ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 92

وَ ہٰذَا کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ مُبٰرَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ لِتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰی وَ مَنۡ حَوۡلَہَا ؕ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ وَ ہُمۡ عَلٰی صَلَاتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ﴿۹۲﴾
اور یہ ایک کتاب ہے، ہم نے اسے نازل کیا، بڑی برکت والی ہے، اس کی تصدیق کرنے والی جو اس سے پہلے ہے اور تاکہ تو بستیوں کے مرکزاور اس کے اردگرد لوگوں کو ڈرائے اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔ En
اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اس لئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی پوری خبر رکھتے ہیں
En
اور یہ بھی ایسی ہی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے جو بڑی برکت والی ہے، اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور تاکہ آپ مکہ والوں کو اور آس پاس والوں کو ڈرائیں۔ اور جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں ایسے لوگ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور وه اپنی نماز پر مداومت رکھتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

آیت 92: (1) {وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا:} اس آیت میں مکہ کو ام القریٰ کہا گیا ہے، جس کا معنی ہے تمام بستیوں کی جڑ یا ان کا مرکز اور { وَ مَنْ حَوْلَهَا } سے مراد قبائل عرب اور آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں، خواہ عرب ہوں یا عجم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [بُعِثْتُ إِلَي النَّاسِ كَافَّةً] [بخاری، الصلاۃ، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : [جعلت لي الأرض…]: ۴۳۸] مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔ نیز دیکھیے سورۂ انعام (۹)، سورۂ اعراف (۱۵۸) اور سورۂ سبا(۲۸)۔
➋ {وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ: } کیونکہ قرآن مجید آخرت کی راہ بتلاتا ہے۔
➌ { وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ:} کیونکہ نماز تمام عبادتوں کی اصل اور آخرت میں کامیابی کی کنجی ہے۔ اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اس شخص کا ایمان آخرت پر صحیح اور درست ہے جو قرآن مجید پر ایمان رکھتا ہے اور نماز کی نگہداشت اور نگرانی کرتا ہے، جو شخص قرآن پر ایمان نہیں رکھتا یا نماز کی حفاظت نہیں کرتا اس کا آخرت پر ایمان رکھنے کا دعویٰ بلا دلیل ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

92۔ اور یہ کتاب جو ہم نے اتاری ہے بڑی خیر و برکت [93۔ 2] والی ہے۔ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اس لیے اتاری ہے کہ آپ اس کے ذریعے اہل مکہ اور آس پاس کے لوگوں کو ڈرائیں اور جو لوگ آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہ اس پر ایمان [94] لاتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کو پابندی سے ادا کرتے ہیں
[93۔ 2]
قرآن بابرکت کتاب کیسے؟
یہ قرآن کریم ہی کے بابرکت ہونے کا نتیجہ تھا کہ اس نے عرب جیسی جاہل قوم کو، جو قبائلی عصبیت کی وجہ سے ہر وقت بر سر پیکار اور لڑتی مرتی رہتی تھی۔ ایک مہذب قوم بنا کر چند ہی سالوں میں اس کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ ان کے اخلاق و عادات اس قدر اعلیٰ بن گئے کہ یہی جاہل، وحشی اور اجڈ قوم تمام اقوام عالم کی پیشوا بن گئی۔ بڑی بڑی طاقتوں کو سرنگوں کیا اور دنیا کے ایک کثیر حصہ پر قابض ہو کر ان میں علوم و تہذیب پھیلانے کا سبب بن گئی۔ قرآن کی تعلیم نے انہیں ذلت کی گہرائیوں سے نکال کر عزت کے بلند مقامات پر پہنچا دیا۔
