یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا جَآءَکُمُ الۡمُؤۡمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامۡتَحِنُوۡہُنَّ ؕ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ بِاِیۡمَانِہِنَّ ۚ فَاِنۡ عَلِمۡتُمُوۡہُنَّ مُؤۡمِنٰتٍ فَلَا تَرۡجِعُوۡہُنَّ اِلَی الۡکُفَّارِ ؕ لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحِلُّوۡنَ لَہُنَّ ؕ وَ اٰتُوۡہُمۡ مَّاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ اَنۡ تَنۡکِحُوۡہُنَّ اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ ؕ وَ لَا تُمۡسِکُوۡا بِعِصَمِ الۡکَوَافِرِ وَ سۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ وَ لۡیَسۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ ذٰلِکُمۡ حُکۡمُ اللّٰہِ ؕ یَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۰﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تمھارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کی جانچ پڑتال کرو، اللہ ان کے ایمان کو زیادہ جاننے والا ہے ۔پھر اگر تم جان لو کہ وہ مومن ہیں تو انھیں کفار کی طرف واپس نہ کرو، نہ یہ عورتیں ان کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لیے حلال ہوں گے۔ اور انھیں دے دو جو انھوں نے خرچ کیا ہے اور تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ان سے نکاح کر لو، جب انھیں ان کے مہر دے دو۔ اور کافر عورتوں کی عصمتیں روک کر نہ رکھو اور تم مانگ لو جو تم نے خرچ کیا ہے اور وہ (کفار) مانگ لیں جو انھوں نے خرچ کیا ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے، وہ تمھارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
En
مومنو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرلو۔ (اور) خدا تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ سو اگر تم کو معلوم ہو کہ مومن ہیں تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو۔ کہ نہ یہ ان کو حلال ہیں اور نہ وہ ان کو جائز۔ اور جو کچھ انہوں نے (ان پر) خرچ کیا ہو وہ ان کو دے دو۔ اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو مہر دے کر ان سے نکاح کرلو اور کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو (یعنی کفار کو واپس دے دو) اور جو کچھ تم نے ان پر خرچ کیا ہو تم ان سے طلب کرلو اور جو کچھ انہوں نے (اپنی عورتوں پر) خرچ کیا ہو وہ تم سے طلب کرلیں۔ یہ خدا کا حکم ہے جو تم میں فیصلہ کئے دیتا ہے اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے
En
اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو تم ان کا امتحان لو۔ دراصل ان کے ایمان کو بخوبی جاننے واﻻ تو اللہ ہی ہے لیکن اگر وه تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو اب تم انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو، یہ ان کے لیے حلال نہیں اور نہ وه ان کے لیے حلال ہیں، اور جو خرچ ان کافروں کا ہوا ہو وه انہیں ادا کردو، ان عورتوں کو ان کے مہر دے کر ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناه نہیں اور کافر عورتوں کی ناموس اپنے قبضہ میں نہ رکھو اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو، مانگ لو اور جو کچھ ان کافروں نے خرچ کیا ہو وه بھی مانگ لیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو تمہارے درمیان کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ بڑے علم (اور) حکمت واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 10) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ …:} ان آیات میں مشرکین سے قطع تعلق کی وجہ سے پیش آنے والے کئی معاملات کا حکم بیان فرمایا، مثلاً کفار کی بیویاں جو مسلمان ہو کر ہجرت کر کے مسلمانوں کے پاس آ جائیں، انھیں واپس کیا جائے گا یا نہیں اور میاں بیوی میں سے کسی ایک کے مسلمان ہو جانے سے ان کا باہمی نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں وغیرہ۔
➋ حدیبیہ کے موقع پر کفار کے نمائندے سہیل بن عمرو نے صلح کی جو شرائط طے کی تھیں ان میں سے ایک شرط جو مسلمانوں کو منظور نہ تھی مگر سہیل نے اس کے بغیر صلح کرنے سے انکار کر دیا، یہ تھی: [لاَ يَأْتِيْكَ مِنَّا أَحَدٌ وَ إِنْ كَانَ عَلٰی دِيْنِكَ إِلاَّ رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۸۰،۴۱۸۱] ”ہم میں سے جو بھی آپ کے پاس آئے گا خواہ وہ آپ کے دین پر ہو، آپ اسے ہماری طرف واپس کریں گے اور ہمارے اور اس کے درمیان کوئی دخل نہیں دیں گے۔“ اللہ تعالیٰ کا عجیب تصرف دیکھیے کہ سہیل اس میں یہ صراحت نہ لکھوا سکا کہ اس میں عورتیں بھی شامل ہیں۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: [فَقَالَ سُهَيْلٌ وَ عَلٰی أَنَّهُ لاَ يَأْتِيْكَ مِنَّا رَجُلٌ وَ إِنْ كَانَ عَلٰی دِيْنِكَ إِلاَّ رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا] [بخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد و المصالحۃ …: ۲۷۳۱، ۲۷۳۲] ”سہیل نے کہا، یہ شرط بھی کہ ہماری طرف سے جو آدمی بھی آپ کے پاس جائے گا، چاہے وہ آپ کے دین ہی پر کیوں نہ ہو، آپ اسے ہمیں واپس کر دیں گے۔“ اب اس کے بعد کفار یہ کہہ ہی نہیں سکتے تھے کہ آپ مسلمان ہونے والی عورتوں کو واپس کیوں نہیں کرتے۔ جب معاہدہ طے ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کو قربانی کرنے اور سر منڈوانے کے ساتھ احرام کھولنے کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر سہیل کا بیٹا ابو جندل رضی اللہ عنہ مسلمان ہو کر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ کے مطالبے پر اسے واپس کر دیا، اس کے علاوہ بھی صلح کی اس مدت میں آپ کے پاس مکہ سے جو مرد آیا آپ نے اسے واپس کر دیا خواہ وہ مسلمان ہی تھا۔ اب کئی عورتیں جو ایمان لے آئی تھیں ہجرت کر کے مدینہ پہنچیں، ان میں ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط بھی تھیں۔ اس وقت وہ جوان تھیں، ان کے گھر والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انھیں واپس کر دینے کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہدایات نازل فرمائیں۔ [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۸۰،۴۱۸۱]
