تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
۶ ہجری میں حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفارِ قریش کے درمیان دس سال کے لیے صلح کا جو معاہدہ ہوا اس کی ایک شق یہ تھی کہ جو قبائل چاہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف بن جائیں اور جو چاہیں کفارِ قریش کے حلیف بن جائیں اور کوئی فریق دوسرے فریق کے حلیف پر نہ حملہ کرے اور نہ حملہ کرنے والوں کی مدد کرے۔ چنانچہ مکہ کے قریب رہنے والے قبائل میں سے بنو بکر قریش کے حلیف بن گئے اور بنو خزاعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف بن گئے۔ ابھی معاہدے کو تقریباً ڈیڑھ سال ہی گزرا تھا کہ بنو بکر نے مسلمانوں کے حلیف بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا۔ قریش نے آدمیوں اور اسلحہ سے ان کی مدد کی، وہ بھاگ کر حرم میں آئے تو انھوں نے وہاں بھی انھیں نہیں چھوڑا بلکہ قتل کر دیا۔ بنو خزاعہ کا ایک وفد فریاد لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ پہنچا۔ یہ قریش کی صریح عہد شکنی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سزا دینے اور مکہ پر حملہ کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور اس کے لیے خفیہ طور پر تیاری شروع کر دی۔ مقصد یہ تھا کہ اچانک حملے میں کفار مزاحمت نہیں کر سکیں گے اور کشت و خون کی نوبت نہیں آئے گی۔ مسلمانوں کی قیمتی جانیں بھی محفوظ رہیں گی اور کفار میں سے جن کی قسمت میں سعادت لکھی ہو گی مسلمان ہو سکیں گے اور آگے چل کر اسلام کی سربلندی میں حصہ لے سکیں گے۔ حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ ایک مہاجر صحابی تھے اور بدری تھے، مکہ میں ان کی اولاد اور مال اسباب تھا۔ وہ اصلاً قریش میں سے نہیں تھے، بلکہ ان کے حلیف تھے۔ انھوں نے قریش کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے کی اطلاع دینے کے لیے ان کی طرف ایک خط لکھا اور ایک عورت کے ہاتھ بھیج دیا۔
صحیح بخاری میں اس کی تفصیل آئی ہے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے، زبیر اور مقداد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا کہ تم چلتے جاؤ یہاں تک روضۂ خاخ (خاخ نامی باغ) تک جا پہنچو، وہاں اونٹنی پر سوار ایک عورت ہوگی، اس سے خط لے آؤ۔ چنانچہ ہم گھوڑے دوڑاتے ہوئے روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ ہم اس باغ کے پاس جا پہنچے۔ دیکھا تو اونٹنی پر سوار وہ عورت وہاں تھی، ہم نے اس سے کہا: ”خط نکال۔“ اس نے کہا: ”میرے پاس کوئی خط نہیں۔“ ہم نے کہا: ”تم ہر صورت خط نکالو گی یا ہم تمھارے کپڑے اتاریں گے۔“ چنانچہ اس نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال کے دے دیا۔ ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ دیکھا تو اس میں لکھا تھا کہ یہ خط حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مکہ کے کچھ لوگوں کے نام ہے، جو مشرکین میں سے تھے۔ اس میں انھوں نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض امور کی خبر دی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَا حَاطِبُ! مَا هٰذَا؟] ”حاطب! یہ کیا ہے؟“ انھوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! مجھ پر جلدی نہ کریں، میں ایسا آدمی تھا جو قریش کے ساتھ جڑا ہوا تھا، ان کا حلیف تھا، اصلاً ان میں سے نہیں تھا اور آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ان کی وہاں کئی قرابتیں ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اپنے اہل و عیال اور اموال کی حفاظت رکھتے ہیں۔ تو میں نے چاہا کہ جب میرا ان سے کوئی نسبی رشتہ نہیں تو میں ان پر ایک احسان کردوں جس کی وجہ سے وہ میرے گھر والوں کی حفاظت رکھیں۔ میں نے یہ کام نہ اپنے دین سے مرتد ہونے کی وجہ سے کیا ہے اور نہ ہی اسلام لانے کے بعد کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے کیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَمَا إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ] ”سن لو! اس نے یقینا تم سے سچ کہا ہے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں، میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّ اللّٰهَ اطَّلَعَ عَلٰی مَنْ شَهِدَ بَدْرًا قَالَ اعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ] ”یہ تو بدر میں شریک ہوا ہے اور تجھے کیا معلوم شاید اللہ نے بدر میں شریک ہونے والوں کو جھانک کر کہا ہو کہ تم جو چاہو کرو، کیونکہ میں نے تمھیں بخش دیا ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرما دی: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ ........ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيْلِ» ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ........ تو یقینا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔“ [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الفتح: ۴۲۷۴]
(آیت 1) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ: ” عَدُوٌّ “ ”عَدَا يَعْدُوْ عَدْوًا وَعَدَاوَةً“} سے{ ” فَعُوْلٌ “} بمعنی {”فَاعِلٌ“ } کے وزن پر ہے، دشمن۔ {”فَعِيْلٌ“} اور {” فَعُوْلٌ “} دونوں صیغے واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث کے لیے ایک ہی لفظ کے ساتھ آ جاتے ہیں، اس لیے ترجمہ ”میرے دشمنوں“ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کہنے کے بجائے کہ کفار اور مشرکین کو دوست نہ بناؤ، یہ فرمایا کہ میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ پھر {” عَدُوِّيْ “} (میرے دشمنوں) کا ذکر پہلے کیا اور {” عَدُوَّكُمْ “} (اپنے دشمنوں) کا ذکر بعد میں کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر و مشرک کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے، کیونکہ ان کی دشمنی کی بنیاد نہ وطن ہے نہ نسب اور نہ مال، بلکہ انھوں نے مسلمانوں کی دشمنی صرف اللہ تعالیٰ کی دشمنی کی وجہ سے اختیار کر رکھی ہے۔ اللہ کی دشمنی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کی توحید، اس کے دین اور اس کے رسول کو نہیں مانتے، اس لیے انھوں نے ان کی شدید مخالفت اور دشمنی اختیار کر رکھی ہے۔ {” عَدُوِّيْ “} کو {” عَدُوَّكُمْ “} سے پہلے لانے کی مناسبت یہی معلوم ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے دین کے دشمن پہلے ہیں، پھر اس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ آیت میں کفار و مشرکین کی عداوت کا حوالہ دے کر مسلمانوں کو ان کی دوستی سے منع فرمایا گیا ہے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر کفار کی دوستی سے منع کیا گیا ہے اور ساتھ ہی دوستی سے ممانعت کی کوئی نہ کوئی وجہ بیان کی گئی ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۲۸)، نساء (۱۴۴)، مائدہ (57،51) اور سورۂ توبہ (24،23) ان تمام وجوہات میں بنیادی بات یہی ہے کہ وہ تمھارے اور تمھارے دین کے دشمن ہیں، جب تک تم کافر نہ ہو جاؤ وہ کبھی تمھارے دوست نہیں ہو سکتے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۲۰) اور سورۂ نساء (۸۹)۔
➋ { تُلْقُوْنَ اِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ {”اَلْمَوَدَّةُ “ ” تُلْقُوْنَ “} کا مفعول بہ ہے اور اس پر ”باء“ تاکید کے لیے آئی ہے، اس صورت میں معنی یہ ہے کہ تم ان کی طرف دوستی کا پیغام بھیجتے ہو۔ دوسرا معنی یہ کہ {” تُلْقُوْنَ “} کا مفعول بہ محذوف ہے: {”أَيْ تُلْقُوْنَ إِلَيْهِمُ الْأَخْبَارَ بِالْمَوَدَّةِ“} ”یعنی تم دوستی کی وجہ سے ان کی طرف خبریں پہنچاتے ہو (جن کا اللہ کے دشمنوں اور تمھارے دشمنوں کو کسی صورت علم نہیں ہونا چاہیے)۔“
➌ { وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ:} یعنی انھوں نے تو وہ حق ماننے ہی سے انکار کر دیا ہے جو تمھارے پاس آیا ہے اور تم ہو کہ ان کی طرف دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔
➍ {يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ: ” اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ “} سے پہلے لام محذوف ہے، یعنی انھوں نے صرف کفر اور معمولی دشمنی ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ رشتہ داری اور محبت کے تمام سلسلے قطع کر کے رسول کو اور تمھیں اتنی ایذا دی کہ تم سب کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا، صرف اس وجہ سے کہ تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو۔ اس جملے کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ بروج (۸) اور سورۂ حج (۴۰) {” يُخْرِجُوْنَ “} مضارع کا صیغہ لانے کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ انھوں نے تمھیں نکالا ہے بلکہ وہ تمھیں نکالنے پر ابھی تک قائم ہیں اور اب بھی تمھیں تمھارے گھروں میں واپس نہیں آنے دے رہے۔ اس میں مسلمانوں کو کفار کی دشمنی کے لیے ابھارا گیا ہے کہ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ وہ تمھارے رسول کو اور تمھیں نکال رہے ہیں اور تم ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہو۔
➎ { اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِيْ سَبِيْلِيْ …: ” جِهَادًا “} اور {” ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِيْ “} دونوں {” خَرَجْتُمْ “} کے مفعول لہ ہیں اور {” اِنْ كُنْتُمْ “} شرط کی جزا محذوف ہے جو آیت کے پہلے جملے {” لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ “} سے معلوم ہو رہی ہے، یعنی اگر تم میرے راستے میں جہاد کے لیے اور میری رضا تلاش کرنے کے لیے نکلے ہو تو میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ۔
➏ { تُسِرُّوْنَ اِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ …:} یعنی تم پر تعجب ہے کہ تم چھپ کر ان کی طرف دوستی کے پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ میں ان باتوں کو جو تم نے چھپائیں اور جو ظاہر کیں تم سے اور ہر ایک سے بڑھ کر جاننے والا ہوں۔ سو تمھیں یہ سوچ کر بھی ایسی حرکت سے اجتناب کرنا چاہیے کہ تمھارا مالک تمھارے ہر کام سے پوری طرح آگاہ ہے اور تم اپنی کوئی حرکت اس سے کسی طرح بھی نہیں چھپا سکتے۔
➐ {وَ مَنْ يَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيْلِ:} یعنی یہ صرف حاطب رضی اللہ عنہ یا کسی مہاجر کی مشرکینِ مکہ کے ساتھ دوستی کا معاملہ نہیں، بلکہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں میں سے جو بھی یہ کام کرے گا وہ یقینا سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔
➑ اس آیت سے مخلصین پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کا اظہار بھی ہو رہا ہے کہ اتنی بڑی غلطی کرنے والوں کو {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے ساتھ خطاب ہو رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی معصیت اور گناہ کی وجہ سے آدمی کافر نہیں ہوتا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب رضی اللہ عنہ کی غلطی سے درگزر فرمایا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی آدمی کے معاملات میں اس کی سابقہ زندگی کو بھی مدِ نظر رکھا جائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) بنو خزاعہ کے مقتولین کا خون بہا ادا کیا جائے۔
(2) قریش بنو بکر کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں۔