[94] قرآن کریم کے اللہ کا کلام ہونے پر چار دلائل:۔
اس سے پہلی آیت میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ ایک بشر پر اللہ کا کلام نازل ہو سکتا ہے۔ اس سے از خود یہ معلوم ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں سب لوگ بشر تسلیم کرتے تھے پر اللہ کا کلام نازل ہو سکتا ہے۔ رہی یہ بات کہ یہ کتاب قرآن فی الواقع اللہ کا کلام ہے تو اس پر چار دلائل پیش کئے گئے۔ ایک یہ کہ یہ کتاب اتنی خیر و برکت والی ہے کہ تمہاری زندگی کے ہر پہلو اور شعبے کے لیے تمہیں ہدایت فراہم کرتی ہے جو عقائد صحیحہ اور اخلاق فاضلہ اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کی تعلیم دیتی ہے اور اس میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے بہترین اصول پیش کیے گئے ہیں۔ اور اس کے منزل من اللہ ہونے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اس کی بنیادی تعلیمات وہی ہیں جو سابقہ کتب سماویہ کی ہیں۔ کوئی نئی بات پیش نہیں کرتی بلکہ انہی چیزوں کی تصدیق و تائید کرتی ہے جو پہلی کتب میں پیش کی گئی تھیں۔ تیسرے یہ کہ اس کتاب کا مقصد غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو خواب غفلت سے جھنجھوڑنا اور انہیں ان کے برے انجام سے ڈرانا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی گئی کہ آپ اس کام کا آغاز اس مرکزی شہر مکہ اور اس کے پاس کی بستیوں سے کیجئے اور چوتھی بات جو بطور نتیجہ بتائی گئی یہ ہے کہ اس کتاب سے ہدایت صرف وہ لوگ پائیں گے جو اپنی خواہشات نفس کے غلام نہ ہوں بلکہ اللہ اور روز آخرت کی باز پرس سے ڈرتے ہوں اور اس کی واضح علامت کے طور پر نماز کی باقاعدگی سے محافظت کرتے ہوں۔ اور یہ سب ایسی باتیں ہیں جو کسی انسان کی تصنیف شدہ کتاب میں نہیں ہو سکتیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تمام رسول انسان ہی ہیں ٭٭
اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے والے دراصل اللہ کی عظمت کے ماننے والے نہیں۔ عبداللہ بن کثیر کہتے ہیں کفار قریش کے حق میں یہ آیت اتری ہے اور قول ہے کہ یہود کی ایک جماعت کے حق میں ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فخاص یہودی کے حق میں اور یہ بھی ہے کہ مالک بن صیف کے بارے میں کہا گیا ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ پہلا قول حق اس لیے ہے کہ آیت مکیہ ہے اور اس لیے بھی کہ یہودی آسمان سے کتاب اترنے کے بالکل منکر نہ تھے، ہاں البتہ قریشی اور عام عرب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے قائل نہ تھے اور کہتے تھے کہ انسان اللہ کا رسول نہیں ہو سکتا۔
جیسے قرآن ان کا تعجب نقل کرتا ہے آیت «أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ» ۱؎ [10-یونس:2]‏‏‏‏ یعنی ’ کیا لوگوں کو اس بات پر اچنبھا ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی نزول فرمائی کہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَاءَهُمُ الْهُدٰٓى اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا قُل لَّوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُولًا» ۱؎ [17-الاسراء:95-94]‏‏‏‏ ’ لوگوں کے اس خیال نے ہی کہ کیا اللہ نے انسان کو اپنا رسول بنا لیا انہیں ایمان سے روک دیا ہے، سنو اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے تو ہم بھی آسمان سے کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتے ‘۔