➌ { فَامْتَحِنُوْهُنَّ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِيْمَانِهِنَّ …:} ایمان والوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمھارے پاس آئیں تو ان کی جانچ پڑتال کرو کہ وہ ایمان ہی کی وجہ سے ہجرت کر کے آئی ہیں یا کوئی اور وجہ ہے۔ اس جانچ پڑتال میں تم اس بات کے مکلف نہیں کہ ان کے دل میں چھپی ہوئی بات معلوم کرو، یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے، تمھارا کام یہ ہے کہ اگر وہ ان باتوں کا عہد کریں جو اگلی آیت (۱۲) میں آ رہی ہیں تو انھیں کفار کی طرف واپس مت کرو۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کر کے آنے والے کسی مرد کے امتحان کا حکم نہیں دیا، کیونکہ ان کے امتحان کے لیے ہجرت اور جہاد کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مہاجرین کے صادق الایمان ہونے کی شہادت دی ہے۔ (دیکھیے حشر: ۸) جب کہ عورتوں پر جہاد فرض نہیں جس سے کھرے کھوٹے کی تمیز ہوتی ہے۔ (شنقیطی)
➍ { لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ:} اس میں انھیں واپس نہ کرنے کی علت بیان فرمائی ہے کہ نہ مومن عورتیں کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ ہی کافر مرد مومن عورتوں کے لیے حلال ہیں، اس لیے اگر کوئی عورت مسلمان ہو جائے تو اسے اس کے کافر خاوند سے جدا کر لیا جائے گا۔ پھر اگر وہ اپنے خاوند کے مسلمان ہونے کا انتظار کرے اور خاوند مسلمان ہو جائے تو نکاح برقرار رہے گا، خواہ عورت پہلے ہجرت کر کے آئی ہو اور خاوند بعد میں ہجرت کرے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے، انھوں نے فرمایا: [رَدَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلٰی أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيْعِ، بَعْدَ سِتِّ سِنِيْنَ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ يُحْدِثْ نِكَاحًا] [ترمذي، النکاح، باب ما جاء في الزوجین المشرکین یسلم أحدھما: ۱۱۴۳، وقال الألباني صحیح] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنھا کو ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے ساتھ چھ سال کے بعد پہلے نکاح ہی میں واپس بھیج دیا اور نیا نکاح نہیں کیا۔“ اور اگر عورت اپنے خاوند کے مسلمان ہونے کا انتظار نہ کرے تو اسے اجازت ہے کہ کسی مسلمان کے ساتھ نکاح کر لے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
➎ { وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا:} یعنی ہجرت کر کے آنے والی مسلم عورتوں کے مشرک خاوندوں نے ان کے نکاح پر جو خرچ کیا ہے وہ انھیں واپس کر دو۔ یاد رہے کہ یہ احکام ان مشرکین کی عورتوں کے بارے میں ہیں جن کی مسلمانوں کے ساتھ صلح ہو۔
➏ {وَ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ:} یعنی اگر وہ اپنے خاوندوں کے مسلمان ہو کر آنے کا انتظار نہ کریں اور نکاح کرنا چاہیں تو مسلمانوں کو ان سے نکاح کرنے کی اجازت ہے، جب ان شرطوں کو ملحوظ رکھا جائے جو نکاح کے لیے ضروری ہیں، مثلاً ولی کی اجازت، عدت پوری ہونا، مہر کی ادائیگی وغیرہ۔
➐ {وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ: ”عِصَمٌ“ ”عِصْمَةٌ“} کی جمع ہے، مراد نکاح ہے اور {” الْكَوَافِرِ “ ”كَافِرَةٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”ضَارِبَةٌ“} کی جمع {”ضَوَارِبُ“} ہے، کافر عورتیں۔ یعنی جو مرد مسلمان ہو جائیں اور ان کی بیویاں کفر پر قائم رہیں ان کے لیے انھیں اپنے نکاح میں باقی رکھنا جائز نہیں، بلکہ طلاق دے دینا لازم ہے۔ چنانچہ مسور اور مروان بن حکم سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن کفار قریش سے معاہدہ کیا تو آپ کے پاس کچھ مومن عورتیں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ … وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ» [الممتحنۃ: ۱۰] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تمھارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں…اور کافر عورتوں کی عصمتیں روک کر نہ رکھو۔“ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس دن اپنی دو (مشرک) عورتوں کو طلاق دے دی، جن میں سے ایک کے ساتھ معاویہ بن ابو سفیان نے اور دوسری کے ساتھ صفوان بن امیہ نے نکاح کر لیا (جو اس وقت مشرک تھے)۔ [بخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد…: ۲۷۳۱،۲۷۳۲] ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ قریبہ بنت ابی امیہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی، انھوں نے اسے طلاق دے دی تو اس سے معاویہ بن ابو سفیان نے نکاح کر لیا اور ام حکم بنت ابو سفیان عیاض بن غنم فہری کے نکاح میں تھی، انھوں نے اسے طلاق دے دی تو اس سے عبداللہ بن عثمان ثقفی نے نکاح کر لیا۔ [بخاري، الطلاق، باب نکاح من أسلم من المشرکات و عدتہن: ۵۲۸۷]
➑ {وَ سْـَٔلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْيَسْـَٔلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا …:} اس کا عطف {” وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا “} پر ہے۔ ہجرت کر کے آنے والی عورتیں یا تو ان مشرکین میں سے ہوتی تھیں جن کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ تھی، ان کے متعلق عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”مشرکین کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے دو طرح کا تھا، ایک اہلِ حرب (لڑائی والے) مشرک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے لڑتے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑتے تھے اور ایک اہل عہد (معاہدے والے) مشرک۔ اہل حرب مشرکین میں سے کوئی عورت جب ہجرت کر کے آتی تو اسے اس وقت تک نکاح کا پیغام نہیں دیا جاتا تھا جب تک وہ حیض آنے کے بعد پاک نہیں ہوتی تھی۔ جب پاک ہو جاتی تو اس کے لیے نکاح حلال ہو جاتا، پھر اگر اس کا خاوند اس کے نکاح کرنے سے پہلے ہجرت کر کے آ جاتا تو وہ اسے واپس کر دی جاتی اور اگر ان کا کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آتے تو دونوں آزاد ہو جاتے اور انھیں وہ حقوق حاصل ہو جاتے جو دوسرے مہاجرین کو حاصل تھے۔ (پھر معاہدے والوں کے متعلق مجاہد کی حدیث کی طرح ذکر کیا) اور اگر معاہدے والے مشرکین کا کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آتے تو انھیں واپس نہیں کیا جاتا تھا اور ان کی قیمتیں دے دی جاتی تھیں۔“ [بخاري، الطلاق، باب نکاح من أسلم من المشرکات وعدتھن: ۵۲۸۶]
