تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ …:” بُرَءٰٓؤُا “ ” بَرِيْءٌ “} کی جمع ہے، جیسے {”كَرِيْمٌ“} کی جمع {”كُرَمَاءُ“} ہے۔ یعنی ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھی تمھارے لیے اس بات میں نمونہ ہیں کہ انھوں نے اپنی مشرک قوم سے، ان کے شرک سے اور ان کے معبودوں سے بری اور لاتعلق ہونے کا اعلان کر دیا۔ {” وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ “} میں {”مَا “} مصدریہ بھی ہو سکتا ہے اور موصولہ بھی۔
➌ {كَفَرْنَا بِكُمْ:} ہم تمھیں نہیں مانتے، نہ تمھارے دین کو، نہ تمھارے خداؤں کو اور نہ ان کی عبادت کو۔
➍ { وَ بَدَا بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا …:} یعنی ہمارے اللہ پر ایمان لانے اور تمھارے کفر پر قائم رہنے کے بعد ہمارے اور تمھارے درمیان کھلی دشمنی اور دلی بغض ہمیشہ کے لیے ظاہر ہوگیا ہے، یہاں تک کہ تم اکیلے اللہ پر ایمان لے آؤ۔
➎ { اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ:} یعنی ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے، سوائے اس بات کے جو ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے کہی کہ میں تمھارے لیے بخشش کی دعا ضرور کروں گا۔ اس بات میں وہ تمھارے لیے نمونہ نہیں ہیں اور نہ ہی اس میں ان کی پیروی جائز ہے۔ مشرکین کے لیے استغفار کی ممانعت اور ابراہیم علیہ السلام کے استغفار کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ کی آیات (114،113) کی تفسیر۔
➏ { وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ:} یعنی میں تمھارے لیے استغفار ضرور کروں گا، مگر میں تمھارے لیے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کے دلوانے کا مالک نہیں، وہ چاہے گا تو تمھیں بخش دے گا چاہے تو عذاب دے گا۔ معلوم ہوا کہ یہ اختیار پیغمبروں کے پاس بھی نہیں کہ وہ جسے چاہیں بخشوا لیں، خواہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے والد ہوں یا نوح علیہ السلام کا بیٹا یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب ہوں۔
➐ { رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا:} یہ ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا کلام ہے جو {” اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ …“} سے پہلے کلام کے ساتھ ملا ہوا ہے اور ان چیزوں میں شامل ہے جن میں ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی پیروی کا حکم ہے۔ گویا ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے یہ کہا: «اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ ...... حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ» اور اپنے رب سے یہ کہا: «رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا ...... اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» یہ دونوں باتیں کہنے میں وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں اور ہمیں ان کی پیروی کا حکم ہے۔