یہاں بھی کفار کا یہی اعتراض بیان کرکے فرماتا ہے کہ ’ انہیں جواب دو کہ تم جو بالکل انکار کرتے ہو کہ کسی انسان پر اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا یہ تمہاری کیسی کھلی غلطی ہے؟ بھلا بتلاؤ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) پر تورات کس نے اتاری تھی جو سراسر نور و ہدایت تھی ‘۔
الغرض تورات کے تم سب قائل ہو جو مشکل مسائل آسان کرنے والی، کفر کے اندھیروں کو چھانٹنے، شبہ کو ہٹانے اور راہ راست دکھانے والی ہے، تم نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر رکھے ہیں صحیح اور اصلی کتاب میں سے بہت سا حصہ چھپا رکھا ہے کچھ اس میں سے لکھ لاتے ہو اور پھر اسے بھی تحریف کر کے لوگوں کو بتا رہے ہو، اپنی باتوں اپنے خیالات کو اللہ کی کتاب کی طرف منسوب کرتے ہو۔
قرآن تو وہ ہے جو تمہارے سامنے وہ علوم پیش کرتا ہے جن سے تم اور تمہارے اگلے اور تمہارے بڑے سب محروم تھے، پچھلی سچی خبریں اس میں موجود، آنے والے واقعات کی صحیح خبریں اس میں موجود ہیں جو آج تک دنیا کے علم میں نہیں آئی تھیں -کہتے ہیں اس سے مراد مشرکین عرب ہیں اور بعض کہتے ہیں اس سے مراد مسلمان ہیں۔
پھر حکم دیتا ہے کہ ’ یہ لوگ تو اس کا جواب کیا دیں گے کہ تورات کس نے اتاری؟ تو خود کہہ دے کہ اللہ نے اتاری ہے پھر انہیں ان کی جہالت و ضلالت میں ہی کھیلتا ہوا چھوڑ دے یہاں تک کہ انہیں موت آئے اور یقین کی آنکھوں سے خود ہی دیکھ لیں کہ اس جہان میں یہ اچھے رہتے ہیں یا مسلمان متقی؟ یہ کتاب یعنی قرآن کریم ہمارا اتارا ہوا ہے، یہ بابرکت ہے یہ اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے ہم نے اسے تیری طرف اس لیے نازل فرمایا کہ تو اہل مکہ کو، اس کے پاس والوں کو یعنی عرب کے قبائل اور عجمیوں کو ہوشیار کر دے اور ڈراوا دیدے ‘۔
«مَنْ حَوْلَهَا» سے مراد ساری دنیا ہے اور آیت میں ہے «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [7۔ الأعراف:158]‏‏‏‏ یعنی ’ اے دنیا جہان کے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں ‘۔
اور آیت میں ہے «لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ» ۱؎ [6۔ الأنعام:19]‏‏‏‏ ’ تاکہ میں تمہیں بھی اور جسے یہ پہنچے اسے ڈرا دوں اور قرآن سنا کر عذابوں سے خبردار کر دوں ‘۔ اور فرمان ہے آیت «وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ» [11-ھود:17]‏‏‏‏ ’ جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے اس کا ٹھکانا جہنم ہے ‘۔
اور آیت میں فرمایا گیا «تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا» ۱؎ [25۔ الفرقان:1]‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ برکتوں والا ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہان والوں کو آگاہ کر دے ‘۔
اور آیت میں ارشاد ہے «وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ» ۱؎ [3-آل عمران:20]‏‏‏‏ یعنی ’ اہل کتاب سے اور ان پڑھوں سے بس سے کہہ دو کہ کیا تم اسلام قبول کرتے ہو؟ اگر قبول کر لیں تو راہ راست پر ہیں اور اگر منہ موڑ لیں تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اللہ اپنے بندے کو خوب دیکھ رہا ہے ‘۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی علیہ السلام کو نہیں دی گئیں } ان کو بیان فرماتے ہوئے ایک یہ بیان فرمایا کہ { ہر نبی علیہ السلام صرف ایک قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا لیکن میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:335]‏‏‏‏
اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہوا کہ ’ قیامت کے معتقد تو اسے مانتے ہیں جانتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی سچی کتاب ہے اور وہ نمازیں بھی صحیح وقتوں پر برابر پڑھا کرتے ہیں اللہ کے اس فرض کے قیام میں اور اس کی حفاظت میں سستی اور کاہلی نہیں کرتے ‘۔