ہجرت کر کے آنے والی مسلمان عورتوں کی دوسری قسم ان مشرکین کی بیویاں تھیں جن کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدۂ صلح تھا۔ اس آیت میں ان کا حکم بیان ہوا ہے کہ انھیں مشرکین کی طرف واپس مت کرو، بلکہ انھوں نے ان کے نکاح پر جو کچھ خرچ کیا ہے وہ انھیں دے دو اور کافر عورتوں کو بھی روک کر مت رکھو، بلکہ انھیں طلاق دے دو اور چونکہ تمھاری آپس میں صلح ہے اس لیے جن مشرک عورتوں کو تم نے چھوڑا ہے ان پر کیا ہوا خرچ تم مشرکین سے مانگ لو اور وہ ان عورتوں پر کیا ہوا خرچ تم سے مانگ لیں جو ہجرت کر کے تمھارے پاس آئی ہیں۔
➋ حدیبیہ کے موقع پر کفار کے نمائندے سہیل بن عمرو نے صلح کی جو شرائط طے کی تھیں ان میں سے ایک شرط جو مسلمانوں کو منظور نہ تھی مگر سہیل نے اس کے بغیر صلح کرنے سے انکار کر دیا، یہ تھی: [لاَ يَأْتِيْكَ مِنَّا أَحَدٌ وَ إِنْ كَانَ عَلٰی دِيْنِكَ إِلاَّ رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۸۰،۴۱۸۱] ”ہم میں سے جو بھی آپ کے پاس آئے گا خواہ وہ آپ کے دین پر ہو، آپ اسے ہماری طرف واپس کریں گے اور ہمارے اور اس کے درمیان کوئی دخل نہیں دیں گے۔“ اللہ تعالیٰ کا عجیب تصرف دیکھیے کہ سہیل اس میں یہ صراحت نہ لکھوا سکا کہ اس میں عورتیں بھی شامل ہیں۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: [فَقَالَ سُهَيْلٌ وَ عَلٰی أَنَّهُ لاَ يَأْتِيْكَ مِنَّا رَجُلٌ وَ إِنْ كَانَ عَلٰی دِيْنِكَ إِلاَّ رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا] [بخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد و المصالحۃ …: ۲۷۳۱، ۲۷۳۲] ”سہیل نے کہا، یہ شرط بھی کہ ہماری طرف سے جو آدمی بھی آپ کے پاس جائے گا، چاہے وہ آپ کے دین ہی پر کیوں نہ ہو، آپ اسے ہمیں واپس کر دیں گے۔“ اب اس کے بعد کفار یہ کہہ ہی نہیں سکتے تھے کہ آپ مسلمان ہونے والی عورتوں کو واپس کیوں نہیں کرتے۔ جب معاہدہ طے ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کو قربانی کرنے اور سر منڈوانے کے ساتھ احرام کھولنے کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر سہیل کا بیٹا ابو جندل رضی اللہ عنہ مسلمان ہو کر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ کے مطالبے پر اسے واپس کر دیا، اس کے علاوہ بھی صلح کی اس مدت میں آپ کے پاس مکہ سے جو مرد آیا آپ نے اسے واپس کر دیا خواہ وہ مسلمان ہی تھا۔ اب کئی عورتیں جو ایمان لے آئی تھیں ہجرت کر کے مدینہ پہنچیں، ان میں ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط بھی تھیں۔ اس وقت وہ جوان تھیں، ان کے گھر والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انھیں واپس کر دینے کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہدایات نازل فرمائیں۔ [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۸۰،۴۱۸۱]
➌ { فَامْتَحِنُوْهُنَّ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِيْمَانِهِنَّ …:} ایمان والوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمھارے پاس آئیں تو ان کی جانچ پڑتال کرو کہ وہ ایمان ہی کی وجہ سے ہجرت کر کے آئی ہیں یا کوئی اور وجہ ہے۔ اس جانچ پڑتال میں تم اس بات کے مکلف نہیں کہ ان کے دل میں چھپی ہوئی بات معلوم کرو، یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے، تمھارا کام یہ ہے کہ اگر وہ ان باتوں کا عہد کریں جو اگلی آیت (۱۲) میں آ رہی ہیں تو انھیں کفار کی طرف واپس مت کرو۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کر کے آنے والے کسی مرد کے امتحان کا حکم نہیں دیا، کیونکہ ان کے امتحان کے لیے ہجرت اور جہاد کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مہاجرین کے صادق الایمان ہونے کی شہادت دی ہے۔ (دیکھیے حشر: ۸) جب کہ عورتوں پر جہاد فرض نہیں جس سے کھرے کھوٹے کی تمیز ہوتی ہے۔ (شنقیطی)
➍ { لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ:} اس میں انھیں واپس نہ کرنے کی علت بیان فرمائی ہے کہ نہ مومن عورتیں کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ ہی کافر مرد مومن عورتوں کے لیے حلال ہیں، اس لیے اگر کوئی عورت مسلمان ہو جائے تو اسے اس کے کافر خاوند سے جدا کر لیا جائے گا۔ پھر اگر وہ اپنے خاوند کے مسلمان ہونے کا انتظار کرے اور خاوند مسلمان ہو جائے تو نکاح برقرار رہے گا، خواہ عورت پہلے ہجرت کر کے آئی ہو اور خاوند بعد میں ہجرت کرے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے، انھوں نے فرمایا: [رَدَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلٰی أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيْعِ، بَعْدَ سِتِّ سِنِيْنَ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ يُحْدِثْ نِكَاحًا] [ترمذي، النکاح، باب ما جاء في الزوجین المشرکین یسلم أحدھما: ۱۱۴۳، وقال الألباني صحیح] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنھا کو ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے ساتھ چھ سال کے بعد پہلے نکاح ہی میں واپس بھیج دیا اور نیا نکاح نہیں کیا۔“ اور اگر عورت اپنے خاوند کے مسلمان ہونے کا انتظار نہ کرے تو اسے اجازت ہے کہ کسی مسلمان کے ساتھ نکاح کر لے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
➎ { وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا:} یعنی ہجرت کر کے آنے والی مسلم عورتوں کے مشرک خاوندوں نے ان کے نکاح پر جو خرچ کیا ہے وہ انھیں واپس کر دو۔ یاد رہے کہ یہ احکام ان مشرکین کی عورتوں کے بارے میں ہیں جن کی مسلمانوں کے ساتھ صلح ہو۔
➏ {وَ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ:} یعنی اگر وہ اپنے خاوندوں کے مسلمان ہو کر آنے کا انتظار نہ کریں اور نکاح کرنا چاہیں تو مسلمانوں کو ان سے نکاح کرنے کی اجازت ہے، جب ان شرطوں کو ملحوظ رکھا جائے جو نکاح کے لیے ضروری ہیں، مثلاً ولی کی اجازت، عدت پوری ہونا، مہر کی ادائیگی وغیرہ۔
➐ {وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ: ”عِصَمٌ“ ”عِصْمَةٌ“} کی جمع ہے، مراد نکاح ہے اور {” الْكَوَافِرِ “ ”كَافِرَةٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”ضَارِبَةٌ“} کی جمع {”ضَوَارِبُ“} ہے، کافر عورتیں۔ یعنی جو مرد مسلمان ہو جائیں اور ان کی بیویاں کفر پر قائم رہیں ان کے لیے انھیں اپنے نکاح میں باقی رکھنا جائز نہیں، بلکہ طلاق دے دینا لازم ہے۔ چنانچہ مسور اور مروان بن حکم سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن کفار قریش سے معاہدہ کیا تو آپ کے پاس کچھ مومن عورتیں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ … وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ» [الممتحنۃ: ۱۰] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تمھارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں…اور کافر عورتوں کی عصمتیں روک کر نہ رکھو۔“ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس دن اپنی دو (مشرک) عورتوں کو طلاق دے دی، جن میں سے ایک کے ساتھ معاویہ بن ابو سفیان نے اور دوسری کے ساتھ صفوان بن امیہ نے نکاح کر لیا (جو اس وقت مشرک تھے)۔ [بخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد…: ۲۷۳۱،۲۷۳۲] ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ قریبہ بنت ابی امیہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی، انھوں نے اسے طلاق دے دی تو اس سے معاویہ بن ابو سفیان نے نکاح کر لیا اور ام حکم بنت ابو سفیان عیاض بن غنم فہری کے نکاح میں تھی، انھوں نے اسے طلاق دے دی تو اس سے عبداللہ بن عثمان ثقفی نے نکاح کر لیا۔ [بخاري، الطلاق، باب نکاح من أسلم من المشرکات و عدتہن: ۵۲۸۷]
