تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے والے اس امید میں ہوتے ہیں کہ ہم بھی کچھ ہیں لیکن مرنے کے بعد انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کچھ نہ تھے اس وقت بہت نادم ہوتے ہیں اور سوائے ہلاکت کے کوئی چیز انہیں دکھائی نہیں دیتی، یعنی جس طرح کسی جنگ میں گمشدہ انسان کو جنات اس کا نام لے کر آوازیں دے کر اسے اور غلط راستوں پر ڈال دیتے ہیں جہاں وہ مارا مارا پھرتا ہے اور بالآخر ہلاک اور تباہ ہو جاتا ہے اسی طرح جھوت معبودوں کا پجاری بھی برباد ہو جاتا ہے۔ ہدایت کے بعد گمراہ ہونے والے کی یہی مثال ہے جس راہ کی طرف شیطان اسے بلا رہے ہیں وہ تو تباہی اور بربادی کی راہ ہے اور جس راہ کی طرف اللہ بلا رہا ہے اور اس کے نیک بندے جس راہ کو سجھا رہے ہیں وہ ہدایت ہے گو وہ اپنے ساتھیوں کے مجمع میں سے نہ نکلے اور انہیں ہی راہ راست پر سمجھتا رہے اور وہ ساتھی بھی اپنے تئیں ہدایت یافتہ کہتے رہیں۔
لیکن یہ قول آیت کے لفظوں سے مطابق نہیں کیونکہ آیت میں موجد ہے کہ وہ اسے ہدایت کی طرف بلاتے ہیں پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ضلالت ہو؟ «حَیْرَانَ» پر زبر حال ہونے کی وجہ سے ہے صحیح مطلب یہی ہے کہ اس کے ساتھی جو ہدایت پر ہیں اب اسے غلط راہ پر دیکھتے ہیں تو اس کی خیر خواہی کے لیے پکار پکار کر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آ جا سیدھا راستہ یہی ہے لیکن یہ بد نصیب ان کی بات پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ توجہ تک نہیں کرتا، سچ تو یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے قبضے میں ہے، وہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔
ہم سب کو یہی حکم کیا گیا ہے کہ ہم خلوص سے ساری عبادتیں محض اسی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کے لیے کریں اور یہ بھی حکم ہے کہ نمازیں قائم رکھیں اور ہر حال میں اس سے ڈرتے رہیں قیامت کے دن اسی کے سامنے حشر کیا جائے گا سب وہیں جمع کئے جائیں گے، اسی نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہی مالک اور مدبر ہے قیامت کے دن فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گا ایک لمحہ بھی دیر نہ لگے گی۔
«يَوْمَ» کا زبر یا تو «وَاتَّقُوهُ» پر عطف ہونے کی وجہ سے ہے یعنی اس دن سے ڈرو جس دن اللہ فرمائے گا ہو اور ہو جائے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ «يَوْمَ» کا زبر «وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ» پر عطف ہونے کی بنا پر ہو تو گویا ابتدائے پیدائش کو بیان فرما کر پھر دوبارہ پیدائش کو بیان فرمایا یہی زیادہ مناسب ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فعل مضمر ہو یعنی «اُذْکُرْ» اور اس وجہ سے «يَوْمَ» پر زبر آیا ہو، اس کے بعد کے دونوں جملے محلاً مجرور ہیں، پس یہ دونوں جملے بھی محلاً مجرور ہیں۔
ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ اللہ کا قول حق ہے رب کے فرمان سب کے سب سچ ہیں، تمام ملک کا وہی اکیلا مالک ہے، سب چیزیں اسی کی ملکیت ہیں «يَوْمَ يُنْفَخُ» میں «يَوْمَ» ممکن ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُولُ» کا بدل ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ «وَلَهُ الْمُلْكُ» کا ظرف ہو۔