(3) اعلان کیا جائے کہ حدیبیہ کا معاہدہ ختم ہو گیا۔ قاصد نے جب یہ شرائط قریش کے سامنے پیش کیں تو ان کا نوجوان طبقہ بھڑک اٹھا اور ان میں سے ایک جوشیلے نوجوان فرط بن عمر نے قریش کی طرف سے اعلان کر دیا کہ ”صرف تیسری شرط منظور ہے“ جب قاصد واپس چلا گیا تو ان لوگوں کا جوش ٹھنڈا ہو کر ہوش و حواس درست ہوئے اور سخت فکر دامنگیر ہو گئی۔ چنانچہ ابو سفیان کو تجدید معاہدہ کے لیے مدینہ بھیجا گیا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تجدید معاہدہ کی درخواست کی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر اس نے علی الترتیب سیدنا ابو بکرؓ سیدنا عمرؓ حتیٰ کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تک سے سفارش کے لیے التجا کی لیکن سب نے یہی جواب دیا کہ ہم اس معاملہ میں دخل نہیں دے سکتے۔ لاچار اس نے مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر یکطرفہ ہی اعلان کر دیا کہ میں نے معاہدہ حدیبیہ کی تجدید کر دی۔
[2] یعنی کفار مکہ کا تم سے یہ سلوک تھا کہ انہوں نے تمہاری زندگی اس قدر اجیرن بنا رکھی تھی کہ تم ترک وطن پر مجبور ہو گئے تھے اور تمہارا ان سے یہ سلوک ہو کہ تم ان کے لیے جنگی راز تک فاش کر ڈالتے ہو۔ تاکہ وہ اپنی ٹھیک ٹھاک مدافعت کا انتظام کر سکیں۔ اور اس معاملہ میں تم مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کو بھی نظرانداز کر رہے ہو؟ علاوہ ازیں ان لوگوں نے تمہیں ہجرت پر مجبور کر دیا۔ حالانکہ تم نے ان کا کچھ بھی نہ بگاڑا تھا۔ ان کی نظروں میں اگر تمہارا کچھ جرم تھا تو صرف یہ کہ تم اللہ پر ایمان لے آئے تھے؟
[3] اب اگر تم محض میری رضا کی خاطر اس مہم میں شریک ہو رہے ہو تو کیا یہ کام تم نے میری رضا کے مطابق کیا ہے یا اس کے خلاف؟ اللہ تعالیٰ کے اس عتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمر کو جو سیدنا حاطبؓ پر غصہ آیا تھا اور رسول اللہ سے سیدنا حاطبؓ کو قتل کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ تو وہ بھی بہت حد تک حق بجانب تھے کیونکہ سیدنا عمرؓ جنگی اسرار و رموز اور ان کے نتائج سے پوری طرح واقف تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حاطب کو اس لیے معاف فرما دیا کہ ان کی نیت میں کوئی فتور نہ تھا۔ نیز سیدنا حاطبؓ ایسے راز کے فاش کر دینے کے نتائج سے پوری طرح واقف نہ تھے۔ لہٰذا آپ نے اپنی نرمی طبع کی بنا پر خیر کے پہلو کو ترجیح دیتے ہوئے سیدنا حاطبؓ کو معاف فرما دیا۔ بالخصوص اس صورت میں کہ اللہ نے مسلمانوں کو سیدنا حاطبؓ کے اس فعل کے برے نتائج سے بچا لیا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بخاری مسلم کی ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے نام کے بدلے سیدنا ابومرثد رضی اللہ عنہ کا نام ہے اس میں یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ اس عورت کے پاس حاطب کا خط ہے، اس عورت کی سواری کو بٹھا کر اس کے انکار پر ہر چند ٹٹولا گیا لیکن کوئی پرچہ ہاتھ نہ لگا آخر جب ہم عاجز آ گئے اور کہیں سے پرچہ نہ ملا تو ہم نے اس عورت سے کہا کہ اس میں تو مطلق شک نہیں کہ تیرے پاس پرچہ ہے گو ہمیں نہیں ملتا لیکن تیرے پاس ہے ضرور، یہ ناممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات غلط ہو اب اگر تو نہیں دیتی تو ہم تیرے کپڑے اتار کر ٹٹولیں گے، جب اس نے دیکھ لیا کہ انہیں پختہ یقین ہے اور یہ لئے بغیر نہ ٹلیں گے تو اس نے اپنا سر کھول کر اپنے بالوں میں سے پرچہ نکال کر ہمیں دے دیا ہم اسے لے کر واپس خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے،
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ سن کر فرمایا: اس نے اللہ، اس کے رسول کی اور مسلمانوں کی خیانت کی مجھے اس کی گردن مارنے کی اجازت دیجئیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا اور انہوں نے وہ جواب دیا جو اوپر گزر چکا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے فرما دیا کہ انہیں کچھ نہ کہو اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی وہ فرمایا جو پہلے بیان ہوا کہ بدری صحابہ میں سے ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت واجب کر دی ہے جسے سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو دیئے اور فرمانے لگے اللہ کو اور اس کے رسول کو ہی کامل علم ہے، [صحیح بخاری:6939] یہ حدیث ان الفاظ سے صحیح بخاری کتاب المغازی میں غزوہ بدر کے ذکر میں ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ اس نے پرچہ اپنے جسم میں سے نکالا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فرمان میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا: یہ بدر میں موجود تو ضرور تھے لیکن عہد شکنی کی اور دشمنوں میں ہماری خبر رسانی کی اور روایت میں ہے کہ یہ عورت قبیلہ مزینہ کی عورت تھی، بعض کہتے ہیں اس کا نام سارہ تھا، اولاد عبدالمطلب کی آزاد کردہ لونڈی تھی، سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے اسے کچھ دینا کیا تھا اور اس نے اپنے بالوں تلے کاغذ رکھ کر اوپر سے سرگوندھ لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھوڑ سواروں سے فرما دیا تھا کہ اس کے پاس حاطب کا دیا ہوا اس مضمون کا خط ہے، آسمان سے اس کی خبر اے اللہ کے رسول! کے پاس آئی تھی، بنو احمد کے حلیفہ میں یہ عورت پکڑی گئی تھی، اس عورت نے ان سے کہا تھا کہ تم منہ پھیر لو میں نکال دیتی ہوں انہوں نے منہ پھیر لیا پھر اس نے نکال کر حوالہ کیا، اس روایت میں سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کے جواب میں یہ بھی ہے کہ اللہ کی قسم میں اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں کوئی تغیر تبدل میرے ایمان میں نہیں ہوا، اور اسی بارے میں اس سورت کی آیتیں ابراہیم کے قصہ «قَد كانَت لَكُم أُسوَةٌ حَسَنَةٌ في إِبراهيمَ وَالَّذينَ مَعَهُ إِذ قالوا لِقَومِهِم إِنّا بُرَآءُ مِنكُم وَمِمّا تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ كَفَرنا بِكُم وَبَدا بَينَنا وَبَينَكُمُ العَداوَةُ وَالبَغضاءُ أَبَدًا حَتّىٰ تُؤمِنوا بِاللَّهِ وَحدَهُ إِلّا قَولَ إِبراهيمَ لِأَبيهِ لَأَستَغفِرَنَّ لَكَ وَما أَملِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَيءٍ رَبَّنا عَلَيكَ تَوَكَّلنا وَإِلَيكَ أَنَبنا وَإِلَيكَ المَصيرُ» [60-الممتحنة:4]، کے ختم تک اتریں۔
ایک اور روایت میں ہے کہ اس عورت کو اس کی اجرت کے دس درہم سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے دیئے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خط کے حاصل کرنے کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا اور حجفہ میں یہ ملی تھی۔
ایک اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا لِلَّـهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا» [4-النساء:144] مسلمانو! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں نہ کرو کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا کھلا الزام ثابت کر لو۔
ایک اور جگہ فرمایا «لا يَتَّخِذِ المُؤمِنونَ الكافِرينَ أَولِياءَ مِن دونِ المُؤمِنينَ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ فَلَيسَ مِنَ اللَّهِ في شَيءٍ إِلّا أَن تَتَّقوا مِنهُم تُقاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفسَهُ وَإِلَى اللَّهِ المَصيرُ» [3-آل عمران:28] ’ مسلمانوں کو چاہیئے کہ اپنوں کے علاوہ کافروں سے دوستیاں نہ کریں جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی طرف سے کسی چیز میں نہیں ہاں بطور دفع الوقتی اور بچاؤ کے ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈرا رہا ہے اور اللہ کی طرف ہی تم کو لوٹ کر جانا ہے ‘، اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کا عذر قبول فرما لیا کہ اپنے مال و اولاد کے بچاؤ کی خاطر یہ کام ان سے ہو گیا تھا۔
پھر مسلمانوں کو ہوشیار کرتا ہے کہ تم ان دشمنان دین سے کیوں موّدت و محبت رکھتے ہو؟ حالانکہ یہ تم سے بدسلوکی کرنے میں کسی موقعہ پر کمی نہیں کرتے کیا یہ تازہ واقعہ بھی تمہارے ذہن سے ہٹ گیا کہ انہوں نے تمہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جبراً وطن سے نکال باہر کیا اور اس کی کوئی اور وجہ نہ تھی سوائے اس کے کہ تمہاری توحید اور فرمانبرداریِ رسول ان پر گراں گزرتی تھی۔