➑ {وَ سْـَٔلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْيَسْـَٔلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا …:} اس کا عطف {” وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا “} پر ہے۔ ہجرت کر کے آنے والی عورتیں یا تو ان مشرکین میں سے ہوتی تھیں جن کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ تھی، ان کے متعلق عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”مشرکین کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے دو طرح کا تھا، ایک اہلِ حرب (لڑائی والے) مشرک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے لڑتے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑتے تھے اور ایک اہل عہد (معاہدے والے) مشرک۔ اہل حرب مشرکین میں سے کوئی عورت جب ہجرت کر کے آتی تو اسے اس وقت تک نکاح کا پیغام نہیں دیا جاتا تھا جب تک وہ حیض آنے کے بعد پاک نہیں ہوتی تھی۔ جب پاک ہو جاتی تو اس کے لیے نکاح حلال ہو جاتا، پھر اگر اس کا خاوند اس کے نکاح کرنے سے پہلے ہجرت کر کے آ جاتا تو وہ اسے واپس کر دی جاتی اور اگر ان کا کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آتے تو دونوں آزاد ہو جاتے اور انھیں وہ حقوق حاصل ہو جاتے جو دوسرے مہاجرین کو حاصل تھے۔ (پھر معاہدے والوں کے متعلق مجاہد کی حدیث کی طرح ذکر کیا) اور اگر معاہدے والے مشرکین کا کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آتے تو انھیں واپس نہیں کیا جاتا تھا اور ان کی قیمتیں دے دی جاتی تھیں۔“ [بخاري، الطلاق، باب نکاح من أسلم من المشرکات وعدتھن: ۵۲۸۶]
ہجرت کر کے آنے والی مسلمان عورتوں کی دوسری قسم ان مشرکین کی بیویاں تھیں جن کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدۂ صلح تھا۔ اس آیت میں ان کا حکم بیان ہوا ہے کہ انھیں مشرکین کی طرف واپس مت کرو، بلکہ انھوں نے ان کے نکاح پر جو کچھ خرچ کیا ہے وہ انھیں دے دو اور کافر عورتوں کو بھی روک کر مت رکھو، بلکہ انھیں طلاق دے دو اور چونکہ تمھاری آپس میں صلح ہے اس لیے جن مشرک عورتوں کو تم نے چھوڑا ہے ان پر کیا ہوا خرچ تم مشرکین سے مانگ لو اور وہ ان عورتوں پر کیا ہوا خرچ تم سے مانگ لیں جو ہجرت کر کے تمھارے پاس آئی ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 معاہدہ حدیبیہ میں ایک شق یہ تھی کہ مکہ سے کوئی مسلمانوں کے پاس چلا جائے گا تو اس کو واپس کرنا پڑے گا لیکن اس میں مرد و عورت کی صراحت نہیں تھی بظاہر کوئی احد میں دونوں ہی شامل تھے چناچہ بعد میں بعض عورتیں مکہ سے ہجرت کرکے مسلمانوں کے پاس چلی گئیں تو کفار نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا جس پر اللہ نے اس آیت میں مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی اور یہ حکم دیا امتحان لینے کا مطلب ہے اس امر کی تحقیق کرو کہ ہجرت کر کے آنے والی عورت جو ایمان کا اظہار کر رہی ہے اپنے کافر خاوند سے ناراض ہو کر یا کسی مسلمان کے عشق میں یا کسی اور غرض سے تو نہیں آئی ہے اور صرف یہاں پناہ لینے کی خاطر ایمان کا دعوی کر رہی ہے۔ 10۔ 2 یعنی تم اپنی تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچو اور تمہیں گمان غالب حاصل ہوجائے کہ یہ واقعی مومنہ ہیں۔ 10۔ 3 یہ انہیں ان کے کافر خاوندوں کے پاس واپس نہ کرنے کی علت ہے کہ اب کوئی مومن عورت کسی کافر کے لیے حلال نہیں جیسا کہ ابتدائے اسلام میں یہ جائز تھا چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب ؓ کا نکاح ابو العاص ابن ربیع کے ساتھ ہوا تھا جب کہ وہ مسلمان نہیں تھے لیکن اس آیت نے آئندہ کے لیے ایسا کرنے سے منع کردیا اسی لیے یہاں فرمایا گیا کہ وہ ایک دوسرے کے لیے حلال نہیں اس لیے انہیں کافروں کے پاس مت لوٹاؤ ہاں اگر شوہر بھی مسلمان ہوجائے تو پھر ان کا نکاح برقرار رہ سکتا ہے چاہے خاوند عورت کے بعد ہجرت کر کے آئے۔ 10۔ 4 یعنی ان کے کافر خاوندوں نے ان کو جو مہر ادا کیا ہے، وہ تم انہیں ادا کردو۔ 10۔ 5 یہ مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے کہ یہ عورتیں جو ایمان کی خاطر اپنے کافر خاوندوں کو چھوڑ کر تمہارے پاس آگئی ہیں تم ان سے نکاح کرسکتے ہو بشرطیکہ ان کا حق مہر تم ادا کرو تاہم یہ نکاح مسنون طریقے سے ہی ہوگا یعنی ایک تو انقضائے عدت (استبراء رحم) کے بعد ہوگا دوسرے اس میں ولی کی اجازت اور دو عادل گواہوں کی موجودگی بھی ضروری ہے البتہ عورت مدخول بہا نہیں ہے تو پھر بلا عدت فوری نکاح جائز ہے 10۔ 6 عصم عصمۃ کی جمع ہے یہاں اس سے مراد عصمت عقد نکاح ہے مطلب یہ ہے کہ اگر خاوند مسلمان ہوجائے اور بیوی بدستور کافر اور مشرک رہے تو ایسی مشرک عورت کو اپنے نکاح میں رکھنا جائز نہیں ہے اسے فورا طلاق دے کر اپنے سے علیحدہ کردیا جائے چناچہ اس حکم کے بعد حضرت عمر ؓ نے اپنی دو مشرک بیویوں کو اور حضرت طلحہ ابن عبید اللہ ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ابن کثیر۔ البتہ اگر بیوی کتابیہ ہو تو اسے طلاق دینا ضروری نہیں ہے کیونکہ ان سے نکاح جائز ہے اس لیے اگر وہ پہلے سے ہی بیوی کی حثییت سے تمہارے پاس موجود ہے تو قبول اسلام کے بعد اسے علیحدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ 10۔ 7 یعنی ان عورتوں پر جو کفر پر برقرا رہنے کی وجہ سے کافروں کے پاس چلی گئی ہیں 10۔ 8 یعنی ان عورتوں پر جو مسلمان ہو کر ہجرت کرکے مدینے آگئی ہیں۔ 10۔ 9 یعنی یہ حکم مذکور کہ دونوں ایک دوسرے کو حق مہر ادا کریں بلکہ مانگ کرلیں اللہ کا حکم ہے امام قرطبی فرماتے ہیں کہ یہ حکم اس دور کے ساتھ ہی خاص تھا اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے فتح القدیر۔ اس کی وجہ وہ معاہدہ ہے جو اس وقت فریقین کے درمیان تھا اس قسم کے معاہدے کی صورت میں آئندہ بھی اس پر عمل کرنا ضروری ہوگا بصورت دیگر نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں [20] ہجرت کر کے آئیں تو ان کی جانچ پڑتال [21] کر لیا کرو۔ اللہ ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ پھر اگر تمہیں یہ معلوم ہو کہ وہ (فی الواقع) مومن ہیں تو انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو۔ ایسی عورتیں ان (کافروں) کے لئے حلال نہیں اور نہ ہی وہ ان عورتوں [22] کے لئے حلال ہیں۔ اور کافروں نے جو کچھ (ایسی مومن عورتوں پر) خرچ کیا ہو انہیں دے دو۔ اور ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کچھ گناہ نہیں جبکہ تم انہیں ان کے حق مہر ادا کر دو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ رکھو [23]۔ اور جو کچھ تم نے ان پر خرچ کیا ہے وہ ان (کافروں) سے مانگ لو۔ اور جو مہر کافروں نے اپنی (مسلمان) بیویوں کو دیئے تھے وہ ان (مسلمانوں) سے مانگ لیں۔ یہ اللہ کا حکم ہے جو تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے، دانا ہے۔
[20] ہجرت کرنے والوں کی تین قسمیں :۔
آیت نمبر دس اور گیارہ میں ایک نہایت اہم معاشرتی مسئلہ کا حل پیش کیا گیا ہے جو آغاز ہجرت سے ہی کئی طرح کی الجھنوں کا باعث بنا ہوا تھا۔ مکہ میں بہت سے ایسے لوگ تھے جو خود تو مسلمان ہو چکے تھے مگر ان کی بیویاں کافر تھیں یا بیویاں مسلمان ہو چکی تھیں تو شوہر کافر تھے۔ ہجرت کرنے سے یہ مسئلہ مزید سنگین بن گیا تھا۔ ہجرت کرنے والوں کی تین قسمیں تھیں۔
(1)
(1)
میاں بیوی دونوں مسلمان اور ہجرت کر کے مدینہ آگئے :۔
ایک وہ جو دونوں میاں بیوی مسلمان ہوں اور دونوں نے ہجرت کی ہو۔ جیسے سیدنا عثمان اور ان کی اہلیہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی۔ ایسے لوگوں کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ اور عموماً ایسے جوڑے آگے پیچھے یا ایک ساتھ مدینہ پہنچ ہی جاتے تھے۔
(2)
(2)
میاں مسلمان مدینہ میں بیوی کافر مکہ میں :۔
دوسرے وہ جو خاوند مسلمان تھے مگر بیوی یا بیویاں کافر جیسے سیدنا عمرؓ خود تو ہجرت کر کے مدینہ آ گئے لیکن ان کی دو کافر بیویاں مکہ ہی میں رہ گئیں۔
(3)
(3)
بیوی مسلمان مدینہ میں میاں کافر مکہ میں :۔
تیسرے وہ جو بیوی مسلمان ہو چکی ہو اور خاوند کافر مکہ میں رہ جائے۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صاحبزادی سیدہ زینب تو مدینہ میں پہنچ گئیں مگر ان کا کافر خاوند عمرو بن عاص مکہ میں ہی رہ گیا۔ مردوں کے لیے یہ مسئلہ اس لحاظ سے زیادہ سنگین نہ تھا کہ وہ دوسرا نکاح کر سکتے تھے اور کر لیتے تھے۔ مگر عورتوں کے لیے اتنی مدت تک رشتہ ازدواج میں منسلک رہنا بڑا سنگین مسئلہ تھا۔ پھر جب صلح حدیبیہ ہوئی تو اس کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو مسلمان مکہ سے مدینہ آئے گا۔ مسلمان اسے واپس مکہ کافروں کے ہاں لوٹانے کے پابند ہوں گے۔ اور اس شرط کے تحت مسلمانوں نے کافروں کے مطالبہ پر کچھ لوگ لوٹا بھی دیئے۔ اسی دوران جب ام کلثوم بنت عقبہ ہجرت کر کے مدینہ آگئیں تو کافروں نے ان کی واپسی کا بھی مطالبہ کر دیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کے اس مطالبہ کو درست تسلیم نہیں کیا۔ وجہ یہ تھی کہ یہ شرط کافروں کے تیسرے اور آخری سفیر سہیل بن عمرو نے ان الفاظ میں لکھوائی تھی:
﴿علي ان لا ياتيك منا رجل فان كان علٰي دينك الا رددته الينا﴾ [بخاري۔ كتاب الشروط۔ باب الشروط فى الجهاد والمصالحة اهل الحرب]
اور یہ کہ اگر ہم میں سے کوئی مرد، خواہ وہ تمہارے دین پر ہی کیوں نہ ہو، تمہارے پاس آئے تو تمہیں اسے ہمارے طرف واپس کرنا ہو گا۔
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف کہہ دیا کہ اس شرط کے الفاظ کی رو سے عورتیں از خود مستثنیٰ ہیں۔ اس وقت جا کر قریشیوں کی یہ غلط فہمی دور ہوئی۔ ورنہ وہ یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ ہم عورتیں بھی واپس لا سکتے ہیں۔ ان آیات میں ایسی ہی مہاجر عورتوں کے ازدواجی مسائل کا حل بتایا گیا ہے۔
﴿علي ان لا ياتيك منا رجل فان كان علٰي دينك الا رددته الينا﴾ [بخاري۔ كتاب الشروط۔ باب الشروط فى الجهاد والمصالحة اهل الحرب]
اور یہ کہ اگر ہم میں سے کوئی مرد، خواہ وہ تمہارے دین پر ہی کیوں نہ ہو، تمہارے پاس آئے تو تمہیں اسے ہمارے طرف واپس کرنا ہو گا۔
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف کہہ دیا کہ اس شرط کے الفاظ کی رو سے عورتیں از خود مستثنیٰ ہیں۔ اس وقت جا کر قریشیوں کی یہ غلط فہمی دور ہوئی۔ ورنہ وہ یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ ہم عورتیں بھی واپس لا سکتے ہیں۔ ان آیات میں ایسی ہی مہاجر عورتوں کے ازدواجی مسائل کا حل بتایا گیا ہے۔
[21] ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کے امتحان :۔
یعنی ان ہجرت کرنے والی عورتوں کے ایمان یا دلوں کا حال تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن تم ظاہری طور پر ان کا امتحان لے لیا کرو کہ آیا وہ واقعی مسلمان ہیں اور محض اسلام کی خاطر وطن چھوڑ کر آئی ہیں؟ کوئی دنیوی یا نفسانی غرض تو اس ہجرت کا سبب نہیں تھی؟ یا کہیں خاوندوں سے لڑ کر یا خانگی جھگڑوں سے بیزار ہو کر یا محض سیر و سیاحت یا کسی دوسری غرض سے تو یہاں نہیں آئیں؟ اس حکم کے مخاطب چونکہ مومن ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غرض کے لیے سیدنا عمرؓ کا انتخاب کیا تھا اور وہی مدینہ پہنچنے والی عورتوں کا امتحان لیتے تھے۔
[22] ایسی عورتوں کے متعلق جو امتحان میں کامیاب ثابت ہوں پہلا حکم یہ ہوا کہ انہیں کسی صورت کافروں کی طرف واپس نہیں کیا جائے گا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ اس حکم کے بعد وہ اپنے کافر خاوندوں کے لیے حلال نہیں رہیں۔ اس سے دو مسئلے مستنبط کئے گئے ہیں ایک یہ کہ اختلاف دین سے نکاح از خود ختم ہو جاتا ہے۔ کافر اور مومنہ عورت کا یا مومن مرد اور کافر عورت کا رشتہ نکاح از خود ٹوٹ جاتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اختلاف دارین سے بھی نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ مثلاً ایک زوج دارالاسلام میں ہو اور دوسرا دارالحرب میں تو نکاح ازخود ختم ہو جائے گا کیونکہ ان کے درمیان یہ رشتہ قائم رکھنا محال ہے۔ اس حکم کے بعد تمام مہاجر عورتوں کو نکاح کرنے کی اجازت مل گئی۔