جیسے اور آیت میں ہے «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ» ۱؎ [40۔غافر:16] ’ آج کس کا ملک ہے؟ صرف اللہ اکیلے غالب کا ‘، اور جیسے اس آیت میں ارشاد ہوا ہے «اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:26] یعنی ’ ملک آج صرف رحمان کا ہے اور آج کا دن کفار پر بہت سخت ہے ‘۔
اور بھی اس طرح کی اور اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں بعض کہتے ہیں صور جمع ہے صورۃ کی جیسے سورۃ شہر پناہ کو کہتے ہیں اور وہ جمع ہے سورۃ کی لیکن صحیح یہ ہے کہ مراد صور سے قرن ہے جسے اسرافیل پھونکین گے۔ امام بن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
حضور کا ارشاد ہے کہ { اسرافیل صور کو اپنے منہ میں لیے ہوئے اپنی پیشانی جھکائے ہوئے حکم الٰہی کے منتظر ہیں }۔۱؎ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح]
طبرانی کی مطولات میں ہے { حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے بعد صور کو پیدا کیا اور اسے اسرافیل کو دیا وہ اسے لیے ہوئے ہیں اور عرش کی طرف نگاہ جمائے ہوئے ہیں کہ کب حکم ہو اور میں اسے پھونک دوں }۔ سیدنا ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صور کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک نرسنگھا ہے }۔ میں نے کہا وہ کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بہت ہی بڑا ہے وللہ اس کے دائرے کی چوڑائی آسمان وہ زمین کے برابر ہے اس میں سے تین نفحے پھونکے جائیں گے، پہلا گھبراہٹ کا دوسرا بیہوشی کا تیسرا رب العلمیں کے سامنے کھڑے ہونے کا۔ اول اول جناب باری اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہ پھونک دیں گے جس سے آسمان و زمین کی تمام مخلوق گھبرا اٹھے گی مگر جسے اللہ چاہے یہ صور بحکم رب دیر تک برابر پھونکا جائے گا }۔
اسی طرف اشارہ اس آیت میں ہے «وَمَا يَنظُرُ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ» ۱؎ [38-ص:15] یعنی ’ انہیں صرف بلند زور دار چیخ کا انتظار ہے پہاڑ اس صور سے مثل بادلوں کے چلنے پھرنے لگیں گے پھر ریت ریت ہو جائیں گے زمین میں بھونچال آ جائے گا اور وہ اس طرح تھر تھرانے لگے گی جیسے کوئی کشتی دریا کے بیچ زبردست طوفان میں موجوں سے ادھر ادھر ہو رہی ہو اور غوطے کھا رہی ہو۔ مثل اس ہانڈی کے جو عرش میں لٹکی ہوئی ہے جسے ہوائیں ہلا جلا رہی ہیں ‘۔
اسی کا بیان اس آیت میں ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ» ۱؎ [79-النازعات:6-8]، ’ اس دن زمین جنبش میں آ جائے گی اور بہت ہی ہلنے لگے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی آ جائے گی۔ دل دھرکنے لگیں گے اور کلیجے الٹنے لگیں گے ‘۔
لوگ ادھر ادھر گرنے لگیں گے مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے بجے بوڑھے ہو جائیں گے شیاطین مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے بھاگتے بھاگتے زمین کے کناروں پر آ جائیں گے، یہاں سے فرشتے انہیں مار مار کر ہٹائیں گے، لوگ پریشان حال حواس باختہ ہوں گے کوئی جائے پناہ نظر نہ آئے گی امر الٰہی سے بچاؤ نہ ہو سکے گا ایک دوسرے کو آوازیں دیں گے لیکن سب اپنی اپنی مصیبت میں پڑے ہوئے ہوں گے کہ ناگہاں زمین پھٹنی