➑ {وَ اِلَيْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَيْكَ الْمَصِيْرُ: ” اَنَبْنَا “ ”أَنَابَ يُنِيْبُ إِنَابَةً “} (افعال) سے جمع متکلم ماضی معلوم کا صیغہ ہے۔ {” الْمَصِيْرُ “ ” صَارَ يَصِيْرُ “} سے مصدر میمی ہے۔ {” عَلَيْكَ “} اور {” اِلَيْكَ “} پہلے آنے سے قصر کا مفہوم حاصل ہو رہا ہے کہ اے ہمارے رب! ہم نے تجھی پر بھروسا کیا، کسی اور پر نہیں اور تیری ہی طرف رجوع کیا، کسی اور کی طرف نہیں، (تو نے ہی سب کو پیدا کیا) اور (آخر کار) تیری ہی طرف واپس آنا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اسی وعدہ کو پورا کرنے کی غرض سے آپ نے دو بار اپنے باپ کے حق میں دعائے مغفرت کی بھی تھی۔ پہلی بار کی دعا کا ذکر سورۃ ابراہیم کی آیت نمبر 41 میں ہے اور دوسری بار کی دعا کا ذکر سورۃ الشعراء کی آیت نمبر 86 میں ہے۔ پھر جب آپ کو پوری طرح معلوم ہو گیا کہ باپ شرک سے دستبردار ہونے کو قطعاً تیار نہیں۔ اور مشرک کی معافی کی اللہ کے ہاں کوئی صورت نہیں تو آپ نے اپنے اس قول اور وعدہ سے رجوع کر لیا اور اس کے حق میں دعائے مغفرت کرنا چھوڑ دی۔ ضمناً اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
[10] یعنی میں تیرے لیے صرف دعائے مغفرت ہی کر سکتا ہوں۔ آگے اللہ تمہیں بخشے یا نہ بخشے یہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ میرے اختیار میں کچھ نہیں۔
[11] یہ ہے وہ دعا اور عمل جس پر سیدنا ابراہیمؑ اور ان کے ساتھی عمل پیرا ہوئے تھے۔ اور اس کی تمہیں تقلید کرنا چاہیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قد} كان {لكم}: يا معشر المؤمنينَ، {أسوةٌ حسنةٌ}؛ أي: قدوةٌ صالحةٌ وائتمامٌ ينفعكم {في إبراهيم والذين معه}: من المؤمنين؛ لأنَّكم قد أمرتم أن تتَّبعوا ملَّة إبراهيم حنيفاً، {إذْ قالوا لقومهم إنا بُرءَاءُ منكم وممَّا تعبُدون من دونِ اللهِ}؛ أي: إذ تبرأ إبراهيم عليه السلام ومَنْ معه من المؤمنين من قومهم المشركين وممَّا يعبُدون من دون الله، ثم صرَّحوا بعداوتهم غاية التصريح، فقالوا: {كَفَرْنا بكم وبدا}؛ أي: ظهر وبان {بينَنا وبينَكم العداوةُ والبغضاءُ}؛ أي: البغض بالقلوب وزوال مودَّتها والعداوة بالأبدان. وليس لتلك العداوة والبغضاء وقتٌ ولا حدٌّ، بل ذلك {أبداً} ما دمتم مستمرِّين على كفركم، {حتى تؤمِنوا بالله وحدَه}؛ أي: فإذا آمنتم بالله وحده؛ زالت العداوةُ والبغضاءُ وانقلبتْ مودَّةً وولايةً؛ فلكم أيُّها المؤمنون أسوةٌ حسنةٌ في إبراهيم ومن معه في القيام بالإيمان والتوحيد ولوازم ذلك ومقتضياته وفي كلِّ شيءٍ تَعَبَّدُوا به لله وحده، {إلاَّ}: في خصلةٍ واحدةٍ، وهي: {قولَ إبراهيمَ لأبيه}: آزر المشرك الكافر المعاند حين دعاه إلى الإيمان والتوحيدِ، فامتنع، فقال إبراهيمُ له: {لأستغفرنَّ لك و}: الحال أني لا {أملِكُ لك من اللهِ من شيءٍ}: ولكنِّي أدعو ربِّي عسى أن لا أكونَ بدعاءِ ربِّي شقيًّا، فليس لكم أن تقتدوا بإبراهيم في هذه الحالة التي دعا بها للمشرك، فليس لكم أن تدعوا للمشركين وتقولوا: إنَّا في ذلك متَّبِعون لملَّة إبراهيم؛ فإنَّ الله ذَكَرَ عذرَ إبراهيم في ذلك بقوله: {وما كان استغفارُ إبراهيمَ لأبيهِ إلاَّ عن مَوْعِدَةٍ وَعَدَها إيَّاه فلمَّا تَبَيَّنَ له أنَّه عدوٌّ لله تبرَّأ منه ... } الآية، ولكم أسوةٌ حسنةٌ في إبراهيم ومن معه حين دَعَوُا الله وتوكَّلوا عليه وأنابوا إليه واعترفوا بالعجز والتقصير، فقالوا: {ربَّنا عليك توكَّلْنا}؛ أي: اعتمدنا عليك في جلب ما ينفعنا ودفع ما يضرُّنا ووثقنا بك يا ربَّنا في ذلك، {وإليك أنَبْنا}؛ أي: رجعنا إلى طاعتك ومرضاتك وجميع ما يقرِّبُ إليك؛ فنحن في ذلك ساعون، وبفعل الخيرات مجتهدون، ونعلم أنَّا إليك نصيرُ، فسنستعدُّ للقدوم عليك، ونعمل ما يزلفنا إليك.