[22] ایسی عورتوں کے متعلق جو امتحان میں کامیاب ثابت ہوں پہلا حکم یہ ہوا کہ انہیں کسی صورت کافروں کی طرف واپس نہیں کیا جائے گا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ اس حکم کے بعد وہ اپنے کافر خاوندوں کے لیے حلال نہیں رہیں۔ اس سے دو مسئلے مستنبط کئے گئے ہیں ایک یہ کہ اختلاف دین سے نکاح از خود ختم ہو جاتا ہے۔ کافر اور مومنہ عورت کا یا مومن مرد اور کافر عورت کا رشتہ نکاح از خود ٹوٹ جاتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اختلاف دارین سے بھی نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ مثلاً ایک زوج دارالاسلام میں ہو اور دوسرا دارالحرب میں تو نکاح ازخود ختم ہو جائے گا کیونکہ ان کے درمیان یہ رشتہ قائم رکھنا محال ہے۔ اس حکم کے بعد تمام مہاجر عورتوں کو نکاح کرنے کی اجازت مل گئی۔
[23] کافر عورتوں کے نکاح کی تنسیخ اور حق مہر کی ادائیگی کے طریقے :۔
اب رہا حق مہر کا مسئلہ، جو مسلمان عورتیں ہجرت کر کے مدینہ آگئی تھیں ان کے متعلق یہ حکم ہوا کہ جو مسلمان ان سے نکاح کرے۔ وہ اس عورت کا سابقہ حق مہر اس کافر کو بھی ادا کرے گا۔ جس کے نکاح میں وہ پہلے تھی۔ اور اس نئے نکاح میں جو حق مہر طے ہو وہ بھی ادا کرے گا اور مسلمانوں کی جو عورتیں کافر تھیں اور کافروں کے پاس مکہ میں ہی رہ گئی تھیں ان کے متعلق یہ حکم ہوا کہ جن کافروں کے قبضہ میں یا نکاح میں وہ ہیں۔ وہ مسلمانوں کو یا اس خاص مسلمان کو حق مہر ادا کر دیں یا لوٹا دیں جس کے نکاح میں وہ پہلے تھی۔ اور مسلمانوں کو اس رقم کا کافروں سے مطالبہ کرنا چاہیے۔ یعنی اس سلسلہ میں کافر مسلمانوں سے اور مسلمان کافروں سے اپنی سابقہ بیویوں کے حق مہر کی رقم کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور یہ حکم اس لیے نازل ہوا کہ ان دنوں معاہدہ حدیبیہ کی رو سے صلح تھی۔ کافروں اور مسلمانوں میں ایسے لین دین کا معاملہ یا تبادلہ ہو سکتا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مہاجر خواتین کے حوالے سے بعض ہدایات ٭٭
سورۃ الفتح کی تفسیر میں صلح حدیبیہ کا واقعہ مفصل بیان ہو چکا ہے، اس صلح کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار قریش کے درمیان جو شرائط ہوئی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ جو کافر مسلمان ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا جائے آپ اسے اہل مکہ کو واپس کر دیں، لیکن قرآن کریم نے ان میں سے ان عورتوں کو مخصوص کر دیا کہ جو عورت ایمان قبول کر کے آئے اور فی الواقع ہو بھی وہ سچی ایماندار تو مسلمان اسے کافروں کو واپس نہ دیں، حدیث شریف کی تخصیص قرآن کریم سے ہونے کی یہ ایک بہترین مثال ہے اور بعض سلف کے نزدیک یہ آیت اس حدیث کی ناسخ ہے۔
اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابومیط رضی اللہ عنہا مسلمان ہو کر ہجرت کر کے مدینہ چلی آئیں، ان کے دونوں بھائی عمارہ اور ولید ان کے واپس لینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا سنا، پس یہ آیت امتحان نازل ہوئی اور مومنہ عورتوں کو واپس لوٹانے سے ممانعت کر دی گئی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان عورتوں کا امتحان کس طرح لیتے تھے؟ فرمایا: اس طرح کہ اللہ کی قسم کھا کر سچ سچ کہے کہ وہ اپنے خاوند کی ناچاقی کی وجہ سے نہیں چلی آئی، صرف آب و ہوا اور زمین کی تبدیلی کرنے کے لیے بطور سیر و سیاحت نہیں آئی، کسی دنیا طلبی کے لیے نہیں آئی بلکہ صرف اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اسلام کی خاطر ترک وطن کیا ہے اور کوئی غرض نہیں، قسم دے کر ان سوالات کا کرنا اور خوب آزما لینا یہ کام سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سپرد تھا۔[تفسیر ابن جریر الطبری:33958:ضعیف]
اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابومیط رضی اللہ عنہا مسلمان ہو کر ہجرت کر کے مدینہ چلی آئیں، ان کے دونوں بھائی عمارہ اور ولید ان کے واپس لینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا سنا، پس یہ آیت امتحان نازل ہوئی اور مومنہ عورتوں کو واپس لوٹانے سے ممانعت کر دی گئی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان عورتوں کا امتحان کس طرح لیتے تھے؟ فرمایا: اس طرح کہ اللہ کی قسم کھا کر سچ سچ کہے کہ وہ اپنے خاوند کی ناچاقی کی وجہ سے نہیں چلی آئی، صرف آب و ہوا اور زمین کی تبدیلی کرنے کے لیے بطور سیر و سیاحت نہیں آئی، کسی دنیا طلبی کے لیے نہیں آئی بلکہ صرف اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اسلام کی خاطر ترک وطن کیا ہے اور کوئی غرض نہیں، قسم دے کر ان سوالات کا کرنا اور خوب آزما لینا یہ کام سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سپرد تھا۔[تفسیر ابن جریر الطبری:33958:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ امتحان اس طرح ہوتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے معبود برحق اور لاشریک ہونے کی گواہی دیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کے بندے اور اس کے بھیجے ہوئے رسول ہونے کی شہادت دیں، اگر آزمائش میں کسی غرض دنیوی کا پتہ چل جاتا تو انہیں واپس لوٹا دینے کا حکم تھا۔ مثلاً یہ معلوم ہو جائے کہ میاں بیوی کی ان بن کی وجہ سے یا کسی اور شخص کی محبت میں چلی آئی ہے وغیرہ۔
اس آیت کے اس جملہ سے کہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ یہ باایمان عورت ہے تو پھر اسے کافروں کی طرف مت لوٹاؤ، ثابت ہوتا ہے کہ ایمان پر بھی یقینی طور پر مطلع ہو جانا ممکن امر ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ مسلمان عورتیں کافروں پر اور کافر مرد مسلمان عورتوں کے لیے حلال نہیں، اس آیت نے اس رشتہ کو حرام کر دیا ورنہ اس سے پہلے مومنہ عورتوں کا نکاح کافر مردوں سے جائز تھا، جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے ہوا تھا حالانکہ یہ اس وقت کافر تھے اور بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسلمہ تھیں، بدر کی لڑائی میں یہ بھی کافروں کے ساتھ تھے اور جو کافر زندہ پکڑے گئے تھے ان میں یہ بھی گرفتار ہو کر آئے تھے زینب رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ہار ان کے فدیئے میں بھیجا تھا کہ یہ آزاد ہو کر آئیں جسے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی رقت طاری ہوئی اور آپ نے مسلمانوں سے فرمایا: ”اگر میری بیٹی کے قیدی کو چھوڑ دینا تم پسند کرتے ہو تو اسے رہا کر دو“، مسلمانوں نے بہ خوشی بغیر فدیہ کے انہیں چھوڑ دینا منظور کیا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا اور فرما دیا کہ آپ کی صاحبزادی کو آپ کے پاس مدینہ میں بھیج دیں انہوں نے اسے منظور کر لیا اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیج بھی دیا۔ [سنن ابوداود:2692،قال الشيخ الألباني:حسن]