شروع ہو گی کہیں ادھر سے پھٹی کہیں ادھر سے پھٹی اب تو ابتر حالت ہو جائے گی کلیجہ کپکپانے لگے گا دل الٹ جائے گا اور اتنا صدرمہ اور غم ہو گا جس کا اندازہ نہیں ہو سکتا، جو آسمان کی طرف نظر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ گھل رہا ہے اور وہ بھی پھٹ رہا ہے ستارے جھڑ رہے ہیں سورج چاند بے نور ہوگیا ہے، ہاں مردوں کو اس کا کچھ علم نہ ہوگا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ شہید لوگ ہیں کہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں روزیاں پاتے ہیں اور سب زندہ لوگ گھبراہٹ میں ہوں گے لیکن اللہ تعلای انہیں پریشانی سے محفوظ رکھے گا یہ تو عذاب ہے جو وہ اپنی بدترین مخلوق پر بھیجے گا }، اسی کا بیان آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَىٰ وَلَـٰكِنَّ عَذَابَ اللَّـهِ شَدِيدٌ» [22-لحج:1-2] میں ہے یعنی ’ اے لوگو اپنے رب سے ڈرو یاد رکھو قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر ایک دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائے گی ہر حمل والی کا حمل گر جائے گا تو دیکھا جائے گا کہ سب لوگ بیہوش ہوں گے حالانکہ وہ نشہ پئے ہوئے نہیں بلکہ اللہ کے سخت عذابوں نے انہیں بدحواس کر رکھا ہے ‘ -
یہی حالت رہے گی جب تک اللہ چاہے بہت دیر تک یہی گھبراہٹ کا عالم رہے گا پھر اللہ تبارک و تعالیٰ جبرائیل کو بیہوشی کے نفحے کا حکم دے گا اس نفحہ کے پھونکتے ہی زمین و آسمان کی تمام مخلوق بیہوش ہو جائیں گی مگر جسے اللہ چاہے اور اچانک سب کے سب مر جائیں گے۔ ملک الموت اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ ”اے باری تعالیٰ زمین آسمان کی تمام مخلوق مرگئی مگر جسے تو نے چاہا“، اللہ تعالیٰ باوجود علم کے سوال کرے گا کہ ’ یہ بتاؤ اب باقی کون کون ہے؟ ‘ وہ جواب دیں گے ”تو باقی ہے تو «أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا تَمُوتُ» تجھ پر کبھی فنا نہیں اور عرش کے اٹھانے والے فرشتے اور جبرائیل و میکائیل اس وقت عرش کو زبان ملے گی اور وہ کہے گا اے پروردگار کیا جبرئل وہ میکائل علیہم السلام بھی مریں گے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ میں نے اپنے عرش سے نیچے والوں پر سب پر موت لکھ دی ہے ‘۔
چنانچہ یہ دونوں بھی فوت ہو جائیں گے پھر ملک الموت رب جبار و قہار کے پاس آئیں گے اور خبر دیں گے کہ جبرائیل و میکائیل علیہم السلام بھی انتقال کرگئے۔
اب اللہ تعالیٰ اکیلا باقی رہ جائے گا جو غلبہ والا یگانگت والا بے ماں باپ اور بے اولاد کے ہے۔ جس طرح مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے وہ یکتا اور اکیلا تھا۔ پھر آسمانوں اور زمینوں کو وہ اس طرح لپیٹ لے گا جیسے دفتری کاغذ کو لپیٹتا ہے پھر انہیں تین مرتبہ الٹ پلٹ کرے گا اور فرمائے گا ’ میں جبار ہوں میں کبریائی والا ہوں ‘۔
پھر تین مرتبہ فرمائے گا ’ آج ملک کا مالک کون ہے؟ کوئی نہ ہو گا جو جواب دے تو خود ہی جواب دے گا ’ «لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» ۱؎ [40-الغافر:16] اللہ واحد وقہار ‘۔
