ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 9

اُردوEn
وَ لَوۡ جَعَلۡنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلۡنٰہُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّا یَلۡبِسُوۡنَ ﴿۹﴾
اور اگر ہم اسے فرشتہ بناتے تو یقینا اسے آدمی بناتے اور ضرور ان پر وہی شبہ ڈالتے جو وہ (اپنے آپ پر اور دوسروں پر) ڈال رہے ہیں۔
نیز اگر ہم کسی فرشتہ کو بھیجتے تو اسے مرد کی صورت میں بھیجتے اور جو شبہ (اب) کرتے ہیں اسی شبے میں پھر انہیں ڈال دیتے
اور اگر ہم اس کو فرشتہ تجویز کرتے تو ہم اس کو آدمی ہی بناتے اور ہمارے اس فعل سے پھر ان پر وہی اشکال ہوتا جو اب اشکال کر رہے ہیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9) {وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا …:} یہ کفار کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے، یعنی ان کے مطالبے کو مانتے ہوئے ہم فرشتہ اتارنا منظور کر بھی لیتے تو وہ بھی انسانی صورت میں آتا، کیونکہ یہ اسے اس کی اصل شکل میں تو دیکھ ہی نہیں سکتے اور جب وہ آدمی کی شکل میں ہوتا تو پھر یہی اعتراض کرتے جو اب کر رہے ہیں۔ اس وقت کے کافر کسی انسان کو نبی ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قوم سے تھے، ان کے سامنے جوان ہوئے اور انھی میں زندگی گزاری، اس لیے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے کا انکار نہیں کر سکتے تھے، لہٰذا آپ کے نبی ہونے کا انکار کر دیا۔ اب کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی تو مانتے ہیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انسان ماننے کے لیے تیار نہیں۔ گویا ایک ہی عقیدے کی دو شکلیں ہیں اور دونوں باطل ہیں، حالانکہ اللہ نے اپنا احسان جتلایا ہے کہ میں نے انسانوں میں انھی کے اندر سے رسول بھیجا ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۶۴)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

9۔ 1 یعنی اگر ہم فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجنے کا فیصلہ کرتے تو ظاہر بات ہے کہ وہ فرشتے کی اصل شکل میں تو انھیں نہیں بھیج سکتا تھا، کیونکہ اس طرح انسان اس سے خوف زدہ ہونے اور قریب و مانوس ہونے کی بجائے، دور بھاگتے اس لئے ناگزیر تھا کہ اسے انسانی شکل میں بھیجا جاتا۔ لیکن تمہارے لیڈر پھر یہی اعتراض اور شبہ پیش کرتے کہ یہ تو انسان ہی ہے، جو اس وقت بھی وہ رسول کی بشریت کے حوالے پیش کر رہے ہیں تو پھر فرشتے کے بھیجنے کا کیا فائدہ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ اور اگر ہم کسی فرشتہ کو پیغمبر بناتے تو بھی اسے انسانی شکل میں ہی اتارتے اور ہم انہیں اسی شبہ میں ڈال دیتے جس [9] میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں
[9] پیغمبر کے فرشتہ ہونے پر اعتراضات :۔
فرشتہ نازل کرنے کی دوسری صورت یہ تھی کہ وہ انسانی شکل میں آتا۔ جیسے جبریل آپ کے پاس دحیہ کلبی کی شکل میں کبھی کبھار آتے تھے۔ یا سیدنا ابراہیم سیدنا لوط اور سیدنا داؤد علیہم السلام کے پاس انسانی شکل میں آئے تھے۔ اور اگر فرشتہ پیغمبر بن کر انسانی شکل میں آتا تو اس پر بھی وہ تمام اعتراضات وارد ہو سکتے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وارد ہوتے رہے۔ پھر یہ ایک الگ اعتراض پیدا ہو جاتا کہ جو شخص اپنے آپ کو فرشتہ اور پیغمبر کہہ رہا ہے آیا یہ فی الواقع فرشتہ ہے بھی یا نہیں؟ یا کوئی جادوگر انسان ہے جو ہمیں چکمہ دے رہا ہے گویا ان کا وہ اشتباہ پھر بھی بدستور باقی رہتا جو انہیں اب پڑا ہوا ہے نیز اگر کوئی رسول فرشتہ ہو تو اتمام حجت کا معاملہ ہی ختم ہو جاتا۔ ایسے رسول پر ایمان لانے والے اپنی بے عملی کے جواز کے لیے یہ معقول بہانہ پیش کر سکتے تھے کہ رسول تو فرشتہ ہے اور ہم بشر ہیں لہٰذا ہم اس کی پورے طور پر اتباع کیسے کر سکتے ہیں؟ اور یہی رسول کے بشر ہونے میں سب سے بڑی حکمت ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
پھر فرماتا ہے ’ بالفرض رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی فرشتہ ہم اتارتے یا خود فرشتے ہی کو اپنا رسول بنا کر انسانوں میں بھیجتے تو لا محالہ اسے بصورت انسانی ہی بھیجتے تاکہ یہ لوگ اس کے ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں، بات چیت کر سکیں اس سے حکم احکام سیکھ سکیں۔ یکجہتی کی وجہ سے طبیت مانوس ہو جائے اور اگر ایسا ہوتا تو پھر انہیں اسی شک کا موقعہ ملتا کہ نہ جانے یہ سچ مچ فرشتہ ہے بھی یا نہیں؟ کیونکہ وہ بھی انسان جیسا ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا» ۱؎ [17۔ الاسراء:95]‏‏‏‏ یعنی ’ اگر زمین میں فرشتوں کی آبادی ہوتی تو ہم ان کی طرف فرشتے ہی کو رسول بنا کر نازل فرماتے ‘۔ پس درحقیقت اس رب محسن کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ انسانوں کی طرف انہی کی جنس میں سے انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ اس کے پاس اٹھ بیٹھ سکیں اس سے پوچھ گچھ لیں اور ہم جنسی کی وجہ سے خلط ملط ہو کر فائدہ اٹھا سکیں۔
چنانچہ ارشاد ہے آیت «لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ» ۱؎ [3-آل عمران:164]‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً اللہ تعالیٰ محسن حقیقی کا ایک زبردست احسان مسلمانوں پر یہ بھی ہے کہ اس نے انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو آیات الہیہ ان کے سامنے تلاوت کرتا رہتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے ‘۔
مطلب یہ ہے کہ اگر فرشتہ ہی اترتا تو چونکہ اس نور محض کو یہ لوگ دیکھ ہی نہیں سکتے اس لیے اے انسانی صورت میں ہی بھیجتے تو پھر بھی ان پر شبہ ہی رہتا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسکین اور تسلی دیتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دل گرفتہ نہ ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی جتنے انبیاء علیہم السلام آئے ان کا بھی مذاق اڑایا گیا لیکن بالاخر مذاق اڑانے والے تو برباد ہو گئے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی جو لوگ بے ادبی سے پیش آتے ہیں ایک رو پیس دیئے جائیں گے ‘۔
’ لوگو! ادھر ادھر پھر پھرا کر عبرت کی آنکھوں سے ان کے انجام کو دیکھو جنہوں نے تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بدسلوکی کی، ان کی نہ مانی اور ان پر پھبتیاں کسیں دنیا میں بھی وہ خراب و خستہ ہوئے اور آخرت کی مار ابھی باقی ہے، رسولوں کو اور ان کے ماننے والوں کو ہم نے یہاں بھی ترقی دی اور وہاں بھی انہیں بلند درجے عطا فرمائے ‘۔