یہ واقعہ سنہ 2 ہجری کا ہے، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے مدینہ میں ہی اقامت فرمائی اور یونہی بیٹھی رہیں یہاں تک کہ سنہ ۸ ہجری میں ان کے خاوند ابوالعاص کو اللہ تعالیٰ نے توفیق اسلام دی اور وہ مسلمان ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی اگلے نکاح بغیر نئے مہر کے اپنی صاحبزادی کو ان کے پاس رخصت کر دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:154/3]
اور روایت میں ہے کہ دو سال کے بعد ابوالعاص رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پہلے نکاح پر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو لوٹا دیا تھا یہی صحیح حدیث ہے۔ [سنن ترمذي:1143،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس لیے کہ مسلمان عورتوں کے مشرک مردوں پر حرام ہونے کے دو سال بعد یہ مسلمان ہو گئے تھے، ایک اور روایت میں ہے کہ ان کے اسلام کے بعد نئے سرے سے نکاح ہوا اور نیا مہر بندھا۔ [مسند احمد:208/2:ضعیف]
اس آیت کے اس جملہ سے کہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ یہ باایمان عورت ہے تو پھر اسے کافروں کی طرف مت لوٹاؤ، ثابت ہوتا ہے کہ ایمان پر بھی یقینی طور پر مطلع ہو جانا ممکن امر ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ مسلمان عورتیں کافروں پر اور کافر مرد مسلمان عورتوں کے لیے حلال نہیں، اس آیت نے اس رشتہ کو حرام کر دیا ورنہ اس سے پہلے مومنہ عورتوں کا نکاح کافر مردوں سے جائز تھا، جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے ہوا تھا حالانکہ یہ اس وقت کافر تھے اور بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسلمہ تھیں، بدر کی لڑائی میں یہ بھی کافروں کے ساتھ تھے اور جو کافر زندہ پکڑے گئے تھے ان میں یہ بھی گرفتار ہو کر آئے تھے زینب رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ہار ان کے فدیئے میں بھیجا تھا کہ یہ آزاد ہو کر آئیں جسے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی رقت طاری ہوئی اور آپ نے مسلمانوں سے فرمایا: ”اگر میری بیٹی کے قیدی کو چھوڑ دینا تم پسند کرتے ہو تو اسے رہا کر دو“، مسلمانوں نے بہ خوشی بغیر فدیہ کے انہیں چھوڑ دینا منظور کیا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا اور فرما دیا کہ آپ کی صاحبزادی کو آپ کے پاس مدینہ میں بھیج دیں انہوں نے اسے منظور کر لیا اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیج بھی دیا۔ [سنن ابوداود:2692،قال الشيخ الألباني:حسن]
یہ واقعہ سنہ 2 ہجری کا ہے، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے مدینہ میں ہی اقامت فرمائی اور یونہی بیٹھی رہیں یہاں تک کہ سنہ ۸ ہجری میں ان کے خاوند ابوالعاص کو اللہ تعالیٰ نے توفیق اسلام دی اور وہ مسلمان ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی اگلے نکاح بغیر نئے مہر کے اپنی صاحبزادی کو ان کے پاس رخصت کر دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:154/3]
اور روایت میں ہے کہ دو سال کے بعد ابوالعاص رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پہلے نکاح پر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو لوٹا دیا تھا یہی صحیح حدیث ہے۔ [سنن ترمذي:1143،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس لیے کہ مسلمان عورتوں کے مشرک مردوں پر حرام ہونے کے دو سال بعد یہ مسلمان ہو گئے تھے، ایک اور روایت میں ہے کہ ان کے اسلام کے بعد نئے سرے سے نکاح ہوا اور نیا مہر بندھا۔ [مسند احمد:208/2:ضعیف]
امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یزید رحمہ اللہ نے فرمایا ہے پہلی روایت کے راوی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہیں اور وہ روایت ازروئے اسناد کے بہت اعلیٰ اور دوسری روایت کے راوی عمرو بن شعیب رحمہ اللہ ہیں اور عمل اسی پر ہے، لیکن یہ یاد رہے کہ عمرو بن شعیب رحمہ اللہ والی روایت کے ایک راوی حجاج بن ارطاۃ کو امام احمد رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ ضعیف بتاتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی حدیث کا جواب جمہور دیتے ہیں کہ یہ شخصی واقعہ ہے ممکن ہے کہ ان کی عدت ختم ہی نہ ہوئی ہو، اکثر حضرات کا مذہب یہ ہے کہ اس صورت میں جب عورت نے عدت کے دن پورے کر لیے اور اب تک اس کا کافر خاوند مسلمان نہیں ہوا تو وہ نکاح فسخ ہو جاتا ہے، ہاں بعض حضرات کا مذہب یہ بھی ہے کہ عدت پوری کر لینے کے بعد عورت کو اختیار ہے اگر چاہے اپنے اس نکاح کو باقی رکھے اگر چاہے فسخ کر کے دوسرا نکاح کر لے اور اسی پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی روایت کو محمول کرتے ہیں۔
پھر حکم ہوتا ہے کہ ان مہاجر عورتوں کے کافر خاوندوں کو ان کے خرچ اخراجات جو ہوئے ہیں وہ ادا کر دو جیسے کہ مہر۔ پھر فرمان ہے کہ اب انہیں ان کے مہر دے کر ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی حرج نہیں، عدت کا گزر جانا ولی کا مقرر کرنا وغیرہ جو امور نکاح میں ضروری ہیں ان شرائط کو پورا کر کے ان مہاجرہ عورتوں سے جو مسلمان نکاح کرنا چاہے کر سکتا ہے۔
پھر حکم ہوتا ہے کہ ان مہاجر عورتوں کے کافر خاوندوں کو ان کے خرچ اخراجات جو ہوئے ہیں وہ ادا کر دو جیسے کہ مہر۔ پھر فرمان ہے کہ اب انہیں ان کے مہر دے کر ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی حرج نہیں، عدت کا گزر جانا ولی کا مقرر کرنا وغیرہ جو امور نکاح میں ضروری ہیں ان شرائط کو پورا کر کے ان مہاجرہ عورتوں سے جو مسلمان نکاح کرنا چاہے کر سکتا ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ تم پر بھی اے مسلمانو ان عورتوں کا اپنے نکاح میں باقی رکھنا حرام ہے جو کافرہ ہیں، اسی طرح کافر عورتوں سے نکاح کرنا بھی حرام ہے اس حکم کے نازل ہوتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو کافرہ بیویوں کو فوراً طلاق دے دی جن میں سے ایک نے تو معاویہ بن سفیان سے نکاح کر لیا اور دوسری نے صفوان بن امیہ سے۔ [مسند احمد:328/4:صحیح]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں سے صلح کی اور ابھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے نیچے کے حصے میں ہی تھے کہ یہ آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ» [الممتحنہ:10] الخ، نازل ہوئی اور مسلمانوں سے کہہ دیا گیا کہ جو عورت مہاجرہ آئے اس کا باایمان ہونا اور خلوص نیت سے ہجرت کرنا بھی معلوم ہو جائے تو اس کے کافر خاوندوں کو ان کے دیئے ہوئے مہر واپس کر دو، اسی طرح کافروں کو بھی یہ حکم سنا دیا گیا، اس حکم کی وجہ وہ عہد نامہ تھا جو ابھی ابھی مرتب ہوا تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی جن دو کافرہ بیویوں کو طلاق دی ان میں سے پہلی کا نام قریبہ تھا یہ ابوامیہ بن مغیرہ کی لڑکی تھی اور دوسری کا نام ام کلثوم تھا جو عمرو بن حرول خزاعی کی لڑکی تھی سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی والدہ یہ ہی تھیں، اس سے ابوجہم بن حذیفہ بن غانم خزاعی نے نکاح کر لیا یہ بھی مشرک تھا، اسی طرح اس حکم کے ماتحت سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنی کافرہ بیوی ارویٰ بنت ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کو طلاق دے دی، اس سے خالد بن سعید بن عاص نے نکاح کر لیا۔