قرآن میں ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ» ۱؎ [14-إبراهيم:48] ’ اس دن آسمان و زمین بدل دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں پھیلا دے گا اور کھینچ دے گا جس طرح چمڑا کھینچا جاتا ہے ‘ «لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ۱؎ [20-طه:107] ’ کہیں کوئی اونچ نیچ باقی نہ رہے گی ‘۔
پھر ایک الٰہی آواز کے ساتھ ہی ساری مخلوق اس تبدیل شدہ زمین میں آ جائے گی اندر والے اندر اور اوپر ولے اوپر پھر اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سے اس پر بارش برسائے گا پھر آسمان کو حکم ہوگا اور وہ چالیس دن تک مینہ برسائے گا یہاں تک کہ پانی ان کے اوپر بارہ ہاتھ چڑھ جائے گا۔
پھر جسموں کو حکم ہو گا کہ وہ اگیں اور وہ اس طرح اگنے لگیں گے جیسے سبزیاں اور ترکاریاں اور وہ پورے پورے کامل جسم جیسے تھے ویسے ہی ہو جائیں گے پھر حکم فرمائے گا کہ ’ میرے عرش کے اٹھانے والے فرشتے جی اٹھیں ‘ چنانچہ وہ زندہ ہو جائیں گے پھر اسرافیل کو حکم ہو گا کہ ’ صور لے کر منہ سے لگا لیں ‘۔
پھر اسرافیل علیہ السلام کو حکم ہو گا کہ ’ اب صور پھونک دو ‘ چنانچہ بعث کا صور پھونکا جائے گا جس سے ارواح اس طرح نکلیں گی جیسے شہد کی مکھیاں -تمام خلأ ان سے بھر جائے گا پھر رب عالم کا ارشاد ہو گا کہ ’ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے ‘، چنانجہ سب روحیں اپنے اپنے جسموں میں نتھنوں کے راستے چلی جائیں گی اور جس طرح زہر رگ وپے میں اثر کر جاتا ہے روہ روئیں روئیں میں دوڑ جائے گی، پھر زمین پھٹ جائے گی اور لوگ اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔
سب سے پہلے میرے اوپر سے زمین شق ہو گی، «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ’ لوگ نکل کر دوڑتے ہوئے اپنے رب کی طرف چل دیں گے، اس وقت کافر کہیں گے کہ آج کا دن بڑا بھاری ہے ‘۔
سب ننگے پیروں ننگے بدن بے ختنہ ہوں گے ایک میدان میں بقدر ستر سال کے کھڑے رہیں گے، نہ ان کی طرف نگاہ اٹھائی جائے گی نہ ان کے درمیان فیصلے کئے جائیں گے، لوگ بے طرح گریہ وزاری میں مبتلا ہوں گے یہاں تک کہ آنسو ختم ہو جائیں گے اور خون آنکھوں سے نکلنے لگے گا، پسینہ اس قدر آئے گا کہ منہ تک یا ٹھوریوں تک اس میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، آپس میں کہیں گے آؤ کسی سے کہیں کہ وہ ہماری شفاعت کرے، ہمارے پروردگار سے عرض کرے کہ وہ آئے اور ہمارے فیصلے کرے، تو کہیں گے کہ اس کے لائق ہمارے باپ آدم علیہ السلام سے بہتر کون ہو گا؟ جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے ان سے باتین کیں۔
چنانچہ سب مل کر آپ علیہ السلام کے پاس آجائیں گے اور سفاش طلب کریں گے لیکن آدم علیہ السلام صاف انکار کر جائیں گے اور فرمائیں گے مجھ میں اتنی قابلیت نہیں پھر وہ اسی طرح ایک ایک نبی علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور سب انکار کر دیں گے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { پھر سب کے سب میرے پاس آئیں گے، میں عرش کے آگے جاؤں گا اور سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ میرے پاس فرشتہ بھیجے گا وہ میرا بازو تھام کر مجھے سجدے سے اٹھائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں جواب دوں گا کہ { ہاں اے میرے رب، اللہ عزوجل } باوجود عالم کل ہونے کے مجھے سے دریافت فرمائے گا کہ ’ کیا بات ہے؟ ‘ میں کہوں گا { یا اللہ تو نے مجھ سے شفاعت کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے اپنی مخلوق کے بارے میں میری شفاعت کو قبول فرما اور ان کے فیصلوں کے لیے تشریف لے آ }۔
