ترجمہ و تفسیر — سورۃ الممتحنة (60) — آیت 3

لَنۡ تَنۡفَعَکُمۡ اَرۡحَامُکُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُکُمۡ ۚۛ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۚۛ یَفۡصِلُ بَیۡنَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۳﴾
قیامت کے دن ہرگز نہ تمھاری رشتہ داریاں تمھیں فائدہ دیں گی اور نہ تمھاری اولاد، وہ تمھارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ اسے جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے۔ En
قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناتے کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ اس روز وہی تم میں فیصلہ کرے گا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھتا ہے
En
تمہاری قرابتیں، رشتہداریاں، اور اوﻻد تمہیں قیامت کے دن کام نہ آئیں گی، اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اسے اللہ خوب دیکھ رہا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) ➊ { لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ: أَرْحَامٌ رَحْمٌ} کی جمع ہے، رشتہ داری۔ مراد {ذُوُوا الْأَرْحَامِ} ہے، رشتہ دار۔ یعنی وہ رشتہ دار اور اولاد جن کی خاطر تم اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کر رہے ہو قیامت کے دن وہ تمھیں ہرگز کوئی فائدہ نہیں دیں گے کہ تمھیں اس گناہ کی سزا سے یہ کہہ کر بچا لیں کہ انھوں نے ہماری خاطر یہ غلطی کی تھی۔
➋ {يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ:} اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ دوسرا یہ کہ وہ قیامت کے دن تمھارے درمیان اور تمھارے ارحام و اولاد کے درمیان جدائی ڈال دے گا، کسی کو کسی کا ہوش نہ ہوگا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ (34) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِيْهِ (35) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِيْهِ (36) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ» [عبس: ۳۴ تا ۳۷] جس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ(سے)۔ اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ اس دن ان میں سے ہر شخص کی ایک ایسی حالت ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا بنا دے گی۔ پچھلی آیت میں ان لوگوں کا حال بتایا جن سے دوستی کی جا رہی ہے اور اس آیت میں ان لوگوں کا حال بیان کیا جن کی خاطر کفار سے دوستی کی جا رہی ہے۔
➌ {وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ:} اس میں فرماں برداروں کے لیے وعدہ اور نافرمانوں کے لیے وعید ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 یعنی جس اولاد کے لئے تم کفار کے ساتھ محبت کا اظہار کر رہے ہو، یہ تمہارے کچھ کام نہ آئے گی، پھر اس کی وجہ سے تم کافروں سے دوستی کرکے کیوں اللہ کو ناراض کرتے ہو۔ قیامت والے دن جو چیز کام آئے گی، وہ تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے، اس کا اہتمام کرو۔ 3۔ 2 دوسرے معنی ہیں تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ یعنی اہل اطاعت کو جنت میں اور اہل معصیت کو جہنم میں داخل کرے گا، بعض کہتے ہیں آپس میں جدائی کا مطلب کہ ایک دوسرے سے بھا گیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناطے کچھ فائدہ دیں گے اور نہ تمہاری اولاد۔ وہ تمہارے درمیان [7] جدائی ڈال دے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے
[7] تم نے یہ کام صرف اس لیے کیا کہ مکہ میں تمہارے بال بچے کافروں کی ایذا رسانی سے محفوظ رہیں۔ تم نے اپنے بال بچوں کے مفاد کو اسلام کے اجتماعی مفاد کے مقابلہ میں ترجیح دی۔ حالانکہ قیامت کے دن تمہارے یہ بال بچے تمہارے کسی کام نہ آسکیں گے۔ بال بچوں کی خاطر جس خطرناک غلطی کا تم نے ارتکاب کیا ہے۔ اگر اللہ تمہیں اس کی پاداش میں پکڑے تو کیا یہ بال بچے تمہیں اللہ سے بچا سکیں گے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