جیسے اور جگہ ہے «وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» [85-البروج:8] یعنی ’ مومنوں سے صرف اس بنا پر مخاصمت اور دشمنی ہے کہ وہ اللہ برتر بزرگ پر ایمان رکھتے ہیں ‘۔
اور جگہ ہے «الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّـهُ» [22-الحج:40] ’ یہ لوگ محض اس وجہ سے ناحق جلا وطن کئے گئے کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب اللہ ہے ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ اگر سچ مچ تم میری راہ کے جہاد کو نکلے ہو اور میری رضا مندی کے طالب ہو تو ہرگز ان کفار سے جو تمہارے اور میرے دشمن ہیں میرے دین کو اور تمہارے جان و مال کو نقصان پہنچا رہے ہیں دوستیاں نہ پیدا کرو، بھلا کس قدر غلطی ہے کہ تم ان سے پوشیدہ طور پر دوستانہ رکھو؟ کیا یہ پوشیدگی اللہ سے بھی پوشیدہ رہ سکتی ہے؟ جو ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے، دلوں کے بھید اور نفس کے وسوسے بھی جس کے سامنے کھلے ہوئے ہیں ‘۔
مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں“، جب وہ جانے لگا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ” «إِنَّ أَبِي وَأَبَاك فِي النَّار» سن میرا باپ اور تیرا باپ دونوں ہی جہنمی ہیں۔“ یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں اور سنن ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:203]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا}؛ أي: اعملوا بمقتضى إيمانكم من ولايةِ مَنْ قام بالإيمان ومعاداة من عاداه؛ فإنَّه عدوٌّ لله وعدوٌّ للمؤمنين، فـ {لا تتَّخذوا عدوِّي وعدوَّكم أولياءَ تُلْقون إليهم بالمودَّة}؛ أي: تسارعون في مودَّتهم والسعي في أسبابها؛ فإنَّ المودَّة إذا حصلت؛ تبعتْها النصرةُ والموالاةُ، فخرج العبد من الإيمان، وصار من جملة أهل الكفران [وانفصل عن أهل الإيمان]. وهذا المتَّخذُ للكافر وليًّا عادمُ المروءة أيضاً؛ فإنَّه كيف يوالي أعدى أعدائه، الذي لا يريد له إلاَّ الشرَّ، ويخالف ربَّه ووليَّه الذي يريد به الخير، ويأمره به ويحثُّه عليه. ومما يدعو المؤمن أيضاً إلى معاداة الكفار أنَّهم قد كفروا بما جاء المؤمنين من الحقِّ، ولا أعظم من هذه المخالفة والمشاقَّة؛ فإنَّهم قد كفروا بأصل دينكم، وزعموا أنَّكم ضلاَّلٌ على غير هدىً، والحالُ أنَّهم كفروا بالحقِّ الذي لا شكَّ فيه ولا مريةَ، ومن ردَّ الحقَّ؛ فمحالٌ أن يوجد له دليلٌ أو حجَّةٌ تدلُّ على صحة قوله. بل مجرَّد العلم بالحقِّ يدلُّ على بطلان قول من ردَّه وفساده.
ومن عداوتهم البليغة أنَّهم {يُخْرِجون الرسولَ وإيَّاكم}: أيُّها المؤمنون من دياركم ويشرِّدونكم من أوطانكم ولا ذنبَ لكم في ذلك عندهم إلاَّ أنكم تؤمنون {بالله ربِّكم}: الذي يتعيَّن على الخلق كلِّهم القيام بعبوديَّته؛ لأنَّه ربَّاهم، وأنعم عليهم بالنِّعم الظاهرة والباطنة [وهو اللَّه تعالى]، فلمَّا أعرضوا عن هذا الأمر الذي هو أوجبُ الواجبات وقمتُم به؛ عادَوْكم وأخرجوكم من أجله من دياركم، فأيُّ دين وأيُّ مروءة وعقل يبقى مع العبد إذا والى الكفار الذين هذا وصفُهم في كلِّ زمانٍ أو مكان، ولا يمنعهم منه إلاَّ خوفٌ أو مانعٌ قويٌّ. {إن كنتُم خرجتُم جهاداً في سبيلي وابتغاء مرضاتي}؛ أي: إن كان خروجُكم مقصودُكم به الجهادُ في سبيل الله لإعلاء كلمة الله وابتغاء رضاه؛ فاعملوا بمقتضى هذا من موالاة أولياء الله ومعاداة أعدائهِ؛ فإنَّ هذا من أعظم الجهاد في سبيله، ومن أعظم ما يتقرَّب به المتقرِّبون إلى الله ويبتغون به رضاه.
{تُسِرُّون إليهم بالمودَّةِ وأنا أعلمُ بما أخفيتُم وما أعلنتُم}؛ أي: كيف تسرُّون المودَّة للكافرين وتخفونها مع علمكم أنَّ الله عالمٌ بما تخفون وما تعلنون؛ فهو وإن خفي على المؤمنين؛ فلا يخفى على الله تعالى، وسيجازي العباد بما يعلمه منهم من الخير والشرِّ. {ومن يَفْعَلْه منكم}؛ أي: موالاة الكافرين بعدما حذَّركم الله منها، {فقد ضلَّ سواءَ السبيل}: لأنَّه سلك مسلكاً مخالفاً للشرع وللعقل والمروءة الإنسانيَّة.