آخر ہمارا رب عزوجل ابر کے سائے میں نزول فرمائے گا اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں گے اس کا عرش اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس وقت عرش کے اٹھانے والے جار فرشتے ہیں ان کے قدم آخری نیچے والی زمین کی تہ میں ہیں زمین و آسمان ان کے نصف جسم کے مقابلے میں ہے ان کے کندھوں پر عرش الٰہی ہے۔ ان کی زبانین ہر وقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی پاکیزگی کے بیان میں تر ہیں۔ ان کی تسبیح یہ ہے «سُبْحَانَ ذِي الْعَرْشِ وَالْجَبَرُوتِ، سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوتِ، سُبْحَانَ الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، سُبْحَانَ الَّذِي يُمِيتُ الْخَلَائِقَ وَلَا يَمُوتُ، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ قُدُّوسٌ قُدُّوسٌ، سُبْحَانَ رَبِّنَا الْأَعْلَى، رَبِّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، سُبْحَانَ رَبِّنَا الْأَعْلَى، الَّذِي يُمِيتُ الْخَلَائِقَ وَلَا يَمُوتُ» ۔
پھر اللہ جس جگہ چاہے گا اپنی کرسی زمین پر رکھے گا اور بلند آواز سے فرمائے گا ’ اے جنو اور انسانو! میں نے تمہیں جس دن سے پیدا کیا تھا اس دن سے آج تک میں خاموش رہا تمہاری باتیں سنتا رہا تمہارے اعمال دیکھتا رہا سنو تمہارے اعمال نامے میرے سامنے پڑھے جائیں گے جو اس میں بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس میں اور کچھ پائے وہ اپنی جان کو ملامت کرے ‘۔
اس فرمان کے ساتھ ہی بد لوگ نیکوں سے الگ ہو جائیں گے تمام امتیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گی جیسے قرآن کریم میں ہے کہ «وَتَرَى كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَى إِلَى كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [45-الجاثية:28] ’ تو ہر امت کو گھٹنوں کے بل گرے ہوئے دیکھے گا ہر امت اپنے نامہ اعمال کی طرف بلائی جائے گی ‘ -
پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں فیصلے کرے گا پہلے جانوروں میں فیصلے ہوں گے یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا، جب کسی کا کسی کے ذمہ کوئی دعویٰ باقی نہ رہے گا تو اللہ تعالیٰ انہیں فرمائے گا ’ تم سب مٹی ہو جاؤ ‘، اس فرمان کے ساتھ ہی تمام جانور مٹی بن جائیں گے، «وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا» ۱؎ [78-النبأ:40] ’ اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے ‘ }۔
پھر باقی کے اور تمام قاتل و مقتول اسی طرح پیش ہوں گے اور جو نفس ظلم سے قتل کیا گیا ہے اس کا بدلہ ظالم قاتل سے دلوایا جائے گا اسی طرح ہر مظلوم کو ظالم سے بدلہ دلوایا جائے گا یہاں تک کہ جو شخص دودھ میں پانی ملا کر بیچتا تھا اسے فرمایا جائے گا کہ’ اپنے دودھ سے پانی جدا کر دے ‘، ان فیصلوں کے بعد ایک منادی باآواز بلند ندا کرے گا جسے سب سنیں گے، ہر عابد اپنے معبود کے پیچھے ہولے اور اللہ کے سوا جس نے کسی اور کی عبادت کی ہے وہ جہنم میں چل دے -
«لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ» [21-الأنبياء:99] ’ سنو اگر یہ سچے معبود ہوتے تو جہنم میں وارد نہ ہوتے یہ سب تو جہنم میں ہی ہمیشہ رہیں گے ‘۔
اب صرف با ایمان لوگ باقی رہیں گے ان میں منافقین بھی شامل ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے پاس جس ہیئت میں چاہے تشریف لائے گا اور ان سے فرمائے گا کہ ’ سب اپنے معبودوں کے پیچھے چلے گئے تم بھی جس کی عبادت کرتے تھے اس کے پاس چلے جاؤ ‘۔ یہ جواب دیں گے کہ واللہ ہمارا تو کوئی معبود نہیں بجز الہ العالمین کے، ہم نے کسی اور کی عبادت نہیں کی۔
اب ان کے لیے پنڈلی کھول دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کی تجلیاں ان پر ڈالے گا جس سے یہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں گے اور سجدے میں گر پڑیں گے لیکن منافق سجدہ نہیں کر سکیں گے یہ اوندھے اور الٹے ہو جائیں گے اور اپنی کمر کے بل گر پڑیں گے۔ ان کی پیٹھ سیدھی کر دی جائے گی مڑ نہیں سکیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو سجدے سے اٹھنے کا حکم دے گا اور جہنم پر پل صراط رکھی جائے گی جو تلوار جیسی تیز دھار والی ہوگی اور جگہ جگہ آنکڑے اور کانٹے ہوں گے بڑی پھسلنی اور خطرناک ہوگی ایماندار تو اس پر سے اتنی سی دیر میں گزر جائیں گے جتنی دیر میں کوئی آنکھ بند کر کے کھول دے جس طرح بجلی گزرجاتی ہے اور جیسے ہوا تیزی سے چلتی ہے۔ یا جیسے تیز رو گھوڑے یا اونٹ ہوتے ہیں یا خوب بھاگنے والے آدمی ہوتے ہیں بعض صحیح سالم گزر جائیں گے، بعض زخمی ہو کر پار اتر جائیں گے، بعض کٹ کر جہنم میں گر جائیں گے۔
جتنی لوگ جب جنت کے پاس پہنچیں گے تو کہیں گے کون ہمارے رب سے ہماری سفارش کرے کہ ہم جنت میں چلے جائیں؟ دوسرے لوگ جواب دیں گے اس کے حقدار تمہارے باپ آدم علیہ السلام سے زیادہ اور کون ہوں گے؟ جنہیں رب ذوالکریم نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے باتیں کیں۔
لوگ آپ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور آپ علیہ السلام سے طلب سفارش کریں گے آپ علیہ السلام بھی اپنے گناہ کا ذکر کریں گے اور روح اللہ اور کلمتہ اللہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے پاس بھیجیں گے لیکن عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے ”میں اس قابل نہیں تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔“
میں سر اٹھاؤں گا اللہ تعالیٰ تو دلوں کے بھید بھی جانتا ہے تاہم وہ دریافت فرمائے گا کہ ’ کیا کہنا چاہتے ہو؟ ‘ میں کہوں گا { اے اللہ تو نے میری شفاعت کے قبول فرمانے کا وعدہ کیا ہے }۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ میری شفاعت ان جنتیوں کے بارے میں قبول فرمائے گا اور انہیں جنت کے داخلے کی اجازت ہو جائے گی۔ واللہ جیسے تم اپنے گھر سے اپنے بال بچوں سے آگاہ ہو اس سے بہت زیادہ یہ جنتی اپنی جگہ اور اپنی بیویوں سے واقف ہوں گے ہر ایک اپنے اپنے ٹھکانے پہنچ جائے گا ستر ستر حوریں اور دو دو عورتیں ملیں گی، یہ دونوں عورتیں اپنی کی ہوئی نیکیوں کے سبب پر فضیلت چہروں کی مالک ہوں گی جتنی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا جو یاقوت کے بالاخانے میں سونے کے جڑاؤ تخت پر ستر ریشمی حلے پہنے ہوئے ہوگی اس کا جسم اس قدر نورانی ہوگا کہ ایک طرف اگر