل کوئی اور نہیں، وہ پاک ہے، اکیلا ہے، سب پر حاکم، سب پر غالب، سب کا بادشاہ ہے، حمید ہے یعنی مخلوق اسے سراہ رہی ہے، اپنے جمیع اقوال میں تمام افعال میں وہ ستائشوں اور تعریفوں والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے سوا کوئی پالنے والا نہیں، رب وہی ہے معبود وہی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں غنی اسے کہا جاتا ہے جو اپنی غنا میں کامل ہو۔ اللہ تعالیٰ ہی کی یہ صفت ہے کہ وہ ہر طرح سے بے نیاز اور بالکل بےپرواہ ہے کسی اور کی ذات ایسی نہیں، اس کا کوئی ہمسر نہیں اس کے مثل کوئی اور نہیں، وہ پاک ہے، اکیلا ہے، سب پر حاکم، سب پر غالب، سب کا بادشاہ ہے، حمید ہے یعنی مخلوق اسے سراہ رہی ہے، اپنے جمیع اقوال میں تمام افعال میں وہ ستائشوں اور تعریفوں والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے سوا کوئی پالنے والا نہیں، رب وہی ہے معبود وہی ہے۔