پھر ارشاد ہوتا ہے تمہاری بیویوں پر جو تم نے خرچ کیا ہے اسے کافروں سے لے لو جبکہ وہ ان میں چلی جائیں اور کافروں کی عورتیں جو مسلمان ہو کر تم میں آ جائیں انہیں تم ان کا کیا ہوا خرچ دے دو۔ صلح کے بارے میں اور عورتوں کے بارے میں اللہ کا فیصلہ بیان ہو چکا جو اس نے اپنی مخلوق میں کر دیا، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تمام تر مصلحتوں سے باخبر ہے اور اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا اس لیے کہ «علی الاطلاق حکیم» وہی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں سے صلح کی اور ابھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے نیچے کے حصے میں ہی تھے کہ یہ آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ» [الممتحنہ:10] الخ، نازل ہوئی اور مسلمانوں سے کہہ دیا گیا کہ جو عورت مہاجرہ آئے اس کا باایمان ہونا اور خلوص نیت سے ہجرت کرنا بھی معلوم ہو جائے تو اس کے کافر خاوندوں کو ان کے دیئے ہوئے مہر واپس کر دو، اسی طرح کافروں کو بھی یہ حکم سنا دیا گیا، اس حکم کی وجہ وہ عہد نامہ تھا جو ابھی ابھی مرتب ہوا تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی جن دو کافرہ بیویوں کو طلاق دی ان میں سے پہلی کا نام قریبہ تھا یہ ابوامیہ بن مغیرہ کی لڑکی تھی اور دوسری کا نام ام کلثوم تھا جو عمرو بن حرول خزاعی کی لڑکی تھی سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی والدہ یہ ہی تھیں، اس سے ابوجہم بن حذیفہ بن غانم خزاعی نے نکاح کر لیا یہ بھی مشرک تھا، اسی طرح اس حکم کے ماتحت سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنی کافرہ بیوی ارویٰ بنت ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کو طلاق دے دی، اس سے خالد بن سعید بن عاص نے نکاح کر لیا۔
پھر ارشاد ہوتا ہے تمہاری بیویوں پر جو تم نے خرچ کیا ہے اسے کافروں سے لے لو جبکہ وہ ان میں چلی جائیں اور کافروں کی عورتیں جو مسلمان ہو کر تم میں آ جائیں انہیں تم ان کا کیا ہوا خرچ دے دو۔ صلح کے بارے میں اور عورتوں کے بارے میں اللہ کا فیصلہ بیان ہو چکا جو اس نے اپنی مخلوق میں کر دیا، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تمام تر مصلحتوں سے باخبر ہے اور اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا اس لیے کہ «علی الاطلاق حکیم» وہی ہے۔
اس کے بعد کی آیت «وَإِن فاتَكُم شَيءٌ مِن أَزواجِكُم إِلَى الكُفّارِ فَعاقَبتُم فَآتُوا الَّذينَ ذَهَبَت أَزواجُهُم مِثلَ ما أَنفَقوا وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذي أَنتُم بِهِ مُؤمِنونَ» [الممتحنہ:11]، کا مطلب قتادہ رحمتہ اللہ علیہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ جن کفار سے تمہارا عہد و پیمان صلح و صفائی نہیں، اگر کوئی عورت کسی مسلمان کے گھر سے جا کر ان میں جا ملے تو ظاہر ہے کہ وہ اس کے خاوند کا کیا ہوا خرچ نہیں دیں گے تو اس کے بدلے تمہیں بھی اجازت دی جاتی ہے کہ اگر ان میں سے کوئی عورت مسلمان ہو کر تم میں چلی آئے تو تم بھی اس کے خاوند کو کچھ نہ دو جب تک وہ نہ دیں۔ زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مسلمانوں نے تو اللہ کے اس حکم کی تعمیل کی اور کافروں کی جو عورتیں مسلمان ہو کر ہجرت کر کے آئیں ان کے لیے ہوئے مہر ان کے خاوندوں کو واپس کئے لیکن مشرکوں نے اس حکم کے ماننے سے انکار کر دیا اس پر یہ آیت اتری اور مسلمانوں کو اجازت دی گئی کہ اگر تم میں سے کوئی عورت ان کے ہاں چلی گئی ہے اور انہوں نے تمہاری خرچ کی ہوئی رقم ادا نہیں کی تو جب ان میں سے کوئی عورت تمہارے ہاں آ جائے تو تم اپنا وہ خرچ نکال کر باقی اگر کچھ بچے تو دے دو ورنہ معاملہ ختم ہوا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا یہ مطلب مروی ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جو مسلمان عورت کافروں میں جا ملے اور کافر اس کے خاوند کو اس کا کیا ہوا خرچ ادا نہ کریں تو مال غنیمت میں سے آپ اس مسلمان کو بقدر اس کے خرچ کے دے دیں،
پس «فَعَاقَبْتُمْ» کے معنی یہ ہوئے کہ پھر تمہیں قریش یا کسی اور جماعت کفار سے مال غنیمت ہاتھ لگے تو ان مردوں کو جن کی عورتیں کافروں میں چلی گئی ہیں ان کا کیا ہوا خرچ ادا کر دو، یعنی مہر مثل، ان اقوال میں کوئی تضاد نہیں اور خلاف نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پہلی صورت اگر ناممکن ہو تو وہ سہی ورنہ مال غنیمت میں سے اسے اس کا حق دے دیا جائے دونوں باتوں میں اختیار ہے اور حکم میں وسعت ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اس تطبیق کو پسند فرماتے ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا یہ مطلب مروی ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جو مسلمان عورت کافروں میں جا ملے اور کافر اس کے خاوند کو اس کا کیا ہوا خرچ ادا نہ کریں تو مال غنیمت میں سے آپ اس مسلمان کو بقدر اس کے خرچ کے دے دیں،
پس «فَعَاقَبْتُمْ» کے معنی یہ ہوئے کہ پھر تمہیں قریش یا کسی اور جماعت کفار سے مال غنیمت ہاتھ لگے تو ان مردوں کو جن کی عورتیں کافروں میں چلی گئی ہیں ان کا کیا ہوا خرچ ادا کر دو، یعنی مہر مثل، ان اقوال میں کوئی تضاد نہیں اور خلاف نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پہلی صورت اگر ناممکن ہو تو وہ سہی ورنہ مال غنیمت میں سے اسے اس کا حق دے دیا جائے دونوں باتوں میں اختیار ہے اور حکم میں وسعت ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اس تطبیق کو پسند فرماتے ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»