جنتی اپنا ہاتھ رکھے تو دوسری طرف سے نظر آئے گا اس کی صفائی کی وجہ سے اس کی پنڈلی کا گودا گوشت پوست میں نظر آ رہا ہو گا اس کا دل اس کا آئینہ ہوگا نہ یہ اس سے بس کرے نہ وہ اس سے اکتائے، جب کبھی اس کے پاس جائے گا باکرہ پائے گا، نہ یہ تھکے نہ اسے تکلیف ہو، نہ کوئی مکرو چیز ہو، یہ اپنی اسی مشغولی میں مزے میں اور لطف و راحت میں اللہ جانے کتنی مدت گزار دے گا جو ایک آواز آئے گی کہ مانا نہ تمہارا دل اس سے بھرتا ہے نہ ان کا دل تم سے بھرے گا۔
لیکن اللہ نے تمہارے لیے اور بیویاں بھی رکھی ہوئی ہیں۔ اب یہ اوروں کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا بے ساختہ زبان سے یہی نکلے گا اللہ کی قسم کی سازی جنت میں تم سے بہتر کوئی چیز نہیں مجھے تو جنت کی تمام چیزوں سے زیادہ تم سے محبت ہے، ہاں جنہیں ان کی بد عملیوں اور گناہوں نے تباہ کر رکھا ہے وہ جہنم میں جائیں گے اپنے اپنے اعمال کے مطابق آگ میں جلیں گے، بعض قدموں تک بعض آدھی پنڈلی تک بعض گھٹنے تک بعض آدھے بدن تک بعض گردن تک، صرف چہرہ باقی رہ جائے گا کیونکہ صورت کا بگاڑنا اللہ نے آگ پر حرام کر دیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے گنہگار دوزخیوں کی شفاعت کریں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا جاؤ جنہیں پہچانو انہیں نکال لاؤ، پھر یہ لوگ جہنم سے آزاد ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا۔
پھر تو شفاعت کی عام اجازت مل جائے گی کل انبیاء علیہم السلام اور شہداء شفاعت کریں گے، جناب باری کا ارشاد ہو گا کہ ’ جس کے دل میں ایک دینار برابر بھی ایمان پاؤ اسے نکال لاؤ ‘۔
پس یہ لوگ بھی آزاد ہوں گے اور ان میں سے بھی کوئی باقی نہ رہے گا، پھر فرمائے گا ’ انہیں بھی نکال لاؤ جس کے دل میں دو ثلث دینار کے برابر ایمان ہو ‘۔
پھر فرمائے گا ’ ایک ثلث والوں کو بھی، پھر ارشاد ہو گا چوتھائی دینار کے برابر والوں کو بھی ‘۔
پس یہ سب بھی نکل آئیں گے اور ان میں سے ایک شخص بھی باقی نہ بچے گا، بلکہ جہنم میں ایک شخص بھی ایسا نہ رہ جائے گا جس نے خلوص کے ساتھ کوئی نیکی بھی اللہ کی فرمانبرداری کے ماتحت کی ہو، جتنے شفیع ہوں گے سب سفارش کرلیں گے یہاں تک کہ ابلیس کو بھی امید بندھ جائے گی اور وہ بھی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھے گا کہ شاید کوئی میری بھی شفاعت کرے کیونکہ وہ اللہ کی رحمت کا جوش دیکھ رہا ہوگا -
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین فرمائے گا کہ ’ اب تو صرف میں ہی باقی رہ گیا اور میں تو سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والا ہوں ‘، پس اپنا ہاتھ ڈال کر خود اللہ تبارک و تعالیٰ جہنم میں سے لوگوں کو نکالے گا جن کی تعداد سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا وہ جلتے جھلستے ہوئے کوئلے کی طرح ہو گئے ہوں گے، انہیں نہر حیوان میں ڈالا جائے گا جہاں وہ اس طرح اگیں گے جس طرح دانہ اگتا ہے جو کسی دریا کے کنارے بویا گیا ہو کہ اس کا دھوپ کا رخ تو سبز رہتا ہے اور سائے کا رخ زرد رہتا ہے ان کی گردنوں پر تحریر ہو گا کہ یہ رحمان کے آزاد کردہ ہیں، اس تحریر سے انہیں دوسرے جنتی پہچان لیں گے۔
ایک مدت تک تو یونہی رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ”اے اللہ یہ حروف بھی مٹ جائیں“ اللہ عزوجل یہ بھی مٹا دے گا } ۱؎ [طبراني في الطوالات اجزء المبطوع في آخر المعجم الكبير:36:ضعیف]
یہ حدیث اور آگے بھی ہے اور بہت ہی غریب ہے اور اس کے بعض حصوں کے شواہد متفرق احادیث میں ملتے ہیں، اس کے بعض الفاظ منکر ہیں۔ اسماعیل بن رافع قاضی اہل مدینہ اس کی روایت کے ساتھ منفرد ہیں ان کو بعض محدثین نے تو ثقہ کہا ہے اور بعض نے ضعیف کہا ہے اور ان کی حدیث کی نسبت کئی ایک محدثین نے منکر ہونے کی صراحت کی ہے۔
جیسے امام احمد امام ابوحاتم امام عمرو بن علی، بعض نے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ متروک ہیں، امام ابن عدی فرماتے ہیں ان کی سب احادیث میں نظر ہے مگر ان کی حدیثیں ضعیف احادیث میں لکھنے کے قابل ہیں، میں نے اس حدیث کی سندوں میں نے جو اختلاف کئی وجوہ سے ہے اسے علیحدہ ایک جزو میں بیان کر دیا ہے اس میں شک نہیں کہ اس کا بیان بہت ہی غریب ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہت سی احادیث کو ملا کر ایک حدیث بنا لی ہے اسی وجہ سے اسے منکر کہا گیا ہے، میں نے اپنے استاد حافظ ابو الحجاج مزی سے سنا ہے کہ انہوں نے امام ولید بن مسلم کی ایک کتاب دیکھی ہے جس میں ان باتوں کے جو اس حدیث میں ہی ہیں شواہد بیان کئے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل} يا أيها الرسولُ للمشركين بالله، الداعين معه غيرَه، الذين يدعونكم إلى دينهم؛ مبيناً وشارحاً لوصف آلهتهم التي يكتفي العاقل بذِكْرِ وصفها عن النهي عنها؛ فإنَّ كلَّ عاقل إذا تصوَّر مذهب المشركين؛ جزم ببطلانِهِ قبل أن تُقام البراهين على ذلك، فقال: {أنَدْعو من دونِ الله ما لا يَنفَعُنا ولا يضرُّنا}؟ وهذا وصفٌ يدخل فيه كلُّ من عُبِدَ من دون الله؛ فإنه لا ينفع ولا يضرُّ، وليس له من الأمر شيء، إن الأمر إلا لله. {ونُرَدُّ على أعقابنا بعد إذ هدانا الله}؛ أي: وننقلب بعد هداية الله لنا إلى الضلال، ومن الرشد إلى الغيِّ، ومن الصراط الموصل إلى جنات النعيم إلى الطرق التي تُفْضي بسالِكِها إلى العذاب الأليم!! فهذه حالٌ لا يرتضيها ذو رشدٍ، وصاحبها {كالذي استهوتْه الشياطينُ في الأرض}؛ أي: أضلَّته وتيَّهته عن طريقه ومنهجه الموصل إلى مقصده، فبقي {حيرانَ له أصحابٌ يدعونَه إلى الهدى}، والشياطين يدعونه إلى الردى، فبقي بين الداعيين حائراً، وهذه حال الناس كلِّهم؛ إلا من عصمه الله تعالى؛ فإنهم يجدون فيهم جواذب ودواعي متعارضة؛ داعي الرسالة والعقل الصحيح والفطرة المستقيمة يدعونَه إلى الهدى والصعود إلى أعلى عليين، ودواعي الشيطان ومن سَلَكَ مسلَكَه والنفس الأمارة بالسوء يدعونه إلى الضلال والنزول إلى أسفل سافلين؛ فمن الناس من يكونُ مع دواعي الهدى في أمورِهِ كلِّها أو أغلبها، ومنهم من بالعكس من ذلك، ومنهم من يتساوى لديه الداعيانِ ويتعارضُ عندَهُ الجاذبانِ، وفي هذا الموضع تعرف أهل السعادة من أهل الشقاوة.
وقوله: {قل إن هدى الله هو الهدى}؛ أي: ليس الهدى إلا الطريق التي شرعها الله على لسان رسوله، وما عداه فهو ضلالٌ وردىً وهلاكٌ. {وأُمِرْنا لِنُسْلِمَ لربِّ العالمينَ}: بأنْ ننقادَ لتوحيدِهِ ونستسلمَ لأوامرِهِ ونواهيهِ وندخلَ تحت [رِقٍّ] عبوديَّته؛ فإنَّ هذا أفضل نعمة أنعم الله بها على العباد، وأكمل تربية أوصلها إليهم.